Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایسی جمہوریت کو آمریت سے بدتر قراردیتا ہوں جو لوکل باڈیز سسٹم کے بغیرقائم کی جائے ۔الطاف حسین


ایسی جمہوریت کو آمریت سے بدتر قراردیتا ہوں جو لوکل باڈیز سسٹم کے بغیرقائم کی جائے ۔الطاف حسین
 Posted on: 9/17/2014
ایسی جمہوریت کو آمریت سے بدتر قراردیتا ہوں جو لوکل باڈیز سسٹم کے بغیرقائم کی جائے ۔الطاف حسین
سپریم کورٹ جیلوں میں عدالتیں لگاکرایسے تمام قیدیوں کو رہا کرائے جواپنے جرم سے زائد سزا بھگت چکے ہیں،
سانحہ قصبہ علیگڑھ ، سانحہ پکا قلعہ اور سانحہ حیدرآباد 30 ستمبر کاتذکرہ نہ کرنے والی انسانی حقوق کی انجمنیں جعلی ہیں 
صرف پرویزمشرف نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس اور سابق آرمی چیف سمیت جن جنرلوں نے12، اکتوبر99ء کو
ایمرجنسی لگائی ان پر بھی آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ قائم کیاجائے
61 سالگرہ کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے 50 سے زائد مقامات پر منعقدہ اجتماعات سے وڈیو لنک کے ذریعہ بیک وقت خطاب 
لندن۔۔۔17، ستمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں ایسی جمہوریت کو آمریت سے بدتر قراردیتا ہوں جو لوکل باڈیز یالوکل کونسل سسٹم کے بغیرقائم کی جائے ۔سپریم کورٹ جیلوں میں عدالتیں لگاکرایسے تمام قیدیوں کو رہا کرائے جواپنے جرم سے زائد سزا بھگت چکے ہیں،سانحہ قصبہ علیگڑھ ، سانحہ پکا قلعہ اور سانحہ حیدرآباد 30 ستمبر کاتذکرہ نہ کرنے والی انسانی حقوق کی انجمنیں جعلی ہیں ،ایم کیوایم کی حکومت آئی ان انجمنوں کو بیرون ملک سے ملنے والا فنڈ بندکرادیا جائے گا۔ صرف پرویزمشرف نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی سمیت جن جنرلوں نے12، اکتوبر99ء کو ایمرجنسی لگائی ان پر بھی آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ قائم کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایم کیوایم کو ایک سال کیلئے حکومت دیدی جائے تو ہم قومی خزانے کی لوٹ مارکرنے والوں کو جھگیوں میں منتقل کردیں گے اور ان کے محلات میں اسکول، کالج ،اسپتال اور خواتین کیلئے ووکیشنل سینٹرز بنائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے اپنی 61 سالگرہ کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے 50 سے زائد مقامات پر منعقدہ اجتماعات سے وڈیو لنک کے ذریعہ بیک وقت خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی پروگرام جناح گراؤنڈعزیزآباد میں منعقد ہوا جس میں رابطہ کمیٹی کے ارکان، منتخب عوامی نمائندوں ، ذمہ داروں ، کارکنوں اور ہمدردوں کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام ، عمائدین شہراورمختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی جس میں خواتین کارکنان بھی ہزاروں کی تعداد میں شامل ہیں۔ جناب الطاف حسین نے اجتماعات کے شرکاء کو اپنی سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ کا قائد پوری طرح صحت یاب ہے ، میں جانتا ہوں کہ ہرنفس کوموت کامزا چکھنا ہے ، بعض عناصر صبح شام میرے لئے بددعائیں کرتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں میری صحت وسلامتی کیلئے دعائیں کرنے والے کہیں زیادہ ہیں۔جناب الطاف حسین نے نام نہاد جمہوریت پسند وں اور دانشوروں کو مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ ان کی نظر میں جمہوریت کی کیاتعریف ہے ؟ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت، عوام سے اورعوام کیلئے ہوتا ہے ، جمہوریت کی یہ ہرگز تعریف نہیں ہے کہ خاندان کی حکومت، خاندان سے اور خاندان کیلئے ہو ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح کوئی طالبعلم پہلی سے بارہویں جماعت پاس کیے بغیر یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتا اسی طرح جمہوریت کی بھی مختلف منزلیں ہوتی ہیں لیکن نام نہاد جمہوریت پسندوں کی جمہوریت سینیٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن سے شروع ہوکر یہیں ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دانشوروں ، قلمکاروں اورجمہوریت کی علمبردار انجمنوں سے سوال کیا کہ اب تک پاکستان میں جتنی بھی سول حکومتیں قائم ہوئیں کیا انہوں نے جمہوریت کی نرسری سے تعلیم حاصل کرنے کا بندوبست کیا؟کیاانہوں نے لوکل باڈیز سسٹم کانفاذ اور بلدیاتی الیکشن کرائے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ایسی جمہوریت کو آمریت سے بدتر قراردیتا ہوں جو لوکل باڈیز یالوکل کونسل سسٹم کے بغیرقائم کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ دنیا کا کوئی بھی رکن پارلیمنٹ سڑکوں کی دیکھ بھال اورپلوں کی تعمیر نہیں کرتا یہ سارے کام لوکل باڈیز اور لوکل کونسل کے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پرائمری ڈیموکریسی کیلئے جتنے بھی بلدیاتی الیکشن ہوئے وہ سب فوجی حکومت نے کرائے اور ہمیں مارشل لاء حکومتوں کے اس اچھے کام کی تعریف کرنی چاہیے ۔نام نہاد جمہوریت میں خاندان کے تمام رشتہ دار اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں جبکہ لوکل باڈیز نظام، خاندانی اورشاہانہ طرز حکومت سے قطعی مختلف ہوتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے انسانی حقوق کی تنظیموں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے ادارے کی تاریخ نکال کر بتائیں کہ کیاان کے ریکارڈ میں سانحہ قصبہ علیگڑھ ، سانحہ پکا قلعہ اور سانحہ حیدرآباد 30 ستمبر کاتذکرہ ہے ؟ جبکہ سانحہ قصبہ علیگڑھ، جلیانوالہ باغ کے سانحہ سے بھی بڑا تھا۔ انہوں نے کہاکہ نام نہاد انسانی حقوق کی یہ تنظیمیں جعلی ہیں اور جب بھی ایم کیوایم کی حکومت آئی ان تنظیموں کو بیرون ملک سے ملنے والا فنڈ بندکرادیا جائے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور عدلیہ کی بحالی کی تحریک چلانے والی انجمنوں اور وکلاء برادری سے پوچھا جائے کہ اب وہ کہاں غائب ہیں، ان انجمنوں نے سابق صدرپاکستان جنرل پرویز مشرف پرآرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلاکر قید کردیا جو آج تک مقدمہ بھگت رہے ہیں ، اب وکلاء تحریک اور انسانی حقوق کی انجمنیں سامنے آکر کیوں نہیں کہتیں کہ صرف پرویزمشرف پر مقدمہ نہ چلایاجائے بلکہ سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی سمیت جن جنرلوں نے 12، اکتوبر1999ء کوایمرجنسی لگائی ان پر بھی آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ قائم کیاجائے اور ایک بستی قائم کرکے ان سب کووہاں رکھا جائے ۔جناب الطاف حسین نے مزید کہاکہ اب یہ موجودہ عدلیہ کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے دامن پر لگے دھبے صاف کرے ، یاتو جنرل پرویزمشرف کو غیرمشروط طورپر رہا کرنے کا اعلان کرے یا ازخود نوٹس لیکر 12، اکتوبر1999ء سے ایمرجنسی نافذکرنے میں ملوث تمام جنرلوں کو گرفتارکیاجائے ۔ وکلاء برادری اورانسانی حقوق کی انجمنیں حق اور انصاف کیلئے کل سے ہی جلوس نکال کر اپنے گناہوں کودھو لیں ورنہ روزآخرت میں انہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے جیلوں میں برسوں سے اسیر قیدیوں کی حالت زاراور انصاف کے معیار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھرکی جیلوں میں ناکردہ اور چھوٹے موٹے جرائم کے الزام میں لوگ برسوں سے قید ہیں ، پیسے نہ ہونے کے باعث نہ تو ان کے مقدمے چلائے جاتے ہیں اور نہ ہی انصاف فراہم کیاجاتا ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ پر زوردیا کہ وہ نچلی سطح سے احتساب کا عمل شروع کرے ، لوئر اور سیشن کورٹ سے مظلوم قیدیوں کو انصاف فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کرے ، جیلوں میں عدالتیں لگاکرایسے تمام قیدیوں کو رہا کرائے جواپنے جرم سے زائد سزا بھگت چکے ہیں اور حکومت کوپابند کیاجائے کہ وہ جرم سے زائد سزا بھگتنے والوں کومعاوضہ اداکرے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں چورچکاری اور کرپشن سے پاک خوشحال پاکستان چاہتا ہوں ، ملک وقوم کو جھوٹے ، بے ایمان اور دھوکہ باز عناصر جو سرکاری خزانے سے اربوں روپے قرضے لیکر معاف کراکرہڑپ کرنے والوں کا نہیں بلکہ قرضے لیکرقومی خزانے میں واپس جمع کرانے والوں کا پاکستان چاہتا ہوں۔ اگر ایم کیوایم کو ایک سال کیلئے حکومت دیدی جائے تو ہم قومی خزانے کی لوٹ مارکرنے والوں کو جھگیوں میں منتقل کردیں گے اور ان کے محلات میں اسکول، کالج ،اسپتال اور خواتین کیلئے ووکیشنل سینٹرز بنائیں گے ۔ انہوں نے عوام سے کہاکہ اگر ایم کیو ایم کے رہنماؤں ،منتخب نمائندوں اورعلاقائی ذمہ داروں نے کسی سے بدتمیزی کی ہے تو میں ان سب سے معافی کا طلبگار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی باپ اپنی اولاد کو غلط تعلیم نہیں دیتا ، اگر اولاد بگڑ نے لگے تو والدین اس کی سرزنش کرتے ہیں ، عاق کردیتے ہیں جبکہ اگر ایم کیوایم میں کوئی تنظیمی نظم وضبط اورمیری تعلیمات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے تنظیمی طورپر معطل کردیا جاتا ہے اوراگر شکایت سنگین ہوتو اسکی بنیادی رکنیت ختم کردی جاتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے حلقے کے عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں ، اپنی سیکوریٹی کیلئے حسب ضرورت گارڈز رکھیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ان گارڈز کا طرزعمل سے عوام کیلئے تکلیف کاباعث نہ بنے ۔
جناب الطاف حسن نے حکومتوں سے سوال کیاکہ سیلاب آتے رہتے ہیں جن سے غریب لوگ مرتے ہیں اوراربوں کھربوں کانقصان ہوتاہے،آخر سیلاب سے ہونے والی تباہی سے لوگوں کوبچانے کاانتظام کیوں نہیں کیاگیا؟آخرپانی کے ذخائرکے لئے اب تک ڈیم کیوں نہیں بنائے گئے؟کہاجاتا ہے کہ کوریا، چائنا اور جاپان سے بجلی خریدی جائے گی کیونکہ پاکستان میں بعض لوگ ڈیم نہیں بننے دیتے۔انہوں نے کہاکہ اگرکالاباغ ڈیم پر سندھ کے لوگوں کااعتراض ہے اور یہ شدیدتحفظات ہیں کہ کالاباغ ڈیم بننے سے سندھ بنجر ہوجائیگا توچھوٹے ڈیم بنانے سے حکمرانوں کوکس نے روکاہے؟یورپ میں جاکردیکھیں کہ چھوٹے چھوٹے ڈیموں اورپانی کے ریزروائر کے جال بچھے ہوئے ہیں،اگر پاکستان میں بھی چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جائیں توپانی کابہت ذخیرہ ہوسکتاہے ، بجلی بھی پیداہوسکتی ہے اورہمیں کہیں سے بجلی لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔انہوں نے کہاکہ میں کئی مرتبہ کہہ چکاہوں کہ سندھ کے دانشوروں اورماہرین کو بلائیں اوران سے پوچھیں کہ انہیں کالاباغ ڈیم پر کیااعتراضات ہیں اورآپس میں بحث ومباحثہ اوردلائل کے ذریعے ان کی رائے لیں اوربیچ کاکوئی ایسا راستہ نکالیں کہ سندھ کے عوام کے تحفظات بھی دورہوجائیں اور مسئلہ بھی حل ہوجائے۔جناب الطاف حسین نے صوبوں کے حوالے سے اپنی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ وقت کی آواز ہے اوراس کوکسی بھی صورت میں نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دورحکومت میں پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی اورپنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کی قراردادپیش کی آج پیپلزپارٹی کی قیادت کہتی ہے کہ ہم نئے صوبے اورانتظامی یونٹس نہیں بننے دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مخالفت کرنے والے کتنی ہی مخالفت کرلیں لیکن سرائیکی صوبہ بھی بنے گا،ہزارہ صوبہ بنے گا اورنئے نئے صوبے بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو سندھی قوم پرست نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر آئے دن مہاجر وں کے خلاف زہراگلتے ہیں اورنفرتین پھیلاتے ہیں اسے دیکھ کرمجھے ایسالگتا ہے کہ یہ نام نہاد قوم پرست عناصر مہاجرصوبہ بنوانے پر تلے بیٹھے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں موجودہ حکومت اورآنے والی وفاقی وصوبائی حکومتوں کے وزیروں سے کہتاہوں کہ یہ سلسلہ ختم ہوناچاہیے کہ ساتھ میں سوسوگاڑیاں ہوں گی توگھرسے نکلیں ورنہ نہیں۔اگر آپ کووزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کا شوق ہے تواپنے اندرہمت اورجرات بھی پیداکریں۔انہوں نے کہاکہ ملک کاکتناپیسہ ا س وی وی آئی پی کلچرکے تحفظ کیلئے خرچ ہوجاتاہے، برطانیہ کا وزیراعظم ٹرین میں سفرکرلیتاہے، ایک گاڑی میں سفرکرتاہے لیکن ہمارے ہاں وزیراعظم کے ساتھ سو سوگاڑیوں کاقافلہ چلتاہے، یہ غریب ملک ہے اوراس وی وی آئی پی کلچر کامتحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے نوجوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اس وی وی آئی پی کلچرکے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اوراس پر ہرفورم پر اس شدت سے آوازاٹھائیں کہ یہ لوگ اپنے آپ کووی وی آئی کہلواناچھوڑدیں۔جناب الطا ف حسین نے وزیراعظم اوران کی کابینہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری اورپاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بیشترمطالبات جائزہیں، انہیں قبول کرلیاجائے تاکہ یہ دھرنے ختم ہوں،دھرنوں میں شریک لوگ گھروں کو جائیں اورملک کاپہیہ چلے اورآپ بھی سکون سے حکومت کرسکیں۔انہوں نے جیلوں میں قیدیوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی جیلوں میں قیدبیشترقیدی چھوٹے چھوٹے جرائم میں برسوں سے قیدہیں اوراپنی سزاؤں سے زیادہ قیدگزارچکے ہیں۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ اورحکومت سے مطالبہ کیاکہ پاکستان بھرکی جیلوں میں عدالتیں لگائی جائیں اورایک ایک قیدی کوبلاکراس کے معاملے کاجائزہ لیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ سندھ، بلوچستان،پنجاب، خیبرپختونخوا کے غریب عوام کوایم کیوایم ہی حقوق دلائے گی۔انہوں نے پاکستان کے عوام سے کہاکہ وہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے زیادہ سے زیادہ عطیات دیں ۔

12/8/2016 6:06:23 PM