سندھ پولیس کی جانب سے کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس میں نوجوان اسامہ پر ظالمانہ تشدد اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں: رُکن رابطہ کمیٹی محفوظ حیدری
لندن ۔۔۔ 29 اپریل 2026ء
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن محفوظ حیدری نے کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس میں نوجوان اسامہ پر سندھ پولیس کے اہل کاروں کی جانب سے بدترین تشدد اور ان کی بہن کے ساتھ ناروا سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک، شرمناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔
محفوظ حیدری نے کہا کہ انٹر میڈیٹ بورڈ آفس میں طلبہ طالبات اپنے تعلیمی مسائل کے حل کے لئے جاتے ہیں جہاں طلبہ، طالبات اور ان کے اہلِ خانہ کے تعلیمی مسائل پر توجہ دینا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری ہے مگر یہ امر افسوسناک ہے کہ وہاں پولیس اور غنڈہ عناصر کی جانب سے طلبہ و طالبات اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس کے اطراف ایک منظم مافیا سرگرم ہے جو طلبہ، طالبات اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرتا ہے، اور طور پر بعض بورڈ عملے اور پولیس اہلکاروں کی سرپرستی یا ملی بھگت سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ عناصر تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کا ماحول بھی خوف و ہراس کا شکار بنا رہے ہیں۔
محفوظ حیدری نےوزیرِ اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی کراچی اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اسامہ پر وحشیانہ پولیس تشدد کے واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث پولیس اہلکاروں اور سہولت کاروں کو معطل کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس کے اطراف سرگرم ہراسانی اور بھتہ خوری میں ملوث مافیا کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں، طلبہ، طالبات اور خاندانوں کا تحفظ ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی نوجوان، طالب علم یا شہری کو سرکاری دفتر میں اپنی بہن یا خاندان کے ہمراہ جانے پر تشدد یا تذلیل کا نشانہ بنانا قانون، اخلاقیات اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
محفوظ حیدری نے متاثرہ نوجوان اسامہ اور اس کے اہلِ خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی تک اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھایا جائے گا اور متاثرہ فرد اور اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔