Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہمیں انصاف چاہیے---- ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ،سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور شعبہ جات کے ارکان کے اجلاس سےقائد تحریک جناب الطاف حسین کا خطاب


 Posted on: 11/11/2015
ہمیں انصاف چاہیے
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ،سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور شعبہ جات کے ارکان کے اجلاس سےقائد تحریک جناب الطاف حسین کا خطاب
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد ،کراچی 
مورخہ:3، نومبر2015ء 
واجب الاحترام بزرگو ، ماؤں ، بہنو ، تحریکی ساتھیو ، مختلف شعبہ جات کے ساتھیو، اراکین رابطہ کمیٹی پاکستان و لندن ، دنیا بھر میں ایم کیوایم اوورسیز یونٹوں ،امریکہ ، کینیڈا ، مڈل ایسٹ ، متحدہ عرب امارات ، ساؤ تھ افریقہ ، آسٹریلیا، جرمنی ، بیلجئم ، ناروے غرض یہ کہ جہاں جہاں یہ خطاب سنا جارہا ہے ، دیکھا جارہا ہے ، تمام دیکھنے اور سننے والوں کو السلام و علیکم !
عزیز تحریکی ساتھیو! آج 3نومبر 2015ء ہے ۔ منگل کا دن ہے ۔ پاکستان میں اس وقت رات کے ساڑھے 9بج رہے ہیں جبکہ لندن میں شام کے ساڑھے چار بج رہے ہیں ۔آج کے خطا ب میں،میں ایم کیوایم کی تاریخ کو سمونے کی کوشش کروں گا تاکہ اپنے مقصد پر آپ کو لیکر آؤں اور آپ سے چند سوالات کروں ۔ 
11جون 1978ء کو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او ) قائم ہوئی ۔ کراچی یونیورسٹی اس کا مرکزی یونٹ تھااور سندھ بھر کے چھوٹے بڑے کالج دیگر یونٹس تھے ۔ اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد ہم مہاجروں کے خلاف 1947ء سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے متعصبانہ اور جانبدارانہ اقدامات کے حوالے سے طلبہ کو آگاہ کرتے رہے کہ مختلف ادوارمیں کون حکمراں تھا اور آہستہ آہستہ 1978ء میں ،میں نے طلبہ کی سطح پر مہاجروں کی تنظیم ’’ آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن ‘‘ بنائی جو آج بین الاقوامی سطح پر جمہوری ،پروگریسیو ، سیکولر اور لبرل سیاسی پارٹی کی حیثیت سے جانی اور پہچانی جاتی ہے ۔ ابھی جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او کے قیام کو3سال بھی نہیں گزرے تھے کہ 3،فروری 1981ء کوجماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے اے پی ایم ایس او پر وحشیانہ حملہ کردیا،پورے سندھ، پورے کراچی خصوصاً جامعہ کراچی میں جماعت اسلامی کی طلبا تنظیم اسلامی جمعیت طلبا اور دیگر طلباء تنظیموں کی جانب سے مہاجر طلبا وطالبات کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنایاجاتارہا۔۔۔ ان پر طنزیہ جملے کسے جاتے۔۔۔ اور انہیں دیگر طریقوں سے پریشان کیاجاتا رہا۔ مثال کے طور پرجب ہم بہت چھوٹے تھے اور ہماری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا تھا، شاید اس لئے کہ ہم بہت ہی چھوٹے تھے۔۔۔ مغربی پاکستان میں ہم اپنے اپنے علاقوں میں دیکھا کرتے تھے کہ بنگالی افراد ہمارے علاقوں میں مختلف کاروبار کرتے تھے ،کوئی چورن بیچنے والے ہوتے ہیں یا جنرل اسٹور کی دکانیں چلاتے تھے یا کوئی اور دکان لگا کر کوئی سامان بیچا کرتے تھے تو ہم عموماً دیکھا کرتے تھے کہ وہ کچھ لڑکوں کے گروپ ان کی دکان پر آتے ہیں۔۔۔مفت پان کھارہے ہیں۔۔۔چاکلیٹ کے ڈبوں سے چاکلیٹ نکال کر لے گئے بغیرپیسے دیئے جانے لگتے تھے تو بنگالی دکاندار ان کے پیچھے جاکر فریاد کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ارے بابا ہمارے پیسے دو۔۔۔ پیسے دو۔۔۔ کہا ں جارہے ہو۔۔۔ ہم غریب آدمی ہے ۔ لیکن گروپ کے لڑکے بنگالی دکاندار کو پیسے ادا کرنے کے بجائے اسے چھیڑا کرتے اور اس کی دھوتی پیچھے سے پکڑ کربرہنہ کردیا کرتے ۔۔۔ جیسے کہ یہ انسان کے بچے نہیں ہیں ۔۔۔ یہ ہمارے غلام ہیں یا کوئی الگ مخلوق ہیں ۔ تو میں سوچتا تھا کہ ۔۔۔ گھر والے بھی یہ سارے مناظر دیکھتے رہتے ہیں ۔۔۔ اور حکومت ،انتظامیہ ،پولیس اور اہل محلہ سب ہتک آمیر مناظر دیکھتے رہتے ہیں اوراپنے بچوں کی ان حرکتوں پر ہنستے تھے۔۔۔ ناکہ انہیں ڈانٹیں ۔۔۔ بتائیں ۔۔۔ سمجھائیں کہ یہ آپ کیا غلط عمل کررہے ہو۔
اسی طرح سابقہ مشرقی پاکستان جہاں بنگالیوں کی سو فیصد اکثریت تھی۔۔۔ وہاں مغربی پاکستان سے جانے والے چند لوگ حکومت کیاکرتے تھے ۔۔۔ آپ اپنے دل پرہاتھ رکھ کر۔۔۔ اپنی معلومات کے مطابق ۔۔۔ایمانداری سے بتایئے ۔۔۔کیا یہ غلط ہے ؟۔۔۔قسم میں اس لئے نہیں کھلوا رہا کہ بلا وجہ کہیں آپ سچ بتائیں اپنی معلومات کے مطابق اور وہ قسم غلط نکلے تو آپ گناہگار ہوں۔۔۔ لیکن یہاں کی غلطی تو آپ کی معاف کی جاسکتی ہے اور آپ اصلاح کرسکتے ہیں ۔ لہٰذا آپ ایمانداری سے بتایئے کہ۔۔۔ صوبہ سندھ میں مختلف قومیں آباد ہیں۔۔۔ یہاں ہر قوم کا آدمی رہتا ہے۔۔۔ یہاں پٹھان بھی رہتا ہے ۔۔۔پنجابی بھی رہتا ہے ۔۔۔ بلوچ بھی رہتا ہے۔۔۔ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ بھی رہتے ہیں ۔۔۔ اکثریت میں مسلمان بھی رہتے ہیں اور مختلف مذاہب اورمسالک کے لوگ بھی رہتے ہیں اور وہ آبادیاں جن کی مادری زبان اردو یا سندھی ہو، وہ بھی رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر سندھ میں 90فیصد آبادی بلوچوں کی ہے اور بعض گھروں میں ان کی مادری زبان اور پرانے بیگ گراؤنڈ کے حساب سے ان کی مادری زبان جو کہ بلوچی زبان ہے ۔۔۔ پنجابیوں کی مادری زبان پنجابی ہے ۔۔۔ پٹھانوں کی مادری زبان پشتو ۔۔۔ صوبہ سندھ میں مختلف قومیتیں آباد ہیں ۔ اسی طریقے سے مادری زبان بولنے والے یعنی اپنی پیدائش کے بعد سے ایک اردو زبان بولتا ہے اوردوسرا سندھی زبان بولتا ہے۔۔۔ آپ بتائیں کہ اس وقت پورے سندھ کی آبادی اندازاً کتنی ہوگی ؟ پورے سندھ کی آباد ی کم و بیش8 سے9 کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔ سندھ میں کئی برسوں سے مردم شماری نہیں ہوئی ہے ۔آخری مرتبہ مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی جس کو میں تسلیم نہیں کرتا کیونکہ وہ جھٹکا شماری ہوئی تھی۔۔۔ مردم شماری نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ مردم شماری آدھی جگہ کی ہوئی تھی اور آدھی جگہ کی چھوڑ دی گئی تھی۔۔۔یہ بھی سب جانتے ہیں کہ1998ء میں سندھ کی آبادی کتنی بتائی گئی تھی اور کراچی کی آبادی کتنی بتائی گئی تھی؟ ۔۔۔اسے کہتے ہیں جھوٹی اعداد و شماری۔۔۔گمراہ کن اعداد وشماری۔۔۔جس کا مقصد اصل اعداد وشمار کوچھپانا تھا تاکہ مفادات حاصل کیے جاسکیں۔ کیونکہ بجٹ میں صوبوں کو آبادی کے حساب سے حصہ دینا پڑتا ہے ۔۔۔ مثال کے طور پر آپ کسی ملک سے مدد چاہتے ہیں تو اگرآپ کم آبادی بتائیں گے تو وہ آپ کوکم امداد دے گا۔۔۔اگر آپ کے صوبے کی آبادی ساڑھے تین3کروڑ ہے توآپ کو امداد میں ساڑھے 3 کروڑ کمبل ملیں گے۔۔۔ جبکہ آپ کی آبادی ساڑھے3 کروڑ نہیں بلکہ8سے9 کروڑ ہے تو پھر آپ کو9کروڑ کے حساب سے کمبل ملنے چاہئیں ۔ اسی طریقے سے اپنی عددی اکثریت چھپانے کی خاطر سندھ کے وڈیروں ۔۔۔ سندھ کے جاگیرداروں ۔۔۔ سندھ کے دولت مندوں حتیٰ کہ اردو بولنے والے بھی وہ باقی ماندہ افراد جن کی زمینیں سندھ میں ہوا کرتی تھی اور ماضی میں پاکستان بننے کے بعد تو سندھ میں بڑی تعداد میں اردوبولنے والے لوگوں کی بہت زمینیں ایوب خان کے زمانے تک ۔۔۔ یحییٰ خان کے زمانے تک اور ذوالفقار علی بھٹو کے آنے سے پہلے تک ،تھیں ۔بھٹو کے دور میں ایسے حالات پیدا کردیئے گئے کہ اردوبولنے والوں کا اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں رہنا مشکل ہوگیا۔۔۔ جواردوبولنے والے زراعت کے پیشہ سے وابستہ تھے ، ان کی زمینوں اورکھڑی فصلوں کو آگ لگاکر انہیں مالی نقصان پہنچایا جانے لگا۔۔۔ ان پر حملے کیے جانے لگے۔۔۔ انکی زمینوں پر قبضہ کیاجانے لگاجس کے باعث اردوبولنے والوں کو ان شہروں سے اپنے بھرے بھرائے گھر۔۔۔ کاروبار۔۔۔ اورزمینیں اونے پونے فروخت کرکے یاچھوڑ کربھاگنا پڑا۔اس ہال میں موجود کوئی فرد ہے جو میرے بیان کردہ حقائق کی گواہی دے؟
ڈاکٹر عبدالقادرخانزادہ بھائی۔۔۔جی الطاف بھائی ، میں گواہ ہوں ۔
قائد تحریک ۔۔۔ خانزادہ صاحب آپ اپنی نشست سے کھڑے ہوجایئے اور کھڑے ہوکر بتایئے کہ سندھ میں مہاجروں کی زرعی زمینوں پرکس طرح قبضہ کیاگیا اور کس طرح فصلیں جلاکر راکھ کی گئیں ۔
ڈاکٹر عبدالقادرخانزادہ بھائی۔۔۔ نوابشاہ میں ہماری فیکٹری تھی۔۔۔ چاروں طرف ہماری آبادی تھی ۔۔۔ ان پر حملے ہوئے۔۔۔ ان کے کاروبار پر حملے ہوئے ۔۔۔ جتنی ہماری زمینیں تھی ان زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔پوری آبادی کو مارا پیٹاگیا جس کے باعث وہ اندرون سندھ سے کراچی منتقل ہوئے اور اب نیو کراچی میں آباد ہیں۔۔۔ ان کو مجبور کردیا گیا کہ وہ اپنی زمینوں کو اونے پونے میں بیچ کر آجائیں۔۔۔ بہت سے تو آدھی قیمت سے بھی کم میں بیچ کر آگئے اور باقی چھوڑ کر آگئے یہ ممتاز بھٹو کے زمانے میں جب لسانی بل کا مسئلہ شروع ہوا تھا تواس وقت اندرون سندھ سے پوری مہاجرآبادی کو خالی کرا لیا گیا اوران کا سارا کاروبار تباہ اور ساری زمینوں اور باغات پر قبضہ کرلیا گیا میں خود وہاں کا رہنے والا ہوں ۔ 
قائدتحریک۔۔۔اس ہال میں کوئی اور موجود ہے جو گواہی دے ؟
اصغربھائی۔۔۔ میرا پنوں عاقل سے تعلق ہے اور وہاں کی ایک فیملی جوکہ کراچی میں آباد ہے،ان کی 2000ایکٹر زمین پر قبضہ ہے اور وہ قبضہ چھڑانے کی کوشش کرچکے ہیں ۔۔۔ اس کے علاوہ بہلار کا ایک گاؤں ہے وہاں پر بھی 2000ایکٹر زمین ہے ، اور پنوں عاقل کے آس پاس یو ں سمجھ لیں کہ 61فیصد اردو بولنے والوں کی زمینیں ہیں اور زمینوں کو چھڑوانے کی بہت کوشش کرتے ہیں لیکن کچھ نہیں ہوتا ۔ 
قائد تحریک۔۔۔سن لیا آپ نے۔۔۔ آپ کویہ مثالیں دی گئیں ہیں کہ آپ سے زمینیں چھین لی گئیں ہیں ۔۔۔ آپ کی زمینوں پرقبضہ کرلیا گیا ہے اور کراچی میں جہاں آپ اپنے حقوق کیلئے متحدہیں توآپ کے خلاف پوری فوج ، پولیس اورینجرز کو اتار دیا گیا ہے ۔۔۔بتایئے میں کیاکروں۔۔۔ ؟ 
آج سپریم کورٹ نے میری تقریراور تصویر نشر وشائع کرنے پر لگائی گئی پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے یا نہیں رکھا ہے ۔۔۔؟ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ پابندی پندرہ دن کیلئے لاہور ہائی کورٹ نے عائد کی تھی لہٰذا 15 دن بعد تو یہ معاملہ ختم ہوگیا۔۔۔ توپھر آج پابندی کے اس فیصلے کو کیوں برقرار رکھاگیا۔۔۔؟دوبارہ فیصلے کو ہائی کورٹ کیوں بھیج دیا۔۔۔؟میرے خلاف مقدمہ کرنے والے مخالفین کے بڑے بڑے نامور وکلاء وہاں موجود تھے ۔۔۔ عدالت میں وہ بھی نہیں بولے جتنا نواز شریف کا بنایا ہواایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں دو گھنٹے کا واعظ دیتا رہا کہ۔۔۔ یہ غداری ہے ۔۔۔ اس پر غداری کا مقدمہ بننا چاہئے ۔۔۔ وطن کی آبرو لٹ گئی۔۔۔ تباہی ہوگئی۔۔۔ یہ بربادی ہوگئی ۔۔۔ یہ ملک کا نقصان ہوگیا ۔۔۔ ابھی تک خالی پابندی پر گزاراہے بلکہ اس جماعت کو ہی مٹا دیا جائے۔۔۔ اس جماعت پر پابندی لگا دی جائے ۔۔۔ اس جماعت کو ختم کردیاجائے ۔ دوسرے لفظوں میں اگر انہیں عدالت میں اجازت ہوتی تو وہ کہتے کہ جیٹ طیاروں سے بمباری کرکے ایک ایک اردو بولنے والے کو اڑا دیاجائے ۔۔۔ختم کردیاجائے ۔ آخرہمارا کیا قصور ہے ۔۔۔؟ میں ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں انہیں، مجھے پاکستان بلاکر سزا دینے ۔۔۔ پھانسی دینے کیلئے کورٹ سے رابطہ کرنا پڑے گا ۔۔۔ برٹش گورنمنٹ سے رابطہ کرنا پڑے گا۔۔۔ تو مجھے پھانسی دے پائیں گے ۔۔۔کیوں کہ پھر میں کھلم کھلا باغی بن کر وہ حقائق بیان کروں گا جو آج تک کسی نے بیان نہیں کئے ۔ اس کے صلے میں مجھے ماننے والوں کو تنگ کیاجائے گا تو اس سے بچنے کیلئے آپ کو مجھ سے علیحدگی اختیار کرنی ہوگی ۔۔۔ آپ مجھے بتایئے !آپ نے ابھی سنا ہوگا کہ 13آدمی خیر پور میں مار دیئے گئے ۔۔۔ وہاں کوئی کرفیو لگا؟۔۔۔و ہاں گھر گھر چھاپے پڑے ؟ آپ کو آج مجھ سے صاف بات کرنی ہے ۔۔۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔۔۔ خدا کی قسم میں آپ سب کے پیر پکڑتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے زندگی کے انتہائی قیمتی سال میری قیادت پر یقین کرکے اور مجھ سے محبت کرکے تنظیم کے پرچم تلے وفاداری نبھائی میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔۔۔لیکن میں مجبور ہوں کہ میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے اکیلا نہیں لڑ سکتا ۔ کراچی میں جہادیوں کا ایک بھی ایسا مدرسہ ہے جہاں پر رینجرز نے چھاپہ مارا ہو؟ ۔۔۔ کوئی ایسا جرگہ جہاں آج بھی فیصلے ہوتے ہیں۔۔۔جہاں طالبان ، القاعدہ اور داعش کے لوگوں کا کنٹرول ہے ۔۔۔کوئی ایک جگہ ایسی ہے جہاں پر رینجرز والے جاتے ہوں ۔ رینجرز والے ایسی جن جن جگہوں پر گئے بھی توانہوں نے جہادی تنظیموں کے دہشت گردوں یا جرائم پیشہ عناصرکو تو نہیں پکڑا البتہ وہاں اپنی گردنیں ضرورکٹوائیں اور کئی رینجرز والے مارے گئے ۔ ہمارے چالیس ہزار کے قریب کارکنان گرفتار کئے گئے لیکن چھاپوں کے دوران ہمارے کارکنان کے کسی ایک گھر سے چھاپہ مارنے والوں پر نہ تو گولیاں برسائی گئیں اورنہ ہی ان پر کنکرمارے گئے ۔۔۔ پھر بھی ہم دہشت گرد۔۔۔اور پھر بھی ہم وطن دشمن کہلائے جاتے ہیں۔۔۔ہم آج بھی کہتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے دہشت گردوں کو ضرور پکڑیں۔۔۔انہیں کسی نے منع نہیں کیامگر دہشت گردوں کو مکمل ثبوت و شواہد کے ساتھ پکڑیں چاہے ان میں الطاف حسین کا سگا بھائی کیوں نہ شامل ہو۔۔۔آپ ثبو ت و شواہدلیکر آئیں اورانہیں پکڑ کر سزا دیجئے لیکن جو ایم کیوایم کے کارکنان ماورائے عدالت قتل کردیئے گئے ۔۔۔ جو حراست کے دوران مار دیئے گئے۔۔۔ جو دو سو کے قریب کارکنان آج بھی لاپتہ ہیں جنہیں ان کے والدین کے سامنے گرفتارکیا گیا اور پھر غائب کردیئے گئے ،ان کا حساب کون دیگا ؟شاید یہ آپ کی اور میری آج کی آخری بات چیت ہو۔۔۔ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ ایم کیوایم کو رکھنا ہے یا نہیں ؟
کارکنان وعوام میری قیادت میں کام کرتے رہے ۔۔۔ شہید ہوتے رہے۔۔۔ زخمی ہوتے رہے۔۔۔ گرفتار ہوتے رہے اور آج تک در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں۔۔۔ یہاں جتنے لوگ بیٹھے ہیں ، خواتین ۔۔۔ نوجوان۔۔۔اور بزرگ ہیں۔۔۔میں ان سے سوال پوچھتا ہوں کہ کیا بغیر لائسنس کے پورے پاکستان میں گاڑیاں نہیں چلائی جاتی۔۔۔ ؟بغیرنمبرپلیٹ کے موٹر سائیکلیں اوردیگر گاڑیاں پورے پاکستان میں نہیں چلتی۔۔۔؟اگر ایسا ہے تو پورے پاکستان میں ایک قانون نکالتے کہ ایک مہینہ دیاجارہا ہے اور ایک مہینے کے اندر اندر یا دو مہینے کے اندر اندر جو ڈرائیونگ لائسنس حاصل نہیں کرے گا اوربغیرلائسنس ،گاڑی چلائے گااسے پکڑ کر جیل میں ڈالاجائے گا ۔۔۔ توحکومت کا یہ انصاف پر مبنی اعلان ہوتا یا نہیں ہوتا۔۔۔؟ لیکن صرف کراچی میں آئی جی ٹریفک کہہ رہا ہے کہ صرف کراچی میں جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوگا اسے جیل بھگتنی پڑے گی ۔۔۔صرف کراچی میں ہی کیوں۔۔۔ لاہور ، پشاور ، کوئٹہ ، راولپنڈی ، اسلام آباد ، کے پی کے ، بلوچستان میں کیوں نہیں۔۔۔؟ آپ مجھے بتائیں گھر گھر اسلحہ کی تلاشی ہورہی ہے۔۔۔لیکن کیا آپ نے الیکشن کے دوران پورے پنجاب میں پیپلزپارٹی۔۔۔پی ٹی آئی ۔۔۔اورحکمراں جماعت مسلم لیگ کے لوگوں کے درمیان گولیاں چلتے نہیں دیکھیں۔۔۔؟ لوگوں کو گولیوں سے مرتے نہیں دیکھا۔۔۔؟ پھر کتنی جگہ فوج ، رینجرز پہنچی۔۔۔کتنی جگہ تلاشیاں ہوئیں ۔۔۔اور کتنی جگہ اسلحہ ضبط ہوا ۔۔۔؟
قوم کو مسلسل آگاہ کررہا ہوں کہ کراچی میں طالبانائزیشن ہورہی ہے اور اب کراچی میں داعش آگئی ہے لیکن اگر قوم نے ہوشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو کل یہی داعش۔۔۔اور۔۔۔ طالبان والے آپ کے گھر پر قبضہ کرلیں گے۔۔۔ اللہ کا لاکھ لاکھ احسان ہے ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک سرکار دو عالمؐ کے صدقے کرم کیا اور ہمیں بچالیا کہ سانحہ صفورا چورنگی کے اصل ذمہ دار انجانے میں پکڑے گئے ۔۔۔صفوراچورنگی کے قریب اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر فائرنگ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ۔۔۔ ڈبل انجینئر۔۔۔ ڈاکٹرزملوث ہیں جنہوں نے بے گناہ اسماعیلی برادری کے لوگوں کومارا اوراس کا الزام خدا کی قسم ایم کیوایم پرلگ رہا تھا ۔۔۔ کئی جگہ اشاروں میں ۔۔۔ٹی وی ٹاک شوز میں یہ کہہ دیا گیا تھا نام لیے بغیر کہ یہ ایم کیوایم والے ہی ہیں ۔ لیکن جب کھوج لگائی گئی تو سارے کے سارے جماعت اسلامی ، اسلامی جمعیت طلبہ کے لوگ نکلے جنہوں نے داعش جوائن کرلی ہے اور کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹی اوردیگر ہائی پروفیشنل تعلیمی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔آج آپ میری یہ بات نوٹ کرلیجئے کہ ۔۔۔جہاں جمعیت ہے ۔۔۔وہاں داعش ہے ۔ یہ میری پیش گوئی ہے ۔۔۔ جہاں جہاں جماعت اسلامی ہے انکے گھروں میں داعش ہوسکتی ہے۔۔۔ اس وقت شہری علاقوں میں واحد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبا ہے جہاں داعش کے لوگ پناہ لے رہے ہیں ۔حال ہی میں جمعیت کے لوگوں نے کرکٹ کھیلنے پرجامعہ کراچی میں طالبات پرحملہ کرکے انہیں زودکوب کیا ۔کیا یہ بات آپ کو معلوم ہے ؟کچھ باتیں تو آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتی۔۔۔البتہ یہ ضرورمعلوم ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم نے یہ کردیا۔۔۔ ایم کیو ایم نے وہ کردیا۔۔۔ ٹی وی میں صبح شام آپ ایم کیوایم کے خلاف بکواس سنتے رہتے ہیں لیکن اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے بارے میں نہیں جانتے ۔۔۔ نہیں جانتے ۔۔۔ نہیں جانتے ۔۔۔ نہیں جانتے ۔پھرمیں ایسی قوم کے ساتھ میں کیسے چل سکتا ہوں۔۔۔؟ یہ یہاں بیٹھے ایک ایک فرد کی بات ہے۔۔۔ کراچی میں رہنے والے ایک ایک فرد کی ہے ۔۔۔ کہ وہ آنے والی نسلوں کی بقاء کیلئے جدوجہد کرے۔۔۔ میرے اوپر اتنے مقدمات ہے ۔۔۔ پہلے میں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔ میری تقریر پر پابندی عائد کردی گئی۔۔۔ میں قوم کوجگا ہی تو رہا ہوں نا۔۔۔ میں بکتا نہیں ہوں۔۔۔جھکتا نہیں ہوں۔۔۔میں مر جاؤنگا لیکن جھکوں گا توصرف اللہ کے آگے۔۔۔ Out of Questionکہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے سامنے جھکوں گا۔
میرے ساتھیو! میں نے یہاں تک سفر کرلیا۔۔۔ہم ہر دورمیں پٹتے رہے ۔۔۔ ہم نے صبر کیا۔۔۔پٹتے، پٹتے1991ء میں آگئے یہاں بھی یہی صورتحال رہی ۔۔۔پھرہم نے کہا1992ء انوکھا اور تاریخی قومی میلہ منعقد کیا۔۔۔اوراعلان کیاکہ 14 اگست 1992 کوپورے ملک میں متحدہ قومی موومنٹ بنانے کا اعلان کریں گے لیکن اس سے پہلے کہ 14 اگست کادن آتا ہے۔۔۔19، جون 1992ء کوایم کیو ایم کو ختم کرنے کیلئے آپریشن شروع کردیا گیا۔ وہ دن ہے اور آج کے دن تک آپریشن ختم نہیں ہوا۔۔۔ صرف چند سال جب پرویز مشرف اقتدار میں آئے ہیں تو فوج کی پالیسی کچھ تبدیل ہوئی۔۔۔ بس چند سال ملے تو ہم عوام کی جتنی خدمت کرسکتے تھے ، ہم نے دن رات عوام کی خدمت کی۔۔۔ اس دورمیں بعض لوگوں نے پیسے بھی بنائے لیکن پوری قوم نے یہ گندا عمل نہیں کیا ۔۔۔ چور اُچکے عناصر تو حضورؐکے زمانے میں بھی تھے۔۔۔ صحابہ اکرامؓ کے زمانے میں بھی تھے۔۔۔1992ء کے بعد یہ دن آگیا ہے اور تمہارے قائد پر بغیر کسی وجہ کے پابندی لگادی گئی ہے،۔۔۔ آپ نے ساری تقاریر سنی ہیں۔۔۔ اگرمیں نے کسی ادارے پر تنقید کی یا اس کی غلط باتوں کی نشاندہی کی تومیں نے کونسی غیرآئینی بات کی ؟۔۔۔ یعنی اگر کسی ادارے کے بعض افراد شہریوں کو پکڑکر گولیاں ماریں ۔۔۔ قتل کردیں اور لاشیں سڑکوں پر پھینک دیں تو کیایہ آئینی بات ہوگی۔۔۔؟ فوج کے بعض افراد کے اس عمل کو کیامیں جائز قرار دوں؟۔۔۔ فرق اتنا ہے کہ میں نے اس عمل کو ناجائزکہا ہے ۔ اب اگر سپریم کورٹ سے بھی مجھے انصاف نہ ملے تو میں کہاں جاؤں؟۔۔۔ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت سے بھی انصاف نہ ملے تو میں کہاں جاؤں؟۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ جو کررہی ہے اس کو کرنے دیں۔۔۔ جب تک آپ زندہ ہیں اورآپ کو تحریک کوئی دوسری پالیسی نہیں دیتی ہے۔۔۔ یعنی کچھ اور کام نہیں دیتی ہے۔۔۔ تحریک کے نظریے ۔۔۔تحریک کے پیغام کو پھیلائیں اور فی الحال آپ سب اپنے اپنے علاقوں میں گلی گلی ، محلہ محلہ جاکر عوام سے رابطہ کریں۔۔۔یہ مت دیکھیں کہ کوئی کام کررہا ہے یا نہیں۔۔۔آپ سارے کام چھوڑ کر رات دن بلدیاتی الیکشن کی تیاری میں لگ جائیے اور بلدیاتی الیکشن کیلئے رات دن ایک کردیجئے ۔۔۔ہمت سے اور حوصلے سے کام کیجئے ۔۔۔ میری ذات سے متعلق جو فیصلے تحریک یا رابطہ کمیٹی کرتی ہے ۔۔۔وہ آپ کے سامنے یقیناًآجائیں گے۔۔۔ فی الحال میں یہ کہوں گا کہ وکلاء کو عدالتوں میں کام کرنے دیں۔۔۔ہم یہ معاملہ عدالتوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔۔۔ وہ ظلم کرتے رہیں ۔۔۔ہم صبر کرتے رہیں ۔۔۔ دیکھتے ہیں ان کا ظلم برقرار رہتا ہے یا ہمارا صبر کامیاب ہوتا ہے ۔۔۔ میں کبھی لڑائی اور جنگ و جدل کا درس نہیں دوں گا ۔۔۔میں پرامن طریقے سے جدوجہد کا درس دیتا رہا ہوں۔۔۔ایم کیوایم کے سرگرم کارکنان۔۔۔ چاہے وہ ایم این اے ہو۔۔۔ ایم پی اے ہو۔۔۔ یا رہنماء ہو۔۔۔سب احتیاط سے کام کرتے رہیں ۔۔۔باقی اللہ کے حضور دعا کرتے رہیے۔۔۔ ہم بھی صبر کررہے ہیں۔۔۔اور اللہ سے دعا کررہے ہیں کہ وہ ہمیں اس امتحان سے نکالے۔ حیدرآباد میں19، نومبر کو بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں ۔۔۔5، دسمبرکو کراچی میں انتخابات ہونے والے ہیں ۔۔۔ میں آپ کو خدا رسول کا واسطے دوں۔۔۔کہ ابھی تم لوگوں نے قرآن پرہاتھ رکھ کر حلف لیا ہے کہ کسی قسم کی گروپ بندی کا شکار نہیں ہوگے لیکن پھر گروپ بندیاں ہورہی ہیں ۔۔۔آخر یہ گروپ بندیاں کیوں ہورہی ہے ؟۔۔۔کیا آپ کو کبھی وہ ساتھی یاد نہیں آتے جنہوں نے چاہے ایک دن بھی آپ کے ساتھ کام کیا ہو۔۔۔؟ ان کی شکلیں وغیرہ سب بھول گئے ۔۔۔ جو شہید ہوگئے ۔۔۔ میں کب سے درس دے رہا ہوں کہ تحریک میں دوستی کا رشتہ۔۔۔ یا پسند ناپسند کا رشتہ تحریک کیلئے موت ہوتا ہے۔۔۔ تحریک کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے ۔۔۔ پھر بھی سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔آپ کس کیلئے کام کررہے ہیں ۔۔۔؟ اس قوم کیلئے جس کو مارنے کیلئے دشمن تلا بیٹھا ہوا ہے۔۔۔؟ 1947سے لیکر آج 70سال ہونے کو آرہے ہیں۔۔۔Pleaseسمجھا کرو میں بہت دکھی ہوں ۔۔۔ یہ کیا کررہے ہو ۔۔۔آپس کے اختلافات اور گروپ بندی ختم کرو۔۔۔ میں نے سب کو بتادیا کہ دیکھو اب یہ پیپلز پارٹی کے شاؤنسٹ ۔۔۔ بڑے بڑے لوگ ہیں۔۔۔ یہ ہمارے خلاف ہیں ۔۔۔میں نے صدرپاکستان کیلئے آصف علی زرداری کا نام تجویز کیا۔۔۔میں نے ہر برے اورکڑے وقت میں انہیں سپورٹ کیا۔۔۔ اب اگر وہ ہمیں دھوکہ دیتے ہیں تو میں کیا کروں۔۔۔؟ جتوئی کا ساتھ دیاانہوں نے دھوکہ دیا۔۔۔ جس کا ساتھ دیا اس نے دھوکہ دیا ۔۔۔اب میں کیا کروں۔۔۔؟
میرے ساتھیو !!Please، خدا کیلئے۔۔۔ قرآن کی حرمت کا پاس رکھو۔۔۔ اللہ کے واسطے ۔۔۔اپنے والدین کا جو زندہ ہیں ان کا خیال کرو۔۔۔ جواس دنیا سے چلے گئے ہیں ،ان کا خیال کرو۔۔۔ اپنے بچوں کا خیال کرو ۔۔۔آج کے بعد توبہ کرو کہ غیرتنظیمی اور غیرتحریکی عمل نہیں کروگے۔۔۔پسند ناپسند کی بنیادپر فیصلے نہیں کروگے۔۔۔چاہے کوئی ناراض ہوجائے مگر ہرفیصلہ میرٹ پر کروگے۔ باقی رہا عدلیہ کا معاملہ تو اس حوالہ سے رابطہ کمیٹی کا اپنا اجلاس ہوگا۔۔۔ اللہ دیکھ رہا ہے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارا کڑا متحان بہت طویل ہوگیا ہے ۔۔۔ بہت سارے ساتھی شہید ہوگئے۔۔۔اب اللہ تعالیٰ ہم پر کرم فرمائے۔۔۔ہمارا امتحان بند کردے۔۔۔ہم پر اپنا رحم و کرم نازل فرمائے ۔۔۔ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو ختم کردے۔۔۔ ظالموں پر اپنا عذاب نازل فرما۔۔۔ اپنا انصاف کا عمل دکھا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچادے ۔۔۔تونے حضرت موسیٰ ؑ کوفرعون کے ہدایت کیلئے بھیجا ۔۔۔اللہ ،حضرت موسیٰ ؑ کے لئے دریائے نیل میں راستہ بناسکتا ہے۔۔۔ تو مہاجروں کیلئے راستہ کیوں نہیں بناسکتا۔۔۔اے اللہ ! ہم بشر ہیں ،ہم میں بشری کمزوریاں ہیں۔۔۔ شیطان غالب آجاتاہے۔۔۔ہم سب کے دلوں کو صاف کرکے ہمیں دوستی، یاری ، پسند ناپسند ، اقربا پروری کے بھنور سے باہر نکال دے ۔۔۔اور آنے والے انتخابات میں ہماری غیب سے مدد فرما ۔۔۔(آمین)
ساتھیو! ہم آج سپریم کورٹ فیصلے پر کوئی جھگڑا لڑائی نہیں کریں گے بلکہ عدالت میں جائیں گے ۔۔۔ عدالت میں آخری وقت تک ہم قانونی جنگ لڑتے رہیں گے ۔۔۔اور آپ دوستی یاری ختم کرکے میرٹ پر فیصلے کیجئے ۔۔۔19نومبر حیدرآباد اوراندرون سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہیں۔۔۔اس کیلئے ٹیمیں بنائیں ۔۔۔اور خواتین زیادہ سے زیادہ وقت پارٹی کو دیجئے مجھے امید ہے کہ مائیں بہنیں مجھے مایوس نہیں کریں گی ۔۔۔اگرکوئی فرد ایک ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ کارکن نہیں رہتا ۔۔۔ میں بھی تحریک کاکارکن ہوں ۔۔۔میں بھی دن رات لگا رہتا ہوں۔۔۔تما م ساتھی تحریک کے کارکنان بنیں۔۔۔ گروپ بندی کا حصہ نہ بنیں۔
(کراچی اورلندن کے ساتھیوں نے تنظیمی ترانے سناکر خوبصورت سماں باندھا جس کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا)
قائد تحریک ۔۔۔ساتھیو!!یہ پروگرام ایم کیوایم ویب ٹی وی کے ذریعہ پورے اوورسیزیونٹوں کے لوگ سن رہے ہیں۔۔۔ امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، بیلجیئم ، لندن سب جگہ اس وقت آپ کو سنا اوردیکھا جارہا ہے ۔۔۔ میں تمام یونٹوں کے ساتھیوں سے کہتا ہوں ، اللہ رسول کا واسطہ۔۔۔ اوراپنی تحریک کے ہزاروں شہیدوں کے خون کا واسطہ دیتا 58ہوں۔۔۔ خدارا۔۔۔ ان کے خون صدقے ۔۔۔شہداء کے خون کی لاج رکھنے کیلئے ۔۔۔اپنے دلوں کو صاف کرکے آپس کی گروپ بندیاں ختم کردیں۔۔۔اور یہ نہیں کہ بس گلے مل لئے تو کدورت نکل گئی۔۔۔ بلکہ ذہن کے ایک ایک سیل سے نکال دو ۔۔۔ ایک ایک خانے سے نکال دو۔۔۔ ہر جگہ سے نکال دو اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ایک بن جاؤ۔۔۔ تو ہم اللہ کی رحمت۔۔۔ اس کے فضل و کرم۔۔۔ اس کے حبیب پاکؐ کے صدقے انشاء اللہ۔۔۔ انشاء اللہ ۔۔۔اپنی منزل ضرور پائیں گے ۔۔۔ اللہ ہمیں ضرور منزل دے گا۔۔۔بس آپ خود کو اپنی تحریک سے سچا رکھیں۔۔۔ اپنے شہیدوں کو یادرکھیں۔۔۔ ان کے لہو کی قربانیوں کو یاد رکھیں۔۔۔ اسیرساتھیوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں۔۔۔ اور۔۔۔ یاد رکھ کر جذبہ یہ پیدا کریں کہ میں ان کی طرح قربانی دینے والا بن جاؤں۔۔۔یہی جذبہ رکھ کر کام کرنا۔۔۔ اللہ آپ سب کی جائز مرادوں کو پورا کرے ۔۔۔ گھریلو پریشانیوں کو دور کرے اور غیب سے سب کی جائز حاجات ہے ضروریات کو پورا کرے۔۔۔حیدرآباد ، کراچی اورنوابشاہ اور دیگر علاقے جہاں الیکشن ہونے والے ہیں ۔۔۔وہاں وہاں اللہ تعالیٰ غیب سے ہمیں کامیابی اور کامرانی عطا فرمائے ۔یہ میری دل کی گہرائیوں سے التجا بھی ہے۔۔۔ درخواست بھی ہے اور اگر آپ مجھے واقعتاً قائد سمجھتے ہیں تو پھر میری طرف سے ہدایت بھی ہے۔۔۔کہ آپ نے تحریک میں اتنا عرصہ گزار دیا ہے ۔۔۔اب ادھر ادھر دیکھنے اور بھاگنے کے بجائے تحریک کو منزل تک پہنچانے کی فکر کیجئے اور اپنی ذات سے بڑھ کر تحریک کی مفادات اور تحریک کو اس کی منزل سے قریب تر کرنے کی سوچ و فکر اور عمل کریں۔۔۔ باقی جہاں تک عدالتوں میں میرا کیس ہے۔۔۔ ہم آخری سانس تک لڑتے رہیں گے اور آپ دیکھیں گے میری تقریرپر پابندی لگانے والوں کی سازشیں ، ان کے ارادے پست ہوجائیں گے اور انشاء اللہ ایم کیو ایم اور میری آواز جس کو ٹیلی ویژن پر پابندی ضرور ہے۔۔۔ مگر میری سوچ کو۔۔۔ میری فکر کو قید نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔آپ کے جسم کو باندھ کر لاک اپ میں بند کیا جاسکتا مگر آپ کی سوچ کو لاک اپ میں بند نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ سوچ و فکر۔۔۔اور نظریہ کو کبھی قید نہیں کیا جاسکتا۔۔۔سوچ و فکر نظریہ اور ،فلاسفی سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔۔۔ نظریہ ۔۔۔سرحدوں کی رکاوٹوں کو توڑ کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاتا ہے ۔۔۔ جس طرح آج اووسیز کے یونٹوں میں ایم کیوایم کا نظریہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ۔۔۔یہ نظریہ ہی تو الطاف حسین کا خطاب پوری دنیا میں سنا جارہا ہے۔۔۔ اوورسیز کے تمام یونٹوں کے ساتھیوں کو سلام۔۔۔ماں ،بہنوں اور بزرگوں کو بھی کو سلام۔۔۔ بچوں کو دعا و پیار ، یوتھ ونگ کے ارکان کو بھی سلام۔۔۔ نظریہ، سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔۔۔ فلاسفی۔۔۔پولیٹیکل فلاسفی کو۔۔۔ پولیٹکل آئیڈیولوجی کو۔۔۔ کسی بھی فلاسفر اوراس کی فکری باتوں پراور آواز پرپابندی لگائی جاسکتی ہے ۔۔۔کسی بھی فلاسفر کو قید کیاجاسکتا ہے لیکن اس کی فکری باتوں۔۔۔ نظریاتی باتوں۔۔۔اور سوچ و فکرپر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔۔۔ نہ اس کے نظریہ کو قیدکیاجاسکتا ہے۔۔۔ ایک دن انشاء اللہ پہلے کی طرح میری تقاریر ٹیلیویژن پر بھی نشر ہوں گیں انشاء اللہ ۔
اللہ تعالیٰ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ کواس کے حبیب سرکار دو عالم ؐ کا واسطہ دیتا ہوں وہ ہمارے امتحان میں کمی کرکے وہ ہماری منزل ہمیں جلد سے جلد جلد دلادے۔۔۔ ہمیں ہماری منزل جلد سے جلد دلادے۔۔۔ ہمیں ہماری منزل جلد سے جلد دلادے تاکہ میں اپنوں میں جاکے ان کے درمیاں رہ سکوں۔۔۔ان سے مل سکوں۔۔۔ان کے ساتھ بیٹھ کے باتیں کرسکوں ۔۔۔ بلدیاتی انتخابات میں حق پرستوں کی کامیابی کیلئے نامزد امیدواروں کیلئے کوئی کثر نہ اٹھارکھیے اور ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو ایمانداری اور سچائی سے گلیاں اور سڑکیں بنائیں اور عوام کی قسمت کو اچھا کریں ۔۔۔اپنا گھر اور مال نہ بنائیں ۔۔۔بلکہ عوام کے مسائل حل کریں۔۔۔ عوام کی خدمت کریں۔۔۔ اسکول کالج بنائیں۔
میرے ساتھیو!! مجھے امید ہے کہ آپ لوگ دل صاف کرلیں گے ۔۔۔جہاں تک میری تقریرپر پابندی کے مقدمے کا تعلق ہے۔۔۔ حکومت کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں جو کہاہے ۔۔۔ انشاء اللہ میڈیا میں ایم کیو ایم کے ترجمان رہنماء کی حیثیت سے اینکرپرسنز کے سوالات کا بھرپور طریقے سے جواب دیں گے کہ اٹارنی جنرل نے آیا نوازشریف اور ن لیگ کو مقدمہ پیش کیا یا کہیں اور سے پیسہ لیکر وہاں کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ دعاؤں کے ساتھ میں آپ سے اجازت جاہتا ہوں۔۔۔ تازہ دم رہیے۔۔۔آپ لوگوں کو گھروں کام کرتے ہوئے بلایا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کی آمدمبارک کرے اور جس طرح آپ نے سنا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے مسائل و مشکلات کو دور کیجئے ۔اب مجھے اجازت دیجئے۔
اللہ حافظ 

9/22/2017 3:22:31 AM