Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم نے عوامی مسائل کے حل کیلئے 14اگست سے پہلے دو نکاتی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا


ایم کیوایم نے عوامی مسائل کے حل کیلئے 14اگست سے پہلے دو نکاتی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا
 Posted on: 8/3/2014 1
ایم کیوایم نے عوامی مسائل کے حل کیلئے 14اگست سے پہلے دو نکاتی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا 
مہم کا پہلا نکتہ خود مختار ، موثر اور طاقت ور مقامی حکومتوں کے نظام کا قیام ہے جبکہ دوسرا نکتہ ملک سے جاگیردارانہ نظام 
کے خاتمے اور لینڈ ریفارمز پر مشتمل ہے 
جب تک ان دو بڑی خرابیوں کو دور نہیں کیا جاتا تب تک پاکستان میں سیاسی و جمہوری عمل مستحکم نہیں ہوسکتا ، ڈاکٹر فاروق ستار
شہر کراچی کو وفاقی اور صوبائی حکومت سندھ اونر شپ دینے کیلئے تیار نہیں ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
پانی کراچی کاایک بڑا اور بنیادی مسئلہ ہے ،کراچی کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہورہی ہے
یہی حالات رہے تو ہمیں اندیشہ ہے کہ کراچی میں پانی کے مسئلے پرفسادات ہوسکتے ہیں
K-4 منصوبہ وزیراعظم نے منظور کیا ، ہنگامی بنیادی پر چار سال کے بجائے دو سال میں مکمل کرنے کی ضرورت ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
کسی ایک ادارے کو مسائل اور واقعات کی اونر شپ لینی ہوگی اگر کوئی اونر شپ لینے کو تیا رنہیں تو مجبور اًہمیں میدان میں آنا ہوگا، فاروق ستار 
کراچی اور سندھ کے عوام مسائل کے حل کیلئے ایم کیوایم کی دونکاتی مہم کا ساتھ دیں ،ہم عوامی مقدمہ لڑنے جارہے ہیں، فاروق ستار
پاکستان ، سندھ اور کراچی کے عوام کو منتخب خودمختار اور موثر بلدیاتی حکومت دی جائے ،ڈاکٹر فارو ق ستار 
ایم کیوایم، حکومت سندھ میں رہتے ہوئے مقامی حکومت کے قیام کیلئے صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا رہی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین اور قومی وصوبائی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈاران کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔3اگست 2014ء
متحد ہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیوایم کے زیرا ہتمام14، اگست سے پہلے عوامی مسائل کے حل کیلئے عوامی شرکت و شمولیت کے ذریعے دو نکاتی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔مہم کا پہلا بنیادی نکتہ ایک خود مختار ، موثر اور طاقت ور مقامی حکومتوں کے نظام کا قیام جبکہ ملک سے جاگیردارانہ نظام کے خا تمے اور لینڈ ریفامز کیلئے رائے عامہ ہموار کرنا مہم کا دوسرا نکتہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جب تک ان دو بڑی خرابیوں کو دور نہیں کیا جاتا تب تک پاکستان میں سیاسی و جمہوری عمل مستحکم نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہا کہ ، شہر کراچی کو وفاقی اور صوبائیحکومت سندھ اونر شپ دینے
کیلئے تیار نہیں ہیں،اگر ایوانوں میں عوامی مقدمے کا کوئی حل نہیں نکلتا تو پھر تنگ آمد بجنگ آمد کراچی اور سندھ کے عوام کو سڑکوں پر آنا پڑا تو پاکستان کے 68ویں یوم آزادی 14اگست کے موقع پر کراچی اور سندھ کے عوام بھی اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے ایک تاریخ دیں ۔دو نکاتی عوامی مہم شروع کرنے کا اعلان انہوں نے اتوار کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین رشید گوڈیل ، ، کنور نوید جمیل ، وسیم اختر ، اسلم آفریدی ، گلفراز خان خٹک اورسندھ اسمبلی میں حق پرست ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں ملک میں موجودہ سیاسی محاذ آرائی پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قومی منظر نامے پر سیاسی اختلافا ت واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اور ایک محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے اور اس حوالے سے جناب الطاف حسین کی ہدایت پر گزشتہ دو روز سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور حق پرست اراکین سینیٹ و قومی اور صوبائی اسمبلی کے مسلسل اجلاس ہورہے ہیں ۔ اپنا قومی فرض سمجھ کر ایک ذمہ دار سیاسی جماعت ہونے کے ناطے ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہمیں عوام کے سامنے وہ حقائق رکھنے چاہئیں جن کی بناء پر آج پاکستان ان حالات کا شکار ہے جہاں ہمیں تیزی سے بڑھتی ہوئی محاذ آرائی دیکھائی دے ر ہی ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی وجوہات کو دیکھاجائے اور پھر کوئی راستہ نکالا جائے جس کے ذریعے پاکستان کو سیاسی و جمہوری عمل میں پورا حصہ اور پاکستان کے عوام کو مایوسی سے بچایاجائے ۔68واں یوم آزادی اگر شایان شان طریقے سے منانا ہے تو پھر پاکستان کے عوام کے مسائل برسوں سے کیوں حل نہیں ہورہے ہیں ؟اس کی کیا وجوہات ہیں؟جب تک ان کا تدارک نہیں کیاجائے گا اس وقت تک ملک میں انتشار بھی رہے گا اور محاذ آرائی میں بھی اضافہ ہوگا ۔انہوں نے عید الفطر کے موقع پر کراچی میں سی ویو کے ساحل پر متعدد افراد کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کے اندوہناک سانحہ پر افسوس کااظہا رکرتے ہوئے کہا کہ سانحہ سی ویو اس بات کامتقاضی ہے کہ ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے ، اصل خرابی اور بگاڑ کا علاج کرنا چاہئے اگر ایسا نہ کیا تو آئے دن سانحہ سی ویو ہوتے رہیں گے سمندر کی موجیں اسی طرح متعدد افرادکو لقمہ اجل بناتی رہیں گی اور ہم محض ساحل سمندر پر تماشہ دیکھتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے خدا خدا کرکے رمضان گزارا اور کراچی واٹر سیوریج بورڈ کی منتیں کیں تب کہیں جاکر عید والے روز کراچی کے شہریوں کو تھوڑا سا پانی ملا ، ٹینکر مافیا نے اودھم مچایا ہوا ہے ،پانی کراچی کاایک بڑا اور بنیادی مسئلہ ہے ۔ ساڑھے 5سو ملین گیلن پانی یومیہ جو دستیاب ہے اسے بہتر طریقے سے نہیں سنبھالا گیا اور عید کے موقع پر اس تکنیکی خامی کا فائدہ ٹینکر مافیا نے اُٹھایا اور ٹینکر جو پانچ سو ہزار کا تھا وہ دس دس ہزار روپے میں چاند رات اور عید پر کراچی کے شہریوں کو ملا ہے ۔ عید والے روز جو کچھ ہوا ہے یہ متحدہ کے منتخب نمائندے ہیں جو حکومت ، اداروں اور عوام کے درمیان میں ایک ڈھال بن کر کھڑے ہیں اگر یہ ڈھال ہٹا دیں تو روزانہ واٹر بورڈ ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفاتر پر مظاہرے ہوں ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ،کراچی کے بلڈررز کو لوٹ رہا ہے اور اس نے رشوت ستانی کے بازار لگائے ہیں ، رشوت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، کراچی کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، میر پور کاص ، نوابشاہ ، دیہی اور شہری علاقے لاڑکانہ خیرپور ، دادو ، ٹھٹھہ کا حال بھی کراچی سے مختلف نہیں ہے ۔ پانی کا مسئلہ ، بجلی کا بحران ، صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال کا سامنا ہے ، ابھی ایک بارش ہوئی ہے ایک اور ہوگئی تو یہ سارا کچرا اور کچرے کے انبار سے ایسے وبائی امراض پھوٹیں گے جو 2کروڑ والی آبادی کے شہر کیلئے خطرناک ہیں ،شہر کراچی کو اونر شپ دینے کیلئے وفاقی وصوبائی حکومت تیار نہیں ہے تو پھر پاکستان اوردیگر علاقوں کو کیا اونر شپ دیں گے ،کراچی میں پانی کا مسئلہ بہترین انتظام کے ذریعے حل کیاجائے ، ٹینکر مافیا کی جانب سے عوامی استحصال اوراجاداری ختم کرکے لوگوں کو پانی فراہم کیاجائے ، کچرے ، صفائی و ستھرائی ، نکاسی آب اور بجلی کے بحران کے مسائل ہیں ، قبضہ مافیا علیحدہ سے کراچی کی زمینوں کی لوٹ مار کررہا ہے ، قیمتی زمینوں پر بیدردی سے قبضہ کررہا ہے ،بے ہنگم ناجائز تعمیرات کا ایک طویل سلسلہ ہے اس میں کسی ضابطے پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے اور ان کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہے ، یہ کراچی کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہورہی ہے ، بلڈنگ ریگولیشن کی خلاف ورزی ہورہی ہے ، بھاری رشوتیں لیکر گراؤنڈ پلس ون ہے وہاں فور کی اجازت دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر کراچی میں اگر یہی صورتحال رہی تو ہمیں خدشہ ہے کہ پانی کے مسئلے پر فسادات ہو سکتے ہیں، یہ قومی استحکام کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے ،K-4 منصوبہ وزیراعظم نے منظور کیا ، ہنگامی بنیادی
پر چار سال کے بجائے دو سال میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ 65ملین گیلن پانی کے منصوبہ پر عملدرآمد بھی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج پاکستان کے بلدیاتی اداروں میں منتخب کونسلیں اور حکومتیں موجود ہوتی ، سندھ میں مقامی حکومت کا موثر اور خود مختار نظام ہوتا اور کراچی میں منتخب میئر ہوتا ملٹی پل ایجنسی کنٹرول نظام کا خاتمہ ہوتاتو ساحل سمندر سی ویو کا سانحہ نہ ہوتا، ہمارے یہاں مقامی حکومت کا منتخب بلدیاتی نظام موجود نہیں ہے، طاقت ور میئر نہیں ہے ، کوسٹل گارڈ والے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ پر الزام لگارہے ہیں اور ڈی ایچ اے والے کسی اور پر ڈال رہے ہیں کراچی کے عوام کو فٹبال بنایاجارہا ہے ۔ سانحہ سی ویو پر کوئی کمیشن نہیں بنا ، تحقیقا ت نہیں ہورہی ہے ، دفعہ 144پچھلی تاریخ میں نافذ کی گئی یہ کس کی ذمہ داری تھی ؟ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ ذمہ دار ہیں ،کسی ایک ادارے کو اونر شپ لینی ہوگی اگر کوئی اونر شپ لینے کو تیا رنہیں تو مجبور اًہمیں آنا ہوگا رائے عامہ ہموار کرنا ہوگی۔انہوں نے کراچی اور سندھ کے عوام سے اپیل کی کہ ان مسائل کے حل کیلئے ایم کیوایم کی دونکاتی مہم کا ساتھ دیں ،ہمارا بازو بنیں اور مکمل حمایت اور تائید کریں ہم ان کا مقدمہ لڑنے کیلئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ، سندھ اور کراچی کے عوام کو ان کا بنیادی حق دیاجائے انہیں ان کی منتخب خودمختار ، موثر بلدیاتی حکومت دی جائے ، بلدیاتی انتخابات جلد کرائے جائیں ، ایک یونفائیڈ نظام ہو ایجنسیوں کا، یہ نہیں ہو کہ وفاقی اور صوبائی اور شہری ادارے کام کریں اور جب ذمہ داری لینے کا وقت آئے تو سب ایکدوسرے پر الزامات لگائیں یہ عمل نہیں چلے گا ، ہم حکومت سندھ میں رہتے ہوئے مقامی حکومت کے قیام کیلئے صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا رہے ہیں اور اس میں سی ویو سانحہ میں جو جانیں گئیں ہیں اس پر بات ہوگی ۔ سب سے پہلے سی ویو پر ایم کیوایم کے ایم این اے ، ایم پی اے پہنچے جن کا یہ حلقہ نہیں تھا ، ایم کیوایم نے کیمپ لگایا اور ریسکیو کا کام کیا ،وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کو کیا فون کیا اور کیاکراچی کے اس سانحہ کی تفصیلات معلوم کیں ؟ کتنے ٹاک شاک ہوئے ہیں کراچی سی ویو کے سانحہ پر ؟۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140-Aکی خلاف ورزی ہورہی ہے جو صوبائی و وفاقی حکومت کررہی ہے جبکہ مرکز اور صوبے میں جمہوریت قائم کرکے تسلسل کی بات کی جائے تو جمہوریت نوازی کا دعویٰ درست ثابت نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کیلئے اور لینڈ ریفامز کیلئے پورے ملک میں رائے عامہ ہموار کرنے جارہے ہیں ، اس سلسلے میں پاکستان میں سیمینار کریں گے اور 14اگست سے پہلے سندھ ہاری کمیٹی اور آباد گار بورڈ کے تحت مل کر مہم شروع کرنے جارہے ہیں ۔یہ مہم 14اگست کو پیغام ہوگی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل نے بتایا کہ کراچی میں صرف 39ملی لیٹر بارش ہوئی ہے اگر یہ ڈیڑھ سو ملی لیٹر ہوجاتی تو کراچی کی کیا صورتحال ہوتی مون سون کا موسم چل رہا ہے اگر اگلے ہفتے کراچی میں بڑی مقدار میں بارش ہوگئی تو کراچی کہاں جائے گا؟ دھابیجی کے تین پمپ ایک مدت سے خراب ہیں اور ٹھیک کرنے والا کوئی نہیں یہ اس وجہ سے ہے کہ کسی کے پاس اس کی اونر شپ نہیں ، مقامی حکومت کا نظام ختم ہونے سے اختیارات افسران کے پاس ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ حیدرآباد کے واسا نے مون سون کی تیاری کیلئے دس کروڑ روپے کی درخواست دی تھی مگر صرف پچاس لاکھ منظور ہوئے جو آج تک نہیں ملے، وہاں مون سون آتا ہے تو حیدرآباد اس قابل نہیں ہے کہ سامنا کرسکے ، پچھلے مرتبہ میر پور خاص شہر ڈوبتے ڈوبتے بچ گیا تھا ،یہی صورتحال نوابشاہ اور سکھر کی ہے، سندھ حکومت کا جو بجٹ بنتا ہے اس کا 99فیصد کراچی اور ان شہروں سے جمع ہوتا ہے ان شہروں کی یہ حالت ہے کہ یہاں پررہنے والے انسان جانوروں سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں ، صوبائی حکومت سندھ علاقے کے رہنے والے کو جو اپنے مسائل سے بہتر آگا ہ ہے اسے ذمہ داری دینے کیلئے قطعی تیار نہیں ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں ۔ 


12/7/2016 2:34:38 AM