Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگر ملک میں جمہوریت کی پرورش کی ہوتی تو چند ہزار افراد ایوان کے سامنے کھڑے ہو کر جمہوریت کو چیلنج نہیں کرتے ،جب تک جمہوریت کے ثمرات عام پاکستانی تک نہیں پہنچیں گے یہ جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


اگر ملک میں جمہوریت کی پرورش کی ہوتی تو چند ہزار افراد ایوان کے سامنے کھڑے ہو کر جمہوریت کو چیلنج نہیں کرتے ،جب تک جمہوریت کے ثمرات عام پاکستانی تک نہیں پہنچیں گے یہ جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 9/2/2014 1
اگر ملک میں جمہوریت کی پرورش کی ہوتی تو چند ہزار افراد ایوان کے سامنے کھڑے ہو کر جمہوریت کو چیلنج نہیں کرتے ،جب تک جمہوریت کے ثمرات عام پاکستانی تک نہیں پہنچیں گے یہ جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا خطاب
اسلام آباد۔۔۔2ستمبر 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اگر ہم نے ملک میں نے جمہوریت کی پرورش کی ہوتی تو چند ہزار افراد ایوان کے سامنے کھڑے ہوکر جمہوریت کو چیلنج نہیں کررہے ہوتے ،جب تک جمہوریت کے ثمرات عام پاکستانی تک نہیں پہنچیں گے تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر طاقت کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور موجودہ حالات میں جس طرح آج کے ایوان میں پولیس کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اللہ کرے یہ حکمت عملی روایت بنے اور یہ روایت پھیلتی چلی جائے اور پورے پاکستان میں پھیل جائے ۔تاہم مجھے اس وقت پریشانی ہوتی ہے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ جن لوگوں کی میں نمائندگی کرتا ہوں وہاں کے مکینوں کے لئے کبھی بھی ربڑ کی گولیاں استعمال نہیں کی گئی ہمیشہ آتش سے بھری ہوئی فولادی گولیاں ہمارے سینوں میں اتاری گئی یہاں تک کہ ہماری مائیں بہنیں قرآن شریف لیکر نکلیں تو وہ گولیاں قرآن شریف کی بیحرمتی کرتی ہوئی انکے سینوں میں اتر گئیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روزپارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران کیا ۔ ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے کہاکہ پاکستان کے عوام ،یہ ایوان اور پاکستانی عوام کے نمائندے بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک اور اہم دور سے گزر رہا ہے اور جمہوریت کو بچانے کی ذمہ داری منتخب ایوانوں اور ان ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے اوپرہے لہٰذا موجودہ حالات صبر، تحمل ،معاملہ فہمی،حکمت عملی اور قربانی کے متقاضی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسپیکرقومی اسمبلی اوروزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس ایوان کے بڑے ہیں ۔ اسی لئے اگر کوئی قربانی کے لئے ان سے توقع رکھتا ہے تو اسکا مقصد ہے وہ ان سے بڑے پن کی توقع رکھتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوری اداروں پر لشکر کشی کسی صورت جائز نہیں اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ،ہم قبضہ اور تشدد کے ذریعے اپنی بات منوانے کے خلاف ہیں لیکن اگر قوم اسکے لئے قربانی کا تقاضہ کرتی ہو تو ہمیں قربانی دینے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حصہ کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ،قائد تحریک جناب الطا ف حسین اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ ہمارے سیاسی اکاؤنٹ میں قومی اسمبلی کی جو 25 نشستیں ہیں اگران کے ذریعے ملک کو اس بحران سے نکالا جاسکتا ہے تو ہم وہ قربانی دینے کیلئے بھی تیارہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت اور جمہوریت کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اپنی منزل پرجمہوریت کے راستے پر چل کر ہی پہنچ سکے گا۔ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے کہاکہ جمہوریت کی مضبوطی کے دعوے کرنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی،ہم اگر پاکستان میں موجود جمہوریت کی کمزوریوں کو دور نہیں کرینگے اور جمہوریت کے ثمرات عام پاکستانی تک نہیں پہنچائیں گے ،اگر یہ جمہوریت جہالت کے خلاف جنگ نہیں کریگی ۔ جب تک اس جمہوریت سے کرپشن کو ختم نہیں کیا جائے گا اور جب تک شفافیت کو یقینی نہیں بنایاجائے گا تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ جمہوری قوتیں اپنے ا وپر یہ تہمت کا اسٹیکر لگاکر رکھیں جب بھی جمہوری ادوار آئیں جو جمہوری ادوار کہلاتے ہیں تو اس وقت ملک میں بنیادی جمہوریت نہ ہو ،جب بھی جمہوری ادوار آئیں اور جمہوری قوتیں موجود ہوں تو اس وقت لوکل گورنمنٹ نہ ہو ، جب جمہوری لوگ ایوانوں میں پہنچیں تو اختیارات کی منتقلی کا سلسلہ رک جائے ۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس جمہوریت کو اتنا مضبوط کردیں کہ پھر پاکستان کے عوام آکر خود اس جمہوریت کی بقاء کیلئے کھڑے ہوجائیں لیکن اگر ہم اس جمہوری ایوان کو اپنی خاندانی دکان سمجھ لیں اور اپنے خاندان کے خاندان اس ایوان میں لے آئیں گے توہم جمہوریت کی خدمت نہیں کررہے ہونگے کیونکہ جب موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگا تو جمہوریت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر قبضہ یا منتخب ایوانوں پر حملہ دونوں انتہائی قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔لیکن اسکے ساتھ اگر ہم اس بات کا بھی آپ سے تقاضہ کریں اور مطالبہ کریں کہ جو کچھ ماڈل ٹاؤن میں ہوا تھا جس طرح عام پاکستانی مارے گئے تھے ،جس طرح ماؤں، بہنوں پر گولیاں چلائی گئیں اگر وہ کوئی سازش ہے تو اسکو بے نقاب کریں اور اگر آپ کی غلطی ہے تو پھر اسکو تسلیم کریں اور جو لوگ اس میں شامل ہیں انکوکٹہرے میں لاکر کھڑا کریں تو یہ بات انصاف سے ہٹ کر نہ ہوگی تو ہمیں بتائیں اگر یہ ہم تقاضہ کریں کہ سب کو انصاف ملنا چاہئیے اور ان ماؤں ،بہنوں کو بھی کہ جنہیں ماڈل ٹاؤن کے سانحہ میں شہید کیا گیا تو پھر یہ جمہوریت کے خلاف بات نہیں کی جارہی بلکہ،جمہوریت کی مضبوطی کیلئے بات کی جارہی ہے ۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اللہ کرے جس طرح یہاں پر اس مشتعل ہجوم کو روکنے کیلئے حکمت عملی اختیار کی گئی وہی حکمت عملی پورے پاکستان کیلئے اختیار کی جائے اور ہمیں یہ بھی بتایا جائے ، سمجھایا جائے اور جتایا جائے کہ ہم بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں کہ جتنے ایوان میں بیٹھے ہوئے جس جس جگہ کی نمائندگی کررہے ہیں اتنے ہی پاکستانی ہوں گے اور جو چند ہزار ر لوگ اس ایوان کے باہر بیٹھے ہیں ان میں دو جماعتیں ہیں ایک جماعت کے پاس تو پھر بھی کوئی ایجنڈا ہے اصلاحات کے نام پر کچھ نکات بھی ہیں ان نکات کو سننا بھی چاہیے ،سمجھنا بھی چاہئیے اور ان میں سے جو قابل عمل ہے انکو اختیار بھی کرنا چاہئے لیکن دوسری جماعت کے پاس سینکڑوں بھی نہیں ہیں وہ بھی چند گھنٹے کے لئے آتے ہیں تو گذشتہ رات ان صاحب نے عندیہ دیا ہے یہ خوشخبری سنائی ہے کراچی کے لئے کہ وہ کراچی آکر کراچی کو آزاد کرائیں گے تو کاش کہ وہ اس جتھے کو لیجاکر کشمیر کو آزاد کرانے کی بات کرتے پھر بات نظر آتی ۔ خالد مقبول صدیقی نے سوال کیا کہ ان صاحب نے یہاں پر اسلام آباد میں یہ اعلان کیا کہ سول نا فرمانی کی جائے تو یہ بتائیے کہ اگرایسا اعلان میں نے کیا ہوتا تو کیا مجھ پر آرٹیکل چھ نہیں لگ چکا ہوتا؟میں نے اعلان کیا ہوتا سول نافرمانی کا تو کیا مجھ پر مقدمہ نہیں بن گیا ہوتا ؟کیا پاکستان کا آزاد میڈیا اور ہر چینل چیخ چیخ کے مجھے بھارتی ایجنٹ اور یہود و ہنود کی سازش قرارنہیں دے رہا ہوتا؟لیکن میڈیا بھی چپ رہا اور لوگ بھی یہ بات پی چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں کوئی یہ کہہ دے کہ دنیا بھر میں بیٹھے پاکستانی ہنڈی کے ذریعے رقم بھیجاکرو تو اگر میرا کوئی لیڈریہ بولتا تو اس پر کیا غداری کا مقدمہ نہیں بنادیا جاتا؟میرا پیغام ہے کہ پاکستان سب کیلئے ہے اور سب اسکے برابر کے شہری ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک اس ملک میں انصاف نہیں ہوگا یہ ملک مضبوط نہیں ہوگا۔ جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی، جو لوگ کراچی کو آزاد کرانے کی باتیں کررہے ہیں تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کراچی کے ساتھ 60سال سے جو نا انصافی کی جارہی کیا وہ اس سے کراچی کوآزاد کرنے جارہے ہیں؟کیا کوٹہ سسٹم کی نا انصافی کے خلاف کراچی کو آزاد کررہے ہیں ؟ کیا کراچی میں غیر مقامی پولیس کی جانب سے کئے جانے والے جرائم سے کراچی کو آزاد کرانا چاہ رہے ہیں۔یا انکا منصوبہ کراچی اور اس کے وسائل پر قبضہ کرنے اسکو غلام بنانے کے لئے ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر چند سو کا لشکر کراچی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے گا تو اسکا نتیجہ بھی انکو بھگتنا پڑیگا۔

12/11/2016 7:50:55 AM