Home
 
Altaf Hussain
 
English News
 
Urdu News
Sindhi News
Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
Events
Blogs
Fikri Nishist
Study Circle
Songs
Videos Gallery
Manifesto 2013
Philosophy
Poetry
Online Units
Media Corner
RAIDS/ARRESTS
About MQM
Social Media
Pakistan Maps
Education
Links
Poll
Web TV
Feedback
KKF
Contact Us
مہاجروں کے خلاف مظالم اورآمریت کے تسلط میں ذوالفقارعلی بھٹوکاکردار الطاف حسین
Posted on: 7/21/2026
مہاجروں کے خلاف مظالم اورآمریت کے تسلط میں ذوالفقارعلی بھٹوکاکردار الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان ایک آزاد ملک یا گیریژن اسٹیٹ؟ پاکستان ہمیشہ سے امریکہ، برطانیہ اور مغربی طاقتوں کے مفادات کیلئے ہرطرح کی مدد کرتارہا ہے اوراس کے ہرظالمانہ اور جابرانہ عمل پرامریکہ کاساتھ دیتا چلا آیا ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے،جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصورکیا جائے گا۔اب پاکستان کایہ مؤقف سامنے آیا ہےکہ سعودی عرب پر حملہ سرخ لکیرہے، اگر سعودی عرب پر ایران یا یمنی حوثیوں نے حملہ کیا توکیا پاکستان بھی اس جنگ میں شامل ہوجائے گا؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملے کےجواب میں ایران یا یمن کے حوثیوں پر حملہ کرے گا؟کیا اس صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں نہیں آجائےگا؟ کیا اس جنگ میں کودنا پاکستان کے مفاد میں ہوگا؟ آج ہرفرد یہ سوال کررہاہے کہ آپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سعودی عرب کاڈیفنس امریکہ کے پاس ہےاگر سعودی عرب،اردن، شام، ترکی، مصر اورمڈل ایسٹ میں قائم امریکی اڈوں سے ایران پر حملے ہوتے رہیں تو کیا ایران کو جواب نہیں دینا چاہیے؟پاکستان پہلے بھی غیرملکی طاقتوں کےمفادات کیلئے پہلے بھی گیریژن اسٹیٹ تھا اورآج بھی ہے جس کے باعث پاکستان کا کلچر تباہ ہوگیا، سرد جنگ میں پاکستان میں جہادری مدرسے اور تحریک طالبان کیاMQM نے بنائی؟ یا فوج، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے بنائی، پیپلزپارٹی کابیان ریکارڈ پر ہےکہ”طالبان ہمارے بچے ہیں “ مسلم لیگ کے سربراہ نوازشریف کہتے تھےکہ ”میں جنرل ضیاء الحق کااسلامی نظام لاؤں گا“۔ یہ عجب مذاق ہے کہ جو لوگ فوج کی نرسری میں پیدا ہوئے وہ آج جمہوریت کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کاجائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 23، مارچ 1956ء کو اسکندر مرزا کوگورنرجنرل سے پاکستان کا صدربنایا جاتا ہے۔7، اکتوبر1958ء کو انہوں نے ملک میں مارشل لاء لگادیا، اس وقت آرمی چیف جنرل ایوب خان تھا، اسکندرمرز نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔مارشل کے نفاذ کے محض 20 دن بعد یعنی 27،اکتوبر1958ء کو جنرل ایوب خان نے صدراسکندرمرزا سے بندوق کی نوک پر استعفیٰ لیا اور انہیں جلاوطن کردیا، ا س طرح ملک پر جنرل ایوب خان کی فوجی آمریت کاسلسلہ شروع ہوا۔وہ ملک کے صدر اور فیلڈ مارشل بھی بن جاتے ہیں۔ جنرل ایوب خان نے جب اپنی کابینہ تشکیل دی تو ذوالفقارعلی بھٹو اس فوجی کابینہ میں شامل ہوتے ہیں، انہیں پہلے وفاقی وزیربرائے تجارت اورپھر وفاقی وزیربرائے پانی وبجلی بنایا جاتا ہے۔اب پاکستان کے عوام کیلئے دعوت فکرہے کہ غریب عوام دوست اور روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والا بھٹو کہاں کی پیداوارہیں؟ اسی طرح ن لیگ کے سربراہ نوازشریف کو جنرل ضیاء الحق کی پیداوار کہا جاتا ہے۔ 1960ء سے 1962ء تک بھٹو فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ میں وزیررہے پھر 1962ء میں بھٹو کووزیرخارجہ بنادیاجاتا ہے۔ اس وقت ذوالفقارعلی بھٹو جنرل ایوب خان یعنی ایک آمر کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ 1957ء میں ذوالفقارعلی بھٹو اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے بھی رہے۔جب 1964ء میں صدارتی الیکشن کاسلسلہ شروع ہوا تو اس وقت ذوالفقار علی بھٹو وزیرخارجہ کے منصب پرفائز تھے، جنوری1965ء میں صدارتی انتخاب ہوئےتو بنگالیوں اورمہاجروں نےقائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دیا لیکن جنرل ایوب خان نے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کرکے محترمہ فاطمہ جناح کو ہرادیا، جنرل ایوب خان کو شدید غصہ تھا کہ مہاجروں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور انہوں نےیہ کہا کہ ”مہاجروں کیلئے سمندر ہے“ذوالفقارعلی بھٹو مہاجروں سے شدید نفرت رکھتا تھا، اس نے جب دیکھا کہ مہاجروں نے ان کے ڈیڈی کو ووٹ نہیں دیئے توبھٹو نے جنرل ایوب خان سے کہاکہ ” ڈیڈی مہاجروں کو سبق سکھائیں اورجشن فتح مناکر ثابت کریں کہ کراچی اورحیدرآباد سے بھی آپ کامیاب ہوئے ہیں لہٰذا ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب کی سربراہی میں قبائلی علاقوں سے سادہ لوح پٹھانوں کویہ کہہ کر کراچی لایا گیا کہ وہاں کافروں سے لڑنا ہے، جشن فتح کی آڑ میں پٹھانوں کے ذریعے مہاجربستیوں پر حملےکرائے گئے۔ جشن فتح کے نام پر کراچی میں جلوس نکالے گئے، مہاجربستیوں پر حملے کرکے نہتے مہاجروں کا قتل کیا گیا۔ جبکہ بعض پوڈکاسٹرز منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ الطاف حسین نے مہاجروں کودوسری قومیتوں کے خلاف بھڑکایا۔ میں سوال کرتا ہوں کہ 1964ء میں کیاالطاف حسین سیاست میں تھا؟ کیاایم کیوایم کاوجود تھا؟ ایوب خان کے دور میں مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں جلوس نکالےگئےجن میں ”ایوب کتا ہائے ہائے“ کے نعرے لگاکرتے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر ذوالفقارعلی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے علیحدہ ہوگئے۔
جنرل ضیاء الحق کوآرمی چیف کس نے بنایا: ذوالفقارعلی بھٹو نے 1972ء میں اقتدار سنبھالا اور1976ء میں بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو ملک کا آرمی چیف بنایا۔ یہ تاریخی حقائق ہیں کہ اس وقت سینیارٹی کے لحاظ سے جنرل ضیاء الحق کا نمبر8 واں تھا اور انہیں یکم مارچ 1976ء کوسات سینئرجرنیلوں کو بائی پاس کرکے آرمی چیف بنایا گیا تھا۔ ایمانداری اورمیرٹ کا کونسا تقاضہ تھا کہ سینیارٹی کے لحاظ سے آٹھویں نمبر کے جنرل کوآرمی چیف بنادیاجائے؟ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جنرل ضیا الحق کوآرمی چیف بنانے کے لئے اس وقت کے اردن کے بادشاہ شاہ حسین نے بھی سفارش کی تھی۔ اورامریکہ کی طرف سے بھی بھٹوکو یہ کہاگیاتھاکہ جنرل ضیاء الحق کوملک کاآرمی چیف لگائیں۔ جنرل ضیا کا فلسطینیوں کے قتل عام بلیک ستمبر 1970میں کردار: تاریخ یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق 1960ء میں اس وقت بریگیڈیئرتھے اوراردن کے شاہ حسین کی درخواست پر پاکستان کی فوج کے ساتھ اردن بھیجے گئے۔ اردن کی حکومت نے 1970ء میں فلسطینیوں کو کچلنے کافیصلہ کیا۔اس وقت جنرل ضیاء الحق نےاردن کی فوج کے ایک ڈویژن کی قیادت کی۔جنرل ضیاالحق کی سربراہی میں فوج نے اردن کے مختلف شہروں میں 10 سے 20 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا تھا۔ فلسطینیوں کے اس قتل عام کو ”بلیک ستمبر“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کوکچلنے اوران کے اس قتل عام پرخوش ہوکرایک طرف امریکہ اوردوسری طرف اردن کے شاہ حسین نے بھی ذوالفقارعلی بھٹو سے سفارش کی تو بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کوفلسطینی عوام کے قتل عام کے انعام کے طورپر پاکستان کا آرمی چیف بنادیا۔ بھٹو نے ہرچیز کو بالائےطاق رکھ کر اردن، امریکہ اوربرطانیہ کوخوش کرنے کیلئے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف کے عہدے پر تعینات کیاتھالیکن قدرت کا مکافات عمل دیکھئے کہ اسی جنرل ضیاء الحق نے امریکہ اورمغربی طاقتوں کے مفاد کے لئے کام نکل جانے کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر لٹکادیا۔ وقت پلٹتاہے اوروہ جنرل ضیاء الحق جس نے بیرونی طاقتوں کے کہنے پر ملک میں مارشل لاء لگاکربھٹوکو پھانسی دی تھی وہ جنرل ضیاالحق بھی 17 اگست 1988ء کو دیگرساتھی جرنیلوں کے ہمراہ طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔ لیکن آج تک جنرل ضیاء کے طیارے کے حادثے کے ذمہ داروں کا پتہ نہیں چل سکاجیسے آج تک پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کے اصل کرداروں کا پتہ نہیں چل سکا۔ یہ بیرونی قوتوں کے مفاد کے لئے کام کرنے والوں کے لئے ایک بہت بڑاسبق ہے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 432 ویں فکری نشست سے خطاب 18جولائی 2026ء (مکمل فکری نشست سنئیے
)
youtube.com
Study Circle No 432 (18 july 2026 )
Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.
7/22/2026 11:24:43 AM
پیپلزپارٹی کی حکومت ایک سازشی منصوبے کے تحت سندھ کے مستقل باشندوں سندھ
...
21 Jul 2026
تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو
...
20 Jul 2026
تقسیم ہند اور تاریخ برصغیر کے ناقابل تردید پہلو :
...
19 Jul 2026
بعض پوڈ کاسٹرز پیپلزپارٹی کی ایما پر سندھ میں سندھی مہاجر نفرت کی آگ
...
18 Jul 2026
کمراں خدارا بیرونی قوتوں کے مفادات کی جنگ کاحصہ بننے اوران کے مفادات ک
...
14 Jul 2026
جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا
...
13 Jul 2026
جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا
...
13 Jul 2026
دوقومی نظریئے کو پاکستان کی اساس کہاجاتا ہے جبکہ ہندوستان پر700 سال تک
...
13 Jul 2026
1857 ء کی جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ (1)
...
12 Jul 2026
پاکستان میں سول سپرمیسی جتنی پست آج ہے اتنی پاکستان کی تاریخ میں کبھی
...
10 Jul 2026
Muttahida Quami Movement (MQM) Copyright © 2014 (ver 3.0)
Home
Videos Gallery
Links
KKF
Feedback
Altaf Hussain
Photo Gallery
Study Circle
Online Units
Media Corner
News Archive
Manifesto 2013
Fikri Nishist
Songs
Social Media
Urdu News
Philosophy
Poetry
Education
Web TV
Events
RAIDS/ARRESTS
Poll
Pakistan Maps
Contact us