Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگر احتجاجی مظاہروں سے ملک میں جانی ومالی نقصان کا زرہ برابر بھی اندیشہ ہوتونوازشریف آگے بڑھکر وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہونے کا اظہارکریں، الطاف حسین


اگر احتجاجی مظاہروں سے ملک میں جانی ومالی نقصان کا زرہ برابر بھی اندیشہ ہوتونوازشریف آگے بڑھکر وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہونے کا اظہارکریں، الطاف حسین
 Posted on: 8/2/2014 1
خدارا !!!پاکستان کو بچایئے ، الطاف حسین
چھوٹے بڑے اختلافات کو دورکرنے کیلئے نتیجہ خیز بات چیت کے ذرائع استعمال کیے جائیں، الطاف حسین
ہرقسم کی چھوٹی بڑی محاذ آرائی جس سے جانی ومالی نقصانات کا احتمال ہو اس سے ہرممکنہ اجتناب کیا جائے ، الطاف حسین
عوام، سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور وفاقی وصوبائی حکمرانوں سے قائد ایم کیوایم الطاف حسین کی دردمندانہ اپیل
وزیراعظم نوازشریف آگے بڑھیں ، معاملات کا انتہائی سوچ وفکر اور گہرائی سے مطالعہ کریں ،الطاف حسین
اگر احتجاجی مظاہروں سے ملک میں جانی ومالی نقصان کا زرہ برابر بھی اندیشہ ہوتونوازشریف آگے بڑھکر وزارت عظمیٰ
سے علیحدہ ہونے کا اظہارکریں اور اپنی ہی پارٹی میں سے کسی اور فرد کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں منتقل کردیں
یاکوئی ایسا آئینی راستہ اختیار کریں جہاں سب کا وقار اپنی اپنی جگہ قائم رہے اورکسی کو سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف سے ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کی دردمندانہ اپیل

لندن۔۔۔2، اگست2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں پاکستانی عوام، سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور وفاقی وصوبائی حکمرانوں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ خدارا پاکستان کو بچایاجائے ، چھوٹے بڑے اختلافات کو دورکرنے کیلئے نتیجہ خیز بات چیت کے ذرائع استعمال کیے جائیں اور ہرقسم کی چھوٹی بڑی محاذ آرائی جس سے جانی ومالی نقصانات کا احتمال ہو اس سے ہرممکنہ اجتناب کیا جائے ۔
اپنے بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ہم بین الاقوامی سطح پر چھوٹے بڑے اختلافات پر آئے دن ہونے والی خوفناک ترین محاذ آرائیوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو نہ صرف تواتر کے ساتھ پڑھ رہے ہیں بلکہ دنیا کے بیشتر علاقوں میں اختلافات کی بنیاد پر ان ممالک کی داخلی وبیرونی عسکری محاذ آرائیوں کو بذریعہ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور کانوں سے سن بھی رہے ہیں۔ان محاذ آرائیوں کے دوران سامنے آنے والے بعض مناظر ایسے دردناک اور اعصاب شکن ہوتے ہیں کہ چند لمحوں کیلئے اسے دیکھ کر سکتہ طاری ہوجاتا ہے ۔ فلسطینیوں کا قتل عام ہو ، افریقیوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی ہو ،شام اورعراق کی تباہی وبربادی ہو، افغانستان ودیگر ممالک میں ہونے والی تباہ کاریاں ہوں، اس صورتحال میں پاکستان جن افسوسناک حالات سے گزر رہا ہے وہ کسی بھی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ شمالی وزیرستان میں مسلح افواج کے جرنیل ، افسران اور جوان، ملک دشمنوں اوردہشت گردوں کے خلاف جی جان کی بازی لگاکر ایک طرف جام شہادت نوش کررہے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل بہ جہنم بھی کررہے ہیں اورہرمحاذ پر پاکستان کے پرچم کو فخروانبساط کے ساتھ لہراتے چلے جارہے ہیں ۔دوسری طرف ملک میں رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچارہے ، وہاں ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں، ہرمحلہ ،شہر ،قصبہ ، دیہات، گاؤں ، گوٹھ کے عوام بجلی اور گیس کی دستیابی سے محروم ہیں، غریب بچوں کی تعلیم کیلئے ملک میں اسکول یاتو موجودہی نہیں ہیں اور اگر موجود ہیں تو وہ انتہائی بوسیدہ حالت میں ہیں جہاں بچوں کا تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے ۔سرکاری اسپتال ادویات سے خالی ہیں، دوتین وقت کی روٹی کیلئے مزدوری کاحصول توکجا ایک وقت کی روٹی کیلئے بھی روزگار نایاب ہے ۔ بارشوں کے سلسلے کی وجہ سے ملک کے گٹر،نالوں ، نالیوں کا نظام مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے ، لوکل باڈیز کا نظام نہ ہونے کے سبب ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی جمہوری حکومت نے لوکل باڈیز کے الیکشن کرائے ہی نہیں۔دوسری طرف چند فریق جمہوریت کے نام نہاد چیمپئن بن کر دوسروں پر طعنہ زن ہیں اور جمہوریت کے نام پر حکومت کرنے والوں پرحکومت سے باہر لوگ جمہوریت کی آڑ میں ان کی حکومت کے طرز عمل کو آمریت سے تعبیر کررہے ہیں۔ایک طبقہ حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دے رہا ہے تو دوسرا فریق حکومت کی چولیں پاش پاش کرنے کی بات کررہا ہے ۔رسہ کشی کی یہ مڈبھیڑ ہرذی شعور اور محب وطن پاکستانی کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ 12،14 ،اگست 2014ء شروع ہونے میں ابھی چند دن باقی ہیں، لانگ مارچ کرنے ، ایک دوسرے کا دھڑن تختہ کرنے کے بجائے کیوں نہ ہم دنیا کی، خصوصاً پاکستان کی نازک ترین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے ہرقسم کی دھونس دھمکی اور محاذ آرائی سے گریز کریں اور پاکستان کے محب وطن شہری ہونے کے ناطے آپس میں مل بیٹھیں اور ایک دوسرے کی جائز شکایات کو نہ صرف غور سے سنیں بلکہ اسے سن کر اس کے علاج کے طورپر اگرسننے والی پارٹی کو نقصان پہنچتا ہے تووہ تھوڑا بہت نقصان برداشت کرکے پہلی پارٹی کومطمئن کریں تاکہ ملک کوکسی انتشار سے بچایا جاسکے ۔اس سلسلے میں ، میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے پہل کریں اور خود بڑے پن کامظاہرہ کرتے ہوئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اجتماع کریں اورانکی شکایات کی فہرست بنائیں، انہیں حل کرنے کی تاریخ دیکر اسے بالترتیب حل کرتے چلے جائیں ۔ فی الحال فلاح کا یہی راستہ نظرآتا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے اپنے بیان کے آخر میں ملک کے موجودہ وزیراعظم میاں محمد نوا زشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ آگے بڑھیں ، معاملات کا انتہائی سوچ وفکر اور گہرائی سے مطالعہ کریں ، انکا تفصیلی جائزہ لیں اوراگر وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اپوزیشن کے احتجاجی دھرنوں یا دھرنوں کی آڑ میں کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں سے ملک میں جانی ومالی نقصان کا زرہ برابر بھی اندیشہ ہوتو وہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کراپنے آپ کو وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہونے کا اظہارکریں اور اپنی ہی پارٹی میں سے کسی اور فرد کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں اپنے ساتھیوں کے مشوروں سے منتقل کردیں یاکوئی ایسا آئینی راستہ اختیار کریں جہاں سب کا وقار اپنی اپنی جگہ قائم رہے اورکسی کو سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ



12/8/2016 4:06:29 PM