Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پی پی او ایک کالاقانون ہے ،میں ذاتی طورپراس کامخالف ہوں۔الطاف حسین


پی پی او ایک کالاقانون ہے ،میں ذاتی طورپراس کامخالف ہوں۔الطاف حسین
 Posted on: 7/3/2014 1
پی پی او ایک کالاقانون ہے ،میں ذاتی طورپراس کامخالف ہوں۔الطاف حسین
کبھی کبھی کڑواگھونٹ پیناپڑتاہے،ہم نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے بادل ناخواستہ اس کی حمایت کی ہے
ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ختم ہوتے ہی پی پی او کے قانون کوختم کردینا چاہیے
ملک سے فرسودہ نظام کے خاتمہ اورعام آدمی کوبااختیاربنانے کیلئے جوبھی سامنے آتاہے اس کاساتھ دینے کیلئے تیار ہوں
دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تاخیرکے بارے میں جنرل اطہرعباس کی بات درست ہے
میں نے خودکئی سال قبل چیخ چیخ کرکہاکہ طالبانائزیشن ملک کیلئے سنگین خطرہ ہے ،دہشت گردوں کے خلاف کارروائی
میں دیرکی گئی توملک کابہت نقصان ہوجائے گاتومیرامذاق اڑایاگیا
ہم نے سوات آپریشن کی بھی حمایت کی تھی اوراس آپریشن ضرب عضب کی بھی بھرپور حمایت کرتے ہیں
امریکہ، برطانیہ،انڈیا اورافغانستان کودہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں تعاون کرناچاہیے
افغان صدر حامدکرزئی ایک اچھے پڑوسی ہونے کاثبوت دیں اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کاساتھ دیں
کراچی پریس کلب میں سینئرصحافیوں، مدیروں، اینکرپرسنز، رپورٹرز، کیمرہ مینوں، فوٹوگرافرز اورصحافتی تنظیموں کے ارکان سے خطاب

لندن ۔۔۔3،جولائی 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پی پی او ایک کالاقانون ہے اورمیں ذاتی طورپراس کامخالف ہوں لیکن کبھی کبھی کڑواگھونٹ پیناپڑتاہے،ہم نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے بڑے مقصد کیلئے بادل ناخواستہ اس کی حمایت کی ہے،ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ختم ہوتے ہی اس قانون کوختم کردینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ انقلاب اب ملک کامقدربن چکاہے،غریب ومتوسط طبقہ اورمحروم عوام کی حکمرانی کاوقت آنے والاہے،ملک سے وڈیرہ شاہی، فرسودہ جاگیردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ اورعام آدمی کوبااختیاربنانے کیلئے جوبھی سامنے آتاہے میں اس کاساتھ دینے کیلئے تیار ہوں ۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار کراچی پریس کلب میں سینئرصحافیوں، اخبارات کے مدیروں، ٹی وی چینلزکے اینکرپرسنز، رپورٹرز، کیمرہ مینوں، فوٹوگرافرز اورصحافتی تنظیموں کے عہدیداروں سے فون پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ سابق ڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آر جنرل اطہرعباس نے دوروزقبل کسی انٹرویومیں فوجی آپریشن میں تاخیر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیاتواس پر کچھ لوگ ناراض ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ جنرل اطہرعباس جب ڈی جی آئی ایس پی آرتھے اس وقت انہوں نے فوجی ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے وہی کچھ کہاجوان سے کہاگیا۔آج انہوں نے اپنا تجزیہ اورمشاہدہ پیش کرتے ہوئے صرف اتناہی کہاہے کہ اس آپریشن کا فیصلہ بہت پہلے ہی کرلیاگیاتھالیکن اس میں بہت تاخیرہوئی،اگریہ پہلے کرلیا جاتا تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جنرل اطہرعباس کی بات درست ہے،قوم گواہ ہے کہ میں نے خود کئی سال قبل چیخ چیخ کرکہاکہ ملک میں طالبانائزیشن ہورہی ہے ،یہ ملک کیلئے سنگین خطرہ ہے ، اسے روک لو، یہ کراچی میں بھی پھیل رہے ہیں،میں نے کہا کہ کراچی میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پولیس رینجرزداخل نہیں ہوسکتی ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے، اگران کے خلاف کارروائی میں دیرکی گئی توملک کابہت نقصان ہوجائے گا۔ اس وقت میری باتوں کامذاق اڑایاگیا،بہت سے لوگوں نے کہاکہ الطاف حسین لوگوں کوڈرارہاہے، کوئی طالبانائزیشن نہیں ہورہی ہے،اس وقت حکمراں جماعت کے بعض رہنماؤں حتیٰ کہ چیف منسٹرتک نے طالبانائزیشن سے انکارکیا۔ایک جماعت نے تو مخالفت میں یہ تک کہاکہ الطاف حسین طالبان کے خلاف نہیں بلکہ پختونوں کے خلاف کارروائی کی بات کررہاہے۔اس طرح پختون بھائیوکوورغلایاگیا، بالآخر وہی جماعت جس نے میری بات کوپختونوں کے خلاف قرار دیا ،جب طالبان نے کراچی کے کئی علاقوں میں قبضے کئے توانہوں نے سب سے پہلے پختونوں کی نمائندگی کی دعویداراسی جماعت کے رہنماؤں اورکارکنوں کوہی نشانہ بنایااوراس کے دفاترپرقبضے کئے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے پختون باشعورہوچکے ہیں، آج کراچی میں پختونوں کی اکثریت متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ ہے اورہم انشاء اللہ عیدکے بعد پختونوں کابڑاجلسہ کرکے دکھادیں گے کہ کراچی کے پختون کس کے ساتھ ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ سوات میں طالبان نے قبضہ کیاتووہاں ایک خونی چوک بنایاگیاجہاں روزانہ لوگوں کوذبح کیاجاتاتھا، ان دہشت گردوں نے لڑکیوں کے اسکولوں کوبموں سے اڑادیا،آخریہ کونسا اسلام ہے ؟انہوں نے کہاکہ میں جامعہ الازہرسمیت تمام بڑی یونیورسٹیوں کے علمائے کرام کوچیلنج کرتاہوں کہ وہ بتائیں کہ قرآن مجیدکی آیت ’’ اقرا باسم ربک الذی خلق ‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے کیاعورت کومخاطب کیاہے یامردکو؟کیااس آیت میں علم کی ترغیب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے جنس کی کوئی تفریق کی ہے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی طرح نبی کریمؐ نے بھی اپنی ایک حدیث مبارک میں فرمایا ’’ علم حاصل کرنا ہرمسلمان مرد اورعورت پر فرض ہے ‘‘ ۔ جبکہ ایک اورحدیث میں رسول اکرمؐ نے فرمایا ’’ علم حاصل کروخواہ اس کیلئے چین ہی کیو ں نہ جانا پڑے ‘‘ انہوں نے کہاکہ قرآن مجید کی کسی آیت میں عورتوں کے کام کرنے کوحرام قرارنہیں دیاگیاہے پھرہم کس لئے عورتوں کے گھروں سے نکلنے اوران کے کام کرنے پر پابندی لگاتے ہیں؟ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ دیرآید۔۔۔درست آید، پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردوں کے خلاف اب آپریشن ضرب عضب شروع کیاہے اس میں مسلح افواج کے افسران اورجوان اپنی جانیں قربان کررہے ہیں ، ہم نے سوات آپریشن کی بھی حمایت کی تھی اور اس آپریشن کی بھی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ تمام شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکوبھی ملک کودہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ مسلح افواج کواس آپریشن میں کامیاب کرے ،ملک کودہشت گردوں سے نجات دلائے اورپاکستان سے فرقہ واریت کی لعنت کاخاتمہ کرے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ نہ امریکہ کی ہے نہ کسی اورملک کی ،یہ پاکستان کی جنگ ہے اورپاکستان کوبچانے کی جنگ ہے۔انہوں نے کہاکہ پہلے امریکہ، برطانیہ،انڈیا اورافغانستان کی جانب سے یہ کہاجاتاتھاکہ پاکستان کودہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے ،اب پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپورآپریشن شروع کیاہے توان ممالک کوپاکستان کے ساتھ تعاون کرناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ اورسوویت یونین کی سردجنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ اورمغربی ممالک کابھرپورساتھ دیا، سردجنگ کے خاتمہ کے بعد تمام ممالک توآرام وسکون سے ہیں جبکہ پاکستان اس کاخمیازہ آج تک بھگت رہاہے۔ انہوں نے افغانستان ہمارابرادرملک ہے ، افغانی ہمارے بھائی ہیں اورمیں افغان صدر حامدکرزئی سے بھی کہتاہوں کہ وہ ایک اچھے پڑوسی ہونے کاثبوت دیں اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کاساتھ دیں کیونکہ یہ دہشت گردی افغانستان کے لئے بھی ٹھیک نہیں ہے۔ جناب الطاف حسین نے مذہبی انتہاپسندی کے بارے میں کہاکہ جبر دین کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے’’ لااکراہ فی الدین ‘‘ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ۔ اسی طرح قرآن میں مذہبی رواداری کے بارے میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے’’ لکم دینکم ولی الدین ‘‘ یعنی میرا دین میرے ساتھ تمہارا دین تمہارے ساتھ۔ اگرپاکستان میں ایک طبقہ یہ کہے کہ پاکستان صرف مسلمانوں کیلئے ہے اوریہاں سے تمام غیر مسلموں کونکال دیا جائے تویہ سوچ اسلام کی تعلیمات اورقرآن کے احکامات کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگراسی سوچ کے تحت کل تمام مغربی ممالک یہ قانون بنالیں کہ وہاں غیرمسلموں کے سواکسی کورہنے کاحق نہیں ہے توکیا وہ غلط ہوں گے؟پاکستان پروٹیکشن آرڈی ننس کے بارے میں انہوں نے کہاکہ پی پی او ایک کالاقانون ہے اورمیں ذاتی طورپراس کامخالف ہوں لیکن کبھی کبھی کڑواگھونٹ پینا پڑتاہے،ہم نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے بڑے مقصد کیلئے بادل ناخواستہ اس کی حمایت کی ہے، ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ختم ہوتے ہی اس قانون کوختم کردینا چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم امن واستحکام چاہتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ اپنے کارکنوں اوررکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف کے بہیمانہ قتل پر بھی ہم نے بازؤں پر کالی پٹیاں باندھ کرپرامن سوگ منایااورکاروباری حضرات سے اپیل کی کہ وہ اپناکاروبارجاری رکھیں۔اسلئے کہ ہم نہیں چاہتے کہ اس وقت مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف جوآپریشن کررہی ہے وہ ہمارے کسی بڑے احتجاج کی وجہ سے متاثرہو۔ہم تواپنے ساتھیوں کے جنازے اٹھاکربھی مسلح افواج کا ساتھ دے رہے ہیں اوراس کے ساتھ یکجہتی کااظہارکررہے ہیں کیونکہ اس وقت مسلح افواج کوقوم کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں ڈاکٹرطاہرالقادری اورعمران خان سے بھی یہی درخواست کروں گاکہ وہ حکومت کے خلاف اپنااحتجاج ضرورکریں لیکن اس وقت مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف نبردآزماہے ، لہٰذاآپ ایساکوئی عمل نہ کریں جس سے یہ آپریشن متاثرہو۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی فلاسفی رئیل ازم اورپریکٹکل ازم ہے اورلوگ اس کوسمجھ رہے ہیں، تمام زبانیں بولنے والے ایم کیوایم کے قریب آرہے ہیں، پختونوں اوردیگرقومیتوں کی طرح سندھ میں سندھی بولنے والے بھی تیزی سے ایم کیوایم میں شامل ہورہے ہیں اورآج سندھ کاکوئی گاؤں، گوٹھ ایسانہیں ہے جہاں ایم کیوایم کایونٹ اور کارکن موجود نہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ انقلاب اب اس ملک کامقدربن چکاہے، اب بڑے بڑے جاگیرداروں، وڈیروں کے ظلم کادورختم ہونے والاہے اور غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کی حکمرانی کاوقت آنے والاہے۔میری دعاہے کہ میری زندگی میں انقلاب آجائے ، مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے ،مجھے صدریاوزیراعظم نہیں بننا، میں نے آج تک کونسلرکاالیکشن نہیں لڑا،میں عوام کے حقوق چاہتاہوں۔ میں ملک میں انقلاب چاہتاہوں ،ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ، کرپشن اورلوٹ مار کے خاتمہ اورعام آدمی کونچلی سطح تک بااختیاربنانے کیلئے جو بھی آگے بڑھے میں عوام کوان کے حقوق دلانے کیلئے اس کاساتھ دینے کیلئے تیارہوں۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ انقلاب حقیقی ہوتووہ ایک شعبے اورادارے تک محدودنہیں رہتابلکہ ملک کے ہرشعبہ میں تبدیلی لاتاہے اوراس کی صفائی کرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں بھی ہرشعبہ میں صفائی اورتبدیلی کی ضرورت ہے اورانشاء اللہ ملک میں انقلاب آیاتوہرشعبہ میں صفائی ہوگی۔ 


12/7/2016 2:11:09 PM