Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

22 اگست ایم کیوایم کے سچے کارکنوں کے لئے یوم عزم وفاہے


 22  اگست ایم کیوایم کے سچے کارکنوں کے لئے یوم عزم وفاہے
 Posted on: 8/23/2026

22  اگست ایم کیوایم کے سچے کارکنوں کے لئے یوم عزم وفاہے
 چندلوگوں کی غداریوں کے باوجود تحریک کے سچے کارکنوں نے اپنی تحریک اورنظریہ سے وفاداری نبھائی
ایم کیوایم کوتوڑنے کیلئے فوج نے ہردورمیں منتخب حکومتوں کے ساتھ مل کر آپریشن کیے،
ہمارے خلاف ظالمانہ آپریشن جاری رہااورپورا ملک اس پر خاموش رہا

18، مارچ1984ء کو ایم کیوایم کی بنیاد رکھی جاتی ہے، ایم کیوایم نے متعدد مرتبہ بلدیاتی اورعام انتخابات میں حصہ لیا، ملک کی مختلف حکومتوں نے ایم کیوایم کے ساتھ اتحاد اورمعاہدے کیے۔ ایم کیوایم یاالطاف حسین نے کب اور کس جگہ جلسے جلوس میں کہاکہ اگرہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم بندوقیں لیکر مسلح جدوجہد کریں گے؟ایم کیوایم نے کبھی پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا اورعلیحدگی کانعرہ لگانے والی جماعتیں نہ توعام انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اورنہ ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے اصول وضوابط کے تحت ملک کے آئین کے خلاف بات کرنے والی جماعت کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے جبکہ ایم کیوایم کو بلدیاتی اورعام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی کیونکہ ایم کیوایم ایک سیاسی جماعت ہے۔ وہ بلٹ کے بجائے بیلٹ کے ذریعے پاکستان کی تیسری بڑی اورسندھ کی دوسری بڑی جماعت بنی۔
42 سال قبل قائم ہونے والی جماعت کوتوڑنے اوراس کی آواز دبانے کیلئے ایم کیوایم کے خلاف متعدد مرتبہ فوجی آپریشن کیے گئے اورہردورمیں منتخب حکومتوں کے ساتھ مل کر فوج نے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیے۔ 
19، جون 1992ء کوبھی جب ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا تو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد ہی نہیں رکھی گئی تھی، اس وقت سندھ میں امن عامہ کی صورتحال کاجائزہ لیاجائے تو 1990ء سے 1992ء تک سندھ میں امن وامان کی صورتحال اتنی بہتر تھی کہ کسی بھی علاقے میں ایک گھنٹے کیلئے بھی کرفیونافذ نہیں کیاگیا تھالیکن ان حقائق کے باوجود فوج نے نوازشریف کی حکومت کے ساتھ مل کر1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیوں کیا؟اس وقت پی ٹی وی کے علاوہ کوئی ٹی وی چینل نہیں تھا اورپاکستان ٹیلی ویژن سے صبح شام ایم کیوایم کے خلاف جعلی ٹارچر سیلوں اور من گھڑت جھوٹے ڈراموں پر مبنی فلمیں نشر کی جاتی تھیں، ایم کیوایم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا تو صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے اسے سچ سمجھ لیا۔ فوجی آپریشن کے دوران کراچی،حیدرآباد اورشہری سندھ میں فوج وردی میں ٹینکوں کے ساتھ داخل ہوئی، بے گناہ کارکنان کاقتل عام کیا، مہاجرآبادیوں پر لشکر کشی کی اورمفتوحہ علاقوں کی طرح گھرگھرتلاشی لی گئی لیکن صوبہ پنجاب اورصوبہ خیبرپختونخوا سے اس غیرآئینی اورغیرقانونی فوجی آپریشن کے خلاف کوئی آوازنہیں اٹھی۔ ایم کیوایم سے نفرت کرنے والے صوبہ پنجاب اور KPK کے عوام فوجی آپریشن کی حمایت کرتے رہے اورخوش ہوتے رہے کہ مہاجروں کے خلاف فوج جوکچھ کررہی ہے وہ درست اور جائز ہے کیونکہ الطاف حسین فوجی جرنیلوں کی کرپشن اورسیاست میں فوج کے کردار کے خلاف بات کرتا ہے۔ کاش اس وقت پنجاب اورKPK کے عوام مہاجروں کے خلاف فوج کے ناجائز اورغیرآئینی آپریشن کے خلاف آواز اٹھاتے تو آج خیبرپختونخوا میں آپریشن کے نام پرہزاروں پشتونوں کا قتل نہیں ہوتا۔ 
الطاف حسین نے فوج کے غلط اقدامات اورزیادتیوں کے خلاف آوازاٹھائی توستمبر 2015ء میں لاہورہائیکورٹ کے ذریعے الطاف حسین کی تقریرپر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی عائد کردی گئی،یہ پابندی چھ مہینے کے لئے تھی لیکن گیارہ سال گزر جانے کے باوجود آج تک یہ پابندی عائد ہے۔ 
ہمارے خلاف ظالمانہ آپریشن جاری رہااورپورا ملک اس پر خاموش رہا،یہاں تک کہ 22  اگست 2016ء آگئی۔ کراچی پریس کلب پر ریاستی مظالم کے خلاف جاری بھوک ہڑتالی کیمپ پر اپنے خطاب میں الطاف حسین نے کہا کہ جہاں انسانوں کی جانوں کاکوئی تحفظ نہ ہو، ان پر ظلم کیاجارہاہواورکوئی انہیں اس ظلم سے بچانے والا نہ ہو، عدالت سمیت کوئی ادارہ فریاد سننے والا نہ ہو،کوئی انصاف فراہم کرنے والا نہ ہو، جہاں ایساظالمانہ نظام ہو، ہم اسے کس طرح زندہ باد کہیں؟ ظلم کے خلاف آوازاٹھانے پر فوج نے 22  اگست 2016ء کوبھوک ہڑتالی کیمپ کوتباہ کیا، کئی کارکنوں کوگرفتارکیا، اسی رات ڈاکٹر فاروق ستار سمیت رابطہ کمیٹی کے کئی ارکان کوپکڑکرہیڈکوارٹرگئے اوراگلی صبح وہ پریس کانفرنس میں الطاف حسین سے تعلقی کررہے تھے، اسی رات نائن زیرو کوفوج نے seal کردیا، وہاں فوج کاپہر ہ بٹھادیاگیا، کچھ عرصہ بعد فوج کی موجودگی میں ہی نائن زیروکوآگ لگادی گئی اورپھراسے بلڈوزکردیاگیا،22  اگست 2016ء کوآج دس سال ہوگئے لیکن آج تک نائن زیرو پر فوج کا پہرہ ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا ملک کے کسی سیاسی لیڈر کے گھرکوسیل کیا گیا، اسے آگ لگا کر بلڈوز کیا گیا؟ حتیٰ کہ عمران خان کوگرفتارتوکیا گیا، لیکن کیا ان کے گھرکوسیل کیا گیا؟ اسے آگ لگائی گئی؟ لیکن الطاف حسین کے گھرکوسیل کرکے آگ لگادی گئی۔ اسی لئے کہ الطاف حسین مہاجر ہے اور مہاجرہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے؟ مہاجرفرزندزمین نہیں ہیں، لہٰذا مہاجروں کومارو، ان کاقتل عام کرو، انہیں طاقت سے کچل دو۔ جب یہ ظلم ہو اورپورا ملک خاموش ہو تو پھر مکافات عمل تو ہوگا اوراللہ تعالیٰ کی لاٹھی بھی حرکت میں آئے گی۔ جس جس نے ہم پر ظلم کیا اور ہم پر ہونے والے ظلم وجبر پر خوشی سے بغلیں بجائیں،وہ قدرت کے مکافات عمل کاشکار ہوا۔ جب کل میں کہتا تھا کہ عدالتیں انصاف نہیں دے رہی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے لئے کام کررہی ہیں تو الطاف حسین کوغدار کہا جاتا تھا، آج جب خود کے ساتھ یہ ہورہا ہے توالطاف حسین کی بات لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہے اوروہ مان رہے ہیں کہ الطاف حسین صحیح کہتا تھا، آج سب وہی باتیں کررہے ہیں۔
22  اگست کی تاریخ ایم کیوایم کے کارکنوں کے لئے یوم عزم وفاہے کیونکہ اس روز چندلوگوں کی غداریوں کے باوجود تحریک کے سچے کارکنوں نے اپنی تحریک اورنظریہ سے وفاداری نبھانے کاعزم کیا۔ آج بھی ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ظرف وضمیر کا سودا کرکے الطاف حسین کے ساتھ غداری کی، ایم کیوایم کودفن کرنا چاہا، لیکن دوسری طرف وہ وفاپرست کارکنان ہیں جنہوں نے الطاف حسین کے ساتھ وفا نبھائی،جوگرفتار ہوتے رہے،لاپتہ ہوتے رہے لیکن ثابت قدم رہے اورآج تک ثابت قدم ہیں۔
ہمارے خلاف آج بھی ریاستی آپریشن جاری ہے، ہمارے ساتھیوں کوگرفتارکرکے لاپتہ کیا جارہا ہے، ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپنہور، ان کے بیٹے محسن پہنور گزشتہ دس ماہ سے لاپتہ ہیں، پریس فوٹوگرافرفیصل مجیب کئی ماہ سے لاپتہ ہیں، صحافی تحسین عباسی سمیت کراچی اورحیدرآباد کے کئی کارکنان گرفتاریا جبری لاپتہ کردیئے گئے لیکن میرے سچے وفاپرست ساتھی اپنی وفاپر قائم ہیں۔ وہ جین زی جنہوں نے الطاف حسین کودیکھاتک نہیں، وہ آج بھی الطاف حسین کے ساتھ ہیں اورآج بھی تحریک کاکوئی بھی اہم دن ہوتاہے، وہ وال چاکنگ کرتے ہیں، بینرزپوسٹرز لگاتے ہیں،انہیں ڈرایادھمکایاجاتاہے لیکن وہ ایم کیوایم کاکام نہیں چھوڑتے۔اس یوم عزم وفاپر بھی وفاپرست ساتھیوں نے بینرزاورپوسٹرزلگائے ہیں، چاکنگ کی ہے، وہ ڈٹے ہوئے ہیں،میں اپنے ان وفاپرست ساتھیوں کو سلام تحسین پیش کرتاہوں۔ 
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 453  ویں فکری نشست سے خطاب
22، اگست2026ء



8/25/2026 10:31:59 AM