Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سیاست برائے خدمت کا جذبہ اور عمل نہ ہو تو حکمرانی بے معنی ہے ،خواجہ اظہار الحسن ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی


 Posted on: 8/13/2014
سیاست برائے خدمت کا جذبہ اور عمل نہ ہو تو حکمرانی بے معنی ہے ،خواجہ اظہار الحسن ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی
تبدیلی لانے کے لئے پہلے خود وہ عمل کرنا لازم ہوتا ہے جس کی کارکنان اور عوام سے توقع کی جاتی ہے،خواجہ اظہار الحسن
28 دنوں میں تبدیلی نہیں آیا کرتی ،خواجہ اظہار الحسن ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی
شہری یونیورسٹی حیدرآباد کے عوام کا حق ہے اور عوام اپنے حق کے لئے احتجاج کا حق رکھتی ہے ،خواجہ اظہار الحسن ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی
عوام اور کارکنان کی جانب سے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی سالگرہ کو بھرپور جوش و خروش سے منایا جانا ان کی قائدِ تحریک سے والہانہ محبت و عقیدت کی نشانی ہے، نوید شمسی زونل انچارج
قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کا نظریہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مظلوم عوام کے لئے مشعلِ راہ ہے، نوید شمسی زونل انچارج
قائدِ تحریک کا نظریہ حقیقت و عملیت پسندی ملک و قوم کی بقا کا ضامن ہے، سید وسیم حسین
اربابِ اختیار ہوش کے ناخن لیں اور حیدرآباد اور اس کی عوام کے ساتھ متعصبانہ سلوک فوری بند کریں،سید وسیم حسین
حیدرآباد ۔۔۔۔13 ، ستمبر ، 2014 ء 
سیاست برائے خدمت کا جذبہ اور عمل نہ ہو تو حکمرانی بے معنی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حق پرست ایم پی اے خواجہ اظہار الحسن نے مہران آرٹس کونسل لطیف آباد میں ایم کیو ایم حیدرآباد زون کے زیرِ اہتمام منعقد کئے جانے والا تقریری مقابلہ ’’ دی رائٹ مین ‘‘ کی تقریب کے موقع گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مہران آرٹس کونسل میں پکٹوریل گیلری فار’’ دی رائٹ مین ‘‘ کی نمائش کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔ اس موقع پر رکن سندھ تنظیمی کمیٹی فرید احمد ، یاور فیصل ، حیدرآ باد زون کے انچارج نوید شمسی و اراکین، حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی سید وسیم حسین ، صابر حسین قائمخانی ، راشد خلجی ، دلاور قریشی، زبیر احمد خان اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ افسوس پاکستان میں بیشترجماعتیں اور سیاستدان الیکشن سے قبل عوامی خدمت کے دعوے تو بے شمار کرتے ہیں لیکن اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد ان کا عمل ان کے قول و فعل میں تضاد کو عیاں کر دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی لانے کے لئے پہلے خود وہ عمل کرنا لازم ہوتا ہے جس کی کارکنان اور عوام سے توقع کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 28 دنوں میں تبدیلی نہیں آیا کرتی طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد انقلاب آیا کرتے ہیں تب جا کر عوام کی قسمت بدلتی ہے جس کی روشن مثالیں تاریخ کے اوراق پر رقم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت اور اس کے لیڈران ملک میں راتوں رات انقلاب لانا چاہتے ہیں پاکستانی عوام اُن کے ماضی، کردار کی حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت اس سیاسی جماعت کے لیڈران پاکستانی عوام کی زندگیوں میں تبدیلی کے بجائے اپنی، اپنے خاندانوں ، دوست احباب وغیرہ کی زندگیوں میں مستقل بنیادوں پر ٹھوس تبدیلی لانے کے لئے یہ ڈرامے بازی کر رہے ہیں۔


(۲)
انہوں نے کہا کہ انقلاب لانے کا دعوی کرنے والے خود تو موسلا دھار بارش میں کنٹینر اور گھروں میں آرام فرماتے ہیں جبکہ پاکستانی بزرگ ، جوان ، مائیں ، بہنیں ، بچے موسلا دھار بارش میں بھیگتے رہتے ہیں کیا یہ انقلاب ہے؟انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین پاکستان کے واحد راہنما ہیں جن کے قول فعل میں تضاد نہیں ۔انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک کی زندگی اور ایم کیو ایم کی تاریخ قربانیوں سے اٹی پڑی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک 11 ، جون ،1978 ء کو جو انقلاب لائے اُس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ۔انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک خود اور ان کے خاندان سے آج تک کوئی بھی سینیٹر، قومی ، صوبائی اسمبلی ، ناظم حتی کے کونسلر تک نہیں بنا یہ انقلاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھانوے فیصد مظلوم عوام کو اُن کے حقوق دلانے کی جدوجہد میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین نے اپنے بھائی ، بھتیجے سمیت 15000 سے زائد کارکنان کی قربانیاں دیں یہ انقلاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم میں آج تک موروثیت نہیں پائی گئی یہ انقلاب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے منتخب عوامی نمائندوں میں کوئی جاگیردار ،وڈیرا ، سرمایہ دار ، چوہدری شامل نہیں یہ انقلاب ہے۔انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین نے پاکستان کی بقا و ترقی، مضبوطی اور خوشحالی کے لئے ایم کیو ایم کے 25 اراکین قومی اسمبلی کی سیٹوں کو قربان کرنے کا اعلان کیا یہ انقلاب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا و ترقی ، مضبوطی و خوشحالی کے لئے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی طویل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کی بدولت بین الاقوامی جریدہ ’’دی نیوز ویک ‘‘نے انہیں ’’ دی رائٹ مین‘‘ کا اعزاز دیا ہے اور اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ اُنہیں جناب الطاف حسین کی باتوں کو سننا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک کی جدوجہد کا لفظوں میں احاطہ کرنا نہایت مشکل ہے ۔ حیدرآباد کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کی طرح 2005 ء اور 2014 ء کے حیدرآباد میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔انہوں نے کہا کہ بُغض میں حیدرآباد کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حق پرست اراکین قومی و صوبائی اسمبلی جس جرات مندانہ انداز میں ایوانوں میں حیدرآباد اور اس کی عوام کا مقدمہ پیش کرتے ہیں وہ ان کی حیدرآباد اور اس کی عوام سے محبت کا روشن ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ شہری یونیورسٹی حیدرآباد کے عوام کا حق ہے اور عوام اپنے حق کے لئے احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ زونل انچارج نوید شمسی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے عوام اور کارکنان کی جانب سے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی سالگرہ کو بھرپور جوش و خروش سے منایا جانا ان کی قائدِ تحریک سے والہانہ محبت و عقیدت کی نشانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کا نظریہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مظلوم عوام کے لئے مشعلِ راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین اپنی مخلصانہ جدوجہد کی بدولت عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں اور اسی لئے عوام نعرہ بلند کرتی ہے وہ دور ہے تو کیا ہوا ۔۔۔۔دلوں میں ہے بسا ہوا۔رکن قومی اسمبلی سید وسیم حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین پاکستان کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے 25 سال کی عمر میں ملک و قوم کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ تحریک کا نظریہ حقیقت و عملیت پسندی ملک و قوم کی بقا کا ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ اربابِ اختیار ہوش کے ناخن لیں اور حیدرآباد اور اس کی عوام کے ساتھ متعصبانہ سلوک فوری بند کریں۔بعد ازاں تقریری مقابلے کے ججز پروفیسر ادریس قائمخانی ، دانشورعشرت علی خان اور پروفیسر انور قریشی کی جانب سے دئیے گئے نتیجے کے مطابق اول پوزیشن حاصل کرنے والی فضا بتول ، دوئم پوزیشن حاصل کرنے والے دانش اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والے محمد یونس میں رکن سندھ تنظیمی کمیٹی فرید احمد ، یاور فیصل، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی حق پرست ایم پی اے خواجہ اظہار الحسن، زونل انچارج نوید شمسی ، جوائنٹ زونل انچارج راشد ممتازاور رکن سندھ اسمبلی دلاور قریشی نے انعامات تقسیم کئے۔ 

12/6/2016 3:47:42 PM