Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم ملک میں رائج کرپٹ اور بوسیدہ نظام کا حصہ نہیں بن سکتی، الطاف حسین


ایم کیوایم ملک میں رائج کرپٹ اور بوسیدہ نظام کا حصہ نہیں بن سکتی، الطاف حسین
 Posted on: 9/3/2014 1
ایم کیوایم ملک میں رائج کرپٹ اور بوسیدہ نظام کا حصہ نہیں بن سکتی، الطاف حسین
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک ڈھونگ اور دکھاوا ہے، قوم کو اُلو بنانے کیلئے ہے، الطاف حسین
سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کے ایوانوں نے ایک ہفتہ میں اپنا طرز عمل صحیح نہیں کیا توایم کیوایم کے تمام منتخب اراکین استعفے دیدیں گے 
وزیراعظم اور وفاقی وزراء مسائل سننے کیلئے ایک سال میں کتنی مرتبہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آئے؟
میں نے پوری کوشش کی کہ موجودہ حکومت اور دھرنا دینے والوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل ہوجائے، الطاف حسین 
ایم کیوایم کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ آج اپنے استعفے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر نصرت کو جمع کرادیں، الطاف حسین
کراچی ۔۔۔3، ستمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیوایم ملک میں رائج کرپٹ اور بوسیدہ نظام کا حصہ نہیں بن سکتی، پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس ایک ڈھونگ اور دکھاوا ہے ، قوم کو اُلو بنانے اور اپنی تقاریر کے جوہر دکھانے کیلئے اور اپنے آپ کو درست، صحیح اور حق پر ثابت کرنے کیلئے ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے ایم این ایز، ایم پی ایز اورسینیٹرزاپنے استعفے آج رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر نصرت کے پاس جمع کرادیں، میں ایک ہفتہ کا ٹائم دونگا، اگر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اورسینیٹ کے ایوانوں نے اپنا طرز عمل صحیح نہیں کیا تو تمام حق پرست اراکین اسمبلی منتخب ایوانوں کو اپنے استعفے پیش کردیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک گزشتہ کئی مہینوں سے انتہائی تشویشناک صورتحال سے گزر رہا ہے، وزیراعظم، اراکین اسمبلی اور وزراء کا انتخاب اسلئے ہوا کرتا ہے کہ وہ ایوانوں میں شرکت کریں لیکن اگر، وزیراعظم اور وفاقی وزراء کی حاضری کا جسٹرڈ منگواکر دیکھ لیاجائے کہ 2013کے انتخابات کے بعد سے لیکر آج ستمبر2014ہوگئی ہے اور یہ سال بھی ختم ہونے کو ہے کتنی مرتبہ وزیراعظم ، وفاقی وزراء ، متعلقہ وزراء پانی، بجلی، گیس، معیشت، صفائی ستھرائی، ماحولیات، آلودگی، ایجوکیشن ، ہیلتھ سیکٹر اور دیگر اہم مسائل کے حل کیلئے اور وزیراعظم اور وزراء کتنی مرتبہ ان مقدس ایوانوں میں آئے اور انہوں نے وہاں آکر پارلیمنٹ کے اراکین کے بیان کردہ عوامی مسائل و مشکلات کو سنا؟ اور کیا سنکر اس کا حل پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں انتخابات اور اسمبلیوں کے میلے پر کروڑوں نہیں اربوں روپے کیااسلئے خرچ ہوتے ہیں کہ 70فیصد وہ لوگ جن کا بنیادی مسائل سے ذرا برابر کا نہ تو واسطہ ہے نہ انہیں اس کا کوئی ادراک ہے ، اقتدار مافیا کی ایلیٹ کلاس ایک وراثت کی شکل اختیار کرچکی ہے ، ان کے بیٹوں، بیٹیوں کی ایک دوسرے کے گھر میں شادیاں کی گئی ہیں اور اس نے خاندان کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ انتخابات ان چند خاندانوں کیلئے کرانے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن کو سوچنا چاہئے کہ انتخابات کا انعقاد کیا صرف اسلئے ضروری ہے کہ ان کے خاندانوں کی مافیا کے ارکان نسل در نسل اسمبلی کے اراکین بنتے رہیں اور اپنی جائیدادوں ، بنک بیلنس اور پیسے میں اضافہ کرتے رہیں اور آئندہ 5سالوں کے اخراجات کو عیش و عشرت سے خرچ کرنے کے بعد جب ختم ہوجائیں تو دوبارہ اسمبلی کا رکن منتخب ہوکر اس کا ازالہ کریں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں دھرنے کی صورتحال گزشتہ کئی عرصے دیکھ رہا ہوں ، بچے بچیاں شہید ، زخمی اور معذور ہورہے ہیں ، عوام کو چلنے پھرنے میں دشواریاں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ مسئلے کے حل کیلئے ملک میں نہ کوئی آئین ، عدالت اور قانون ہے اور جمہوریت کا تو چھوڑ ہی دیجئے ۔انہوں نے کہاکہ گولیوں سے مرنے والوں کا مجھے افسوس اور دکھ ہے ہم نے ان کیلئے قرآن خوانی کرائی اور ان کے رہنماؤں سے تعزیت کی لیکن جتنا خون ایم کیوایم نے دیکھا ہے ، جتنا ماورائے عدالت قتل ایم کیوایم کے کارکنان کو کیا گیا ہے کسی اور جماعت اور اس کے لیڈر بھی نہیں دیکھا ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ وہائٹ کالرز والے جمہوریت کا راگ اسلئے الاپتے ہیں کہ فوج حکومت میں نہ آئے اور 5سالوں کے معاہدوں کے کک بیکس اور کمیشن انہیں وصول ہوں اور ان کی اربوں ، کھربوں کی جائیداد میں اضافہ ہوتا جائے ، غریب غریب سے غریب تر ہوجائے ، بے روزگاری کے باعث خود کشی کرے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ایک ماہ میں پوری کوشش کی کہ حکومت اور دھرنا دینے والوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل ہوجائے ۔اس دوران قومی اسمبلی کے فلورپروزیراعظم اوروزیرداخلہ نے یہ بیان دیاکہ آرمی چیف کی طرف سے یہ پیغام آیاکہ عمران خان اور طاہر القادری چاہتے ہیں کہ فوج مصالحانہ کردار ادا کرے جس کی ان دونوں رہنماؤں نے تردیدکی ۔ اس کے بعد ISPRکا وضاحتی بیان آیاکہ مصالحانہ کرداراداکرنے کیلئے وزیراعظم نے آرمی چیف سے درخواست کی تھی۔ اس صورتحال سے آرمی کاامیج خراب ہوا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس ایک ڈھونگ ، دکھاوا ہے، یہ، قوم کو اُلو بنانے ، اپنی تقاریر کے جوہر دکھانے اور اپنے آپ کو درست ، صحیح اور حق پرست ثابت کرنے کیلئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ بے کار ہیں جہاں صرف شعلہ بیانی اور لفاظی کی جائے اور مسائل کا حل نہ نکالاجائے ، غریب کے بجائے اپنی پارٹیوں اور مفاد کی بات ہو تو ایسی قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں حق پرست اراکین نہیں رہ سکتے ۔انہوں نے کہاکہ میں آج فیصلہ کروں گا ، کارکنان نے کہا تو فیصلہ آج ہی ہوجائے گا ورنہ فیصلے بعد رابطہ کمیٹی کو ایک ہفتہ کا ٹائم دونگا ، اس کے بعد سینیٹ ، قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی کے ایوان نے اپنا طرز عمل صحیح نہیں کیا تو تمام حق پرست اراکین اسمبلی منتخب ایوانوں کو اپنے استعفے پیش کردیں گے ۔ انہوں نے ایم کیوایم کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے استعفے آج رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر نصرت کو جمع کرادیں۔ انہوں نے کارکنان سے کہا کہ وہ امن و عامہ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ،حالات سے نہ گھبرائیں ۔ 

12/4/2016 6:25:47 PM