Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کو انقلاب کی ضرورت ہے۔ الطاف حسین


  پاکستان کو انقلاب کی ضرورت ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 6/1/2026 1

 پاکستان کو انقلاب کی ضرورت ہے۔ الطاف حسین 

پاکستان اورہندوستان 14 اگست 1947ء کو ایک ہی ساتھ آزاد ہوئے تھے مگر یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ ایک ملک آزاد ہوا جبکہ دوسرا ایک آزاد ملک کے طورپروجود میں توآیا لیکن 78سال میں بھی ملک کو حقیقی آزادی نہ مل سکی، نہ ملک آزاد ہے اورنہ ہی ملک کے شہریوں کووہ آزادی حاصل ہے جوایک آزاد اورخودمختارملک کے شہریوں کو حاصل ہوتی ہے۔ سابق و زیراعظم عمران خان نے اس کی حقیقی آزاد ی کا نعرہ لگایا تواس کی پاداش میں وہ تین سال سے جیل میں قید ہیں۔
بحیثیت پاکستانی ہمیں اس بات پرغورکرنا چاہیے کہ انڈیااورپاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے مگر وہ کیا اسباب ہیں کہ پاکستان معاشی طورپرانڈیا سے پیچھے ہے؟ ڈالرکے مقابلے میں پاکستان کی کرنسی کمزور اور انڈیا کی کرنسی طاقتورکیوں ہے؟ انڈیا کی جی ڈی پی کا تناسب، پاکستان کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہے؟ انڈیا میں ایک مرتبہ بھی مارشل لا کیوں نہیں لگ سکا؟ اور پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے پھر بھی پاکستان میں اتنے مارشل لا کیوں لگے؟ اورجن حکومتوں کو تبدیل بھی کیا گیا تواس تبدیلی کے پیچھے کون تھا؟ 
ہم اگرپاکستان کوبہتربنانا چاہتے ہیں توہم اپنے پڑوسی ملک سے پاکستان کا موازنہ کرنے کے لئے کیوں تیارنہیں ہیں؟ ہمیں سوچنا چاہیے کہ انڈیا میں کتنے مذاہب کے ماننے والے اورکتنی زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں پھر بھی وہ ایک پرچم تلے متحد ہیں لیکن پاکستان میں چارمذاہب اورچند زبانیں بولنے والے رہتے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان میں تمام عوام ایک پرچم تلے متحد کیوں نہیں ہیں؟
ہمیں اس بات کوسمجھنا ہوگا کہ جس ملک میں آباد تمام عوام کورنگ، نسل، زبان قومیت، علاقے اورمذہب وعقیدے کے امتیاز کے بغیرسب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہو، سب کوبرابرسمجھتا جاتا ہو، عوام کوانصاف ملتا ہو، جہاں بولنے اوراظہار رائے پر پابندی نہ ہو اور کرپشن نہ ہووہ ملک ترقی کیا کرتے ہیں اورخوشحال ہوا کرتے ہیں۔ جبکہ جس ملک میں آباد تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں، تمام زبانیں بولنے والوں اورتمام قوموں کے ساتھ یکساں سلوک نہ کیا جاتا ہو، جہاں سب کویکساں انصاف فرہم نہ کیا جاتا ہو، جہاں عوام کے اظہاررائے پرپابندی ہو، زبانوں پر تالے ڈالے جاتے ہوں، جہاں عدالتیں آزاد نہ ہوں،انصاف ناپید ہو اورانصاف کے لئے آوازاٹھانے والوں کواٹھالیا جاتا ہو وہ ملک متحد نہیں ہوسکتا۔ جہاں کرپشن ملک کی جڑوں کودیمک کی طرح کھوکھلا کررہا ہواورکرپشن کے خاتمے کے لئے قائم ادارے خود کرپشن کی لعنت میں مبتلا ہو اورملک کولوٹنے والوں کواحتساب سے استثناء حاصل ہو وہاں ملک کی معیشت تباہی سے دوچارہوتی ہے اورجی ڈی پی کا تناسب نہ ہونے کے برابرہوتا ہے۔
پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ، سردارانہ نظام مسلط ہے،عوام کوان کے جائزحقوق میسرنہیں ہیں، ہرجگہ حقوق کی آوازیں بلند ہورہی ہیں اوران پرتوجہ دینے کے بجائے انہیں طاقت سے دبایا جارہا ہے،ایسی ہی پالیسیوں کے نتیجے میں 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا اوربدقسمتی سے باقیماندہ پاکستان بھی اسی جانب گامزن ہے۔ 
میں پاکستان میں رائج اس فرسودہ نظام کوتبدیل کرناچاہتا ہوں اورپاکستان میں ایسا نظام دیکھنا چاہتا ہوں جہاں ملک پر چند خاندانوں کا نہیں بلکہ عوام کاراج قائم ہو، ملک کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کوبھی عزت واحترام کی زندگی اور مساوی حقوق حاصل ہوں۔ لیکن اس کے لئے عوام کواٹھنا ہوگا ورنہ غریب ہاریوں، کسانوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کی حالت نہیں بدلے گی اوروہ اور ان کے بچے دو فیصد حکمراں اشرافیہ کی غلام بنے رہیں گے۔
ہمیں اس بات کوبھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا بھر میں حکمراں طبقہ، بادشاہوں، سرداروں، جاگیرداروں کا سب سے بڑا ہتھیار مذہب رہاہے۔ہرمذہب کے مولوی ہمیشہ حکمراں طبقہ اور اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے مذہب کا سہارا لیتے ہیں اورغریب عوام کویہ درس دیتے ہیں کہ تمہاری غربت وتنگدستی خدانے تمہاری قسمت میں لکھی ہے، یہ مرضی الٰہی ہے،لہٰذا تم اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش نہ کرو بلکہ تمہارا فرض ہے کہ اپنے حکمرانوں اوربادشاہوں کی اطاعت وفرمابرداری کرو۔ ہرمذہب میں یہی ہواہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی حالت بدلنے کے لئے مذہب کے ٹھیکداروں اورملاؤں کے چنگل سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔
پاکستان کی حکمراں اشرافیہ نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کوآج اس حال پر پہنچادیا ہے کہ چند خاندان تومالامال اورخوشحال ہیں جبکہ عوام غربت و تنگدستی اوربدحالی کاشکار ہیں۔ پاکستان کو انقلاب کی ضرورت ہے اورانقلاب صرف نعروں اوردعووں سے نہیں آیا کرتے بلکہ عملی جدوجہد اورقربانیوں کے نتیجے میں آیا کرتے ہیں۔ روس، چائنا، کیوبا، ویت نام اوردنیامیں جہاں جہاں بھی انقلاب آئے ہیں وہاں عوام نے بڑی جانی قربانیاں دی تھیں تب جاکر وہاں انقلاب آیا تھا، ہمیں بھی ا پنے ملک میں انقلاب کے لئے خود کو قربانیاں دینے کے لئے تیارکرنا ہوگا تب ہی عوام کی حالت بدلے گی اورملک بھی ترقی وخوشحالی کی راہ پرگامزن ہوگا۔ 

الطاف حسین 
ٹک ٹا ک پر 410  ویں فکری نشست سے خطاب
31  مئی 2026ء 




6/1/2026 10:28:22 PM