کشمیرکا کونہ کونہ لہو لہو ہے لیکن حکومت کواس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور ایسے حالات میں بھی الیکشن کاڈھونگ رچایا جارہا ہے۔
آزادکشمیر کے ہرعلاقے میں کشمیری عوام اپنے حقوق کے لئے میدان میں ہیں جن میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ بزرگ، مائیں، بہنیں اوربچے بھی شامل ہیں۔وہ صر ف اپنے بنیادی حقو ق مانگ رہے ہیں لیکن اپنے حقوق کے لئے پرامن احتجاج کرنے پرانہیں گولیاں ماری جارہی ہیں،راولاکوٹ،میرپور اوردیگرعلاقوں میں اب حکومت نے اسنائپرتعینات کردیے ہیں جومظاہرین کوتاک تاک کرگولیاں مار رہے ہیں، پولیس، ایف سی اور دیگرسیکوریٹی فورسز کی فائرنگ سے اب تک سو سے زائد معصوم کشمیری شہید ہوچکے ہیں،جو کشمیری شہید ہورہے ہیں ان کی لاشیں بھی ورثاء کے حوالے نہیں کی جارہی ہیں، اسپتالوں پر بھی سیکوریٹی فورسز کاقبضہ ہے، جوزخمی اسپتال لائے جارہے ہیں،ان کے بارے میں بھی کچھ پتہ نہیں ہے، بے شمار لوگ لاپتہ ہیں، ایسے سنگین حالات میں آزادکشمیرمیں الیکشن کرائے جارہے ہیں، کشمیری عوام نے ان جعلی الیکشن کابائیکاٹ کررکھاہے جس کی وجہ سے پولنگ اسٹیشنز ویران پڑے ہوئے ہیں اورانتخابی عملہ گپ بازیوں میں مصروف ہیں۔ مگرحکومت دعویٰ کررہی ہے کہ عوام پولنگ میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں، یہ جھوٹ، دھوکہ اورفراڈ ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام میڈیاکوبھی سختی سے ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ الیکشن کے حوالے سے صرف وہی خبرنشرکریں جوسرکار کی جانب سے انہیں فراہم کی جائے، میڈیاکوکھلی کھلی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جورپورٹروہاں کی صحیح رپورٹنگ کرتاہے،اس رپورٹر کو اٹھالیا جاتاہے، انٹرنیشنل نیوزچینل الجزیرہ کے نمائندے حیدرکمال نے الیکشن کے حوالے سے صحیح رپورٹنگ کی توپاکستان میں الجزیرہ پر پابندی عائدکردی گئی ہے۔ آزادکشمیرمیں انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کردی گئی ہے۔ اس طرح ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔وہ کشمیری جوبیرون ملک مقیم ہیں،جوپاکستان کوبھاری زرمبادلہ بھیجتے ہیں،آزاد کشمیرمیں ان کے گھروں پرقبضے کرکے وہاں چوکیاں بنالی گئی ہیں۔
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کوکوئی شرم نہیں آرہی ہے کہ وہ ایسے حالات میں عوام سے ووٹ مانگنے جارہے ہیں۔انہوں نے کشمیریوں پر مظالم ڈھائے، انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا اورآج بھی انہیں کشمیریوں کی نہیں اقتدارکی فکر ہے۔ یہ بات انتہائی قابل مذمت ہے کہ اپنے حقوق کے لئے میدان میں آنے والے کشمیریوں کوآج غدار، غیرملکی ایجنٹ کہاجارہاہے اورمار مارکرانہیں حب الوطنی کاسبق پڑھایا جارہاہے۔ میں کہتاہوں کہ حب الوطنی کاسبق سیکھناہے توکشمیریوں سے سیکھوجوظلم سہہ کراورمحروم رہ کربھی حب الوطنی کادم بھرتے رہے۔ میں حکمرانوں سے کہتاہوں کہ جتناجلدہو کشمیریوں کے مطالبات کو مانیں، ان پر ظلم بندکریں، الیکشن کاڈھونگ بندکریں اورکشمیریوں کوان کے حقوق دیں۔
میں ظلم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے دلی ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتاہوں، میں ان کے دکھ میں شریک ہوں۔
میں کشمیری عوام خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کی اس جدوجہدمیں کسی بھی صورت میں مایوس نہ ہوں، چاہے کوئی بھی ظلم ہو، سرینڈرنہ کریں اورجب تک آپ کاایک ایک مطالبہ نہیں ماناجاتا،آپ اپنی جدوجہد جاری رکھیں اوریہ یادرکھیں کہ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں، آپ اپنی قوم کے حقوق کی جدوجہد میں آج جوقربانیاں دے رہے ہیں وہ ضروررنگ لائیں گی اورآپ کی قربانیوں کی بدولت آپ کی آنے والی نسلیں ایک باعزت اورآزاد فضاء میں زندگی گزاریں گی۔
میں پورے پاکستان کے عوام سے بھی درخواست کرتاہوں کہ وہ کشمیری عوام سے یکجہتی کااظہارکریں اورمظلوم کشمیریو ں کی حمایت میں سڑکوں پرنہیں آسکتے تو وہ ٹی وی چینلز جوکشمیریوں کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں،انہیں ایک گھنٹے کے لئے بندکرکے کشمیریوں سے یکجہتی کااظہارکریں اورکشمیری شہدا کے لواحقین کے غم میں شریک ہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹا ک پر 442 ویں فکری نشست سے خطاب
3 اگست 2026ء