Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں مارشل لائی جمہوریت نافذ ہے


پاکستان میں مارشل لائی جمہوریت نافذ ہے
 Posted on: 10/19/2026

پاکستان میں مارشل لائی جمہوریت نافذ ہے

میں نے کل بھی یہ سوال کیاتھاکہ ملک کی فوج ہوتی ہے یا فوج کا ملک ہوتا ہے؟ اگر کسی ملک میں آمریت، بادشاہت یا مارشل لاء ہوتو وہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ فوج کا ملک ہے، بادشاہ کا ملک ہے، وہاں بادشاہ کی فوج کی حکمرانی چلتی ہے اوربادشاہ کی اپنی عدالت ہوتی ہے۔دنیا میں لگ بھگ 200ممالک ہیں، ماسوائے چند ممالک کے ہرملک میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں،جہاں جمہوری حکومت ہوتی ہے وہاں جمہوریعنی عوام اپنی پسند کی جماعت کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی میں بھیجتے ہیں جو پارلیمنٹ ہاؤس میں ووٹ دیکر وزیراعظم،وزیراعلیٰ، اسپیکروڈپٹی اسپیکرکومنتخب کرتے ہیں۔
جب ہم اپنے ملک کی سیاسی تاریخ دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف اورصرف دوجماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) حکومتوں میں نظرآتی ہیں، ان جماعتوں کے  خاندان نسل درنسل ملک پر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں اور انہیں حکومت میں لانے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ معاون ومددگار بنتی ہے،  اسٹیبلشمنٹ پہلے سے ہی طے کرلیتی ہے کہ کس جماعت کے نمائندے کو وزیراعظم بنانا ہے۔ 
پاکستان میں اسکندرمرزا نے آئین توڑا اورجنرل ایوب خان کو چیف آف آرمی اسٹاف بناکر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ لگایا، اس کے بعد جتنے بھی مارشل لاز لگے انہیں سپریم کورٹ نے جائز قراردیا۔قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھاکہ پاکستان جمہوری ملک ہوگا،لیکن اگرایک جمہوری ملک میں فوجی مارشل لاء لگتے رہے تو اس ملک کوجمہوری ملک کہیں یا مارشل لائی جمہوریت کہیں یااسلامی فوجیائی پاکستان کہیں؟
دنیا میں کسی بھی جمہوری ملک میں مارشل لاء لگانے والے جرنیلوں پر غداری کامقدمہ چلایا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں جتنی بھی جمہوری حکومتیں بنیں وہ جی ایچ کیو اورآبپارہ کی حمایت سے بنیں تو ان حکومتوں کو آپ نوازشریف کی مارشل لائی حکومت اورپیپلزپارٹی کی مارشل لائی حکومت کہہ سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے پاس وزارت عظمیٰ کامنصب ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے پاس صدارت کا منصب ہے تواب یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مارشل لائی وزیراعظم میاں شہباز شریف اور مارشل لائی صدر آصف علی زرداری۔ ملک میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام قائم ہے اور سیاست میں فوجی جرنیلوں کی مداخلت کا عمل بھی جاری ہے۔ 
ہمیں طعنے دیئے جاتے ہیں کہ آپ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں شامل تھے لیکن کوئی بھی ذی شعور اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام اورفوجی جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت کے خلاف اگرسب سے پہلے کسی نے آواز اٹھائی ہے تو وہ الطاف حسین نے ہی اٹھائی ہے۔ میں نے فوج کی سیاست میں مداخلت پرتنقید کی تومجھ پر ملک دشمنی، فوج مخالف، دہشت گرد اورطرح طرح کے الزامات لگائے گئے، جب یہی باتیں عمران خان نے کیں توان پر بھی اسی طرح کے الزامات لگائے گئے۔
عمران خان کوکرکٹ کے تو تمام بین الاقوامی قوانین معلوم تھے لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ فوج کے جرنیل دنیا کودکھانے کے لئے وزیراعظم کوسیلوٹ کرتے ہیں لیکن جب سازشوں کے ذریعے وزیراعظم کو کرسی سے اتاردیں توکیا سلوک کرتے ہیں۔جب عمران خان کومعلوم ہواان کے خلاف سازشیں شروع کردی گئی ہیں تو انہوں نے اپنے تمام ارکان قومی اسمبلی اورسینیٹرزکااجلاس بلاکران سے قرآن مجید پر حلف لیاکہ اگرانہیں غیرآئینی وغیرجمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی جائے توآپ میں سے کوئی بے وفائی نہیں کرے گا۔ جنہوں نے حلف لیا ان میں سے بہت سے توجیل میں ہیں، کچھ ملک سے باہر اورکچھ روپوش ہیں، کچھ ساتھ چھوڑ گئے۔عمران خان نے معلوم کیاکہ آخرفوج ان کے خلاف کیوں ہوگئی ہے توانہیں بتایاگیاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیامیں کھل کرتقریر کی ہے اورفلسطین کی بات کی ہے۔ اسی طرح عمران خان نے ایک امریکی صحافی کوانٹرویو میں پاکستان میں امریکہ کوڈرون حملوں کے لئے اڈے دینے کے سوال پر Absolutely not کہا توامریکہ میں زلزلہ آگیا، جس کی لہریں اسلام آباداورراولپنڈی تک گئیں۔اس کے بعد امریکہ سے ایک سائفر آگیااورعمران خان کی حکومت ختم کردی گئی اور عمران خان کوگرفتارکرکے قید کردیاگیا۔ 
پی ٹی آئی نے احتجاج کیاتو26نومبرکوان پر گولیاں چلائی گئیں اورپی ٹی آئی کے لیڈرآدھے راستے سے بھاگ گئے۔ اب جب دوتہائی اکثریت سے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ نکلا توپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے رہنما بشمول بلاول زرداری،سب نے دھمکیاں دیں کہ اگرلانگ مارچ ختم نہیں کیا گیا توہم گورنرراج نافذ کردیں گے اورانہوں نے ایسا ہی کیا۔صوبے کی منتخب حکومت ختم کردی گئی، گورنر راج نافذ کردیاگیا، سہیل آفریدی اورخیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکرکوگرفتارکرکے غائب کردیا گیا، اگروہ گرفتارہیں توحکومت کوبتانا چاہیے کہ وہ کس تھانے یاجیل میں ہیں، حکومت نے کچھ نہیں بتایا ہے،اس کامطلب ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔آج بلاول زرداری کہہ رہاہے کہ سہیل آفریدی نے دہشت گردوں کامقابلہ کرنے سے انکارکردیاتھا،اورتحریک انصاف کاافغانستان سے تعلق ہے۔انہیں ایسا کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ 
میں گورنرراج کے نفاذ کے بعد خیبرپختونخوا میں کی جانے والی گرفتاریوں اورچھاپوں کی مذمت کرتاہوں اورپی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتاہوں کہ وہ چھاپوں گرفتاریوں سے خوفزدہ نہ ہوں اورمایوس نہ ہوں، ہمارے ساتھیوں نے اس سے زیادہ بدترین مظالم اورزیادتیوں کا سامنا کیا ہے۔ میں تمام نوجوانوں سے کہتاہوں کہ وہ میدان عمل میں آئیں، جمہوریت کوبچائیں، ملک کوبچائیں۔

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 487  ویں فکری نشست سے خطاب
18  اکتوبر2026ء


10/24/2026 6:05:05 PM