Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کے عوام کو اب تک مطالعہ پاکستان کے ذریعے جوتاریخ پڑھائی گئی ہے وہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔


 پاکستان کے عوام کو اب تک مطالعہ پاکستان کے ذریعے جوتاریخ پڑھائی گئی ہے وہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔
 Posted on: 10/17/2026

مطالعہ پاکستان اورپاکستان کی اصل تاریخ 
(الطاف حسین)

پاکستان کے عوام کو اب تک مطالعہ پاکستان کے ذریعے جوتاریخ پڑھائی گئی ہے وہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ 

کیا پاکستان اسلام کے لئے بناتھا؟
پاکستان کے طلبہ کوآج تک یہ پڑھایاجاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے لئے بناتھا، اگرواقعی ایسا تھا توکیا قیام پاکستان سے قبل ہندوستان میں آبادمسلمان کافرتھے؟ یا جو کروڑوں مسلمان آج بھی ہندوستان میں رہتے ہیں، کیا وہ مسلمان نہیں ہیں؟ 

برصغیرپر سلطنت برطانیہ کاقبضہ
ہمیں اصل تاریخ کوجاننے کے لئے مطالعہ کرناچاہیے۔ برصغیرکی تاریخ یہ ہے کہ سلطنت برطانیہ نے دنیامیں مختلف ممالک کواپنی کالونی بنایا تھا وہاں کی قوموں کی تاریخ، ان کی ثقافت، تہذیب،مذہب، روایات اوراقدارکابھی تجزیہ کیااوران کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکراوراپنی طاقت کے ذریعے انہیں اپنا غلام بنایا۔ انگریزوں نے برصغیرپرقبضہ کرنے کے لئے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج بنائی،وہاں کی ریاستوں پر قبضہ کیا اس کے لئے انگریزوں نے نوابوں اورراجاؤں کے قریبی لوگوں کوبھی خریدا، جنہوں نے مزاحمت کی، انہیں طاقت کے ذریعے شکست دی،جن نوابین اور راجاؤں نے سلطنت برطانیہ کی اطاعت قبول کرلی انہیں جاگیریں عطا کیں، ان کواپنی ریاستوں پرحکمرانی کی اجازت دی،ان سے کہا کہ وہ سلطنت برطانیہ کے وفاداربن کررہیں، انگریزوں نے تمام وارلارڈزنے ان سے دوستیاں کیں، انہیں اپنے قریب کیا۔ ہندوستان کے لوگوں کواپنی فوج میں بھرتی کیا، آہستہ آہستہ انگریز ہندوستان کے علاقوں پر قبضے کرتے رہے۔ اس وقت ہندوستان پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی حکمرانی تھی۔ انگریزوں کے قبضے کے خلاف 1857ء میں جنگ آزادی ہوئی جس میں ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اوردیگر مذاہب کے ماننے والے ہندوستانیوں نے حصہ لیا۔ 1857کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کامکمل قبضہ ہوگیا۔
انگریزوں نے ہندوستان پرقبضہ کے لئے اپنی فوج میں ہندوستان کے لوگوں کوبڑی تعدادمیں بھرتی کیا، ان میں سب سے بڑی تعداد موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھی۔ جہاں کے جاگیرداروں، وڈیروں اورمزارات کے گدی نشینوں نے انگریزوں کی فوجوں میں اپنے علاقوں کے لوگوں کوبھیجاجس کے انعام میں انہیں جاگیریں عطاکی گئیں اور”سر“ کے خطابات دیے گئے۔ جن میں سندھ کے وڈیرے اورذوالفقارعلی بھٹوکے والد شاہنوازبھٹوبھی شامل ہیں، جنہیں انگریزوں سے وفاداری اورخدمت کے صلے میں جاگیریں اورسر کاخطاب ملا۔ 
انگریزوں کے منصوبے کے تحت 1906ء میں آل انڈیامسلم لیگ بنائی گئی اوراس کے بنانے والوں میں تمام کے تمام نوابین شامل تھے۔ انگریزوں نے برصغیرپراپنے قبضے کوجاری رکھنے کے لئے ہندوستان کے عوام کوتقسیم کرنے کے لئے مذہب کا ہتھیاراستعمال کیا،مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لئے انہیں مسلک کی بنیادپرآپس میں تقسیم کیا گیا، اس مقصد کے لئے دیوبند اوربریلوی مسلک کے مدرسے قائم کئے گئے۔ 
 انگریزہندوستان سے جانا نہیں چاہتے تھے لیکن جنگ عظیم اول(1914-1919) اورجنگ عظیم دوم (1939-1945) کے بعد انگریزوں کی حالت بہت ناز ک ہوگئی تھی اورانہیں اپنی کالونیوں پر قبضہ برقرار رکھنامشکل ہوگیا تھا لہٰذا انہوں نے جن جن کالونیوں پر سے قبضے ختم کئے وہاں کے ٹکڑے کئے، انگریزوں نے ہندوستان پرقبضہ ختم کرتے ہوئے یہ منصوبہ بنایا کہ اس خطے میں ایک ایسا ٹکڑاہونا چاہیے جس کے ذریعے وہ خطے میں اپنااثرورسوخ برقراررکھ سکیں اوراپنے مفادات کاتحفظ کرسکیں۔
قائداعظم جوایک بڑے تاجرکے بیٹے تھے جنہوں نے برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اوروہ انگریزوں کے قریب تھے۔ وہ پہلے آل انڈین نیشنل کانگریس میں شامل تھے لیکن کچھ سال بعدوہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ ہندوستان کی تقسیم کے مقصد کے لئے دوقومی نظریہ پیش کیا گیا کہ ہندواورمسلمان الگ الگ ہیں اوراب وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن ہونا چاہیے جہاں وہ آزادی کے ساتھ زندگی گزارسکیں۔ سازش کے تحت ہندومسلم فسادات کرائے گئے۔ قائداعظم کو استعمال کیا گیا اورکہا گیا کہ وہ مسلمانوں کی قیادت کریں۔  

کیا پاکستان کاخواب علامہ اقبال نے دیکھا؟
قوم کویہ بتایاجاتاہے کہ شاعرمشرق علامہ اقبال نے پاکستان کاخواب دیکھااوراس کے لئے علامہ اقبال کے 1930ء کے خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیا جاتا ہے جبکہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کے بجائے ہندوستان کے وفاق کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں پرمشتمل ریاستوں کی خودمختاری کی بات کی تھی۔ جب بعض لوگوں نے اسے پاکستان اسکیم قرار دیا توعلامہ اقبال نے اپنے خطوط کے ذریعے اس بات کی سختی سے تردید کی۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال نے بھی اپنے انٹرویوز میں کئی بار واضح الفاظ میں کہا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کی کوئی تجویزپیش نہیں کی تھی اورنہ ہی علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ 

قرارداد پاکستان یا قراردادلاہور
 23 مارچ کویوم پاکستان منایا جاتا ہے اورپاکستان کے عوام کوبتایاجاتا ہے کہ 23مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی۔ قوم کوغلط بتایاجاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ 23مارچ 1940ء کولاہور کے منٹوپارک میں جوقرارداد منظورکی گئی تھی وہ ”قراردادلاہور“ تھی اور اس قرارداد میں پاکستان کا لفظ تک شامل نہیں تھا اوراگرکوئی کہتا ہے کہ اس میں پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تھا تووہ دکھادے۔ قرارداد لاہور میں بھی کسی علیحدہ وطن کامطالبہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ ہندوستان کے شمال مغربی خطے میں مسلم اکثریتی علاقوں کو آزاد اورخودمختارریاستیں بنانے کی بات کی گئی تھی۔
جب 1947ء میں پاکستان قائم ہوااوربانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح ملک کے پہلے گورنرجنرل بنے توانگریزوں نے قائداعظم کے ساتھ دھوکہ کیااوران سے کہلوایاکہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان اب ہندوستان کے وفاداربن کر ہندوستان میں ہی رہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی یہ تقسیم صرف ایک ملک کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی تقسیم تھی،اگریہ تقسیم نہ ہوتی توہندوستان کے مسلمان ہندوستان، پاکستان اوربنگلہ دیش کے جغرافیے میں تقسیم نہ ہوتے اوروہ ہندوستان میں رہتے ہوئے اتنی بڑی طاقت ہوتے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حمایت کے بغیرکوئی حکومت نہیں بن سکتی تھی۔

پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ کانعرہ
اکثر سیاسی ومذہبی رہنمااوردانشوریہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران یہ نعرہ لگایا گیا تھا کہ ”پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ“۔ یہ بات غلط اورگمراہ کن ہے، تحریک پاکستان میں ایساکوئی نعرہ نہیں لگایا گیا تھا،بلکہ قیام پاکستان کے بعد یہ نعرہ جماعت اسلامی نے لگایااوراس کوتحریک پاکستان سے جوڑ دیاگیا جو تاریخی طورپرحقیقت نہیں ہے۔ 
میں یہ تاریخ اسلئے بیان کررہا ہوں تاکہ ہمیں اپنے ملک کی اصل اورسچی تاریخ کاعلم ہو، میں عوام خصوصاً نوجوانوں سے، جین زی سے یہ اپیل کروں گاکہ وہ اس تاریخ کی تصدیق کے لئے تحقیق کریں، گوگل، وکی پیڈیا،چیٹ جی پی ٹی اوردیگرذرائع سے تصدیق کریں۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 486  ویں فکری نشست سے خطاب
17  اکتوبر 2026ء


10/19/2026 5:10:30 AM