Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

فلسطین کی صورتحال پر مسلم ممالک ، اقوام متحدہ اور او آئی سی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،الطاف حسین


فلسطین کی صورتحال پر مسلم ممالک ، اقوام متحدہ اور او آئی سی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،الطاف حسین
 Posted on: 7/25/2014
فلسطین کی صورتحال پر مسلم ممالک ، اقوام متحدہ اور او آئی سی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،الطاف حسین
اگر او آئی اسی غزہ کی صورتحال پر کوئی کردار ادا نہیں کرتا تو پاکستان کو او آئی سی کی رکنیت سے الگ ہوجاناچاہیے
باقیماندہ پاکستان کو قائم ودائم رکھنے کیلئے ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ کا اعلان کیاجائے 
اگر ایم کیوایم کی حکومت ہوتی توپنجاب میں بچے کے بازو کاٹنے والے سفاک جاگیردار کے بازو کاٹے جاچکے ہوتے 
ملک کے شمالی وزیرستان میں مسلح افواج حالت جنگ میں ہے لیکن وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف عمرہ ادا کررہے ہیں
ملک کی سلامتی وبقاء اور انسانوں کی جان ومال کرنا اور ظلم کے خلاف آوازاٹھاناوزیراعظم کابنیادی فرض ہے
کے کے ایف 35 سال سے بلاامتیازرنگ ونسل ، زبان ، مسلک، عقیدہ اورمذہب دکھی انسانیت کی عملی خدمت کرتاچلاآرہا ہے
ایم کیوایم نے پاکستان کی سیاست میں خدمت کاتصور دیا ہے ، قائد ایم کیوایم الطاف حسین
پاکستان اور جاگیردارانہ نظام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، الطاف حسین
پی سی او پر حلف اٹھانے والے بھی تو سب لوگ برابر کے مجرم ہیں
ایم کیوایم پر الزام لگایا گیا کہ کراچی میں کئی وکلاء زندہ جلاکر قتل کردیئے گئے لیکن جب میں نے مطالبہ کیاکہ ہمیں ہلاک ہونے والے وکلاء کے نام، پتے اور ان کے بار رجسٹریشن نمبرز فراہم کیے جائیں تو کسی نے اس سوال کا جواب تک نہیں دیا
جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے اور جن لوگوں نے یہ جھوٹ لکھا مجھے یقین ہے کہ محشر کے روز ان کے ہاتھ جلائے جائیں گے
اسلام آباد میں ’’آرٹیکل 6‘‘ نامی بستی کے قائم کرکے اس میں ان تمام لوگوں کو آباد کیا جائے جنہوں نے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں جنرل مشرف کا ساتھ دیا
ملک میں فوری طورپر بلدیاتی انتخابات کروا کر مقامی حکومتوں کا نظام قائم کیا جائے، الطاف حسین
بلدیات، جمہوریت کی نرسری ہوتی ہیں اور ان کے قیام کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی ادھورا ہے
خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت ایکسپوسینٹر کراچی میں سالانہ امدادی پروگرام سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔25، جولائی2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ فلسطین کی دردناک صورتحال پر مسلم ممالک ، اقوام متحدہ اور او آئی سی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،اگر او آئی اسی غزہ کی المناک صورتحال پر کوئی کردار ادا نہیں کرتا تو پاکستان کو او آئی سی کی رکنیت سے الگ ہوجاناچاہیے ۔ انہوں نے مسلح افواج اور وفاقی وصوبائی حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہاہے کہ اگروہ باقیماندہ پاکستان کو قائم ودائم دیکھنا چاہتے ہیں تومزید وقت ضائع کیے بغیر ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ کا اعلان کیاجائے ، مذہبی انتہاء پسندی کا درس دینے والے اسکول ، مدارس اوردیگراداروں کو فی الفور بند کیا جائے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایم کیوایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت ایکسپوسینیٹر کراچی میں منعقدہ سالانہ امدادی پروگرام کے شرکاء سے ٹیلی فون پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایم کیوایم کے رہنماؤں اورمنتخب نمائندوں کے علاوہ سیاسی وسماجی شخصیات ،مذہبی رہنماؤں، تاجروں ، صنعتکاروں اورزندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔غریب ومستحق افراد میں کروڑوں روپے مالیت کی امدادی اشیاء اور نقدرقوم بھی تقسیم کی گئیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان 27 ویں رمضان المبارک کو قائم ہوا ۔ آج پاکستان میں 27 ویں رمضان کی شب ہے اور میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت شب کے صدقے پاکستان پر رحم وکرم فرمائے ، ملک کوتمام مشکلات، کرپشن اورسیاسی وسماجی برائیوں سے نجات دلائے اورپاکستان کوبانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے وژن کا پاکستان بنادے ۔ (آمین)انہوں نے کہاکہ پاکستان انگنت مسائل کا شکار ہے ، عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت ، غربت ، بھوک ، افلاس ،مہنگائی اوربے روزگاری کے مسائل میں مبتلا ہیں ، امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے اورشہر میں ٹارگٹ کلنگ کاسلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے درخواست کی کہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے مؤثراقدامات بروئے کار لائے جائیں اور سفاک ٹارگٹ کلرز کو گرفتارکرکے کیفرکردار تک پہنچایاجائے ۔انہوں نے شیعہ اور سنی علمائے کرام اور عوام سے اپیل کی کہ وہ میدان عمل میں آکر اجتماعی کمیٹیاں تشکیل دیں، اپنے اپنے علاقوں کی حفاظت کریں ،مشکوک افرادپر کڑی نظررکھیں اور ایک دوسرے کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک میں مون سون کے موسم کے باعث بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے لیکن حکومت سندھ کی جانب سے ابھی تک برساتی نالوں کی صفائی ، برساتی پانی کی نکاسی اورصحت وصفائی کے حوالے سے نہ تو کسی قسم کے اقدامات کیے اور نہ ہی اس ضمن میں بلدیاتی اداروں کو فنڈز فراہم کیے ہیں۔ ملک میں اب تک مقامی حکومت کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ،جمہوریت کاراگ الاپنے والے ابھی تک جمہوریت کی ’’ج‘‘ سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ شمالی وزیرستان میں مسلح افواج ، دہشت گردوں کے خلاف صف آراء ہے اورہمت وجرات کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا کررہی ہے ، ملک کے دفاع اور سلامتی کیلئے فوج کے افسران اور جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے فلسطین کی المناک صورتحال کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیلی جارحیت کے باعث اب تک فلسطین میں 800 سے زائد بچے ، بوڑھے،خواتین اور جوان شہید ہوچکے ہیں ، مسلم ممالک، اقوام متحدہ اور او آئی سی سب کے سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر او آئی اسی غزہ کی المناک صورتحال پر کوئی کردار ادا نہیں کرتا تو پاکستان کو او آئی سی کی رکنیت سے الگ ہوجاناچاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے وزیراعظم پاکستان کے غیرملکی دورے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے شمالی وزیرستان میں مسلح افواج حالت جنگ میں ہے ، جگہ جگہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں ، ملک میں بنیادی وسائل کی عدم فراہمی کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے لیکن وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف عمرہ ادا کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ عمرہ نفلی عبادت ہے جبکہ ملک کی سلامتی وبقاء اور انسانوں کی جان ومال کرنا اور ظلم کے خلاف آوازاٹھاناوزیراعظم کابنیادی فرض ہے ۔ ملک میں خلافت راشدہ ، اسلامی نظام اور اللہ رسول ؐ کے قانون کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے جبکہ خلیفہ وقت فرماتے تھے کہ نہر فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی پیاسہ مرجائے تو اس کاعذاب میرے سر ہوگا ، خلفائے راشدین راتوں کو جاگ جاگ کردورے کیاکرتے تھے کہ ان کی ریاست میں کوئی بھوکا پیاسہ تو نہیں یا کسی مشکل کا شکار تو نہیں ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کا جوطرزعمل ہے کیا یہ مسلم سربراہ کاطورطریقہ قراردیا جاسکتا ہے ؟دوروزقبل پنجاب کے علاقے میں جاگیردار نے ایک معصوم بچے کے ہاتھ کاٹ دیئے ۔ اگر ایم کیوایم کی حکومت ہوتی تو اب تک اس سفاک جاگیردار کے بازو کاٹے جاچکے ہوتے ۔ یہ ہمت وجرات ایم کیوایم کے علاوہ پاکستان کی کوئی سیاسی ومذہبی جماعت نہیں کرسکتی ، ا سلئے کہ سیاست میں خدمت کاتصور ایم کیوایم ہی نے دیا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان اور جاگیردارانہ نظام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اگر یہ فرسودہ اور ظالمانہ نظام جاری رہا تو خدانخواستہ ملک ہی داؤ پر نہ لگ جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کو ہرشعبہ میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ ملک کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جس میں غریب اورامیر دونوں کو یکساں تعلیمی سہولیات میسر ہوں ۔ ملک میں انصاف کا نظام بھی تباہ حالی کا شکار ہے ، مقدمات اور پیشیاں دس دس ، بیس بیس سال تک چلتی رہتی ہیں اور غریب عوام عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں مگر انہیں انصاف نہیں ملتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں ایسا عدالتی نظام قائم کیا جائے جس میں غریب کو توجرم کرنے پر سزا ملے لیکن اگر ملک کا حکمراں جرم کرے تو اسے بھی سزا ملے ۔ جناب الطاف حسین نے چند برس قبل عدلیہ کی آزادی کیلئے چلائی جانے والی تحریک کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس تحریک کے نام پر ایک شخص کو ہیرو بنانے کی کوشش کی گئی ۔ جلوس نکالے گئے اور گھنٹوں گھنٹوں انہیں ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھایا گیا ۔ میں نے سوال کیا کہ یہ کیسا دہرامعیار ہے کیونکہ پی سی او پر حلف اٹھانے والے بھی تو سب لوگ برابر کے مجرم ہیں ۔ میں نے ایجنسیوں والوں سے کہاکہ جوعدلیہ کا اصل ہیرو ہے اسے ہی ہیرو رہنے دو۔ کسی ایک فرد کے آنے جانے سے عدالتی نظام درست نہیں ہوتا۔ عدلیہ کو بہتر بنانے کیلئے پورے نظام کو بدلنا ہوگا اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگالیکن آمریت کا ، جنرل پرویزمشرف کا ایجنٹ قراردیا گیا اورپھر 12 ،مئی کا سانحہ کرایا گیا ، پھر الزام لگایا گیا کہ کراچی میں کئی وکلاء زندہ جلاکر قتل کردیئے گئے لیکن جب میں نے مطالبہ کیاکہ ہمیں ہلاک ہونے والے وکلاء کے نام ، پتے اور ان کے باررجسٹریشن نمبرز فراہم کیے جائیں توکسی نے اس سوال کاجواب تک نہیں دیا ۔ یہ جھوٹا الزام تھا جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے اور جن لوگوں نے یہ جھوٹ لکھا مجھے یقین ہے کہ محشر کے روز ان کے ہاتھ جلائے جائیں گے اور جنہوں نے یہ جھوٹ بولا محشر کے روز جھوٹ بولنے پر ان کے منہ میں آگ بھری جائے گی ۔ یہ کیسی وکلاء کی تحریک تھی جس کے تمام رہنما ء جہاز کی فرسٹ کلاس میں پورے ملک کے دورے کرتے تھے ، صبح ایک شہر ،دوپہر دوسرے شہر اور شام کو تیسرے شہر میں ہوتے تھے اور ان ججوں کی بحالی کیلئے تحریک چلارہے تھے جنہوں نے خود آمرانہ دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھایاتھا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج آئین توڑنے پر جنرل پرویزمشرف کو سزا دینے کی بات ہورہی ہے لیکن جنرل مشرف کو اکیلئے سزا دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ میں موجودہ حکومت،دانشوروں ، قلمکاروں اور دیگر تمام طبقات کے افراد سے کہتا ہوں کہ وہ میری آواز میں آواز ملائیں اورمیرے ساتھ مطالبہ کریں کہ اسلام آباد میں ’’آرٹیکل 6‘‘ نامی بستی کے قیام کا اعلان کیاجائے جس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں ، جرنیلوں اور ان تمام لوگوں کو آباد کیاجائے جنہوں نے آڑٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں جنرل مشرف کا ساتھ دیا۔جناب الطاف حسین نے پورے ملک ، خصوصاً سندھ کے شہری علاقوں میں صحت وصفائی اوردیگر بنیادی شہری سہولیات کے نظام کی تباہ حالی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں فوری طورپر بلدیاتی انتخابات کروائیں اورمقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں ، انہوں نے کہا کہ بلدیات، جمہوریت کی نرسری ہوتی ہیں اور ان کے قیام کے بغیرجمہوریت کا تصور ہی ادھورا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو کرپشن بھی گھن کی طرح کھارہی ہے اورہمیں اس لعنت سے بھی چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا خواہ اس کیلئے کتنے ہی کڑوے گھونٹ کیوں نہ پینے پڑیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان جن مسائل اورچیلنجز میں گھرا ہوا ہے ان سے نکلنے کیلئے جرات مندانہ اقدام کی ضرورت ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں 12 سے 16 انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں خواہ انہیں کوئی بھی نام دیا جائے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ترکی کی طرح پاکستان کو بھی ایک مصطفی کمال اتاترک عطا کردے ۔ (آمین)
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بارشوں کی اطلاعات کے باعث کے کے ایف کے تحت یہ سالانہ امدادی پروگرام ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد کیا جارہا ہے ۔ 11، جون 1978ء کواے پی ایم ایس او کے قیام کے دن سے آج کے دن تک فلاحی سرگرمیوں اوردکھی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے ، اس مقصد کے تحت1979ء میں خدمت خلق کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جوکہ بعد میں خدمت خلق فاؤنڈیشن میں تبدیل کردی گئی ، نادارطلباء ، غریب ومستحق بیواؤں ، یتیموں ،مساکین اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا اس فلاحی ادارے کے منشور کا حصہ ہے ۔ ایم کیوایم کی 35 سالہ جدوجہد کے دوران یہ ادارہ بلاامتیازرنگ ونسل ، زبان ، مسلک، عقیدہ اورمذہب دکھی انسانیت کی عملی خدمت کرتاچلاآرہا ہے ۔ قحط وخشک سالی، زلزلے ، سیلاب، ، دیگر قدرتی آفات اورحادثات کے موقع پر خدمت خلق فاؤنڈیشن کی خدمات سے پورا پاکستان واقف ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تمام ترمشکلات اور مالی مسائل کے باوجود خدمت خلق فاؤنڈیشن تعلیم کے فروغ کیلئے بھی بھرپورکوشش کررہی ہے اور کراچی میں نذیرحسین یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایاجاچکا ہے جبکہ غریب عوام کو علاج ومعالجہ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کراچی اور حیدرآباد میں نذیرحسین میڈیکل سینٹر، بلڈ بنک، ایمبولینس اورمیت بس سروس کے ذریعہ عوام کی خدمت کاسلسلہ جاری ہے ۔ 

12/8/2016 4:08:18 PM