Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم ایک جمہوریت پسند جماعت ہے، وہ ملک میں مارشل لاء نہیں چاہتی، الطاف حسین


ایم کیوایم ایک جمہوریت پسند جماعت ہے، وہ ملک میں مارشل لاء نہیں چاہتی، الطاف حسین
 Posted on: 8/24/2014
ایم کیوایم ایک جمہوریت پسند جماعت ہے، وہ ملک میں مارشل لاء نہیں چاہتی، الطاف حسین
ایم کیوایم چاہتی ہے کہ سیاسی بحران کو افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل کرلیا جائے 
اگر تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا تو پھرفو ج کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ ملک کو بچانے کیلئے مداخلت کرے
حکومت دوقدم پیچھے ہٹ جائے، دھرنے دینے والے بھی کچھ لچک کا مظاہرہ کریں، آئینی و قانونی اصلاحات کے ذریعے ملک کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کیا جائے
اگر ایم کیوایم مفاہمانہ کردار ادا نہ کرتی اور ماڈل ٹاؤن کے محاصرے کے خاتمہ کیلئے کوششیں نہ کرتی تو لاہو ر میں بڑا تصادم ہوجاتا
دہشت گردی کے خلاف فوج اور عوام ایک پیج پر ہیں، بہادر جنرل کی قیادت میں فوج کے افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں
ایم کیوایم کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ عوام کی جماعت ہے، ایم کیوایم ایسی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے جس میں موروثیت کا خاتمہ ہو
ایم کیوایم ملک پرکسی ایک خاندان کی حکمرانی کیلئے نہیں بلکہ غریب ومتوسط طبقہ کے پڑھے لکھے، ایماندار اور باصلاحیت افراد کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کررہی ہے
الطاف حسین نہ خود الیکشن لڑتا ہے اور نہ ہی اسکے خاندان کے افراد ایم این ایز، ایم پی ایز بنتے ہیں بلکہ وہ کارکنان ہی کو ایوانوں میں بھیجتا ہے 
ایم کیوایم ایسا نظام چاہتی ہے جس میں امیر اور غریب سب کو بلاامتیاز رنگ و نسل و زبان و مذہب یکساں حقوق میسر ہوں، ملک سے دہرے تعلیمی نظام کا خاتمہ ہو
واشنگٹن میں ایم کیوایم امریکہ کے 18ویں سالانہ کنونشن سے فون پر خطاب
اوورسیز پاکستانیوں کو انتخابات میں نہ صرف ووٹ ڈالنے بلکہ انتخابات میں حصہ لینے کا بھی حق ملنا چاہیے۔ الطا ف حسین
لندن۔۔۔24، اگست2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے ایم کیوایم ایک جمہوریت پسند جماعت ہے، وہ ملک میں مارشل لاء نہیں چاہتی، ایم کیوایم چاہتی ہے کہ سیاسی بحران کوافہام وتفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل کرلیاجائے ، اگرمسائل کوبات چیت سے حل نہ کیا گیا اور تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا تو پھر فو ج کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ ملک کوبچانے کیلئے مداخلت کرے۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں ایم کیوایم امریکہ کے 18ویں سالانہ کنونشن سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کنونشن میں دارالحکومت واشنگٹن کے ساتھ ساتھ امریکہ کی مختلف ریاستوں کے 23 شہروں سے آئے ہوئے ایم کیوایم کے کارکنوں اورذمہ داروں سمیت سینکڑوں پاکستانیوں نے شرکت کی ۔کنونشن سے اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کی جدوجہد، اس کے منشوروپروگرام اورپاکستان کے سیاسی حالات کے بارے میں تفصیلی اظہارخیال کیا۔ملک میں جاری سیاسی بحران کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کودرپیش صورتحال کاتقاضہ ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کوحل کرلیاجائے، حکومت دوقدم پیچھے ہٹ جائے،افہام وتفہیم کاراستہ اختیارکیا جائے، دھرنے دینے والے بھی کچھ لچک کا مظاہرہ کریں،ملک کے نظام میں موجود خرابیوں کے خلاف پارلیمنٹ میں آوازاٹھائیں اورآئینی وقانونی اصلاحات کے ذریعے ملک کے پورے سیاسی وعدالتی نظام میں موجودخرابیوں کودورکیاجائے،لڑائی اورتصادم سے گریز کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ لڑنے کے بعد بھی بالآخرمذاکرات کرناہوتے ہیں لہٰذا کیوں نہ لڑے بغیر مذاکرات کرکے معاملات کوحل کرلیاجائے ۔اس وقت ملک مسائل کاشکارہے اور مسلح افواج اس وقت دہشت گردوں کے خلاف ایک مشکل جنگ میں مصروف ہیں،لہٰذا فریقین اس صورتحال کوضرورپیش نظررکھیں۔انہوں نے کہا کہ دھرنوں کے باعث اسلام آبادمیں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہت خراب ہوگئی ہے ، گندگی اورآلودگی پھیل رہی ہے جس سے وبائی امراض پھیلنے کاخطرہ ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم مسئلے کے حل کے لئے دعابھی کررہے ہیں اوردوابھی کررہے ہیں، جب انقلاب مارچ شروع ہونے سے قبل ماڈل ٹاؤن لاہورمیں انتظامیہ نے ٹینکروں سے علاقے کو سیل کردیاتھااوروہاں موجودپاکستان عوامی تحریک کے کارکنان،نوجوان، بزرگ، خواتین، بچے محصورہوکررہ گئے تھے۔ حکومت اورپاکستان عوامی تحریک کے لوگ آمنے سامنے تھے ،ایسے میں بھی ایم کیوایم آگے بڑھی، ایم کیوایم نے جہاں ایک طرف تمام تررکاوٹوں کے باوجود ان محصورعوام کوکئی روز تک کھاناپینا،بچوں کیلئے دودھ اوردیگرامدادی اشیاء پہنچائیں وہیں حکومت کواس بات کیلئے قائل کیاکہ پاکستان عوامی تحریک کے لوگوں کواس طرح محصور کرنا اور انہیں انکے سیاسی حق سے محروم کرناکسی طورپربھی درست نہیں ہے،خدارا انہیں بھی پرامن مارچ کی اجازت دی جائے اورطاقت استعمال نہ کی جائے ۔ میں خوداس سلسلے میں کئی روزتک مسلسل جاگتارہااوردونوں طرف دامن پھیلا کرافہام وتفہیم کی کوششیں کرتارہاجس کے نتیجے میں حکومت پیچھے ہٹنے پر مجبورہوئی اورتصادم کا خطرہ ٹل گیا۔ اگراس وقت ایم کیوایم بیچ میں پڑ کرمفاہمانہ کردارادانہ کرتی اورماڈل ٹاؤن کے محاصرے کے خاتمہ کیلئے کوششیں نہ کرتی تو انقلاب مارچ کے نکلنے سے پہلے ہی لاہو ر میں بڑا تصادم ہوجاتاجس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوتا۔
پاکستان میں طالبانائزیشن کاذکرکرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعدپاکستان کے حکمرانوں اور ارباب اختیارنے امریکہ کی خوشنودی اوراپنے وقتی مفادات کیلئے امریکہ اورروس کی سرد جنگ کو کفر اوراسلام کی جنگ قراردیااور دوسپرطاقتوں کی جنگ میں پاکستان کواس طرح حوالے کیا کہ پاکستان دنیابھرسے آنے والے مجاہدین کا مرکزبن گیا۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد ان مجاہدین نے پاکستان میں ہی دہشت گردی کاسلسلہ شروع کردیا۔ طالبان دہشت گردوں نے پاکستان میں مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات،مسلح افواج کے مراکز اور دیگر سرکاری تنصیبات کونشانہ بنایا، خیبرپختونخوا اورفاٹامیں طالبان نے لڑکیوں کے 70فیصد اسکولوں اوردیگرتعلیمی اداروں کوبموں سے اڑادیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام توامن وسلامتی کامذہب ہے اوراحترام انسانیت کادرس دیتاہے پھرطالبان کونسے اسلام کے تحت یہ دہشت گردی کرتے ہیں؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے طالبان کے بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کیا تو میرامذاق اڑایاگیاکہ الطاف حسین لوگوں کوخوفزدہ کررہاہے لیکن بعدمیں جوحالات وواقعات ہوئے انہوں نے میرے خدشات کودرست ثابت کیا۔ آج اللہ کاکرم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فوج اورعوام ایک پیج پرہیں اورمسلح افواج کے بہادرسپہ سالار کی قیادت میں فوج کے افسران اورجوان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے غریب ومتوسط طبقہ سے جنم لیا اوراسٹیٹس کو کوچیلنج کیا، ایم کیوایم کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ عوام کی جماعت ہے جبکہ دیگرجماعتوں میں موروثیت ہے۔ایم کیوایم ملک پرکسی ایک خاندان کی حکمرانی کیلئے نہیں بلکہ غریب ومتوسط طبقہ کے پڑھے لکھے ، ایمانداراورباصلاحیت افراد کی حکمرانی کیلئے جدوجہدکررہی ہے۔، ایم کیوایم ایسی جمہوریت پریقین رکھتی ہے جس میں موروثیت کاخاتمہ ہو۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین نہ توخود الیکشن لڑتاہے اورنہ ہی اس کے خاندان کے افرادایم این اے ، ایم پی ایزبنتے ہیں بلکہ وہ تحریک کے کارکنان ہی کوایوانوں میں بھیجتاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان میں ایسانظام چاہتی ہے جس میں امیراورغریب سب کو بلاامتیاز رنگ ونسل وزبان ومذہب یکساں حقوق میسرہوں،سب کے ساتھ یکساں سلو ک کیاجائے ، ملک سے دہرے تعلیمی نظام کاخاتمہ ہواورایسانظام تعلیم ہوکہ غریب کے بچے بھی عزت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلا ف طرح طرح کے منفی پروپیگنڈے کئے گئے کہ ایم کیوایم پنجابیوں ،پختونوں، بلوچوں ، سندھیوں اوردیگرقومیتوں کے خلاف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیوایم کسی سے نفرت نہیں کرتی، 2005ء میں آزادکشمیرمیں آنے والا قیامت خیززلزلہ ہو، خیبرپختونخوا میں سیلاب ہو،بلوچستان میں قحط ہویاملک میں کہیں اورکوئی اورقدرتی آفت ہو،ہر موقع پر ایم کیوایم نے متاثرین کی جس طرح بڑھ چڑھ کرخدمت کی وہ اس بات کاثبوت ہے کہ ایم کیوایم نفرت پر نہیں بلکہ پیارمحبت اوراحترام انسانیت پریقین رکھتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کاعمل وکرداردیکھ کرہی آج کراچی میں رہنے والے پنجابی ، پختون ، بلوچی، سندھی، سرائیکی ،کشمیری، ہزارے وال اوردیگربرادریوں کے لوگ بھی ایم کیوایم کے قافلے میں شامل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے زلزلہ کے موقع پر متاثرین کے لئے امداد بھجوانے پر ایم کیوایم امریکہ کوخراج تحسین پیش کیا ۔ جناب الطا ف حسین نے پاکستان کی تعمیروترقی میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھاری زرمبادلہ بھیج کرملکی معیشت کوسہارادیتے ہیں۔انہوں نے اپنے اس مطالبے کو دہرایاکہ دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کوپاکستان کے انتخابات میں نہ صرف ووٹ ڈالنے بلکہ انتخابات میں حصہ لینے کابھی حق ملناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن کے حالات پر نظررکھیں اورملک کے مفادکیلئے دیارغیرمیں رہ کرجوکرسکتے ہیں ضرورکریں۔انہوں نے ایم کیوایم امریکہ کے تمام کارکنوں اورذمہ داروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک کے شہیدوں کا خون ہم پر قرض ہے ،ہمیں چاہیے کہ ہم شہیدوں کی قربانیوں کوہرگزفراموش نہ کریں اوراپنی بساط کے مطابق شہیدوں کے لواحقین کی دادرسی کریں۔ انہوں نے 32 شہداء کے لواحقین کی کفالت کرنے اورفی خاندان ہرماہ 1200 ڈالردینے کے فیصلے پر ایم کیوایم امریکہ کی تعریف کی۔انہوں نے 18ویں سالانہ کنونشن کے انعقادپر ایم کیوایم امریکہ یونٹ کے تمام کارکنوں اورذمہ داروں کومبارکبادپیش کی اوران پر ذوردیاکہ وہ ذاتی پسندناپسندیاگروپ بندی کے بجائے میرٹ پرفیصلے کریں اور آپس میں متحد ومنظم ہوکر تحریک کے پیغام کوپھیلانے کیلئے کوشش جاری رکھیں۔ جناب الطا ف حسین نے اپنے خطاب کے اختتام پر دعاکی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کوموجودہ سیاسی بحران سے نکالے، ملک میں امن واستحکام آئے اورعوام کوچین وسکون میسرہو ۔ 

12/9/2016 9:21:09 AM