روزنامہ ڈان کے پریس فوٹوگرافر فیصل مجیب کااغواء قابل مذمت ہے
وزیراعظم ،فیلڈ مارشل ،انسانی حقوق اورصحافتی تنظیمیں فیصل مجیب کی بازیابی کیلئے مثبت کردار اداکریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں روزنامہ ڈان اخبارسے وابستہ پریس فوٹوگرافر فیصل مجیب کے اغواء کے واقعہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔
فیصل مجیب ،پاکستان کے نامی گرامی سینئر ترین فوٹوگرافر اورانگریزی روزنامہ ڈان کے فوٹوگرافر مجیب الرحمان مرحوم کے صاحبزادے ہیں ،مجیب الرحمان مرحوم نے اپنی ریٹائرمنٹ تک روزنامہ ڈان اخبار میں انتہائی دیانتداری سے اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دیے اور پریس فوٹو گرافروں کے حقوق کیلئے پریس فوٹو گرافرز ایسوسی ایشن کی بنیاد بھی رکھی، صحافتی حلقوں میں مجیب الرحمان مرحوم کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔
آج مورخہ 17 ،اپریل2026ء کومجیب الرحمان مرحوم کے صاحبزادے فیصل مجیب تقریباً دوبجے دوپہر جمعے کی نماز کی ادائیگی کیلئے ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع صحافی کالونی میں اپنی رہائش گاہ سے نکلے تھے کہ لینڈ کروزرگاڑی میں سوار چھ سے سات نامعلوم نقاب پوشوں نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھاکر اغواء کرلیاجس کے بعد سے ان کا اپنی فیملی سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے ۔
اہل خانہ نے بتایا ہے کہ فیصل مجیب شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں، وہ گزشتہ کئی دنوں سے شدید علیل ہیں ،ان کے اغواء سے ان کے اہل خانہ شدید ذہنی کرب واذیت کا شکار ہیں ۔
فیصل مجیب کے اغواء کی واردات سے ایسالگتا ہے کہ کراچی میں جنگل کا قانون نافذ کردیا گیا ہے جہاں صحافیوں سمیت کسی بھی شہری کی جان ومال کوکوئی تحفظ نہیں ہے ۔
میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ فیصل مجیب کے اغواء کا فوری نوٹس لیاجائے اور ان کی باحفاظت بازیابی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مثبت اقدامات کیے جائیں ۔
میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی تنظیموں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ فوٹوگرافر فیصل مجیب کے اغواء کے خلاف آوازاٹھائیں اور ان کی بازیابی کیلئے اپنا بھرپورکردار ادا کریں۔
الطاف حسین