Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کیلئے تعاون کی سب سے زیادہ پیشکش اسکے باوجود ہماری حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین


دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کیلئے تعاون کی سب سے زیادہ پیشکش اسکے باوجود ہماری حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 9/14/2014
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کیلئے تعاون کی سب سے زیادہ پیشکش اسکے باوجود ہماری حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین
ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا، اگر ہم محب وطن نہیں تو پھر پاکستان میں کوئی محب وطن نہیں ہے
آخر اردو بولنے والا سندھ کا چیف منسٹر کیوں نہیں بن سکتا؟ کیا مہاجر سندھ کے بیٹے نہیں؟
وقت آگیا ہے کہ اب اس بات کو طے کرلیا جائے، کوئی اصول وضع کرلیا جائے کہ سندھی اور مہاجر ٹرم بائی ٹرم سندھ کے وزیر اعلیٰ بنیں، اگر آپ یہ نہیں مانتے تو پھر انتظامی بنیاد پر سندھ کی تقسیم کردیجئے
جنرل پرویزمشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ نفرت و تعصب پر مبنی ہے، اگر پرویز مشرف پر مقدمہ چلنا ہے تو پھر 12 اکتوبر 99ء کو نوازشریف کا تختہ الٹانے والے جرنیلوں پر بھی مقدمہ چلایا جائے
مہاجروں پر ہونے والے مظالم پر بڑے بڑے نامور دانشوروں کے قلم آج تک حرکت میں نہیں آئے
آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کئی کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے لیکن انکے اہل خانہ کو اب تک انصاف نہیں 
آج کے بعد ایم کیوایم کا ایک بھی کارکن ماورائے عدالت قتل کیا گیا تو اس کا مقدمہ ڈی جی رینجرز، آئی جی اور وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف قائم کیا جائے گا
ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو عزیز آباد اور مختلف زونوں پر جمع ہونے والے کارکنان سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔14، ستمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی فوج کیلئے تعاون کی سب سے زیادہ پیشکش میں نے کی اور فوج کیلئے ہرموقع پر سب سے اچھے کلمات میں نے کہے لیکن اس کے باوجود بھی ہماری حب الوطنی پر شک کیاجاتاہے ،ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایااورپاکستان بنانے کیلئے لاکھوں جانوں کانذرانہ پیش کیا،اگرہم محب وطن نہیں تو پھر پاکستان میں کوئی محب وطن نہیں ہے۔سابق صدرجنرل پرویزمشرف کے خلاف غداری کامقدمہ نفرت وتعصب پر مبنی ہے، اگرجنرل پرویزمشر ف پرمقدمہ چلناہے توپھر12اکتوبر99ء کونوازشریف کاتختہ الٹانے والے جرنیلوں پربھی مقدمہ چلایاجائے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی صبح ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو عزیز آباد اورمختلف زونوں پر جمع ہونے والے کارکنان سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا ۔یہ کارکنان جناب الطاف حسین کے تحریک کی قیادت سے سبکدوشی کے اعلان کی خبرسنکراپنی تشویش کا اظہار کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے۔اس موقع پرکارکنوں کاجوش وخروش قابل دیدتھا کارکنان نے جناب الطاف حسین کے حق میں زبردست نعرے لگائے اور ان سے اپنی والہانہ عقیدت و محبت کااظہار کیا ۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پو ری دنیا جا نتی ہے کہ اﷲتعالیٰ کے فضل وکر م سے ایم کیو ایم 
میں کا رکنو ں کا اور قا ئد کا رشتہ جتنا مضبو ط و مستحکم ہے ایسا رشتہ کہیں اور دیکھنے یا سننے میں نہیں آتا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کارکنوں کے مشو رو ں سے ہی ایم این ایز، ایم پی ایز،سینیٹرز، کو نسلرز، یو سی ناظم ،ٹا ؤ ن ناظم،نا ئب ناظم، مئیر یا ناظم یا نا ئب ناظم بنا ئے،میں پا کستا ن کا واحد آدمی ہو ں جو کڑورں عوام کا قا ئد بھی ہے ۔ میر ے خاندان کی قر با نیو ں سے تحریک کے سب لو گ واقف ہیں ۔ایسانہیں ہواکہ میر ے گھر والے عیش و عشر ت سے رہتے رہیں اور کا رکنا ن اور ان کے گھر والے مشکلا ت اور پریشانیوں کا شکا ر ہو تے رہیں بلکہ سب جا نتے ہیں کہ میرے خاندان کے لوگ جن کاسیاست سے کوئی واسطہ نہ تھا انہیں بھی ریاستی آپریشن کے دوران روپوشی اختیار کرناپڑی ۔5دسمبر 1995ء کو میرے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین کوپولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتارکیااورتین دن تک بھیانک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد 9دسمبر 1995ء کو گڈاپ کے علاقے میں لے جا کر بیدردی سے شہید کردیا گیا ۔ میراپورا خاندان گھر سے بے گھر ہوگیا ، سب اچھاکھاتے کماتے تھے اور اپنے بال بچوں کی تعلیم وتربیت کررہے تھے، ان کا گھر بارختم ہوگیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں لبرل اور انتہائی ڈیمو کریٹک انداز میں چلنے والی پارٹی ایم کیوایم کے علاوہ کوئی بھی نہیں ، نہ میں نے آج تک اسمبلی کا الیکشن لڑا اور نہ ہی میرے کسی بھائی اور بہن کو میں نے اپنے نام کی بنیاد پرالیکشن لڑایا ، میں نے ایم کیوایم کو ایک خاندان کی پارٹی نہیں بننے دیا ، جو جو لوگ اسمبلیوں میں پہنچے وہ بھی میری پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ کارکنوں کی رائے سے پہنچے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے سندھی مہاجر بھائی بھائی کا درس دیااورصرف زبانی نہیں بلکہ اپنے گھر عزیزآبادسے سندھیوں کوقومی اورصوبائی اسمبلی کی سیٹ دی اوراپنے عمل سے یہ ثابت کیاکہ ہم کسی قومیت سے نفرت نہیں کرتے لیکن مجھے اس کا افسوس ہے کہ دیگر قومیتوں نے اس کا احساس نہیں کیا ۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیاکسی سندھی جماعت کے اندر اتنی جرات ہے کہ وہ لاڑکانہ سے کسی اردو اسپیکنگ کوالیکشن میں کھڑا کردے ؟کیا پیپلزپارٹی میں یہ جرات ہے ؟انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ ، آئی ایس آئی ، ایم آئی ، فوج کہتی ہے کہ ملک ایک ہے ، سب بھائی بھائی ہیں ، سب مسلمان ہیں ، سب پاکستانی ہیں ، سب کو مل کر چلنا چاہئے ۔ لیکن جب سندھ میں مخلوط حکومت بنانے کامرحلہ آتاہے اور کولیشن میں ایم کیوایم کی اکثریت ہوتو اصولی طورپراکثریتی جماعت کا وزیراعلیٰ بننا چاہئے لیکن یہی آئی ایس آئی ، فوج ، ایم آئی کہتی ہے کہ بھئی بھائی چارے کیلئے قربانیاں دیدیں ، ہم مانتے ہیں کہ آپ کا وزیراعلیٰ بننا چاہئے لیکن سندھی ناراض ہوجائیں گے اس لئے چیف منسٹر سندھی بناؤ ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اردو بولنے والا سندھ کاچیف منسٹر کیوں نہیں بن سکتا ؟کیا مہاجرسندھ کے بیٹے نہیں؟میں تعصب کی نہیں اصول کی بات کررہاہوں ۔ اگر سندھیوں کا دل وسیع ہے تو جیسے الطاف حسین نے اپنے گھر سے سندھی کو کھڑا کیا ایسے ہی اپنی اکثریت ہوتے ہوئے اردو بولنے والے مہاجر کو وزیراعلیٰ بنا کر دکھائیں اور اگر نہیں توپھریہ بناوٹی محبت نہیں چلے گی ۔پھرکیوں نہ جیسے ایک باپ کے بیٹے الگ الگ گھروں میں رہتے ہیں ہم بھی اسی طرح اپنے اپنے گھروں میں بھائی بن کر رہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم یہ بات کرتے ہیں تونام نہاد قوم پرستوں کی جانب سے بیانات آتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا اورایساہوا تو دریائے سندھ میں خون بہے گا ۔انہوں نے کہاکہ اگرآپ سندھ میں یہ تفریق ختم کردیں گے توایسی آوازیں نہیںآئیں گی ۔وقت آگیاہے کہ اب اس بات کوطے کرلیاجائے، کوئی اصول وضع کرلیاجائے کہ سندھی اورمہاجر ٹرم بائی ٹرم سندھ کے وزیراعلیٰ بنیں، ایک مرتبہ سندھی وزیراعلیٰ بنے اوردوسری مرتبہ مہاجر وزیراعلیٰ ،اگر آپ یہ نہیں مانتے تو پھر آپ انتظامی بنیاد پر سندھ کی تقسیم کردیجئے ۔ انہوں نے کہاکہ جوسندھی قوم پرست خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں دیتے ہیں میں ان پرواضح کردوں کہ تم نے خون کی ندیوں کاصرف نام سنا ہے ہم نے خون کی ندیاں دیکھی ہیں، ہم خون کی ند یوں سے گزرکریہاں آئے اور ہم نے پاکستان بنایا ہے ۔ تم شاہ لطیف بھٹائیؒ کے صرف شعر پڑھنے والے ہواور ہم عمل کرنے والے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ انسانی حقوق کی نام نہادتنظیمیں اورسول سوسائٹی کے نام نہاد لوگ، بڑے بڑے اینکر پرسنز ، رائٹرز ، کالمنسٹ جمہوریت اور انسانی حقوق پر بڑے بڑے کالم لکھتے ہیں لیکن مہاجروں پر ہونے والے مظالم پر بڑے بڑے نامور دانشوروں کے قلم آج تک حرکت میں نہیں آئے ۔ کراچی میں14دسمبر1986ء کوسانحہ علی گڑھ 
قصبہ ہوا جس کے دوران مہاجر آبادیوں پرحملے کرکے سینکڑوں کاقتل عام کیاگیا،مکانوں کوجلا کر راکھ کردیاگیااوراس آگ میں مہاجروں کوزندہ جلادیا گیا ، ماؤں بہنوں کی عصمت دری کرکے انکے ٹکڑے کردیئے گئے لیکن انسانی حقوق کے نام نہادعلمبرداروں نے آج تک اس کاذکرنہیں کیا ۔ 30 ستمبر 1988ء کو سانحہ حیدرآبادہوااس روزکئی گاڑیاں حیدرآبادشہر میں داخل ہوئیں او ران گاڑیوں میں سواردہشت گردوں نے چلتے پھرتے مہاجر راہ گیروں پر اندھادھند فائرنگ کی،آدھاگھنٹے تک یہ وحشیانہ فائرنگ ہوتی رہی اور دو سو سے زائد افراد سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر شہید ہوگئے لیکن کبھی نام نہادانسانی حقوق کے چیمپئنزنے اس سانحہ حیدرآباد کاذکرنہیں کیا۔ کبھی وہ 26، 27مئی 1990ء کے پکا قلعہ حیدرآبادکے سانحہ کاذکر نہیں کرتے جب پولیس کی جانب سے پکاقلعہ کادوروزتک محاصرہ کیاگیااورجب وہاں کی ماؤں بہنوں نے اپنے سروں پر قرآن مجید لیکر دہائیاں د یں کہ خدارا ہمارے اوپر گولیاں نہ چلاؤ لیکن ان پر کوئی رحم نہیں کیاگیا، گولیاں چلتی رہیں، قرآن چھلنی ہوکر گولیاں سینوں میں پیوست ہوتی رہیں ،کئی معصوم لوگوں کوشہیدکیاگیا ان کی قبریں آج بھی پکا قلعہ حیدرآباد کے احاطے میں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجودان مظالم پر کوئی آوازنہیں اٹھاتا ، ہم نے اتنے مظالم پر صبرکیا پھر بھی کہاجاتاہے ہم وفادار نہیں ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شوز میں بڑے بڑے اینکر پرسنز ، بڑے بڑے ججز ، عالمی ایوارڈ یافتہ ججز ، بار کونسل کے بڑے بڑے نامی گرامی وکلاء اکثرلہک لہک کر12مئی کا ذکرکرتے ہیں اوریہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وکلا ء کو زندہ جلا دیا گیا اور میں کتنی دفعہ کہ چکا ہوں کہ لوئرکورٹ سے لیکر سپریم کورٹ بار تک اُن کے ذمہ دار بتائیں نام ، ولدیت اور وکیل کا ممبر نمبر ، رجسٹریشن نمبربتائیں جنہیں جلایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ کبھی ایم کیوایم کے پاس اقتدار آیا تو12مئی کا مقدمہ چلائیں گے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آج جنرل پرویزمشرف پرتوآئین شکنی پر غداری کامقدمہ چلایاجارہا ہے لیکن جنرل ضیاء الحق جس نے مارشل لاء لگایا کوئی اس کو غدار کہ کر مقدمہ چلانے کی بات نہیں کرتا،جنرل ایوب خان اورجنرل یحییٰ خان جس نے ملک توڑ دیا اس پرکوئی مقدمہ چلانے کی بات نہیں کرتا ۔ انہوں نے کہاکہ جووکلاء چیخ چیخ کرجنرل پرویزمشرف کوآئین شکنی پرسزادینے کی بات کرتے ہیں وہ اگر اتنے بااصول اور غیرت مندہوتے تووہ کھل کر یہ کہتے جنرل محمود ، جنرل عزیزاورجنرل عثمانی جو گراؤنڈپر موجود تھے، جنہوں نے 12اکتوبر1999ء کو نواز شریف حکومت کاتختہ الٹا تھا اور نواشریف کو گرفتار کیا تھاؤ ۔جنرل پرویز مشرف توہوا میں تھا، مارشل لاء اس نے نہیں لگایا تھا بلکہ جنرل عزیز ،جنرل محمود اوران کے ساتھیوں نے لگایا تھالہٰذا ان پر آرٹیکل 6کا مقدمہ بنا کر سب سے پہلے گرفتار کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ بڑے بڑے وکلاء اورسول سوسائٹی کی خواتین جوجمہوریت کی چیمپئن بنتی ہیں ان کی سوئی آخرجنرل پرویز مشرف پر ہی کیوں اٹک جاتی ہے؟ اگریہ انصاف پسند ہیں، قانون کے رکھوالے اور متوالے ہیں توپھروہ بولیں کہ جنرل پرویز مشرف کو بھی سولی پر لٹکاؤ اور 1999ء میں جن جرنیلوں نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تھا ان سب کو بھی لٹکاؤ ،جن ججزنے اس اقدام کو درست اورجائزقراردیاتھا ، جنہوں نے پی سی او کا سب سے پہلے حلف اٹھایاتھاجن میں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ شامل تھے ان پر بھی مقدمہ چلاؤ ۔، ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت جوجرنیل تھے ان سب کوبھی لٹکاؤ، جنرل کیانی پر بھی مقدمہ چلاؤ اور وہ جو وکلاء ڈانس کرکرکے ناچ ناچ کر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بات کرتے تھے ان پر بھی مقدمہ چلاؤ ۔ انہوں نے کہا کہ چند ایک کو چھوڑکرپورے ملک کے آئینی و قانونی ماہرین کے ضمیر مر گئے ہیں اسی لئے ان میں سے کوئی نہیں بولتا کہ پرویز مشرف پر غیر آئینی ، غیر قانونی اور ناجائز طریقے سے آئین شکنی کامقدمہ چلایاجارہا ہے ۔افسوس یہ ہے کہ اس پر ججزبھی خاموش ،ان سے بھی سچ نہیں بولا جاتا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے کراچی کے امن کیلئے کراچی آپریشن کی حمایت کی ،جن کے خلاف مقدمات ہوں انہیں گرفتارضرورکیاجائے اورقانون کے مطابق کارروائی کی جائے لیکن لوگوں کوپکڑکرانہیں ماورائے عدالت قتل کرکے انکی لاشیں پھینکنے کاسلسلہ کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کئی کارکنوں کوگرفتارکرنے کے بعدماورائے عدالت قتل کیاجاچکاہے اوران کے اہل خانہ کواب تک کوئی انصاف نہیں ملا۔انہوں نے کہاکہ آج کے بعدایم کیوایم کا ایک بھی کارکن ماورائے عدالت قتل کیاگیا تواس کا مقدمہ ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف قائم کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ واحد ایم کیوایم ہے جس میں جمہوریت ہے جس میں کارکن کھل کر ذمہ داروں اوررہنماؤں کے خلاف بولتا ہے ، کارکنوں کو میں نے زبان دی ہے ، میں نے انہیں ہمت دی ہے ،یہی اصل جمہوریت ہے،کسی اور پارٹی میں کارکن اگر لیڈروں کے خلاف ہلکی سی آواز نکالے تو اس کا دوسرے دن خاندان غائب ہوجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو میرا کہنا ماننا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کون ہماری صفوں میں داخل کیا گیا ہے جو شیعہ اور سنیوں میں منافرت پھیلا رہا ہے ، ایسے عناصر پر نظر رکھیں ،اگرتصدیق ہوجائے توایسے عناصرکوتحریک کی صفوں سے باہرنکالاجائے اورقانون کے حوالے کیاجائے ۔انہوں نے حکومت اور عسکری قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان انگنت مسائل کا شکار ہے اور ہمیں معاملات کو حل کرنا چاہئے اورانصاف اورقانون کوسب پر یکساں لاگو کرنا چاہیے۔ ایک جماعت کے سربراہ کی جانب سے اپنے کارکنوں کوپولیس اہلکاروں کوتشددکانشانہ بنانے کاکھلادرس دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ بات کہہ دیتا میرے ساتھیوں جاؤ جاکر فلاں کی پٹائی کرو تو میرے اوپر مقدمہ بھی بنتا ،زہریلے آرٹیکلز بھی آتے ، گالم گلوچ بھی ہوتی اور میری تقریر کے ٹکڑے نکال کر پوری دنیامیں بھیجے جاتے کہ الطاف حسین نے تشددکادرس دیا لیکن ایک جماعت کے سربراہ کہہ رہے ہیں تواس پر سب خاموش ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں آزادی صحافت کا احترام کرتا ہوں لہٰذا میں عسکری حکام ، حکومت اورتمام اداروں سے یہ کہتا ہوں خدارا تمام ٹی وی چینلزکو کام کرنے کی اجازت دی جائے ، جیو ٹیلی ویژن کو بھی اپنی نشریات دکھانے کی مکمل آزادی دی جائے،دیگرٹی وی چینلزبھی جئیں،جیو بھی جئے اورایم کیوایم بھی جئے۔ انہوں نے جیو ٹی وی کے مالکان اورحکام سے بھی یہ گزارش کی کہ اسٹیبلشمنٹ اور کوئی سیاسی پارٹی ہو سب کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں اور کسی کی دل آزاری کیلئے اپنے ادارے کو استعمال نہ کرائیں ۔


12/6/2016 9:57:30 AM