Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے جین زی کوآگے آنا ہوگا۔الطا ف حسین


پاکستان میں ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے جین زی کوآگے آنا ہوگا۔الطا ف حسین
 Posted on: 7/27/2026

پاکستان میں ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے جین زی کوآگے آنا ہوگا۔الطا ف حسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، ہمیں ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا، غوروفکر کرنا ہوگا اورحکمراں اشرافیہ کے جابرانہ دور اور جرنیل شاہی سے نجات کے لئے سخت جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہونا ہوگا۔ملک میں جاری اس ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے پاکستان کے نوجوانوں، جین زی کوآگے آنا ہوگا، جس طرح پوری دنیا میں انقلابات آئے ہیں اسی طرح پاکستان کے نوجوانوں اورتمام شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ملک میں انقلاب برپا کرنے اورحکمراں اشرافیہ سے نجات کے لئے ملکر جدوجہد کرنی ہوگی، انقلاب کے بغیرپاکستان میں مسلط کرپٹ نظام اورحکمراں اشرافیہ سے نجات اورملک کی ترقی واستحکام بہت مشکل نظرآتا ہے، اگر پاکستان کے عوام صرف نعروں پر اورباتوں پر چلتے رہے تواس سے کچھ نہیں ہو گا۔ پاکستان میں نظام انصاف حکمراں اشرافیہ کے تابع کردیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں نے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بعض مقدمات میں مرضی کے فیصلوں کے لئے دباؤ ڈالنے کی سپریم کورٹ میں شکایت کی تھی،ان کی اس سنگین شکایت پر کاروائی کرنے کے بجائے انتقام کا نشانہ بنایا گیا اوران کے دوسری ہائیکورٹس میں تبادلے کردیے گئے ہیں، اس طرح انصاف کے راستے بند کئے جارہے ہیں۔عمران خان تین سال سے قید ہیں، ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان کے وکلاء کی ان سے ملاقات نہیں کروائی جارہی ہے، قید میں عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے لیکن انہیں پیش نہیں کیا جارہاہے، کیا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے علم میں یہ بات نہیں ہے؟  میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو9 مئی 2023ء کے واقعات میں جوسزا دی گئی ہے وہ بھی غلط دی گئی ہے کیونکہ عمران خان کو توایک روز قبل یعنی 8 مئی 2023ء کواسلام آباد ہائیکورٹ کے اندرسے رینجرز نے گرفتارکرلیا تھا اوروہ 9 مئی کووہ رینجرز کی حراست میں تھے، 9 مئی کوملک میں ہونے والے احتجاج کے دوران جوبھی واقعات ہوئے تھے،عمران خان ان میں کہیں بھی موجود نہیں تھے، پھرعمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعات کامقدمہ عمران خان کے خلاف کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ مجھے حیرت ہے کہ اس کیس کے ٹرائل کے دوران عمران خان کے وکلاء نے اتنا اہم نکتہ عدالت کے سامنے کیوں نہیں اٹھایا؟جب تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمودقریشی کو عدم موجودگی کی بنیاد پر 9مئی کے مقدمات سے بری کیا جاسکتا ہے تو عمران خان کوسزا کیسے دی جاسکتی ہے؟  موجودہ دوراس طرح کا ہوگیا ہے کہ صرف انصاف مانگنے کےلئے پاکستان کا شہری جائے تو کہاں جائے؟ جب وہ نیچے کی عدالت میں نہیں بلکہ عدالت عالیہ میں جائے توہائیکورٹ کے ججوں پر حکمراں اشرافیہ کی جانب سے دباؤ آجاتا ہے کہ” فیصلہ وہ کرنا جیسا ہم چاہیں“۔ وہ ججز سپریم کورٹ میں درخواست دیں کہ ہم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، ہمارے اہل خانہ کوہراساں کیا جارہا ہے، ہمیں بلیک میل کیا جارہا ہے، لیکن انہیں انصاف دینے کے بجائے سزا دیدی جاتی ہے۔ملک میں جاری اس ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے پاکستان کے نوجوانوں ،جین زی کو آگے آنا ہوگا، ابھی انڈیا میں جین زی نے کاکروج جنتا پارٹی نے مظاہرہ کیا جن کا کوئی لیڈرنہیں،کوئی جماعت نہیں، ان پرلاٹھی چارج کیا گیا، تشدد کیا گیا، کچھ نوجوان ہلاک اورزخمی بھی ہوئے لیکن نوجوانوں نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا، بالآخر حکومت کوان کے مطالبات ماننے پڑے، وزیرتعلیم کواستعفیٰ دینا پڑا اور نوجوان اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئے۔  ہماری جین زی کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے نظام کوبدلنے کے لئے، ظلم و جبر کے خاتمے کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کا آغاز کریں، اگر وہ بھی اس جدوجہد میں کاکروج جنتاپارٹی کی طرح لاٹھی چارج، شیلنگ کا سامنا کرنے، گرفتارہونے اورقربانیاں دینے کے لئے تیارہوجائیں تویہاں بھی بڑی بڑی طاقتوں کوگھٹنے ٹیکنا پڑیں گے۔ الطاف حسین  ٹک ٹاک پر 436  ویں فکری نشست سے خطاب 25 جولائی 2026

7/30/2026 6:53:30 PM