گلگت بلتستان کی محرومیاں ختم کی جائیں، گلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کاحق تسلیم کیاجائے
ہمیں گلگت بلتستان کے وسائل پر قبضے اوراس کے حقوق سے محرومی کے مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے پس منظرکوسمجھنا ہوگا۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان سے قبل گلگت بلتستان کاعلاقہ ریاست کشمیر کا حصہ تھاجہاں ڈوگرہ راج تھااوراس پوری ریاست کشمیر کاراجہ مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔ جب انگریزوں نے انڈین ایکٹ 1947 ء کے تحت برصغیر کی تمام پرنسلے اسٹیٹ کویہ اختیاردیاکہ وہ آیا انڈیا کا حصہ رہناچاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں توریاست کشمیر میں ڈوگرہ راج کے آخری راجہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر1947ء کو انڈیا کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے اس اعلان کے تحت جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا پورا علاقہ انڈیا کاحصہ ہوگیا تھا۔ ان علاقوں میں ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔کشمیراورگلگت بلتستان کے ہندوؤں نے تومہاراجہ ہری سنگھ کے فیصلے کوتسلیم کرلیا لیکن گلگت بلتستان کے مسلمانوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے اس اعلان کوتسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ جنگ کی اورمہاراجہ ہری سنگھ کے نمائندے کو گرفتارکرکے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ اس طرح کشمیر کی طرح گلگت بلتستان بھی متنازع علاقہ بن گیا۔ اس پر اقوام متحدہ نے فیصلہ دیاکہ کشمیراور گلگت بلتستان میں استصواب رائے (Plebiscite) یعنی رائے شماری شماری کرائی جائے گی اوررائے شماری کے نتائج کے مطابق اس کا فیصلہ کیاجائے گا۔ 78سال ہوگئے،اس مسئلہ کاحل نہ ہوااور اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت گلگت بلتستان آج تک متنازعہ علاقہ ہے۔اسے کشمیر کاحصہ بھی کہا جاتا ہے، اسی لئے جب تک اس علاقے کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس متنازعہ علاقے کی زمینیں، پہاڑاورعلاقے کوئی نہیں لے سکتا۔ جس طرح کشمیر ایک علیحدہ خطہ ہے اوروہاں کی اسمبلی، صدراوروزیراعظم پاکستان سے الگ ہوتا ہے، یہی رول گلگت بلتستان پر بھی عائد ہوتا ہے لیکن گلگت بلتستان کویہ حق بھی نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کئی ملکوں کے لئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ سی پیک کی بنیادی شاہراہ اسی علاقے سے شرو ع ہوتی ہے لہٰذا یہ علاقے چائنا کیلئے بڑے اہم ہیں اورانڈیا کیلئے بھی یہ اہم ہے جبکہ پاکستان گزشتہ 78 برسوں سے اس علاقے کے وسائل استعمال کررہا ہے۔ یہاں کی معدنیات وفاق پاکستان لے جاتا ہے جبکہ گلگت بلتستان کی معدنیات پر وہاں کے لوگوں کوحق نہیں دیاجاتا۔ وفاق پاکستان کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام میں نیشنلزم کے جذبات بڑھنے لگے ہیں او روہاں آزاد گلگت بلتستان کی تحریکیں شروع ہوچکی ہیں لیکن ان کی بات سننے کے بجائے انہیں طاقت سے دبایا جارہا ہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں اورارباب اختیار کو خبردار کررہا ہوں کہ انہی حرکتوں کی وجہ سے1971ء میں ملک دولخت ہوچکا ہے، اس وقت بلوچستان میں مزاحمتی تحریک بڑی تیزی سے سرگرم عمل ہے اوراب صوبہ خیبرپختونخوا کے پشتون عوام بھی دائیں یابائیں بازو کے نظریاتی کارکنان بننے کے بجائے قوم پرست (Nationalist) بن رہے ہیں اور بہت سے لوگ یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ اگر KPK کے پشتون عوام کے ساتھ بھی وفاق کا یہی رویہ جاری رہا تو وہ آزاد پختونستان کا نعرہ لگاکر آزاد پختونستان کی جدوجہد کاآغاز کردیں گے۔ ابھی آزادی کی یہ آوازیں دبی دبی ہیں لیکن یہ آوازتیزی سے پھیل رہی ہے اورKPK میں نیشنلزم کاخاموش لاوا پکنے لگا ہے۔
یہ بات یاد رکھی جائے کہ KPK کے لوگوں نے 1946ء کے انتخابات میں پاکستان کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا اور وہاں پر انگریزوں نے اس طرح ریفرنڈم کرایا تھا کہ بیلٹ پیپرز پر ایک جگہ مورتیوں اورمندروں کی تصویر تھی اور دوسری طرف مساجد کی تصویرتھی لہٰذا پشتون عوام کیسے مورتیوں اورمندروں پر مہرلگاتے۔ اس طرح انگریزوں نے دھاندلی کرکے موجودہ KPK کو پاکستان کاحصہ بنادیا حتیٰ کہ باچہ خان تک نے پاکستان کو تسلیم کرلیا تھا اس کے باوجود پشتونوں کی حب الوطنی کو ہمیشہ مشکوک نگاہوں سے دیکھا گیا۔ 78 برسوں سے KPK کے لوگوں کے ساتھ جورویہ روا رکھا جارہا ہے اس سے وہاں محلہ محلہ قوم پرستوں کے گروپ پیدا ہورہے ہیں، Gen Z اور نوجوانوں میں آزاد پختونستان کی سوچ پیدا ہورہی ہے۔
میں وفاق پاکستان اور پاکستان کے تمام بااختیاراداروں سے کہتا ہوں کہ خدارا اپنا طرزعمل بدلیں، طاقت کے استعمال کی وجہ سے 1971ء میں پاکستان دولخت ہوچکا ہے، اب باقیماندہ پاکستان میں اس طرح کی پالیسی سے گریز کرناچاہیے اوریہ سمجھناچاہیے کہ طاقت اور بندوق کے بل پر سب کچھ کیا جاسکتا ہے لیکن نہ توسوچ اور ذہنوں پر قبضہ کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی دلوں پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔اس طرح ذہنوں میں نیشنلزم کی سوچ پیدا ہوتی ہے، محرومیوں اورمسلسل ناانصافیوں کے عمل سے نیشنلزم کے پودے پیداہوتے ہیں، اپنے حق کے لئے آوازاٹھانے کے خلاف طاقت اورجبر کے مسلسل استعمال سے نیشنلزم کے پودے پر وان چڑھتے ہیں جوبالآخر تناوردرخت بنکر آزاد فضاؤں میں سانس لیناپسند کرتے ہیں۔
اگر گلگت بلتستان کے عوام کوان کے حقوق نہیں دیے گئے اورطاقت وجبرستم کامسلسل عمل کیا جاتا رہے تونظریہ پھیلتا جاتا ہے اورعوام اس جبر کے خلاف میدان عمل میں آتے ہیں اورایک وقت ایساآتاہے کہ پھر سپرپاور کو بھی پیچھے ہٹنا پڑتاہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ امریکہ جیسی سپرپاور جو یہ سمجھتی ہے کہ ایران پر48 گھنٹے میں قبضہ ہوجائے گا لیکن آج تین مہینے سے زیادہ ہوگیااورامریکہ کوبالآخر پیچھے ہٹنا پڑا ہے اوروہ ایران سے مذاکرات پر مجبور ہوگیا۔ میں پاکستان کے بااختیاراداروں سے کہتاہوں کہ آپ گلگت بلتستان کوہلکانہ لیں، وہ اپنے حق اور آزادی کے لئے کئی جنگیں لڑچکے ہیں۔ انڈیانے آرٹیکل 370 ختم کرکے انڈین کشمیر کواپناحصہ بنالیا لیکن آپ کچھ نہ کرسکے، پاکستان کے زیرانتظام جوآزادکشمیر ہے وہاں کے لوگ بھی وفاق پاکستان کی پالیسیوں سے نالاں ہیں، وہ اپنے حق کے لئے آوازاٹھا رہے ہیں توانہیں طاقت سے دبایا جارہا ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ ان کے خلاف گولہ بارود کااستعمال نہ کریں اورامریکہ سے سبق حاصل کریں۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیرکوتویہ حق ہے کہ وہاں صدراوروزیراعظم ہوتاہے لیکن گلگت بلتستان والوں کویہ حق بھی نہیں ہے۔ اگرکچھ نہیں کیا جاتا تو گلگت بلتستان کویہ اسٹیٹس دیدیا جائے کہ وہ اپناصدراوروزیراعظم بناسکیں۔ یہ یاد رکھاجائے کہ طاقت ا ورجبر کامسلسل عمل تقسیم کاسبب بنتاہے، حقوق کی تحریکوں کو مضبوط کرتا ہے،نئے نئے جغرافیوں اورنئے نئے ممالک کوجنم دیتاہے۔ لہٰذا گلگت بلتستان کی محرومیاں ختم کی جائیں، انہیں ان کے حقوق دیئے جائیں اورگلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کاحق تسلیم کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 412ویں فکری نشست سے خطاب
5، جون2026ء