Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ازسرنو تشکیل کی جائے، ویٹو پاور ختم کی جائے اور فیصلوں کا اختیار جنرل اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کو دیا جائے۔ الطاف حسین


 وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ازسرنو تشکیل کی جائے، ویٹو پاور ختم کی جائے اور فیصلوں کا اختیار جنرل اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کو دیا جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 4/13/2026

وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ازسرنو تشکیل کی جائے، ویٹو پاور ختم کی جائے اور فیصلوں کا اختیار جنرل اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کو دیا جائے۔ الطاف حسین

پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والے 21گھنٹے طویل مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔ ہماری نیک تمنائیں ہیں کہ مستقبل میں جو بھی پیش رفت ہو، وہ مشرقِ وسطی کے امن، استحکام اور انسانیت کی فلاح کا باعث بنے۔
تاریخ شاہد ہے کہ اکثر ریاستیں اور معاشرے 'سکہ رائج الوقت' یعنی طاقتور کے طے کردہ اصولوں کی پیروی کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود زندہ قومیں اپنی شناخت اور وجود پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ حقیقت پسندانہ زاویے سے دیکھا جائے تو مقابلہ ہمیشہ ہم پلہ قوتوں کے درمیان ہوتا ہے۔ کھیل کی دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ”لائٹ ویٹ“ باکسر کا مقابلہ 'ہیوی ویٹ' سے نہیں کرایا جاتا۔ عسکری و اقتصادی اعتبار سے ایران اور امریکہ کی طاقت میں واضح فرق ہے، تاہم حالیہ تنازعات میں ایران نے ایک سپر پاور اور اس کے اتحادیوں کے سامنے اپنی مزاحمت سے دنیا کو حیران کیا۔
حقیقت پسندی (Realism)اور عملیت پسندی (Practicalism) کا تقاضہ ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ طاقتور اور کمزور کے درمیان مذاکرات کبھی برابری کی سطح پر نہیں ہوتے۔ جب ایک ”ہیوی ویٹ“فریق اپنی شرائط منوانے کے لیے دبا ڈالتا ہے اور دوسرے کو اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے پر مجبور کرتا ہے، تو مذاکرات محض ایک یکطرفہ ڈکٹیشن بن جاتے ہیں۔ ایران امریکہ مذاکرات میں بھی یہی صورتحال غالب نظر آئی۔
1945 میں اقوام متحدہ کا قیام اسی لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ طاقت کے اس عدم توازن کو ختم کیا جا سکے۔ عالمی برادری نے عہد کیا تھا کہ ریاست چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی سالمیت کا تحفظ کیا جائے گا اور جارحیت کی صورت میں انصاف فراہم ہوگا۔ طے پایا تھا کہ جنرل اسمبلی میں اکثریت کا فیصلہ مقدم ہوگا۔
لیکن بدقسمتی سے، سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کو ’’ویٹو پاور“ دے کر اس پورے جمہوری عمل کو یرغمال بنا لیا گیا۔ جب بھی جنرل اسمبلی کسی ناانصافی کے خلاف قرارداد منظور کرتی ہے، کوئی ایک طاقتور ملک اپنے مفاد کے لیے اسے ویٹو کر دیتا ہے۔ کیا اس سے یہ تاثر مستحکم نہیں ہوتا کہ سیکورٹی کونسل کا ڈھانچہ دراصل کمزور ممالک کو مٹھی بھر طاقتور ریاستوں کا تابع رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے؟
دوسری جنگِ عظیم سے لے کر آج تک، اقوام متحدہ بڑے تنازعات میں انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جہاں انصاف نہ ہو، وہ ادارہ محض ایک بے جان ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آج کی تلخ حقیقت یہی ہے کہ اقوام متحدہ اپنی موجودہ ہیئت میں کسی مظلوم ملک کی داد رسی کی سکت نہیں رکھتی۔
لہذا، اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ازسرنو تشکیل کی جائے، ویٹو پاور جیسے غیر منصفانہ حق کو ختم کیا جائے اور فیصلوں کا اختیار جنرل اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کو دیا جائے۔
جس طرح کسی ملک میں عدلیہ انصاف فراہم نہ کر سکے تو اس کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح اگر بین الاقوامی برادری ایک ایسا نظام وضع نہیں کرتی جہاں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی ترازو ہو، تو عالمی امن ایک خواب ہی رہے گا۔
انسانی فطرت میں طاقت اور دولت کی ہوس بے پناہ ہے۔ اگر اس ہوس کو اصول و ضوابط اور اخلاقی تعلیم و تربیت کے تابع نہ کیا جائے، تو یہ شیطانی سوچ ہر قانون کو کچل دیتی ہے اور اپنی طاقت کی بنیاد پر اپنے مفادات کیلئے بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی من مانی کرتی ہے جس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ لہٰذا انسانی حقوق کا احترام کرنے والے تمام جمہوری اور انسانیت دوست ممالک کو چاہیے کہ وہ ایسی قوتوں کے خلاف متحدہوجائیں۔
 آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے عوام خواہ وہ کسی بھی مذہب، عقیدے یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں وہ مذہبی و جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر یکساں انصاف اور مساوات کے لیے متحد ہو جائیں۔ ہمیں من مانی کرنے والی قوتوں کے خلاف ایک ایسی عالمی آواز بننا ہوگا جو صرف اور صرف انسانیت کے احترام اور برابری پر یقین رکھتی ہو۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر395 ویں فکری نشست سے خطاب
12 اپریل 2026ء


4/13/2026 1:05:44 PM