Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو میدان سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی پیداوار تھے


تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو میدان سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی پیداوار تھے
 Posted on: 7/20/2026


تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو میدان سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی پیداوار تھے

تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو میدان سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی پیداوار تھے، ان کےوالد سرشاہنواز بھٹو ایک بڑے جاگیردارتھے،وہ تقسیم ہند سے پہلے ریاست جونا گڑھ کے منشی تھے اور سلطنت برطانیہ کےفرمانبردار اور اطاعت گزار تھےجس کےصلے میں انگریزوں سے انہیں ”سر“ کا خطاب اورہزاروں ایکڑ زمینیں انعام کےطور پر ملی تھیں۔جوشاؤنسٹ اور متعصب عناصر سرسید احمدخان کو سرکاخطاب ملنے پر انہیں انگریزوں کاایجنٹ قراردیتے ہیں وہ بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو کوانگریزوں کی اطاعت وفرمانبرداری پرسرکاخطاب ملنے پر کیاکہیں گے؟ بھٹوکے والد سر شاہنواز بھٹوکی زمینوں پر سلطنت برطانیہ انگریز اورامریکی شکار کھیلنے آتے تھے، ذوالفقارعلی بھٹو بھی اپنے والدکے ساتھ انگریزوں اور امریکیوں کی خدمت گزاری میں شریک ہوتے۔ایک مرتبہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ہوریک ہلڈریتھ (Horace Hildreth) شاہنواز بھٹو کی زمینوں پرشکاررکھیلنے آئے تووہ بھٹوکی خدمت گزاری سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اسکندرمرزا اور جنرل ایوب خان سےکہاوہ بھٹو کواپنی حکومت میں جگہ دیں جس پر انہیں فوجی حکومت میں شامل کیاگیا۔ بھٹو جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت میں وزیر خارجہ اور مختلف وزارتوں پرفائزرہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جنرل ایوب خان سے اتنی قربت تھی کہ وہ جنرل ایوب خان کو”ڈیدی “ یعنی اپناباپ کہتے تھے۔جب 1966ء میں جنرل ایوب خان کے خلاف محض چینی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے توذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوگئےاور 1967ء میں اپنی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے قائم کر نے کااعلان کردیا۔ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کےبانی ارکان میں جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشرحسن، معراج محمدخان، حفیظ پیرزادہ، کمال اظفر، حیات شیرپاؤ اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔اس وقت ملک میں عوام مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کررہے تھے اور ان دنوں سوشلزم کی ہواچل رہی تھی لہٰذا بھٹو نے اپنی جماعت کامنشور”اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معیشت اورطاقت کا سرچشمہ عوام“ رکھا اورعوام کو”روٹی کپڑا اورمکان“ کانعرہ دیا لیکن انہیں پس پردہ فوج کے جرنیلوں کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔  جنرل ایوب خان کے اقتدار سے استعفیٰ دینے کے بعد 25مارچ 1969ء کو جنرل یحییٰ خان نے ملک میں دوسرامارشل لاء نافذ کردیا۔ بھٹو جنرل یحییٰ خان کی حکومت کے ساتھ رہے اوران کے وزیرخارجہ کے فرائض بھی انجام دیے۔ جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں ملک میں عام انتخابات کرائے توان انتخابات میں مشرقی پاکستان سے جنم لینے والی شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ نے 160نشستیں حاصل کیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی محض 81 نشستیں حاصل کرسکی۔ شیخ مجیب مسلسل مطالبہ کرتے رہےکہ حکومت سازی کےلئےفی الفورقومی اسمبلی کااجلاس بلایا جائے لیکن جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے قومی اسمبلی کااجلاس نہیں بلایاکیونکہ فوجی حکومت عوامی لیگ کو اقتدارحوالے کرنا نہیں چاہتی تھی اوربھٹو بھی یہی چاہتا تھاکہ عوامی لیگ برسراقتدار نہ آئے۔ مجبورہوکرشیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کااجلاس بلالیا۔ جس پر فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں پرورش پانے والے ذوالفقارعلی بھٹو نے لاہور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ دھمکی آمیز اعلان کیا کہ مغربی پاکستان سے جو بھی منتخب رکن اگرقومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کےلئےڈھاکہ جائے گا توواپسی پر اس کی ٹانگیں توڑدی جائیں گی،مغربی پاکستان سے واحد رکن اسمبلی احمدرضاقصوری اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ گئے تھے، جب وہ واپس آئے توبھٹوحکومت میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیاجس میں احمدرضا قصوری بچ گئے لیکن ان کے والد نواب محمداحمدخان قصوری جاں بحق ہوگئے۔جب جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹااورملک میں مارشل لاء نافذ کیاتو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمداحمدخان قصوری کے قتل کے الزام میں ہی بھٹوکو پھانسی دی گئی تھی۔  دنیا کے مسلمہ قانون کے تحت 1970ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے پر شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کواقتدارحوالے کرناچاہیے تھا لیکن فوج نے کہاکہ ملک پر ایک بنگالی وزیراعظم کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکتا، دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ شیخ مجیب الرحمن ایک غریب کابیٹاتھا جبکہ ذوالفقارعلی بھٹو ایک بہت بڑے جاگیردار سرشاہنوازبھٹو کابیٹا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن نے باقاعدہ آپریشن سے پہلے علیحدگی کااعلان نہیں کیاتھا بلکہ وہ صرف یہ کہہ رہاتھاکہ بنگالیوں کوان کے حقوق دو اوران کے میڈیٹ کو تسلیم کرو لیکن فوج نے بنگالیوں کو تسلیم نہیں کیا، بھٹو بھی کسی قیمت پر بنگالیوں کواقتداردینے کاحامی نہیں تھا لہٰذا بھٹونے لاہورمیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ”اِدھرہم، اُدھر تم“ کانعرہ لگایا۔
یعنی مغربی پاکستان کاوزیراعظم الگ اورمشرقی پاکستان کاوزیراعظم الگ، اس طرح بھٹونے ملک کوبنگالی اورنان بنگالی میں تقسیم کردیا۔ فوج اوربھٹونے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کو اقتدار دینے کے بجائے مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کے خلاف فوجی آپریشن کردیا، بالآخر 16دسمبر  1971ء کو پاکستان ٹوٹ گیااورایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے انڈین فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ پاکستان ٹوٹنے کے بعدجنرل یحییٰ خان نے اقتدارذوالفقارعلی بھٹو کے حوالے کردیا اور بھٹو پاکستان کی تاریخ کاپہلا سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرکے عہدے پر فائز ہوا۔  جومتعصب اورشاؤنسٹ لوگ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے یہ بہتان لگاتے ہیں کہ ایم کیوایم جنرل ضیا الحق نے بنائی، وہ یہ بتائیں کہ پیپلزپارٹی کس نے بنائی؟ بھٹوکواقتدارمیں کون لایا؟جنرل ایوب خان کو ڈیڈی الطاف حسین کہتا تھا یابھٹو؟ فوج نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر الطاف حسین کوبنایاتھا یابھٹوکو؟  جومتعصب لوگ الطاف حسین پر سندھ میں تقسیم اورنفرت کابہتان لگاتے ہیں، وہ بتائیں کہ” اِدھرہم، اُدھر تم“ کانعرہ الطاف حسین نے لگایاتھایاسندھ کے وڈیرے ذوالفقارعلی بھٹو نے لگایاتھا؟  پاکستان میں بنگالی اورنان بنگالی کی تقسیم الطاف حسین نے کی یابھٹو نے؟ سندھ میں کوٹہ سسٹم کے ذریعے دیہی اورشہری کی تقسیم کی بنیاد الطاف حسین نے رکھی یا بھٹو نے؟ سندھی مہاجر کی تفریق کی بنیاد الطاف حسین نےرکھی یا ذوالفقارعلی بھٹو نے؟  پاکستان کوتوڑنے میں جہاں فوج کاہاتھ ہے وہاں بھٹواوران کی پیپلزپارٹی کابھی برابرکاہاتھ ہے۔ پیپلزپارٹی آج پھر ایک سازش کے ذریعے سندھ میں نفرت اورتقسیم کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہی ہے۔  میں سندھیوں اورمہاجروں کوکہتاہوں کہ ہم سندھ کے مستقل باشندے ہیں، ہمیں سندھ میں مل کررہنا ہے اورجوعناصر ان کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں کررہے ہیں ہمیں انہیں ناکام بنانا ہے۔  الطاف حسین  ٹک ٹاک پر 432  ویں فکری نشست سے خطاب 18جولائی 2026ء


7/22/2026 4:36:21 PM