Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول کے تحت مذاکرات کافی الفور دوبارہ آغاز کریں۔ الطاف حسین


ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول کے تحت مذاکرات کافی الفور دوبارہ آغاز کریں۔ الطاف حسین
 Posted on: 9/15/2014
ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول کے تحت مذاکرات کافی الفور دوبارہ آغاز کریں۔ الطاف حسین
حکومت دھرنے دینے والی جماعتوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے، دونوں جماعتوں کے پیش کرد ہ بیشتر مطالبات عوام کی سوچ و فکر کے عکاس ہیں
یہ صدی ڈی سینٹرلائزیشن کی صدی ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے
وقت کا تقاضہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر عوام کو نچلی سطح پر بااختیار بنانے کیلئے انتظامی بنیادوں پر کم ازکم 20 نئے صوبے بنائے جائیں
آج انڈیا میں صوبوں کی تعداد 36، افغانستان میں 34 ، ایران میں31، ترکی میں 81، سری لنکا میں 9، نیپال میں 5 اور بھوٹان میں 9 صوبے ہیں لیکن پاکستان کے آج بھی محض چار صوبے ہیں
حکومت اور اسکی ہم خیال جماعتوں کے ارکان، پاک فوج اور ISI جیسے اداروں پر بے جا الزام تراشی سے گریز کریں
لندن ۔۔۔14ستمبر 2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطا ف حسین نے حکومت او راسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنے دینے والی جماعتوں پاکستان عوامی تحریک کے رہنماڈاکٹرطاہر القادری اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی سنجیدگی اور برد باری کامظاہر ہ کر یں اور’’ کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول پر گامزن رہتے ہوئے مذاکرات کافی الفوردوبارہ آغاز کریں ۔ اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ دھرنے دینے والی جماعتیں حکومت کو درپیش مشکلات کا احساس کریں اور حکومت بھی دھرنے دینے والی جماعتوں کے مطالبات پر سنجید گی سے غور کرے کیونکہ دونوں جماعتوں کے پیش کرد ہ بیشتر مطالبات عوام کی سوچ وفکر کے عکاس ہیں ۔ مثلاً جن حلقوں میں دونوں جماعتوں کے پاس ثبوت و شوائد ہیں کہ وہاں دھاندلی ہوئی ہے وہاں دوبارہ گنتی کرائی جائے ، ماڈل ٹاؤن لاہور میں علامہ طاہر القادری کے مرکز پر جمع ہونے والے نہتے مرد و خواتین پر فائرنگ کرکے انہیں شہید و زخمی کرنے والے اہلکاروں کو فی الفور گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے نمائندگا ن اور ان کی ہم خیال جماعتوں کے ارکان ،جوائنٹ سیشن کے دوران پاک فوج اور ISIجیسے اداروں پر بے جا الزام تراشی سے گریزکریں کیونکہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات سے نہ صرف اداروں کا تقدس مجر وح ہوتا ہے بلکہ پاکستان دشمن عناصر کو اس طرح کی الزام تراشی سے پاکستان کی جگ ہنسائی کا موقع میسرآجاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے والے ارکان ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے سے ہر قیمت پراجتنا ب کریں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ عام آدمی کوبااختیاربنانا،جاگیر دارانہ اور موروثی نظام کا خاتمہ ، قومی خزانے سے لوٹی ہوئی رقم کی پاکستان واپس منتقلی کویقینی بنانا، لوکل باڈیز سسٹم کے نظام کو ملک کے چپے چپے میں نافذ کرنا ، ملک میں بہتر نظام حکومت چلانے کیلئے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام کو عمل میں لانا،پورے ملک میں یکساں تعلیمی نظام نافذ کرنا، خواتین کومساوی حقوق دینا، چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنا ،مزدوروں،کسانوں کو ان کے حقوق دینا ،اسپتالوں میں علاج معالجہ کے نظام کو جدید طر ز پر استوار کرنا اور انصاف کے حصول کیلئے عدالتی نظام کو آسان اور انتہائی سستا بنانا کہ ایک غریب آدمی بھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا نے کابوجھ باآسانی اٹھا سکے ،یہ سب ایسے مطالبات ہیں جن کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا۔ا نہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذل کلاس سے ورکنگ کلاس میں ہر گز رتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے اور دونوں جماعتوں کے پیش کردہ مذکورہ مطالبات مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ صدی ڈی سینٹرلائزیشن کی صدی ہے اوراس میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے نئے صوبے یاانتظامی یونٹس کاقیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ آزادی کے وقت انڈیا کے 7صوبے تھے لیکن آج انڈیا میں 36صوبے ہیں،اسی طرح افغانستان میں صوبوں کی تعداد بڑھ کر 34ہوگئی ہے ، ایران میں صوبوں کی تعداد بڑھ کر 31ہوگئی ہے، ترکی میں صوبوں کی تعداد آج81ہوگئی ہے ۔ اسی طرح سری لنکا جیسے چھوٹے ملک میں 9صوبے ہیں،نیپال میں صوبوں کی تعدادپانچ ہے ۔جبکہ بھوٹان جہاں کی آبادی صرف ساڑھے سات لاکھ ہے وہاں 9صوبے ہیں لیکن 67سال گزرجانے کے باوجودپاکستان کے آج بھی محض چار صوبے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ وقت کاتقاضہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظرعوام کی بہتر سے بہتر خدمت کرنے اور عوام کونچلی سطح پر بااختیاربنانے کیلئے انتظامی بنیادوں پر کم ازکم 20نئے صوبے بنائے جائیں۔ 

12/8/2016 4:06:20 PM