Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تیزی سے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات ٹکراؤ، تصادم اور مار پیٹ کا نہیں بلکہ ضبط و برداشت، صبروتحمل اور افہام و تفہیم کا تقاضہ کرتے ہیں۔ الطاف حسین


تیزی سے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات ٹکراؤ، تصادم اور مار پیٹ کا نہیں بلکہ ضبط و برداشت، صبروتحمل اور افہام و تفہیم کا تقاضہ کرتے ہیں۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/11/2014
تیزی سے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات ٹکراؤ، تصادم اور مار پیٹ کا نہیں بلکہ ضبط و برداشت، صبروتحمل اور افہام و تفہیم کا تقاضہ کرتے ہیں۔ الطاف حسین
حکومت اور اپوزیشن دونوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدارا بات چیت کے دروازے بند نہ کریں اور مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کریں، ہرقسم کے غیرآئینی، غیرقانونی اقدامات اور محاذآرائی سے گریز کریں
وزیراعظم نوازشریف پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، انہیں بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت میں پہل کرنی چاہیے
عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری اور عوام کے دیرینہ مطالبات سنے جائیں، تصادم اور محاذ آرائی کے ہر اقدام سے پرہیز کیا جائے
دونوں جانب سے ضد اور اپنی اپنی بات پر اڑے رہنے سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں
اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو اس کے نتائج ملک و قوم کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوں گے
میری دعا اور خواہش ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کیلئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کریں، انکے مابین بات چیت کا آغاز ہو اور دونوں افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرکے کسی مثبت نتیجے پر پہنچ جائیں
نائن زیرو پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی اور تمام تنظیمی کمیٹیوں اور شعبہ جات کے مشترکہ اجلا س سے خطاب
رابطہ کمیٹی، حق پرست ارکان پارلیمنٹ اور تنظیمی عہدیداران حالات پر گہری نظر رکھیں۔ الطاف حسین
لندن۔۔۔11، اگست2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان کے تیزی سے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات ٹکراؤ ، تصادم اورمارپیٹ کانہیں بلکہ ضبط و برداشت، صبروتحمل اورافہام وتفہیم کاتقاضہ کرتے ہیں لہٰذامیں حکومت اور اپوزیشن دونوں سے دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ وہ خدارا ملک کی نازک صورتحال کے پیش نظر ہرقسم کے غیرآئینی، غیرقانونی اقدامات اور محاذآرائی سے گریز کریں،ایک دوسرے کے لئے بات چیت کے دروازے بندنہ کریں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کریں۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار پیرکی شام ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر رابطہ کمیٹی اورتمام تنظیمی کمیٹیوں اور شعبہ جات کے مشترکہ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ملک کے سیاسی حالات روزبروزتیزی سے بگڑتے جارہے ہیں اور دونوں جانب سے ضداوراپنی اپنی بات پر اڑے رہنے سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں جبکہ حالات ضداورہٹ دھرمی کا نہیں بلکہ لچک کاتقاضہ کرتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حکومت میں ہونے کی وجہ سے وزیراعظم نوازشریف پرزیادہ ذمہ داری عائدہوتی ہے لہٰذا انہیں بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت میں پہل کرنی چاہیے کیونکہ اپوزیشن کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا اور عوامی مسائل کو حل کرنا حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور حالات کی بہتری کیلئے یہ ضروری بھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میری دعااورخواہش ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے سے مذاکرات کیلئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کریں، انکے مابین بات چیت کا آغاز ہو اور دونوں ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے افہام وتفہیم کا راستہ اختیار کرکے کسی مثبت نتیجے پر پہنچ جائیں اسی میں پاکستان کی سلامتی ، بقاء اور بھلائی ہے ۔ اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں ضد اورہٹ دھرمی پرقائم رہے تو اس کے نتائج ملک وقوم کیلئے سودمندثابت نہیں ہوں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آج جو وضاحتیں کی ہیں اورجو نکات سامنے رکھے ہیں حکومت کوان پر غورکرناچاہیے۔ ایم کیوایم چاہتی ہے کہ عمران خان ، ڈاکٹر طاہرالقادری اورعوام کے دیرینہ مطالبات سنے جائیں، تصادم اور محاذآرائی کے ہراقدام سے پرہیز کیاجائے اور عمران خان صاحب اور ڈاکٹر طاہرالقادری سے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالاجائے،اس سلسلے میں ایم کیوایم غیرمشروط تعاون پیش کرنے کیلئے تیار ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ شمالی وزیرستان میں ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ جاری ہے اور مسلح افواج ،دہشت گردوں سے نبردآزما ہیں جبکہ سیالکوٹ سیکٹر میں بھارت کی جانب سے بلااشتعال حملے کیے جارہے ہیں ، داخلی صورتحال کے باعث لوگ اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کررہے ہیں جس سے ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ ایسے موقع پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو انتہائی دانشمندی اورہوشمندی سے کام لینا چاہیے اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی سلامتی اور بقاء کی فکر کرنی چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی، حق پرست ارکان پارلیمنٹ اورتنظیمی عہدیداروں پرذوردیاکہ وہ حالات پر گہری نظررکھیں اوراپنی ذمہ داریاں بحسن وخوبی انجام دیں۔ 

12/4/2016 6:29:20 PM