Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

معروف ادیب ، شاعر، مصنف، تجزیہ نگاراور دانشور خواجہ رفیق انجم کے انتقال پرقائد تحریک الطاف حسین کااظہارتعزیت


معروف ادیب ، شاعر، مصنف، تجزیہ نگاراور دانشور خواجہ رفیق انجم کے انتقال پرقائد تحریک الطاف حسین کااظہارتعزیت
 Posted on: 8/10/2021
 معروف ادیب ، شاعر، مصنف، تجزیہ نگاراور دانشور خواجہ رفیق انجم کے انتقال پرقائد تحریک الطاف حسین کااظہارتعزیت
 خواجہ رفیق انجم کے انتقال سے مجھے ذاتی طورپردلی صدمہ پہنچا ہے
 تحریک ایک حقیقت پسند مشفق بزرگ اورعظیم انقلابی شاعر سے محروم ہوگئی ہے
 خواجہ رفیق انجم نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر صدائے احتجاج بلند کی
 خواجہ رفیق انجم ، مہاجرتہذیب وثقافت کی جیتی جاگتی مثال تھے 
خواجہ صاحب جسمانی طورپر دنیا سے چلے گئے لیکن وہ حق پرستوں کے دلوںمیں ہمیشہ زندہ رہیںگے، الطاف حسین

لندن ۔۔10، اگست 2021ء 
  متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے معروف ادیب ، شاعر، مصنف، تجزیہ نگاراور دانشور خواجہ رفیق انجم کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہارکیا ہے ۔ایک تعزیتی بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ خواجہ رفیق انجم اردو، فارسی اور انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے ، وہ ایک بڑے شاعر، ادیب، مصنف اورعظیم دانشور ہی نہیں تھے بلکہ درد مند دل رکھنے والے اچھے انسان بھی تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ خواجہ رفیق انجم کے انتقال سے مجھے ذاتی طورپردلی صدمہ پہنچا ہے، ان کے انتقال سے تحریک ایک حقیقت پسند مشفق بزرگ اورعظیم انقلابی شاعر سے محروم ہوگئی ہے۔ جناب الطاف حسین نے ریاستی ظلم کا شکار مظلوموں کیلئے خواجہ رفیق انجم کی قلمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ خواجہ رفیق انجم ، مہاجرتہذیب وثقافت کی جیتی جاگتی مثال تھے ، ہرایک سے شفقت اور محبت سے پیش آنا ان کی شخصیت کا خاصہ تھا، انہوںنے اپنی پوری زندگی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کیلئے وقف کررکھی تھی اور ان کی تمام شاعری آمریت کے خلاف عوامی انقلاب اور انسانیت کی فلاح وبہبود پر مبنی تھی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیاجارہا تھا تو خواجہ رفیق انجم نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر مظلوموں کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی اور اپنے قلم کی طاقت سے مہاجروں پرجاری ریاستی مظالم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ترغیب دی۔ اس دور میں خواجہ رفیق انجم کی شہرہ آفاق نظم'' حسینیت کا اشارہ ہے ، سراٹھاکے چلو'' بہت مقبول ہوئی۔ 
''نظم ''
سراٹھاکے چلو
حسینیت کا اشارہ ہے  سراٹھاکے چلو
یزیدیت کو جھکانا ہے  سراٹھاکے چلو
رہِ وفا میں کٹیں سر، لُٹیں، جلیں ، گھربار
مگر اصول ہمارا ہے  سراٹھاکے چلو
ضمیرمردہ سروں کے نصیب میں جھکنا
ضمیرزندہ ہمارا ہے  سراٹھاکے چلو
کٹیں جو سر، توعجب کیا، اصول کی خاطر
یہ ظلم ہم کو گوارا ہے  سراٹھاکے چلو
ہم انقلاب کے عصرِ جدید کے رہبر
ستم کی رات مٹانا ہے  سراٹھاکے چلو
ہم حق پرست ہیں زندہ حقیقتوں کے امیں
صلیب  و  دار سجانا ہے  سراٹھا کے چلو
کبھی ضمیرکاسودا نہیں ہوا ہم سے
ہمارے سر میں یہ سودا ہے  سراٹھاکے چلو
رہِ جنوں میں گلوبند وپابجولاں ہیں
خوشا نصیب ہمارا ہے  سراٹھا کے چلو
گل ِ مراد کی ڈالی ہے  دار کی منزل
وہیں مقام ہمارا ہے  سراٹھاکے چلو
برہنہ پاسہی، دشت ِ بلامیں ، کانٹوں پر
پہاڑ رات گوارا ہے  سراٹھاکے چلو
اَزل سے گرچہ صف آرا ہے ، ظلم کا لشکر
مگرجہان ہمارا ہے  سراٹھاکے چلو
وہ اہلِ ظلم کا شیوہ ، یہ ریت ہے اپنی
یہ عہد ہم کو نبھانا ہے  سراٹھاکے چلو
ہمارے سر کی عزیزو، لگاکرے قیمت
ہمارا پھر بھی یہ نعرہ ہے  سراٹھاکے چلو

جناب الطاف حسین نے ماضی کے جھرکوں میں جھانکتے ہوئے خواجہ رفیق انجم سے اپنی ملاقاتوں کا احوال بیان کرتے ہوئے کہاکہ خواجہ رفیق انجم سے غائبانہ تعارف کے بعد اکثروبیشتر ان سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوتی رہتی تھی ، جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو خواجہ رفیق انجم کو لندن بلایاگیا تاکہ ان سے بالمشافہ ملاقات کی جاسکے ، جبرودہشت کے ماحول میں انکی قلمی جدوجہد پر شکریہ ادا کیاجاسکے اور انہیں خراج تحسین پیش کیاجاسکے ۔اس کے بعد خواجہ رفیق انجم کابڑے عرصے تک لندن آنا جانا ہوتارہا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ لندن میں خواجہ رفیق انجم کے ساتھ اکثر نشستوں میں ملک کی موجودہ صورتحال اور دیگر موضوعات پر طویل نشستیں ہواکرتی تھیں اور خواجہ رفیق انجم بزرگ اور ایک بڑے شاعر ودانشور ہونے کے باوجود مجھے اپنا قائد ورہبر سمجھتے اور انتہائی عقیدت واحترام سے پیش آتے تھے ، اسی طرح مجھے بھی خواجہ صاحب سے ایک روحانی عقیدت ومحبت تھی یہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم کے پروگراموں میں خواجہ صاحب کو انتہائی عزت واحترام کے ساتھ مدعو کیاجاتا تھا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جناح گراؤنڈ کراچی یا اوورسیز میں ایم کیوایم کے زیراہتمام منعقدہ ہر مشاعرے کی صدارت خواجہ رفیق انجم سے ہی کرائی جاتی تھی اور ان کا کلام حقوق کی جدوجہد کرنے والوں میں نہ صرف بے حد پسند کیاجاتا تھابلکہ آج بھی پسند کیاجاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ لندن میں خواجہ رفیق انجم نے مجھ سے ملاقات کے بعد مجموعہ کلام''ملاقات'' لکھا جس میں انتساب کے عنوان سے یہ نظم بھی لکھی 
''انتساب''
اپنے دلبر کے نام…سب کے رہبر کے نام
پیار جس سے ہوا…پیار جس سے ملا
پیار سب کا لئے…دل میں جیتا رہے
اپنے رنج والم…بھول کرسارے غم
درد  دل میں لئے …ہونٹ اپنے سیے
دوسروں کے لئے …اشک پیتا رہے
زخم سیتا رہے …اورجیتا رہے
صرف اس آس پے…جی سکیں دوسرے
وہ جو مظلوم ہیں …حق سے محروم ہیں
اپنی دھرتی ہی کو…اپنا سمجھیں نہ جو
جس زمیں پہ جئیں…یہ سمجھتے رہے
ہم توانجان ہیں…یاںپہ مہمان ہیں
بن بلائے ہوئے …یونہی آئے ہوئے
ظلم سہتے رہیں…کچھ بھی کہہ نہ سکیں
ان کے حق کے لئے …وہ جو سب سے لڑے
کچھ تو احساس ہو…کچھ انہیں آس ہو
زندگی کے لئے …روشنی کے لئے
اپنے حق پر اڑیں…غاصبوں سے لڑیں
اپنا حق چھین لیں…معتبر تو بنیں
سب کے حق کے لئے …وہ جو لڑتا رہے 
وہ مرا پیار ہے …میرا سردار ہے 
اس کو میرا سلام…اس کو سب کا سلام

جناب الطاف حسین نے کہاکہ لندن میں قیام کے دوران خواجہ رفیق انجم نے اپنے 
متعدد مجموعہ کلام لکھے جن میںحکایات خونچکاں،شہرچارہ گر، ملاقات، زبان خنجر اور لوح جہاں بہت مقبول ہوئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب2013ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد حالات مزید خراب ہوگئے توخواجہ صاحب کالندن آنا جانا ممکن نہ رہا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ 22 ، اگست2016ء کے بعد نائن زیروپرغیرقانونی ،غیراخلاقی اورغیرآئینی پابندی کے بعد خواجہ رفیق انجم سے رابطہ بہت مشکل ہوگیا تاہم میں ان سے بات چیت کیلئے بہت بے چین رہا کرتا تھا اورایک ماہ قبل بڑی مشکل سے ان کا رابطہ نمبر حاصل کرنے کے بعد میری ان سے طویل گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں بھی خواجہ صاحب کا وہی شفقت اورمحبت بھرا لہجہ تھا جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھا، اس گفتگو کے دوران خواجہ رفیق انجم نے شکوہ کیا کہ اب یہاں ہمیں کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے ، سندھ مکمل طورپر مقبوضہ علاقہ ہے، یہاں فوج اور رینجرز کا راج ہے ، سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت اور فوج کا درپردہ الائنس ہے جس کے باعث سندھ کے عوام غلاموں سے بدترزندگی گزاررہے ہیں،نائن زیرو کی غیرآئینی وغیرقانونی بندش پر ملک کی عدالتیں انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ یہ عدالتیں فوج کے حکم کے تابع ہیں، جوبھی جج، فوج کے غلط فیصلوں پرسوالات اٹھاتے ہیں انہیں بہادرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت صدیقی کی طرح نشان عبرت بنادیاجاتا ہے ، بہادر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے ضمیرکے مطابق آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ سچ بولتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اوران کے اہل خانہ کے ساتھ جوکچھ کیاجارہا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس گفتگو میں خواجہ رفیق انجم نے یہ بھی شکوہ کیا کہ الطاف بھائی ، آپ ہی ہمیں یاد کیاکرتے تھے اورہرموقع پر پوچھا کرتے تھے ، اب ہمیں کوئی بھی نہیں پوچھتا،آپ جیسے محسن سے لاتعلقی کرنے والے احسان فراموش ٹولے جب اپنے شہیدوں ، ان کے لواحقین، لاپتہ ساتھیوں، ان کے اہل خانہ ، جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اسیروں اوران کے اہل خانہ کوبھول گئے ، فوج کے ہاتھوں بک کراپنی عیاشیوں میں لگ گئے تو قوم کا سودا کرنے والے لوگ ایک حق پرست شاعر کوکیسے یاد رکھیںگے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ خواجہ رفیق انجم کے انتقال سے تحریک ایک مشفق بزرگ اور عظیم انقلابی شاعر ودانشورسے محروم ہوگئی ہے، خواجہ صاحب جسمانی طورپراس دنیا سے ضرورچلے گئے لیکن انہوں نے ظلم وجبر کے خلاف اپنے حق پرستانہ کلام اور اپنی تحریروں کے ذریعے جس طرح اہل حق کی ترجمانی کی ہے وہ 
ناقابل فراموش ہے اور اس صورت میں خواجہ صاحب، حق پرستوں کے دلوں میں  ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے خواجہ رفیق انجم کے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام وفاپرست کارکنان آپ کے ساتھ ہیں اور اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ جناب الطاف حسین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ، خواجہ رفیق انجم کے درجات بلند فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کرے اورسوگوارلواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کاحوصلہ دے ۔ (آمین یاالہی آمین)
٭٭٭٭٭


12/5/2021 2:28:39 PM