Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،نئے صوبوں کے قیام سے وفاق کمزور نہیں مضبوط ہوتا ہے، الطاف حسین


پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،نئے صوبوں کے قیام سے وفاق کمزور نہیں مضبوط ہوتا ہے، الطاف حسین
 Posted on: 9/16/2014
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،نئے صوبوں کے قیام سے وفاق کمزور نہیں مضبوط ہوتا ہے، الطاف حسین
گزشتہ کئی برسوں سے سندھ کی شہری اوردیہی آبادی کے درمیان بھائی چارے کے فروغ کیلئے عملی جدوجہد کرتا رہاہوں 
ایم کیوایم کی جانب سے سندھ میں بھائی چارے کے قیام کیلئے کی جانیوالی تمام ترعملی کوششوں کے باوجود بھی نام نہاد سندھی قوم پرستوں کی جانب سے مہاجروں کو سندھ دھرتی کا بیٹا اور برابر کا شہری نہیں سمجھا گیا
جب بھی سندھ میں مخلوط حکومت بنانے کامرحلہ آتاہے تو اردوبولنے والے سندھی یعنی مہاجر کو وزیراعلیٰ بنانے کی شدیدمخالفت کی جاتی ہے
جب بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بات کی جاتی ہے تو نام نہادسندھی قوم پرست عناصر سیخ پا ہوکر دریائے سندھ کو خون سے رنگین کرنے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں لیکن ملک کے دیگر صوبوں میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبہ پرانہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا
ڈھائی لاکھ محصور ین کو پاکستان لانے کے مطالبہ پرتو نام نہادسندھی قوم پرستوں کوناقابل بیان اعتراض ہوتاہے لیکن 50لاکھ سے زائد افغانیوں کے سندھ میں آکربس جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔سینئر صحافی ، مدیراوردانشور اجمل دہلوی سے فون پر طویل گفتگو
لندن۔۔۔16، ستمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ،نئے صوبوں کے قیام سے وفاق کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتا ہے، ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں صو بہ پنجاب ،صوبہ خیبرپختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ بار بار کرتی رہی ہیں بلکہ پیپلز پارٹی نے تو قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کا بل بھی جمع کرایا ہوا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کے ممتاز دانشور ، سینئرترین صحافی اور ایڈیٹر اجمل دہلوی سے ٹیلی فون پر طویل گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کی گفتگو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی ، اس دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ، نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے ، حقوق سے محروم عوام میں پائے جانیوالے احساس محرومی کے اسباب اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے اجمل دہلوی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں گزشتہ کئی برسوں سے سندھ کی شہری اوردیہی آبادی کے درمیان بھائی چارے کے فروغ کیلئے عملی جدوجہد کرتا رہاہوں ، میں نے ہمیشہ سندھی مہاجر بھائی بھائی کا درس دیا،میں نے سندھی زبان نہ صرف خود سیکھنے کی کوشش کی بلکہ اردو بولنے والے علاقوں میں سندھی سکھا نے کا ایم کیوایم کی طرف سے اہتمام کیا جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ، سندھی دانشوروں کے مطالبات پرخود کو سندھی ثابت کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور اپنے گھر عزیزآبادسے سندھی بولنے والوں کوقومی اورصوبائی اسمبلی کے الیکشن لڑواکر ایوانوں میں بھیجا ، انہیں وزیربنایااوراپنے عمل سے ثابت کیاکہ ہم کسی قومیت سے نفرت نہیں کرتے لیکن سندھی قوم پرستوں کی جانب سے ہمارے خیرسگالی کے جذبے کی قدرنہیں کی گئی ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایم کیوایم کی جانب سے سندھ میں بھائی چارے کے قیام کیلئے کی جانیوالی تمام ترعملی کوششوں کے باوجود بھی نام نہاد سندھی قوم پرستوں کی جانب سے مہاجروں کو سندھ دھرتی کا بیٹا اور برابر کا شہری نہیں سمجھا گیا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر مہاجر سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں تو آج تک کسی سندھی جماعت میں یہ جرات کیوں نہیں ہوئی کہ وہ رتوڈیرو ، نوڈیرو یالاڑکانہ سے کسی اردواسپیکنگ سندھی یعنی مہاجر کوالیکشن میں کھڑا کردے ؟نام نہاد وفاق اور قوم پرست جماعتوں کے رہنما یہ زبانی دعویٰ کرتے ہیں کہ سندھ میں رہنے والے سب سندھی ہیں اورآپس میں بھائی بھائی ہیں لیکن جب سندھ میں مخلوط حکومت بنانے کامرحلہ آتاہے توکسی اردوبولنے والے سندھی یعنی مہاجر کوسندھ کاوزیراعلیٰ قبول نہیں کیاجاتا۔اگر نام نہادقوم پرست عناصر ،مہاجروں کو سندھ دھرتی کا بیٹا سمجھتے ہیں اور ان کے دل وسیع ہیں تووہ اردو بولنے والے سندھی یعنی مہاجر کو وزیراعلیٰ بنانے کی شدیدمخالفت کیوں کرتے ہیں؟ اسی طرح جب بھی ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی بات کی جاتی ہے تو نام نہادسندھی قوم پرست عناصرسندھ میں نئے صوبے کے قیام کی بات پر سیخ پا ہوکر دریائے سندھ کو خون سے رنگین کرنے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں لیکن ملک کے دیگر صوبوں میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبہ پر انہیں کسی قسم کا اعتراض نہیں ہوتا۔انہوں نے مزیدکہاکہ ڈھائی لاکھ محصورپاکستانی جنہیں عرف عام میں بہاری کہاجاتاہے انہیں پاکستان لانے کے مطالبہ پر تو نام نہادسندھی قوم پرستوں کوناقابل بیان حدتک اعتراض ہوتاہے جبکہ دوسری طرف 50لاکھ سے زائدافغانیوں کے سندھ میں آکربس جانے پر انہیں کسی قسم کاکوئی اعتراض نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ وقت کاتقاضہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر عوام کی بہتر سے بہتر خدمت کرنے اور عوام کونچلی سطح پر بااختیاربنانے کیلئے ملک میں انتظامی بنیادوں پر کم ازکم 20نئے صوبے بنائے جائیں۔ جناب الطاف حسین اور اجمل دہلوی کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا خلاصہ نیوز کی شکل میں پیش کیاجارہا ہے تاہم گفتگو کی تفصیل سینئر ایڈ یٹر اور ممتاز دانشور محترم اجمل دہلوی صاحب خود تحریر کریں گے۔ محترم اجمل دہلوی درسگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی تحریر یقینی طورپر تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کے طالبعلموں کیلئے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔


12/5/2016 6:32:45 AM