Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چند دنوں میں ملک کو ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوگیا، ملکی معیشت تباہ ہے۔ الطاف حسین


چند دنوں میں ملک کو ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوگیا، ملکی معیشت تباہ ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 9/4/2014 1
چند دنوں میں ملک کو ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوگیا، ملکی معیشت تباہ ہے۔ الطاف حسین
فوج اور سویلین حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا قوموں کے مسئلے ایسے حل ہوا کرتے ہیں؟
اگر سویلین سو فیصد بدعنوان ہیں تو 75 فیصد فوجی جرنیل بھی کرپٹ ہیں
اپنی جان تو دے سکتا ہوں لیکن اپنے بزرگوں کے بنائے ہوئے وطن کے خلاف نہیں جاسکتا
آئندہ جمعرات تک کراچی تنظیمی کمیٹی ختم کردی جائے گی، رابطہ کمیٹی کے جن ارکان نے اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے انجام نہ دیں انہیں بھی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا جائے گا
کارکنان خود کو برائیوں سے دور رکھیں اور برائیوں کو روکنے کیلئے ذمہ داروں کا ساتھ دیں
تحریک کے کارکنان میری جان، میر ادل اور میری اصل طاقت ہیں، جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب
لندن۔۔۔4، ستمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں محب وطن پاکستانی ہوں، مجھے پاکستان کی بقاء وسلامتی اورعوام کی فلاح وبہبود عزیز ہے اور میں باقیماندہ پاکستان کو قائم ودائم دیکھنا چاہتا ہوں۔ ملک کو مذاق بنارکھاہے، معیشت تباہ ہوچکی ہے،ملک میں بجلی، روزگار، تعلیم اورصحت کی سہولتیں نہیں ہیں، غریبوں کے لئے سرچھپانے کوجگہ نہیں ہے، مسائل کا انبار ہے لیکن سویلین حکومت بھی کچھ کرتی نظرنہیں آتی جبکہ فوج خاموش بیٹھی ہے، سب ایک دوسرے کو چائے پانی، دودھ مکھن کھلانے میں مصروف ہیں۔فوج اور سویلین حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا قوموں کے مسئلے ایسے حل ہواکرتے ہیں؟۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی اور حیدرآباد میں کارکنان کے اجلاسوں سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کراچی اورحیدرآباد میں منعقدہ اجلاسوں میں بزرگوں اور نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ خواتین کارکنان بھی ہزاروں کی تعداد میں شریک تھیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ چند ماہ قبل میں نے کہاکہ تھا کہ میں کن کن پریشانیوں، مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ناکردہ گناہوں کی سزا بھی بھگت رہا ہوں۔ میں 35 برسوں سے تحریک چلارہاہوں ، اس جدوجہد کے دوران میں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں ، قید تنہائی کاٹی ، ٹارچرسیلوں میں بدترین تشدد کا سامنا کیا،میں پاکستان میں دربدری کی زندگی گزارتا رہااور بالآخر جلاوطن ہوکر ملک سے باہر آنا پڑا۔ آج جلاوطنی میں مجھے اپنے ساتھیوں سے دور رہتے ہوئے 22 سال ہوچکے ہیں اس کے باوجود میں دن رات اپنے مشن ومقصد میں مصروف ہوں۔ جناب الطا ف حسین نے 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف کئے جانے والے آپریشن کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ چوہدری نثار علی خان سے قرآن پر حلف لیکر پوچھاجاسکتا ہے کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے ایوان میں 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست پیش کی تھی یا نہیں۔ جب 19، جون 1992ء کو ا س وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ نے آپریشن کیا تھاتو کہا گیا کہ یہ آپریشن 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف ہوگا ، اس فہرست میں آصف زرداری،غلام مصطفےٰ جتوئی اورسندھ کے بڑے بڑے جاگیرداروں اوروڈیروں کے نام شامل تھے، میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ فہرست محض دکھاوا ہے ،اصل آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف کیا جائے گا لیکن اس وقت کسی نے میری بات پر یقین نہیں کیاتھا۔ اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کوبیدردی سے شہیدکیاگیا، سرکاری عقوبت خانوں میں سفاک اہلکاروں نے میرے کارکنان کو گرفتارکرکے بدترین ظلم وستم کا نشانہ بنایاگیا ، برف کی سلوں پر لٹاکر ان پر تشدد کیاگیا، گرم استری سے ان کے جسم داغے گئے ، ان کی آنکھیں نکالی گئیں ، ماؤں ، بہنوں اوربزرگوں کو تشددکا نشانہ بنایا گیا،انہیں اندراگاندھی کی اولاد، بھارت کے ایجنٹ اور را کا ایجنٹ کہاگیا اور گندی گندی مغلظات دی گئیں اور کہاگیا کہ تم واپس انڈیا چلے جاؤ ۔ میں نے کارکنوں سے کہاکہ وہ اپنی زندگیاں بچانے کیلئے روپوش ہوجائیں،اس ظلم وبربریت کی وجہ سے بہت سے کارکنان اپنی جانیں بچانے کیلئے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، مڈل ایسٹ،انڈیا،ساؤتھ افریقہ اور دیگر ممالک چلے گئے ۔میں نے اس ظلم پرصبرکیا، میں امن پسند اور محب وطن پاکستانی تھا اور ہوں۔ ہمارے آبا واجداد نے پاکستان بنانے کیلئے 20 لاکھ جانوں کی قربانیاں دیں، ہمیں مغلظات بکنے اور ہم پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کو کیا پتہ کہ پاکستان کیسے بنا ہے ۔ ہمارے جلاوطنی میں جانے پر بھی ہم پر ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ میں مرتو سکتا ہوں ، اپنی جان تودے سکتا ہوں لیکن اپنے بزرگوں کے بنائے ہوئے وطن کے خلاف نہیں جاسکتا، میں پاکستان کو سلامت اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں، میں محب وطن پاکستانی ہوں، مجھے پاکستان کی بقاء وسلامتی اور عوام کی فلاح وبہبود عزیز ہے اور میں باقیماندہ پاکستان کو قائم ودائم دیکھنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ آج بھی کسی نہ کسی اندازمیں ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتارکرکے ان کے ساتھ سرکاری حراست میں غیرانسانی سلوک کیاجاتاہے اورانہیں مغلظات دی جاتی ہیں لیکن افسوس کہ ان کی تحقیقات کرنے کے بجائے ڈی جی رینجرز،کورکمانڈر اوردیگر اعلیٰ حکام اس سے انکارکرتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک میں مسائل کاانبارہے لیکن سویلین حکومت بھی کچھ کرتی نظرنہیں آتی جبکہ فوج خاموش بیٹھی ہے، سب ایک دوسرے کوچائے پانی، دودھ مکھن کھلانے میں مصروف ہیں۔فوج کوسوچنا چاہیے اورسویلین حکمرانوں کوبھی سوچنا چاہیے کہ کیا قوموں کے مسئلے ایسے حل ہواکرتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ سویلین سوفیصد بدعنوان ہیں تو 75 فیصد فوجی جرنیل بھی کرپٹ ہیں ، گزشتہ چند دنوں میں پاکستان کو ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوگیا، ملک میں امن وامان کی صورتحال تباہ ہوئی، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے ، شہروں کی سڑکیں بند ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اگر میں آرمی کا ذمہ دار ہوتا یا فوج میں میری بات سنی جاتی تو میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ خود ہی نکل جاتا اور ملک کو پہنچنے والے نقصان سے بچاتا اورامریکہ اوربرطانیہ کے دباؤ کوخاطرمیں نہ لاتا۔جناب الطاف حسین نے کراچی کے بعض علاقوں میں زمینوں پر قبضے اورپلاٹوں کی ناجائزخرید وفروخت کی مذمت کی اور فوج اورحکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 15دن کیلئے کراچی آنے دیں، میں کراچی سے لینڈمافیا کا خاتمہ کردوں گا اوراگرمجھے چھ ماہ کیلئے آنے دیں اوراختیاردیدیں تومیں پورے سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا کوبھی چوروں لیٹروں اور جرائم پیشہ عناصر سے پاک کردوں گا اورطالبان اوروہ عناصر جوعوام کوشیعہ سنی کی بنیادپر شہریوں کوقتل کراتے ہیں ان سے بھی ملک کوچھٹکارادلادوں گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان بڑا پیارا ملک ہے جوتیل گیس، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ ان معدنیات کو بڑے چپکے سے چائنا، امریکہ اور دیگرممالک کوبیچ دیتے ہیں، اس کے عوض اربوں روپے کا کمیشن کھاتے ہیں اورپاکستان کواس سے کچھ نہیں ملتا۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں واحدالطاف حسین ہے جس نے سرکاری خزانے سے کبھی کوئی قرضہ ، کمیشن یاکک بیکس کی شکل میں ایک پائی بھی نہیں کھائی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں فقیرآدمی ہوں اوروہ فقیرہوں جوہمیشہ دیتاہے لیتانہیں ہے ۔ پاکستان میں کوئی مائی کال ال ایسا نہیں ہے جس نے اتنے لوگوں کو ایم این ایز، ایم پی ایز اورسینیٹرز بنایاہو مگرکبھی قومی ، صوبائی اسمبلی اورسینیٹ کے ٹکٹ نہ بیچے ہوں اور اس سے کوئی دولت نہ بنائی ہو۔ انہوں نے کہاکہ میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ فوج کے جرنیلوں کوملک کیلئے اچھاسوچنے کی توفیق دے اور سویلین حکمرانوں کویہ توفیق دے کہ وہ کھلنڈرے پن اورسنجیدہ سیاست میں فرق سمجھیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے غریب آدمی چاہے وہ پٹھان ہوں، پنجابی ہوں، سندھی ہوں، بلوچ ہوں ، سرائیکی ہوں، کشمیری ہوں یاکسی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں ان مظلوموں کاسچاساتھی اگرکوئی ہے تو الطاف حسین ہے۔حالیہ سیاسی بحران میں جب میں نے دیکھاکہ معاملہ سنگین ہورہاہے اورخونریزی کاخطرہ ہے تو میں نے رات دن ایک کردیا،وقت پر کھانانہیں کھایا،میں کئی روزتک مسلسل جاگ کرکام کرتارہااورپوری کوشش کی کہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوپھربھی اسٹیبلشمنٹ کومیراچہرہ پسندنہیں ہے،دوسروں کوبھی پسند نہیں ، اگر میراچہرہ پسندنہیں توکوئی دوسرا چہرہ لے آئے مگر ملک کیلئے کچھ کرے۔
جناب الطا ف حسین نے تنظیمی معاملات کے حوالے سے رابطہ کمیٹی، کراچی تنظیمی کمیٹی اوردیگرشعبہ جات کے ذمہ داروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے سخت تنبیہ کی۔انہوں نے کہاکہ آئندہ جمعرات تک کراچی تنظیمی کمیٹی ختم کردی جائے گی ۔ رابطہ کمیٹی میں بھی جن ارکان نے اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے انجام نہ دیں توانہیں بھی ایک ہفتہ میں ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیاجائے گا۔انہوں نے رابطہ کمیٹی کے ارکان کو تاکیدکی کہ وہ کارکنوں کے مسائل حل کریں، اسیروں اورشہداء کے لواحقین کی خبرگیری میں کوئی غفلت نہ برتیں،رابطہ کمیٹی کے ارکان نائن زیرو کے کمرے سے باہرنکلیں اوریونٹوں سیکٹروں کے دورے کریں جیسے میں اپنی ہنڈاففٹی پر بیٹھ کرایک ایک علاقے کا دورہ کیاکرتاتھا۔انہوں نے کہاکہ تنظیم کے وہ ذمہ داران جومختلف اداروں میں 16، 17یا18گریڈکی ملازمتیں کرتے ہیں اور تنظیمی ذمہ داریاں اداکرنے کے نام پر اپنی ملازمتوں سے بھی چھٹی لے رکھی ہے ،دوسری جانب وہ تنظیم سے اعزازیہ بھی وصول کرتے ہیں،انہوں نے ایسے ذمہ داروں کو سختی سے تاکیدکی کہ وہ باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹیوں پر جائیں ، اگر جو اپنی ڈیوٹی پر نہیں گیااوراس بارے میں تصدیق ہوگئی تواس کو تنظیمی رکنیت سے خارج کردیاجائے گا۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کوسختی سے تاکیدکی کہ وہ اپنی عوامی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے انجام دیں اورشہداء کے لواحقین کیلئے مخصوص فنڈزمیں باقاعدگی سے فنڈزدیں اوراس میں کوئی غفلت نہ کریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریک کے کارکنان میری جان، میرادل اورمیری اصل طاقت ہیں، میرے دل میں سب سے زیادہ ان کیلئے محبت ہے اسی لئے میں نے ان سے اپنے دل کی باتیں کی ہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے کہاکہ آپ خود بھی تنظیمی نظم وضبط کی سختی سے پابندی کریں، خود کوبرائیوں سے دوررکھیں اورجوذمہ داران جرات وبہادری سے کام کریں کارکنان برائیوں کوروکنے کیلئے ان کاساتھ د یں ۔ جناب الطاف حسین نے گزشتہ روزخطاب نہ کرنے پر کارکنوں سے معذرت کی اورکارکنوں کیلئے دعاکی۔

12/2/2016 1:51:51 PM