Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم نہ حکمراں بنناچاہتے ہیں اورنہ ہی غلام بن کررہناچاہتے ہیں بلکہ ہم برابری کی بنیادپر انتظامی یونٹس چاہتے ہیں ، حیدر عباس رضوی


ہم نہ حکمراں بنناچاہتے ہیں اورنہ ہی غلام بن کررہناچاہتے ہیں بلکہ ہم برابری کی بنیادپر انتظامی یونٹس چاہتے ہیں ، حیدر عباس رضوی
 Posted on: 9/19/2014
ہم نہ حکمراں بنناچاہتے ہیں اورنہ ہی غلام بن کررہناچاہتے ہیں بلکہ ہم برابری کی بنیادپر انتظامی یونٹس چاہتے ہیں ، حیدر عباس رضوی
سندھ میں انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس کاقیام اتناہی ضروری ہے جتنے دوسرے صوبوں میں اس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، رکن رابطہ کمیٹی 
سندھ دھرتی ہماری ماں ہے اورہم بھی اتنے ہی سندھی ہیں جتنے سندھ میں رہنے والے دوسرے سندھی،بلوچی،پشتون اوردیگرلوگ سندھی ہیں
ہمیں یہ مطالبہ کرنے میں نہ توکوئی شرمندگی ہے اورنہ ہی ہم سندھ کے دشمن ہیں بلکہ ہم سندھ دھرتی کومضبوط اورخوشحال دیکھناچاہتے ہیں
ہم انتظامی یونٹس کامطالبہ کریں تویہ لسانیت ہے لیکن اگرکوئی یہ کہے کہ میں سندھی ہوں اورسندھ کی تقسیم نہیں ہونے دونگاتویہ لسانیت نہیں
ریاست پاکستان اس وقت تک نامکمل ہے جب تک تہرا حکومتی نظام وفاقی،صوبائی اوربلدیاتی نظام موجودنہیں ہے
نادراکمل لغاری اورڈاکٹرعارف علوی نے سندھ کی ترقی وخوشحالی کی پیٹھ میں خنجرگھونپاہے اوربراہ راست سندھ کونقصان پہنچایاہے
ون یونٹ توڑ کر ،سندھ کی موجودہ انتظامی شکل 1970ء میں جنرل یحییٰ خان کی دی ہوئی ہے 
مغلوں سے لیکر آج تک انتظامی طورپر سندھ میں لاتعداد مرتبہ انتظامی یونٹس بنائے اور ختم کئے گئے۔
رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ خورشیدبیگم سیکریٹریٹ عزیزآبادمیں حیدرعباس رضوی کی پریس کانفرنس
کراچی ۔۔۔19ستمبر2014ء
متحد ہ قومی موومنٹ کی را بطہ کمیٹی کے رکن سیدحیدرعباس رضوی نے پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر نادراکمل لغاری اورڈاکٹرعارف علوی کے بیان کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ قوموں کی زندگی میں اتمامِ حجت دوچاربارکانہیں بلکہ دوچارسال کاہوتاہے، سندھ دھرتی ہماری ماں ہے اورہم سب اس کے بیٹے ہیں،ہم بھی اتنے ہی سندھی ہیں جتنے سندھ میں رہنے والے دوسرے سندھی،بلوچی،پشتون اوردیگرلوگ سندھی ہیں، ایم کیوایم نے کبھی بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی اورنہ ہی کبھی کریگی لیکن سندھ میں انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس کاقیام اتناہی ضروری ہے جتنے دوسرے صوبوں میں اس کی ضرورت کومحسوس کیا جارہا ہے،ہم نہ حکمراں بنناچاہتے ہیں اورنہ ہی غلام بن کررہناچاہتے ہیں بلکہ ہم برابری کی بنیادپر انتظامی یونٹس چاہتے ہیں،ہمیںیہ مطالبہ کرنے میں نہ توکوئی شرمندگی ہے اورنہ ہی ہم سندھ کے دشمن ہیں بلکہ ہم سندھ دھرتی کومضبوط اورخوشحال دیکھناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نادراکمل لغاری اورڈاکٹرعارف علوی نے سندھ کی ترقی وخوشحالی کی پیٹھ میں خنجرگھونپاہے اوربراہ راست سندھ کونقصان پہنچایاہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ریاست پاکستان اس وقت تک نامکمل ہے جب تک تہراحکومتی نظام وفاقی،صوبائی اوربلدیاتی نظام موجودنہیں ہے،ہم انتظامی یونٹس کامطالبہ کریں تویہ لسانیت ہے لیکن اگرکوئی یہ کہے کہ میں سندھی ہوں اور سندھ کی تقسیم نہیں ہونے دونگاتویہ لسانیت نہیں۔کشمور سے کراچی تک سندھ کے عوام نادراکمل لغاری اورعارف علوی کے تعصب اورلسانیت پرمبنی بیان کومستردکرتے ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے جمعہ کی شب ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان اسلم آفریدی،یوسف شاہوانی،گلفرازخان خٹک،عارف خان ایڈووکیٹ اورسندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرسیدسرداراحمدکے ہمراہ خورشیدبیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔حیدرعباس رضوی نے کہاکہ جیساکہ سب جانتے ہیں کہ گذشتہ چنددنوں سے قائدتحریک الطاف حسین اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے مملکت خدادادپاکستان میں انتظامی بنیادوں پرمزیدنئے انتظامی یونٹس بنانے کامطالبہ سامنے آیاہے اورجب سے یہ مطالبہ سامنے آیاہے اس کی حمایت اور مخالفت میں مختلف سیاسی جماعتوں،سماجی،ثقافتی حلقوں اورمختلف این جی اوزکے بیانات بھی تسلسل کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج کی پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے اس مطالبے کی غرض وغایت پرتفصیلی روشنی ڈالنا ہے تاکہ وہ لوگ جواس کی مخالفت کررہے ہیں ان کے علم میںآجائے کہ انتظامی یونٹس ہیں کیا ؟ انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین نے پورے پاکستان میں چاہے وہ بلوچستان ہو،پنجاب ہو،خیبرپختونخواہ یاپھرسندھ ہونئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا ہے ،ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ گورنرماڈل کوبہتر بنانے کے لئے 20کروڑافرادکی آبادی میں نئے یونٹس بنانے کی اشدضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ جدیدترقی یافتہ ممالک نے بھی نہ صرف اپنے انتظامی یونٹس کوبہتربنایا بلکہ اس میںآبادی کے تناسب سے اضافہ بھی کرتے رہے ہیں۔انہوں نے تاریخ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں انتظامی یونٹ کی تعدادبھی 8 تھی اوراب 36ہے ،افغانستان میں34ہے ،جبکہ ہمارے برادراسلامی ملک ترکی میں81ہے ،بھوٹان جس کی آبادی چندلاکھ پرمشتمل ہے وہاں صوبوں کی تعداد 7 ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک اسی صورت میں جب اسلام آبادمیں مظاہرین کی ایک بہت بڑی تعدادجوپاکستان میں انصافی نظام پربات کررہے ہویاگورنرسسٹم پربات کر رہے ہوں ، قائد تحریک الطاف حسین اورایم کیوایم نے ملک بھرمیں انتظامی بنیادوں پر20نئے انتظامی یونٹس کی بات کی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ساری دنیادیکھی ہے اورمطالبہ کیاہے کہ جہاں کی آبادی 50لاکھ سے تجاوزکرجاتی ہے وہاں انتظامی یونٹس کوبہتربنانے کے لئے نئے یونٹ(صوبوں)میں اضافہ کردیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب ملک میں انتظامی یونٹس کی بات کوچھڑاگیاتب تب پاکستان رولنگ ایلیٹ نے اس بات کوختم کرنے کی کوشش کی ،آج پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جونئے انتظامی یونٹس کی بات نہیں کرتی ہو۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) ،پاکستان پیپلزپارٹی ،پاکستان تحریک انصاف اورطاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگرسیاسی جماعتوں کے منشورمیں ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی بات واضح طورپرموجودہے مگرآج یہ بات حیرت اورتعجب کاباعث ہے کہ جب ایم کیوایم نے پورے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بات کہی توپاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدرنادراکمل لغاری نے عارف علوی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں صوبہ پنجاب ،بلوچستان اورخیبرپختونخواہ میں نئے انتظامی یونٹس کی بات کی اورکہاکہ وہ حکومت میںآکرتینوں صوبوں اوران کے عوام کواس کافائدہ پہنچائیں گے اورسندھ کویہ کہہ کرچھوڑدیاکہ میں سندھی ہوں اورسندھ کی تقسیم ہرگز نہیں ہونے دونگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف نئے پاکستان کی بات کرتی ہے ،نئے صوبوں کے قیام کی بات کرتی ہے ،بلدیاتی الیکشن کی بات توکرتی ہے لیکن سندھ پاکستان تحریک انصاف کے منشورمیں شامل نہیں اس کویہ کہہ کرعلیحدہ کردیاگیالپ یہ حساس صوبہ ہے۔حیدرعباس رضوی نے نادراکمل لغاری اورڈاکٹرعلوی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خداراہم اہل سندھ پررحم فرمائیں اورنفرتوں کی بات نہیں کریں،جتنے سندھی آپ ہیں ہم بھی اتنے ہی سندھی ہیں اورسندھ میں رہنے والے سندھی،بلوچی،پشتون ، پنجابی ، سرائیکی ،ہزارہ وال اوردیگرلوگ بھی اتنے ہی سندھی ہیں۔حیدرعباس رضوی نے کہاکہ سندھ دھرتی ہماری ماں ہے جس کے ہم بیٹے ہیں،ہم نے اسی سندھ دھرتی ماں کے پیٹ سے جنم لیاہے ، ایم کیوایم نے کبھی بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی اورنہ ہی کبھی کریگی لیکن ہم بشمول انتظامی بنیادوں پرنئے یونٹس کی بات کرتے ہیں۔ حیدرعباس رضوی نے کہاکہ الطاف حسین یاایم کیوایم نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کامطالبہ کرکے کوئی اچھنبے کی بات نہیں کی،انہوں نے تاریخ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جب مغلوں نے ہندوستان پرحملہ کیااورہندوستان میں ان کی بادہشاہت قائم ہوئی توپورے سندھ میں انتظامی یونٹس کی تعدادبڑھتی اورگٹتی رہی اورجب انگریزوں نے سندھ پرحملہ کیاتوسندھ تین انتظامی یونٹس پرمشتمل تھاجس میں حیدرآباد،میرپورخاص اورخیرپورایک آزادریاست کے طورپرموجودتھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان وجود میںآیاتوسندھ میں تین انتظامی یونٹس پہلے سے موجود تھے ۔1955ء ؁ میں12سے زیادہ ریاستیں جس میں بنگلہ دیس بھی شامل تھاصرف دویونٹ بنائے گئے اورکراچی سمیت تین صوبے سامنے آئے جس میں مشرقی پاکستان،مغربی پاکستان اورکراچی شامل تھا۔پھربعدمیں کراچی کومغربی پاکستان میں شامل کردیاگیامگرسندھ تقسیم نہیں ہواصرف انتظامی شکل تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے کہاکہ جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ کوتوڑاتوموجودہ پاکستان کویہ کہہ کرواپس اس انتظام کوبحال کردیاجس شکل میں پاکستان بناتھااورسندھ بلوچستان ، پنجاب اورسرحد1970ء میں وجودمیںآئے۔صرف پاکستان بننے سے آج تک4بارانتظامی یونٹس سندھ میں بنتے اورختم ہوتے رہے۔ہم نے کوئی ایسامطالبہ نہیں کیاجوحیرت یااچھنبے کی بات ہویااورنہ ہی لسانیت کی بنیادپریہ مطالبہ کیابلکہ پاکستان کے انتظام اہتمام کوبہتربنانے کی بات کی ہے۔انہوں نے کہاکہ جوسندھ کے گومشتے ہیں وہ اہل سندھ کوچاہے وہ سندھی یامہاجرہوں،بلوچی ،پشتون یاپنجابیوں کو سندھ میں لڑاناچاہتے ہیں۔نادراکمل لغاری اورعارف علوی نے براہ راست نقصان پہنچایاہے کہ وہ سندھ میں مزیدیونٹس نہیں بننے دینگے۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاسندھ میں خوشحالی کی ضرورت نہیں؟کیاسندھ کاہاری ہمیشہ وڈیرے کے آگے ہاتھ جوڑکرکھڑارہیگا؟۔نادراکمل لغاری اورعارف علوی نے سندھ کی ترقی اورخوشحالی کی پیٹھ میں خنجرگھونپاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نئے صوبوں کی بات کررہے ہیں نئے بلدیاتی نظام کی بات نہیں کررہے اس کومکس کرکے الجھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ہم سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں اورکوئی بیٹادھرتی ماں کی تقسیم کی بات نہیں کرسکتا۔


12/3/2016 3:39:07 AM