Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم نے کبھی بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی اورنہ ہی کبھی کریگی لیکن بشمول سندھ ملک بھرمیں انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس بنائے جائیں


ایم کیوایم نے کبھی بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی اورنہ ہی کبھی کریگی لیکن بشمول سندھ ملک بھرمیں انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس بنائے جائیں
 Posted on: 9/21/2014
ایم کیوایم نے کبھی بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی اورنہ ہی کبھی کریگی لیکن بشمول سندھ ملک بھرمیں انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس بنائے جائیں
اردو بولنے والوں کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں اس کے خلاف صرف پنجاب کے مہاجرین نہیں بلکہ پورا پنجاب اردو بولنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور انشاللہ اگر ضرور ت پیش آئی تو ہم قربانی کی ہر صف میں ایک قدم آگے ہونگے، رکن رابطہ کمیٹی میاں عتیق
جو لوگ آج جناب الطاف حسین کے بیان پر واویلا مچا رہے ہیں انہیں صرف اپنی ریاستوں کے چھن جانے کا ڈر ہے 
الطاف حسین واحدلیڈرہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے 98فیصد غریب و محکوم طبقے کی عوام کے دلوں پر حکومت کی ہے
کراچی سے خیبر تک پاکستان کے عوام نادراکمل لغاری اورعارف علوی کے تعصب اورلسانیت پرمبنی بیان کومستردکرتے ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پورے ملک میں انتظامی یونٹس کی تو بات کرتے ہیں لیکن وہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی مخالفت کررہے ہیں جو سراسر دوعملی اور متعصبانہ سوچ کی عکاسی ہے، رکن رابطہ کمیٹی ونگراں ایم کیو ایم پنجاب میاں عتیق 
لاہور ۔۔۔۔21ستمبر 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن میاں محمدعتیق نے کہا ہے کہ ایم کیوایم نے کبھی بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی اورنہ ہی کبھی کریگی لیکن ہم بشمول سندھ انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس کی بات کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم سینٹرل پنجاب کے صدر محمد عامر بلوچ،جنرل سیکریٹری رانا اشرف ایڈوکیٹ اور ضلاع لاہور کے صدر ارتضیٰ کاظمی کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔میاں عتیق نے کہا کہ ایم کیو ایم نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کامطالبہ کرکے کوئی اچھنبے کی بات نہیں کی، جب مغلوں نے ہندوستان پرحملہ کیااورہندوستان میں ان کی بادہشاہت قائم ہوئی توپورے سندھ میں انتظامی یونٹس کی تعدادبڑھتی اورگٹتی رہی اورجب انگریزوں نے سندھ پرحملہ کیاتوسندھ تین انتظامی یونٹس پرمشتمل تھاجس میں حیدرآباد،میرپورخاص اورخیرپورایک آزادریاست کے طورپرموجودتھا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تمام ممالک نے اپنی آبادیوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنائے ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں کیا گیا ، ماضی میں نئے صوبوں کی باتیں ، مطالبات حتیٰ کہ قومی اسمبلی میں قراردادیں بھی پیش کی جاتی رہی ہیں ۔ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کی قرارداد پیش کی ، پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی قرارداد منظورکرائی ۔اسی طرح ایم کیو ایم نے بھی قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے حوالے سے بل پیش کیا جس میں جنوبی پنجاب اور ہزاہ صوبے کے مطالبات شامل تھے ۔ آج پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری ملک میں 36صوبے بنانے کے مطالبات کرتے ہیں ۔ عمران خان بھی نئے انتظامی یونٹس کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پورے ملک میں انتظامی یونٹس کی تو بات کرتے ہیں لیکن وہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی مخالفت کررہے ہیں جو سراسر دوعملی اور متعصبانہ سوچ کی عکاسی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر نادراکمل لغاری اورڈاکٹرعارف علوی کے بیان کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ ایم کیوایم نے کبھی بھی سندھ کی تقسیم کی بات 
نہیں کی اورنہ ہی کبھی کریگی لیکن سندھ میں انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس کاقیام اتناہی ضروری ہے جتنے دوسرے صوبوں میں اس کی ضرورت کومحسوس کیا جارہا ہے اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ایم کیو ایم انتظامی یونٹس کامطالبہ کرے تویہ لسانیت ہے لیکن اگرکوئی یہ کہے کہ میں سندھی ہوں اور سندھ کی تقسیم نہیں ہونے دونگاتویہ لسانیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے خیبر تک پاکستان کے عوام نادراکمل لغاری اورعارف علوی کے تعصب اورلسانیت پرمبنی بیان کومستردکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں موجود تمام صحافی حضرات بلخصوص کالم نگار بھائیوں کی اس بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ آج جب قادری صاحب یا عمران خان آرٹیکل 40/1کی بات کرتے ہیں ، عوام و قوم کے حقوق کی آگاہی کی بات کرتے ہیں ،تو میرے سینئر کالم نگار بھائی کیوں بھول جاتے ہیں کہ جناب الطاف حسین گذشتہ 35برسوں سے نہ صرف یہ بات کررہے ہیں بلکہ عملی طور پر کر کے دیکھایا ہے جس کی مثال متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے با کردار پڑھے لکھے اور باصلاحیت لوگوں کو انکی اہلیت کی بنیاد پر ایوانوں تک پہنچانا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے وڈیروں اور جاگیرداروں کی غلامی کبھی قبول نہیں کی یہ لوگ جو آج الطاف حسین بھائی کے بیان پر واویلا مچا رہے ہیں انہیں صرف اپنی ریاستوں کے چھن جانے کا ڈر ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ مردوں پر حکومت کی ہے دلوں پر نہیں جبکہ الطاف حسین پاکستان کے 98فیصد غریب و محکوم طبقے کی عوام کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ آج اس پریس کانفرنس کے توسط سے ہم تمام صوبہ سندھ کے غریب عوام بلخصوص اردو بولنے والے مہاجرین کو با آواز بلند یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ انکے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں ، نا صرف پنجاب کے مہاجر وں بلکہ پورا پنجاب اردو بولنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور انشاللہ اگر ضرور ت پیش آئی تو ہم قربانی کی ہر صف میں ایک قدم آگے ہونگے ۔

12/11/2016 3:57:08 AM