Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

.ملک کو ضد، ہٹ دھرمی اور انا کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے جس کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے، الطاف حسین


ملک کو ضد، ہٹ دھرمی اور انا کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے جس کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے، الطاف حسین.
 Posted on: 8/26/2014
ملک کو ضد، ہٹ دھرمی اور انا کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے جس کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے، الطاف حسین
آنے والے دن بہت خراب نظر آرہے ہیں، ایم کیوایم ملک کی فلاح کیلئے اپنی 25سیٹیں دینے کیلئے تیار ہے 
17جون 2014ء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بچے، بچیاں، حاملہ عورتیں، بزرگ موجود تھے جنہیں اپنی ضد کے نتیجے میں مارا گیا 
ڈاکٹر طاہرالقادری کے مطالبات قوم کی اکثریت کے مطالبات ہیں، ان پر بات کی جانی چاہیے
ایسے حکومتی رویے کے نتیجے میں مظلوم، محروم، پسے ہوئے عوام کی نظریں اپنے ملک کے طاقتور ادارے کی جانب لگ جاتی ہیں
مسلح افواج شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف نبرد آزما ہے اور جرنیل، جوان شہادت کا درجہ حاصل کر رہے ہیں
ایم کیوایم کی جانب سے 25سیٹوں کی پیشکش کر دی ہے، اپنی اکثریت بنالیں، معصوموں کا خون نہ بہے اور ملک کو نقصان سے بچالیں
ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کا ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر انتہائی اہم انٹرویو
لندن ۔۔۔26اگست2014ء
متحد ہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے حکومت اور احتجاج کر نیوالی جماعتوں کے سر براہان سے اپیل کی ہے کہ وہ خدارا اپنی نیتوں کو بہتر کریں اور محض اقتدار کیلئے ملک کو داؤ پر نہ لگایا جائے ،میں اپنے سیاسی مشاہدے اور علم کی بناء پر کہہ رہاہوں کہ آنے والے دن بہت خراب نظر آ رہے ہیں، ایم کیو ایم ملک و قوم کی فلاح کیلئے اپنی25سیٹیں دینے کیلئے تیار ہے لیکن خدارا معصوم انسانوں ، خواتین، بچوں کا خون نہ بہایا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے رات گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال صرف میرے ہی نہیں ہر ذی شعور شخص کے سامنے ہے ، ملک کو ضد ، ہٹ دھرمی اور انا کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے جس کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے ، ملک میں حکومت کو اللہ تعالیٰ نے اقتدار عطاکیاہے اور تمام طاقت بشمول فوج حکومت کے ماتحت ہے،موجودہ صورتحال میں حکومت کواپنے رویے میں لچک دکھاناچاہیے اور عوام کے سامنے جھک کر رہنا چاہئے۔انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین پر آنسو گیس ، واٹر کینن یا لاٹھی چارج معمول کی بات ہوتی ہے لیکن اگر 17جون 2014ء کو عوام کو بد نظمی کر رہے تھے تو وہاں ایسانہیں کر نا چاہئے تھا سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بچے ، بچیاں ، نوجوان لڑکیاں ، لڑکے ، حاملہ عورتیں اور بزرگ بھی موجود تھے جنہیں صرف اپنی ضد کے نتیجے میں مارا گیا اور ’’’گلو بٹ ‘‘ کو سا منے لایا گئے جبکہ ٹی وی ررپورٹس سے یہ بات علم میں آئی ہے کہ ’’گلو بٹ‘ کو بھی رہا کر دیا گیا ہے جس سے ہر شہری اندازہ لگا سکتا ہے کہ ملک میں قانو ن کا معیار سب کیلئے برابر ہے یا جدا جدا ہے؟۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کے متعلق ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں اپنے میڈیا کے بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ شہید وں کی ایف آ ئی آر کٹوانے کیلئے تھانے جائیں تو انہیں کتنی مشکلات کا سامنا کر نا پڑیگا ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج کئی روز گزر چکے ہیں اور مائیں ، بہنیں ، بزرگ، نوجوان ، بچے ، بچیاں روڈ پر بیٹھے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان کیلئے کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کے تحت خاطر خواہ حل نہیں نکالاہے اگر پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات نہیں مانے جاسکتے تو ان سے بات کی جاسکتی ہے اور ان مطالبات پر بحث مباحثہ و بات چیت کی جاسکتی ہے ،حکومت کو ان مسئلے کے حل لیے کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی اپنانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات کو عوا م کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور یہ عوام کے بنیادی مطالبات بھی ہیں کہ ملک میں لوکل باڈی کا نظام قائم ہو، عام آدمی کو اختیار دیا جائے ، اور ملک کے تمام شعبہ جات سے دہرا معیار ختم کیا جانا چاہئے اور ملک کے تمام شہریوں کے لئے قانون بھی یکساں ہونا چاہئے ۔قائد تحریک الطاف حسین نے ملک کی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے نتیجے میں ملک کو 800ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ پہلے ہی ملک کا بچہ بچہ بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عوامی مفادات میں حکومت علیحدہ ہوسکتی ہے تو اسے اقتدار سے علیحدہ ہوجاناچاہئے تھا اور آئندہ الیکشن میں دوبارہ حصہ لیکر عوامی حمایت دکھانی چاہئے تھی یا پھر عوام خود ہی آئندہ حکومت اور موجودہ حکومت کے نظام کا موازنہ کر کے یہ فیصلہ کر لیتے کے کس کا نظام حکومت بہتر ہے۔جنا ب الطاف حسین نے کہا کہ دنیا میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس قسم کے حکومتی رویے کے نتیجے میں وہاں کے مظلوم ، محروم ، غریب ،پسے ہوئے عوام کی نظریں اپنے ملک کے سب سے طاقتور ادارے کی جانب لگ جاتی ہیں اور ہمارے ملک کا سب سے طاقتور ادارہ موجودہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف نبرد آزما ہے اور فوج کے جرنیل،افسران اور جوان جواں مردی سے مقابلہ کرکے شہادت کا درجہ حاصل کر رہے ہیں جبکہ گزشتہ کچھ عرصے میں پولیس ، ایف سی سمیت دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں نے جتنی بڑی تعداد میں قربانیاں پیش کی ہیں وہ ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں کی گئیں ایسی صورتحال میں ہماری یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ ہم فوج کے دست وبازو بنتے اور اسے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ملک کابچہ بچہ فوج کو پکار رہا ہے لیکن جب میں یہ حقائق ان لوگوں کو بتا تا ہوں تو کہتے ہیں آپ غیر آئینی بات کر رہے ہیں ،مارشل لاء کی بات کر رہے ہیں ۔ ایک سوا ل کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ میرا نام ’’ الطاف حسین ‘‘ ہے اور جس نام میں ’’حسین ؑ ‘‘ کا نام آجائے وہ شخص کبھی ڈرتا یا جھکتا نہیں ہے ،میں نے 1992کے آہریشن سے قبل ہی اپنے کارکنان کو آگاہ کر دیا تھا کہ سندھ میں 72بڑی مچھلیوں کے نام پرشروع کیا جانے والا آپریشن ایم کیوایم کے خلاف ہوگا جس کی سازش کے پیچھے سندھ کے بڑے بڑے جاگیر دار، سر مایہ دار، لینڈ مافیہ اور بڑے بڑے نام شامل ہیں لیکن اس وقت میرے ساتھیوں کو بھی یقین نہیں آیا اور وہ کہنے لگے کہ الطاف بھائی ہم لوگ حکومت میں ہیں ایسا کیسے کچھ ہو سکتا ہے ؟ لیکن بعدمیں میری بات درست ثابت ہوئی۔جب میں نے کہا کہ کراچی میں طالبانائزیشن ہو رہی ہے تو مختلف سیاستدانوں نے میرا مذاق اُڑایا اور عوام کو گمراہ کر نے کیلئے کہتے رہے کہ کوئی طالبا نائزیشن نہیں ہورہی اور الطاف حسین طالبان کے نام پر پختونوں کیخلاف ہے ۔لیکن خدا جانتا ہے کہ میں نے کبھی کسی کو مارنے کی نقصان پہنچانے کی بات نہیں کی ہمیشہ ہر کسی کو بچانے کی بات کی ہے اور خدا کا شکر ہے کہ اس نے حقیقت کو سب پر واضح کر دیا ۔انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا دنیا کی تاریخ میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی ملک میں کوئی قدرتی آفت آجائے ،وہاں کے عوام جان ہتھیلی پر لئے بھاگ رہے ہوں اور وہاں کے حکمراں غیر ملکی دوروں پر چلے جائیں؟بلکہ اگر وہ باہر بھی ہوتے ہیں تو فوراً اپنا دورہ منقطع کر کے آجاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے تو کیا ایسے حکمرانوں کو حکومت کا حق ہے۔جناب الطاف حسین نے ملک کے سچے ، ایماندار اور محب وطن وکلاء سے سوال کیا کہ کیا صرف سابق صدر پر ویز مشرف پر آئین کے آرٹیکل6کے تحت مقدمہ چلانا انصاف ہے ؟ ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر ملک میں آئین کی آڑ میں یہ غیر قانونی اقدام ہو سکتا ہے تو جمہوریت کے اندر مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے اور ہم سے جمہوری مارشل لاء کہتے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے میڈیا کے نمائندگان ، رپورٹرز اور صحافی کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ انتہائی مشکل سے مشکل حالت میں بھی ، سخت سے سخت جگہوں پر کوریج کرتے ہیں اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔اپنے انٹرویو میں جناب الطاف حسین نے مختلف قرآنی آیات اور کہاوتو ں کے ذریعے موجودہ سیاسی صورتحال کر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو پہلے خود عمل کرنا چاہئے اور بعد میں دوسروں کو تلقین کرنی چاہئے لہٰذا میں نے اپنی پارٹی کی جانب سے25سیٹو ں کی پیشکش کر دی ہے اور جو چاہے ان سیٹوں پر اپنی اکثریت بنا لے لیں ملک کو بچالیں ، معصوموں کا خون نا بہے ، ملک کی کسی عمارت کو نقصان نا پہنچے اور ملک کو نقصان نا ہو۔

12/3/2016 7:59:18 PM