Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ الطاف حسین


ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/3/2026 1

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔
الطاف حسین کاہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ جس ملک میں جتنے زیادہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہوں گے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے وہاں عوام کے مسائل کے حل میں اتنی ہی مدد ملے گی، عوام  اپنے مسائل کے حل کے لئے اِدھراُدھر بھاگنے کے بجائے علاقائی سطح پر ہی مسائل کرلیں گے،انہیں دوردرازشہروں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔میں برسوں سے یہ بات کہتارہاکہ موجودہ سسٹم نہیں چل سکتا، لیکن میری بات کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی، آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمدشریف چوہدری صاحب وہی بات کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سسٹم تباہ ہوچکا ہے، گڈگورننس کے لئے نئے صوبے اورانتظامی یونٹس بنانا چاہیے۔ آج ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ رہے ہیں  کہ 1972ء میں پاکستان کی آبادی 7کروڑ تھی، اس وقت چار صوبے تھے، آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سے زائد ہوچکی ہے لہٰذا نئے صوبے ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمدشریف چوہدری  کی تقریرکے جواب میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے متعددرہنماؤں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسز میں نئے صوبوں کے قیام کو قطعی ناممکن اور out of question   قراردیاہے،پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں نے تواسے سندھ کی تقسیم قراردیکریہاں تک کہہ دیاہے کہ”نئے صوبے بناکردیکھو پھرتمہیں پتہ چلے گا“۔ پیپلزپارٹی نے یہ چیلنج الطاف حسین کو نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اورمحسن نقوی صاحب کوکیا ہے اوران کی طاقت کوللکارا ہے کہ اگرفوج میں ہمت ہے توصوبے بناکردکھائے۔ اب فیلڈمارشل صاحب اورمحسن نقوی صاحب ان دھمکیوں کانوٹس لیں گے یانہیں۔اگرانہیں اس میں کوئی مشکل پیش آرہی ہوتو الطاف حسین اس مشکل کوحل کرنے کے لئے یہ دلیل دیتاہے کہ آپ تویہ کہیں کہ ہم تو پیپلزپارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گڈ گورننس اورملک کی ترقی کے لئے مزید صوبے بنارہے ہیں، جہاں تک سندھ کی تقسیم کی بات ہے توہم توپیپلزپارٹی کی تقلید کررہے ہیں،وہ اس طرح کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو نے 1973ء میں سندھ میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھ کی تقسیم کردی تھی۔یہ کوٹہ سسٹم دس سال کے لئے نافذ کیا گیا تھا لیکن 53سال گزرجانے کے باوجودآج 2026ء میں بھی یہ کوٹہ سسٹم نافذ ہے، دیہی شہری کی تقسیم آج بھی موجود ہے۔ 
پیپلزپارٹی دیہی شہری کوٹہ کے نام پر سندھ کی تقسیم کو آج تک جاری رکھے ہوئے ہے اورآج بھی اس کو اس کوٹہ سسٹم کوجائزقراردے رہی ہے اوریہ دلیل دیتی ہے کہ بھٹوصاحب نے سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانے کے لئے کوٹہ سسٹم نافذ کیا تھا، اگرصوبے کودیہی اورشہری کی بنیاد پر کی گئی یہ تقسیم اتنی ہی اچھی، درست اورجائزتھی تویہ تقسیم صرف سندھ میں ہی کیوں کی گئی تھی؟ پنجاب، سرحد او ر بلوچستان میں بھی تودیہی علاقے تھے، پھر یہ تقسیم وہاں کیوں نہیں کی گئی؟ صرف سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کوشہری علاقوں کے برابر لانے کے لئے نہیں بلکہ شہری علاقوں کے عوام سے تعصب کی بنیاد پر لایا گیا تھا۔ 
سرکاری محکموں میں ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لئے نافذ کیا جانے والایہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کے غریبوں کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ سندھ میں وڈیرہ شاہی کوتقویت دینے کے لئے نافذ کیا گیا تھا، یہ سسٹم غریب سندھیوں کے بچوں کے لئے نہیں بلکہ سندھ کے وڈیروں کے بچوں کے مفاد کے لئے ہے، جنہیں ان کے میرٹ کے خلاف داخلے دیے جاتے ہیں، سندھ پبلک سروس کمیشن میں مقابلوں کے امتحانات میں پاس کرایا جاتا ہے،اوراعلیٰ پوسٹوں پر فائزکیا جاتا ہے، جبکہ اردو بولنے والوں کو جان بوجھ کرنظرانداز کیا جاتا ہے۔ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ اس کوٹہ سسٹم کے تحت نہ صرف اردواسپیکنگ نوجوانوں کے ساتھ حق تلفی کی جاتی ہے بلکہ اہلیت رکھنے والے غریب سندھیوں کے بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جاتی ہے۔جس کاثبوت ہے کہ گزشتہ تین روز سے کراچی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفترکے سامنے سندھی بولنے والے نوجوان احتجاجی دھرنادیے ہوئے ہیں، پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اورجوکھل کرکہہ رہے ہیں کہ ”سندھ پبلک سروس کمیشن وڈیرہ کمیشن ہے“۔ مجھے ان سندھی نوجوانوں سے ہمدردی ہے۔ سندھی وڈیروں نے سندھ کے نام پر بہت کمایا ہے جبکہ غریب سندھیوں اور ہاریوں کے پاس کھانے کے لئے روٹی تک نہیں ہے۔ 
فیلڈ مارشل صاحب اور محسن نقوی صاحب سے کہتا ہوں کہ اب کوئی بھی تقسیم کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ  ایسی تقسیم ہونی چاہیے اورایساسسٹم ہوناچاہیے جس میں تمام قوموں کوان کے حقوق میسرآئیں اورکسی کے ساتھ بھی کوئی حق تلفی نہ ہو۔ 
میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹوں کے قیام کی بات پر گالیاں اوردھمکیاں دینے والوں سے یہی کہوں گاکہ گالیاں اوردھمکیاں دینے کے بجائے شرافت کامظاہرہ کیجئے، بیٹھئے، ڈسکشن کیجئے، ڈائیلاگ کیجئے۔ 

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 440  ویں فکری نشست سے خطاب
2  اگست 2026ء



8/3/2026 4:45:17 PM