Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ انا پرستی سے گریز کرے، الطاف حسین


حکومت سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ انا پرستی سے گریز کرے، الطاف حسین
 Posted on: 8/31/2014
حکومت سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ انا پرستی سے گریز کرے، الطاف حسین
وزیراعظم نوازشریف ،پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے رہنماؤں سے نتیجہ خیز بات چیت کادوبارہ آغاز کریں 
اگرعمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری ناراض ہیں اورآپ کے پاس نہیں آتے تو وزیراعظم خود ان کے کنٹینر میں جاکر مذاکرات کریں اور بات چیت سے مسئلہ حل کریں
موجودہ حکومت کے سابقہ ادوار میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن اور سندھ میں گورنر راج نافذ کیا گیا
لندن میں منعقدہ اے پی سی میں کھل کرکہا گیا کہ ایم کیوایم سے کوئی بات نہیں کی جائے گی
اس کے باوجود ہم نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین سیاسی اختلافات بات چیت کے ذریعہ حل کرانے کی کوششیں کیں
سیاسی بحران کے خاتمے میں جتنی تاخیر سے کام لیا جائے گا اتنا ہی ملکی معیشت اور قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوگا
حکومت اور اپوزیشن جماعتیں موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کیلئے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کریں
اگر ظلم وبربریت کے مسلسل عمل پر سند ھ اور پاکستان کے عوام کے صبر کاپیمانہ چھلک گیا تو میں بھی انہیں روکنے کے قابل نہیں رہوں گا
حکومت نے سیاسی معاملات کے حل کیلئے غیرجمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا
پولیس کی جانب سے صحافیوں کو بھی بہیمانہ تشدد اور بربریت کا نشانہ بناناافسوسناک ہے ، الطاف حسین
لندن۔۔۔31، اگست2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر حکومت سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ انا پرستی سے گریز کرے اور وزیراعظم نوازشریف خود آگے بڑھ کر نظام، جمہوریت اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے پاس جاکر ان سے نتیجہ خیز بات چیت کا آغاز کریں ۔ اپنے خصوصی انٹرویومیں جناب الطاف حسین نے اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے پرامن مظاہرین اور صحافیوں پر بہیمانہ تشددکے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی بحران کے خاتمے میں جتنی تاخیر سے کام لیا جائے گا اتنا ہی ملکی معیشت اور قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوگا، اگر ظلم وبربریت کے مسلسل عمل پر سند ھ اور پاکستان کے عوام کے صبر کاپیمانہ چھلک گیا تو پھر شائد میں بھی انہیں روکنے کے قابل نہیں رہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام گواہ ہیں کہ موجودہ حکومت کے سابقہ ادوار میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا، سندھ میں جمہوریت کی بساط لپیٹ کر گورنر راج نافذ کیا گیا اور لندن میں منعقدہ اے پی سی میں کھل کرکہا گیا کہ ایم کیوایم سے کوئی بات نہیں کی جائے گی، اس کے باوجود ہم نے انا کامسئلہ نہیں بنایا اور حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین سیاسی اختلافات بات چیت کے ذریعہ حل کرانے کی کوششیں کیں۔
۔ جب انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی تو میں نے نہ صرف خیرمقدم کیا بلکہ جمہوریت کے فروغ کیلئے ہرقسم کے تعاون کا یقین بھی دلایا۔پاکستان کے عوام اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ جب 17، جون2014ء کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں خواتین ، بزرگوں ، نوجوانوں اور بچوں پر گولیاں چلاکر متعدد کو شہید اور سو سے زائد افراد کو زخمی کیا گیا تو اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاجی دھرنوں کا اعلان کیا گیا تو میں نے ڈاکٹر طاہرالقادری اور حکومت دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ نظام کو بچانے کیلئے افہام وتفہیم اورمذاکرات کا راستہ اختیارکیا جائے اوراپوزیشن جماعتوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے ۔ میری ہمیشہ سے کوشش رہی کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال برقراررہے اور جوبھی تبدیلی آئے وہ آئین اور جمہوریت کے دائرے میں آئے ، اس سلسلے میں ، میں نے متعدد تجاویز بھی حکومت کے سامنے رکھیں لیکن افسوس کہ حکومت نے سیاسی معاملات کے حل کیلئے غیرجمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حکومتی نمائندوں سے فریاد کی کہ حکمراں جماعت کا ایک گروپ ڈاکٹر طاہرالقادری اور دوسرا عمران خان کے پاس جاکر مذاکرات کا آغاز کرے اور اس وقت تک نہ اٹھے جب تک کہ مسئلہ افہام وتفہیم سے حل نہ ہوجائے مگر ایسا نہ ہوا۔ گزشتہ روز اور اس سے قبل بھی میں نے وزیراعظم نواز شریف کا نام لیکر کہاکہ آپ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں ، اگرعمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری ناراض ہیں اورآپ کے پاس نہیں آتے تو آپ خود ان کے کنٹینر میں جاکر مذاکرات کریں اور بات چیت سے مسئلہ حل کریں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز جب مظاہرین وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دینا چاہ رہے تھے تو ان پرآنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت سینکڑوں افراد شدید زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔ اس ظلم وبربریت کے خلاف ایم کیوایم نے کسی قسم کی ہڑتال یا احتجاجی مظاہرے کے بجائے یوم سوگ کا اعلان کیالیکن افسوس کہ آج پولیس کی جانب سے صحافیوں کو بھی بہیمانہ تشدد اور بربریت کا نشانہ بنایا گیااور صحافیوں کو ان کی گاڑیوں سے اتار کران پر تشدد کیا گیا، اگر اس عمل کو جمہوریت کہتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی مہذب ملک میں جمہوریت کا یہ اندازنہیں ہوتا۔ جناب الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر حکمرانوں ، پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ ملک کی بقاء وسلامتی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے صبروتحمل اور برداشت سے کام لیں اور موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کیلئے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کریں۔ 


12/10/2016 6:19:06 PM