Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دی رائٹ مین : قائد متحدہ قومی موومنٹ جناب الطاف حسین کی باتوں پر پاکستان کو توجہ دینی چاہئے


دی رائٹ مین : قائد متحدہ قومی موومنٹ جناب الطاف حسین کی باتوں پر پاکستان کو توجہ دینی چاہئے
 Posted on: 7/16/2014
دی رائٹ مین
قائد متحدہ قومی موومنٹ جناب الطاف حسین کی باتوں پر پاکستان کو توجہ دینی چاہئے

( ہفت روزہ ’’نیوزویک‘‘ کی بینظیرشاہ کو قائدتحریک جناب الطا ف حسین کاانٹرویو)


ممکن ہے ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین کی شخصیت کسی کے لئے تفریق کا باعث ہو مگر صوبہ سندھ کے شہری علاقے بالخصوص کراچی اور بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے لوگوں کیلئے وہ پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف اوردہشت گردوں کے آگے بتدریج ہتھیارڈالنے کے خلاف ایک کبھی خاموش نہ ہونے والی آواز ہیں۔ الطاف حسین نے 1978ء میں آل پاکستان مہاجر اسٹودنٹس آرگنائزیشن ) اے پی ایم ایس او( کی بنیاد رکھی جو1984ء میں ایک منظم سیاسی جماعت مہاجر قومی موومنٹ )ایم کیو ایم( کے روپ میں سامنے آئی، لیکن اس کا یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ1997ء میں یہ جماعت قومی دھارے میں شامل ہوتی ہے اور خود کو متحدہ قومی موومنٹ کا نام دیتی ہے۔ اِن کی جماعت 2002ء سے مرکز یا صوبائی حکومت یا دونوں میں بیک وقت اقتدار میں شامل رہی ہے۔ پاکستان میں خود پر ہونے والے مسلسل قاتلانہ حملوں کے بعد دسمبر1991ء میں جناب الطاف حسین نے وطن سے دور لندن میں جلا وطنی کی زندگی اختیار کی جس کے چھ ماہ بعد اس وقت کی حکومت نے ان کی پارٹی ایم کیو ایم کے خلاف ایک فوجی آپریشن شروع کیا ۔ دوسرے سیاسی قائدین کی نسبت الطاف حسین اسلام اور فوج کے حوالے سے مدلل گفتگو کر لیتے ہیں کیونکہ ان کے نانا اور دادا دونوں ہی مذہبی اسکالر تھے اور خود انہوں نے فوج کی بلوچ رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ ہم نے ساٹھ سالہ پاکستانی قائد سے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور ان کو درپیش قانونی مشکلات کے حوالے سے برقی مراسلے ) emails ( کے ذریعے گفتگو کی

سوال:    ایم کیو ایم طالبان اور ان کے حامیوں کے خلاف شدیدتنقید کرتی ہے جس کی وجہ سے اسے اس کی سزا بھی مختلف اشکال جیسے ٹارگٹ کلنگ یا بم دھماکوں کی صورت میں ملتی رہتی ہے۔کراچی میں دہشت گرد کس حد تک قابض ہو چکے ہیں اور ان سے کس طرح نمٹاجاسکتا ہے؟

جواب:    میری پارٹی ایم کیو ایم نے ہمیشہ دہشت گردی اور مذہبی انتہاء پسندی کی مخالفت کی ہے۔ طالبان گزشتہ تین برسوں میں ایم کیو ایم کے چارمنتخب عوامی نمائندوں کو قتل کرچکے ہیں جبکہ ان کا تازہ ترین شکار ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف ہیں جنہیں 18جون کو لاہورمیں نشانہ بنایا گیا۔ ایم کیو ایم 2008 ئسے کراچی میں مسلسل طالبان کے خطرے سے آگاہ کر رہی ہے۔جب میں نے پہلی بار اس مسئلے پر آواز اُٹھائی تو میرے سیاسی مخالفین نے میرا مذاق اُڑایا۔ مجھ پر خوف و ہراس اور لسانی منافرت پھیلانے کا الزام لگایا مگر اب ہر شخص اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ میرے خدشات بالکل درست تھے۔
وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں اوروادی سوات میں فوجی آپریشن کے بعد عسکریت پسندوں اوراپنے علاقوں سے بیدخل افراد( آئی ڈی پیز) کی ایک بڑی تعداد کراچی منتقل ہورہی ہے۔ طالبان اور دیگر جرائم پیشہ عسکریت پسندوں نے کراچی کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا ہے اور وہ بینکوں میں نقب زنی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور زمینوں پر قبضہ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ مقامی انگریزی اخبارات میں اس حوالے متعدد رپورٹس شائع ہوچکی ہیں کہ ایک بہت بڑی رقم کراچی کے ان بینکوں سے جہاں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں،وہاں سے باہر منتقل کی گئی ہے۔ ایک امریکی اخبار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کراچی کے ایک تہائی سے زیادہ حصوں پر طالبان کا قبضہ ہے ۔یہ رپورٹ میری اُس بات کی تصدیق کرتی ہے جو میں ایک عرصے سے کہتا آیا ہوں۔ کراچی کے ایک بہت بڑے علاقے پر طالبان کی متوازی حکومت قائم ہے، انہوں نے ان علاقوں میں اپنی عدالتیں بھی قائم کرلی ہیں جہاں وہ اپنی خودساختہ شریعت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور لوگوں کو عام طور پر طالبان کی خودساختہ شریعت کے مطابق سزائیں دی جاتی ہیں۔
اس سال جون میں کراچی ائیر پورٹ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے پر کراچی کے لوگ حیران نہیں ہوئے کیوں کہ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ کراچی طالبان کا مضبوط گڑھ بنتا جارہا ہے۔ طالبان عسکریت پسند کراچی کی تمام بڑی کچی آبادیوں کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں کیوں کہ ریاست کی عملداری اِن علاقوں میں تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی کالز بھی ان ہی علاقوں سے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان عسکریت پسندوں نے کراچی کے مضافات میں بہت بڑے قطعہ اراضی اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے، خاص کر اہم داخلی اور خارجی راستوں پر۔ حکومت کو ان غیر قانونی بستیوں پر اپنی عملداری قائم کرنی چاہئے ۔ دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے لازم ہے کہ کراچی میں موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا جائے تاکہ ان کی غیر قانونی( فنڈنگز) مالی اعانت بند ہوسکے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن اور بے گھر افراد، آئی ڈی پیزکیلئے اسکریننگ کا سخت انتظام کیا جائے۔

سوال :    قدامت پسند اور مذہبی عناصر ایم کیو ایم کو جو ایک لبرل اور ترقی پسند پارٹی ہے مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کیا یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم ایک قومی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے نہ آسکی؟ پنجاب جہاں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے وہاں ایم کیو ایم کی ناکامی کے کیا عوامل ہیں؟

جواب:     آپ کا مشاہدہ کسی حد تک درست ہے کیونکہ یہ افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں سے ایم کیو ایم ایک قومی پارٹی بننے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہے لیکن ایم کیو ایم جتنی زیادہ کوشش کرتی ہے اتنی ہی اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں ۔تاہم ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ایم کیو ایم نے سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی بہت عوامی حمایت حاصل کی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے دو ارکان آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں موجود ہیں۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی اسمبلی میں بھی ہمارا ایک نمائندہ موجود ہے۔ ہم اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ ایم کیو ایم ہی وہ جماعت ہے جس کا ترقی پسند اور لبرل ازم کا نظریہ صحیح معنوں میں پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے مطابق ہے ، جنہوں نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے تاریخی خطاب میں اپنے نقطہ نظر کو واضح کردیا تھا ۔ قائداعظم نے اپنے خطاب میں دو ٹوک الفاظ میں کہا تھاکہ پاکستان تمام مذاہب، عقائد اور فرقوں کے لوگوں کے لیے ہوگااور پاکستان میں سب کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت ہوگی ۔ ایم کیو ایم پاکستان کو ایک ایسا ہی ملک بنانا چاہتی ہے جیسا کہ قائداعظم پاکستان کو ایک جدید، لبرل اور ترقی پسند ملک بنانا چاہتے تھے، جو پڑوسیوں کا دوست ہو اور جہاں لوگوں کے مختلف گروہوں میں آپس میں رواداری ہو ، ایسا ملک نہیں جہاں مذہبی انتہا پسندوں کی حکومت ہواورجہاں لوگ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔
افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے بعد مذہبی انتہا پسندوں اور دائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کو جان بوجھ کر پورے پاکستان میں مضبوط کیا گیاتاکہ انہیں سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا جاسکے لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھی دائیں بازو کی یہ جماعتیں پاکستانی معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرتی رہیں اور فرینکنسٹائن کے مونسٹر (عفریت ) کے روپ میں سامنے آئیں اور اب یہ اپنے آقاؤں کیلئے بھی خطرہ بن چکی ہیں۔ اُن انتہا پسندوں کا اسلام کا اپنا برانڈ ہے جس میں دوسرے فرقوں، مذہبی اقلیتوں خاص کر ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور یہودیوں کیلئے گنجائش نہیں اور خواتین کو تعلیم کے حق کے ساتھ ساتھ بنیادی مساوی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔
میں یہاں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کواس کی ترقی پسند اور لبرل پالیسیوں کے باوجود قومی سیاست میں مناسب کردار ادا کرنے سے روکا جاتا ہے جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس کی قیادت کا پسِ منظر غیر جاگیردارانہ ہے ۔ یہ ایم کیو ایم کی پالیسی ہے کہ ہم غریب اور متوسط طبقے کو بااختیار بنائیں لیکن اس پالیسی کو جاگیردار اور مراعات یافتہ طبقہ اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتا ہے یہ وہی چند خاندان ہیں جوقیام پاکستان کے بعد سے اس ملک پر حکومت کرتے آرہے ہیں۔

سوال :    آپ نے تازہ ترین فوجی آپریشن ضربِ عضب میں پاکستان آرمی کی کھل کر حمایت کی اور ان سے اظہارِ یکجہتی کیلئے6 جولائی2014ء کو کراچی میں ایک جلسے کا اہتمام بھی کیا اور ایم کیو ایم کے کارکنان کی خدمات بھی اس جنگ کیلئے پیش کیں۔ آپ کے خیال میں ایم کیو ایم میدانِ جنگ میں کس حد تک مدد کر سکتی ہے؟

جواب :    ایم کیو ایم کایہ مؤقف ہے کہ پاکستان اور مذہبی انتہا پسندی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ بات بڑی واضح ہے کہ طالبان کے پیش کردہ اسلام میں مذہبی اقلیتوں اور خواتین کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ قائداعظم کے ایک جدید، جمہوری اور ترقی یافتہ ملک کے خواب کو ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ پاکستانی معاشرے کی حفاظت اور دنیا میں پاکستان کی ساکھ بچانے کے لیے طالبان اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ایک جامع انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی اور کارروائی بہت ضرور ی ہے۔
ایم کیو ایم کو معاشرے کے تمام طبقوں کے لاکھوں لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ ایم کیوایم نے کسی بھی کاروائی کیلئے حکومت اور فوج کو مکمل اور غیر مشروط سیاسی اور اخلاقی حمایت کی پیش کش کی ہے تاکہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ ہوسکے۔ مجھے یقین ہے کہ اس بڑے پیمانے پر حمایت سے طالبان اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کسی بھی مؤثر مہم کی کا میا بی کو یقینی بنا نے میں مدد ملے گی ۔ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فا ؤنڈیشن کا پا کستان کے کئی حصوں میں عوامی فلا ح وبہبود کی سر گرمیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے ۔ آزاد کشمیر ،اسلا م آباد اور خیبر پختونخو ا ہ کے بعض علا قوں میں 2005ء کے زلزلے کے بعد ایم کیو ایم نے امدادی سر گر میوں کیلئے متا ثرہ علاقوں میں اپنے ہزاروں رضا کا ر بھیجے ۔ہما رے رضا کا روں نے فیلڈ ہسپتا ل ، ڈسپنسریاں ، بلڈ بینک اور خیمو ں کے شہر آباد کیے۔ایم کیو ایم کے گشتی ہسپتا ل سرجیکل سہولیت سے لیس تھے ۔ہما رے رضا کا روں نے ملک کے دور دراز علاقوں میں ایسی شاندار کا ر کردگی کا مظاہرہ کیا کہ فوج، میڈیا یہاں تک کہ ہمارے سیاسی مخالفین نے بھی ہمارے کام کو سراہا۔
حال ہی میں 2010 ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان نے بے گھر افراد کو خوراک اور پناہ گاہیں فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا جو کراچی میں پناہ لینے آئے۔ اس کے علاوہ ہم نے دیہی سندھ میں بھی لوگوں کی مدد کی۔ جہاں ضرورت ہو وہاں ایم کیوایم اس طرح کی امدادی کاروائی بہم پہنچا سکتی ہے۔ ایم کیو ایم بہت مختصر وقت میں اپنے ہزاروں رضاکاروں کو متحرک کرسکتی ہے۔ ہمارے رضاکار، ڈاکٹر، پیرا میڈکس اور دیگر ہنر مند حکومت اور فوج کی آئی ڈی پیز کے موجودہ بحران سے نمٹنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری جنگ میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سوال :    عمران خان کی تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم ایک طویل عرصے سے متصادم ہیں، یہاں تک کہ گزشتہ سال کے انتخاب سے قبل تحریک انصاف نے کراچی میں اپنے سینئر رکن کے قتل کا الزام بھی ایم کیو ایم پر لگایا اور پی ٹی آئی کے حامیوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو فون کر کے آپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ آپ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخواہ میں کارکردگی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟

جواب :    جی ہاں، تحریکِ انصاف کے حامیوں نے ایم کیو ایم کو بدنام کرنے کیلئے مئی2013 ء میں ایک منظم مہم کا آغاز کیا ۔ پاکستانی حکام اور لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کی تحقیقات ہمارے اس مؤقف کو واضح کرتی ہے کہ یہ الزامات سیاسی تھے۔ انتخابی دھاندلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اسی انتخاب کے ذریعے خیبر پختونخواہ میں اقتدار میں آئی اوراس نے پنجاب میں بھی چند نشستیں حاصل کی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیتِ علمائے پاکستان جو ایک مذہبی جماعت ہے وہ بھی خیبر پختونخواہ کے انتخاب کے حوالے سے دھاندلی کا دعویٰ کرتی ہے تویہ کیسے ممکن ہے کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کی شکایت کا نوٹس لے اور مولانا فضل الرحمان کی شکایت کو نظر انداز کردے۔ جہاں تک صوبے میں تحریکِ انصاف کی حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے تو گزشتہ سال مئی سے ہونے والے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ بہت آسان ہوتا ہے کہ آپ دور بیٹھ کر تماشہ دیکھیں اور ان پر تنقید کریں۔ جو ممبران ہیں وہ حالات کامقابلہ کررہے ہیں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت میں بھی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کم نہیں ہوئی ہے جبکہ صوبے میں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ صوبے بھر کے تاجر صورتحال سے نمٹنے میں ناکامی پرصوبائی حکومت سے اپنی مایوسی کا اظہار کرچکے ہیں ۔ پی ٹی آئی قیادت کا طالبان کے حوالے سے نرم رویہ بھی ان کی جماعت کے پڑھے لکھے اور روشن خیال حامیوں میں شدید مایوسی کاسبب بناہے۔

سوال :    وزیرِ داخلہ اور وزیرِ دفاع کے مطابق مسلم لیگ ن اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات موجود ہیں، کیا آپ کو ان اختلافات کا علم ہے اور یہ اختلافات کس طرح دور ہوسکتے ہیں؟

جواب :    ان اختلافات پر تبصرہ کرنا مشکل ہے ۔ مجھے کسی بھی ایسے اختلافات کا کوئی براہ راست علم نہیں ہے تاہم وفاقی حکومت پاکستانی طالبان کے ساتھ بات چیت کے حق میں بہت زیادہ تھی اور عسکریت پسندوں کے خلاف براہ راست کاروائی کے حق میں نہیں تھی جب کہ فوج طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی طرف زیادہ مائل لگ رہی تھی ۔ ذرائع ابلاغ نے ان کے اختلافات کو اجاگر کیا ۔چند وفاقی وزراء کی طرف سے فوج کے بارے میں کچھ حالیہ بیانات نے بھی قیاس آرائی میں بہت کچھ اضافہ کیا اور کچھ میڈیا رپورٹس نے تقسیم کی خبروں کو مزید تقویت دی۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ ایک المیہ سے کم نہیں ہے ۔ یہ ملک مذہبی عسکریت پسندی کے خلاف فیصلہ کن کاروائی میں کسی بھی تاخیر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مقامی دہشت گردی جس نے مذہبی انتہا پسندی کے نتیجہ میں جنم لیاہے وہ پاکستان کیلئے اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہے۔ میرے خیال میں پاکستان اس وقت’’ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ‘‘کی صورتحال سے گزر رہا ہے اوراب مزیدخاموش رہنے کی کوئی گنجائش نہیں وگرنہ پاکستان کی سا لمیت کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اس بات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان کی سا لمیت نہ صرف پاکستان کے مستقبل کیلئے اہم ہے بلکہ سارے خطے اور ساری دنیا کے امن کے لیے بھی مساوی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے عوامی نمائندوں اور فوجیوں کو چاہئے کہ وہ ایک آواز ہو کر طالبان کے خلاف عمل پیرا ہوں۔

سوال :    مغربی ممالک شمالی وزیرستان میں کارروائی کا مطالبہ بڑے عرصے سے کر رہے تھے ۔ یہ فوجی کارروائی آخر کار جون کے وسط میں شروع ہوگئی ۔ آپریشن میں تاخیر کی وجوہات کیا تھیں؟ یہ آپریشن اتنا ضروری کیوں تھا؟ اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

جواب :    ایم کیو ایم نے ہمیشہ دہشت گردی کے مسئلے پر ایک واضح نقطۂ نظر رکھا ہے۔ ہم نے ہمیشہ کہاہے کہ طالبان اور انتہا پسند قوتیں نہ صرف پاکستان کی سماجی معاشرت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ خطے اور ساری دنیا کیلئے بھی خطرہ ہیں۔ حکومتوں، دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں موجودبعض عناصر ان قوتوں کو اسٹریٹیجک اثاثے کے طور پر دیکھتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح افغانستان اور کشمیر میں کامیابی دلانے میں مدد کرسکتے ہیں۔تاہم حال ہی میں فوج کے رویے اور پالیسی میں بڑی حد تک تبدیلی آئی ہے اوراب وہ اندرونی خطرے کو بیرونی خطرے سے زیادہ اہم سمجھ رہی ہے۔ مسلح افواج اب طالبان اور اس کے اتحادیوں کو ملک کیلئے خطرہ سمجھتی ہے۔ آپریشن میں تاخیر لازم تھی کیوں کہ حکومتی ایوانوں میں موجود طالبان کے طاقتور حمایتی ، اپوزیشن اور میڈیا اس بات کے حق میں تھے کہ شدت پسندوں سے بات چیت کی جائے نہ کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے۔ پی ٹی آئی جس کی خیبر پختونخواہ میں حکومت بھی قائم ہے، اس نے آخری لمحے تک فوجی آپریشن کی مخالفت کی، جب کہ جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام کے مختلف دھڑے اور دیگر مذہبی جماعتیں آج بھی اس جنگ کو دوسروں کی جنگ کہتے ہیں حالانکہ ہزاروں پاکستانی فوجی اور معصوم شہری ان دہشت گردوں کے جنون کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور مجھے اپنی پاک فوج پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ اس جنگ کو اپنے حق میں نتیجہ خیز بنائے گی۔

سوال :    ایم کیو ایم کہتی ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے آپ کے پاکستانی پاسپورٹ کے حصول کے حق کی حمایت نہیں کی ۔ کیا یہ سچ ہے ؟ کچھ میڈیا کے تجزیہ کاروں نے یہ کہا کہ آپ نے اس مرحلے پر پاسپورٹ کی درخواست کیوں دی۔ کیا آپ کراچی آنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں؟ آپ کراچی کی کس چیز کو بہت یاد کرتے ہیں؟

جواب :    میرے پاس برطانوی شہریت ضرور ہے تاہم یہ نہ بھولیں کہ میں ایک پاکستانی بھی ہوں اورپاکستانی پاسپورٹ کیلئے درخواست دینا میرا حق ہے ۔ برطانوی اور پاکستانی قانون کے مطابق میں دہری شہریت رکھنے کا اہل ہوں۔ سمندر پار پاکستانیوں کیلئے شناختی کارڈ نائیکوپ کیلئے میں ماضی میں بھی درخواست دے چکا ہوں لیکن ہر بار میری درخواست وجہ بتائے بغیر مسترد کردی گئی ۔ میں نے حال ہی میں برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اپنے نائیکوپ کیلئے درخواست جمع کرائی تو اس وقت پاکستان کے سابقہ ہائی کمشنر بھی موجود تھے۔ میں نے تمام قانونی تقاضے پورے کئے لیکن میری درخواست کئی ہفتوں تک یونہی رکی رہی اور جب میں نے اس حوالے سے پوچھ گچھ کی تو مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔جب میری جماعت کے منتخب اراکین نے اس حوالے سے معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھا یا کہ مجھے شناختی کارڈ کیوں نہیں جاری کیا جارہا ہے تو متضاد جوابات دیئے گئے۔ آخر میں حکومت نے یہ قبول کیا کہ اسے میری درخواست توموصول ہوئی تھی لیکن متعلقہ ادارے سے درخواست کا ڈیجیٹل مواد ضائع ہوگیا ہے لیکن یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ وہ درخواست ضائع کیسے ہوئی ۔مجھے اب ایک نئی درخواست جمع کروانی ہوگی جس کیلئے برطانیہ میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
پاکستان میرا وطن ہے اور کراچی میرا شہر ہے جہاں میں پیدا ہوا اور پرورش پائی۔ میری خواہش ہے کہ میں کراچی واپس جاؤں لیکن چوں کہ حالات سازگار نہیں ہیں میری جماعت کے ارکین مجھے پاکستان واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ ظاہرہے کہ میں ان لوگوں کو بہت یاد کرتا ہوں جو مجھے کسی لالچ کے بغیر استقامت کے ساتھ سپورٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بیشتر وہ ہیں جنہوں نے مجھے کبھی ذاتی طور پر دیکھا بھی نہیں کیوں کہ میں تقریباً دو دہائیوں سے پاکستان سے باہر ہوں۔

سوال:     آپ موجودہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی اب تک کی کارکردگی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں وہ اپنے انتخابی وعدے جن میں معاشی مسائل کا حل، امن کا قیام ، خارجہ پالیسی میں تبدیلی ، ٹرانسپیر نسی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ شامل ہے، پورے کر سکتے ہیں۔ آپ انہیں کیا مشورہ دینا چاہیں گے۔

جواب:    اس بارے میں توقومی سطح پراتفاق پایاجاتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت نے جو زبانی دعوے 2013 ء کے الیکشن میں کئے تھے وہ ان سب کو ڈیلیور کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں،بجلی کی لوڈشیڈنگ کی حالت پہلے سے بھی ابتر ہے، توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے ، افراطِ زر کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہواہے جبکہ بے روزگاری کی شرح بھی اپنے عروج پر ہے۔ اس کے باوجود بہت سی اہم وزارتیں اب تک خالی پڑی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ جو حکومت حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے وہ ہے مذہبی عسکریت پسندی کے جن کا خاتمہ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی بڑی واضح ہے کہ نواز حکومت ان عسکریت پسندوں کو جو ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور معصوم شہریوں کے قاتل ہیں ان کو مطمئن کرنے کے لیے بات چیت کی اہمیت پر زور دیتی رہی ہے۔ ان دہشت گردوں نے پچھلے کئی برسوں میں پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے اور ابھی تک حکومت اپنے دشمن کو پہچاننے سے قاصر ہے۔ اس کے علاوہ حکومت دہشت گردی کے خلاف کوئی واضح پالیسی لانے میں اب تک ناکام ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار براہ راست ملک میں امن کے قیام میں اور عسکریت پسندی کی روک تھام میں ہے جبکہ حکومت اس مسئلے کو بری طرح نظر انداز کر رہی ہے ۔ نواز حکومت ملک کے چھوٹے صوبوں کی معاشی ترقی میں بھی بری طرح ناکام ہوچکی ہے ، وہ صرف پنجاب کے مخصوص علا قوں پر توجہ دے رہی ہے۔ میں حکومت کوپنجاب کی ترقی اوروہاں معاشی سرمایہ کاری پرخراج تحسین پیش کرتاہوں لیکن ملک کے دیگر حصوں کو محروم کرکے صرف ایک مخصوص علاقے یا صوبے کی ترقی کا خیال کرنا حکومت کی ایک بڑی غلطی ہے۔ اگر یہ عمل بغیر کسی احتساب کے جاری رہا تو اس کی وجہ سے دوسرے ملک کے دوسرے صوبوں اور قبائلی علاقہ جات میں شدید احساس محرومی پیدا ہوسکتا ہے۔

سوال:    برطانیہ میں آپ کے مقدمات کے کیا حالات ہیں ؟اور کیا آپ یہاں کے عدالتی نظام سے مطمئن ہیں؟

جواب:    سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گاکہ میں برطانوی عدالتی نظام کی بہت عزت کرتا ہوں، چوں کہ تفتیش ابھی جاری ہے اس لیے میں کیسز کے بارے میں مزید کوئی رائے دینے سے قاصر ہوں۔ ایک بات جو میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے کہیں بھی نہ کوئی جرم کیاہے اور نہ کوئی قانون توڑا ہے اور میں تمام الزامات کی مکمل تردید کرتا ہوں۔ ایک قانون پسند برطانوی شہری ہونے کے ناطے میں اربابِ اختیار کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتا ہوں اور یہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

سوال:    میڈیا میں اس طرح کی خبریں آرہی ہیں جیسے آپ کی نقل و حمل کو محدود کیا گیا ہے اور آپ کو پابند کیا گیا ہے کہ آپ ہر ماہ پولیس اسٹیشن میں جاکر حاضری دیں، کیا یہ درست ہے؟

جواب:    جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہ معاملہ ابھی تفتیشی مراحل میں ہے اس لیے میں اس پر رائے زنی کرنے سے قاصر ہوں۔

سوال:    سب سے بڑی غلط فہمی ایم کیو ایم کے حوالے سے کیا ہے اور آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں ؟

جواب:    جب سے ایم کیو ایم بنی ہے اس وقت سے ہی اس پر مختلف الزامات لگائے گئے اور اس کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پیدا کی گئیں۔ سب سے پہلے ہمیں ایک لسانی جماعت کہا گیا اس کے بعد ایک علیحدگی پسند تحریک کا نام دیا گیا۔ ایم کیو ایم پر ایک نیا ملک ،جناح پور بنانے کا الزام لگا کر اس کے خلاف جون 1992 ء میں ریاستی آپریشن کا آغاز کیاگیا۔ ہم کبھی بھی علیحدگی پسند جماعت نہیں رہے اور ہم ہر طرح کے الزامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ حقیقت تویہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد پاکستان کے بانیوں میں سے ہیں ۔ کیوں کہ ایم کیو ایم کے مقاصد پاکستان میں استحصالی طبقہ کے تسلط کے خلاف ہیں اور اربابِ اختیار ہم پر الزامات لگانے کے ماہر ہیں اور وہ ایسا کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی راہ سے ہٹنے والے نہیں ہیں کیوں کہ ایم کیو ایم کا پیغام پاکستان کو ایک جدید جمہوری ، کثیر الجہتی، کاروبار دوست اور کامیاب ملک بنانا ہے جہاں ہر کسی کو معاشرتی انصاف، مذہبی آزادی اور ہر طرح کے بنیادی انسانی حقوق مہیا ہوں گے۔ ایم کیوایم نے پڑھے لکھے اور روشن خیال لوگوں کو پارلیمنٹ میں پہنچاکر پاکستان کی موروثی سیاست کو کمزور کردیا ہے۔ ہم اپنی استقامت اور ہمت سے لوگوں کی غلط فہمی اور الزامات کو غلط ثابت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہمارا پیغام تمام پاکستانیوں تک پہنچ رہا ہے۔ یہ ایک تھکا دینے والی جدو جہد ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم ٹھیک کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

سوال:    آپ پاکستان تحریکِ انصاف ، ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری شجاعت کے احتجاج کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا پاکستان میں کوئی انقلاب پرورش پارہا ہے؟

جواب:    ۔۔۔ایک بات تو یقینی ہے کہ پاکستان کو مختلف الجہتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اپنی تخلیق سے آج تک اس ملک پر مختلف جاگیرداروں ، قبائلی سرداروں، متوسط سیاسی شخصیات اور مراعات یافتہ طبقہ کی حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں جب کہ عام پاکستانی غریب سے غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی بدعنوانی کی وجہ سے عام لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہورہے ہیں جیسے کہ پینے کا صاف پانی، اعلی تعلیم، جدید اسپتال، بجلی، گیس اور خوراک شہروں تک میں دستیاب نہیں ہیں۔ انتخابی نظام بھی بدعنوان مراعات یافتہ حکومتی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، اس لیے کسی واضح تبدیلی کے اثرات کہیں نظر نہیں آسکے ۔ انتخابات ہی جمہوریت کاواحد راستہ نہیں ہیں بلکہ بہتر نظم و نسق بھی جمہوری نظام کا بنیادی حصہ ہے جو پاکستان کے بننے کے بعد سے آج تک دستیاب نہیں ہو پایا۔عام پاکستانی جنہیں اس ملک کے بدعنوان سیاسی نظام نے حکومتی ایوانوں سے باہر رکھا ہے انہیں بھی اقتدارمیںآنے کا موقع دیا جانا چاہئے تاکہ عام پاکستانیوں کی زندگی کوبہتر بنایا جاسکے اور پاکستان کے ممکنہ وسائل کوصحیح طریقے سے استعمال کیا جاسکے۔ جہاں تک لفظ ’’انقلاب ‘‘کاتعلق ہے تووہ میرے لئے بہت انقلابی ہے تاہم میرے خیال میں پاکستان میں واقعی ایک سچی اصلاح کی خواہش پرورش پارہی ہے۔ 

12/7/2016 8:19:31 AM