Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ڈاکٹر طاہر القادری اورانکی جماعت کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریزکرناچاہیے۔ الطاف حسین


ڈاکٹر طاہر القادری اورانکی جماعت کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریزکرناچاہیے۔ الطاف حسین
 Posted on: 6/24/2014
ڈاکٹر طاہر القادری اورانکی جماعت کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریزکرناچاہیے۔ الطاف حسین
ڈاکٹر طاہر القادری کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیاجاسکتاہے لیکن وہ ایک عوامی جماعت کے سربراہ ہیں ،ہمیں ڈاکٹر طاہر القادری کوحاصل عوامی حمایت کا احترام کرنا چاہیے
ملک کامنظر نامہ نہ صرف بڑا افسوسناک ہے بلکہ پریشان کن بھی ہے، یہ صورتحال ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے
ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث ہرشعبہ متاثرہورہاہے۔الطاف حسین
دہشت گردی ،قتل اوراغوابرائے تاوان کے مسلسل واقعات کے باعث کاروباری حضرات اپنا سرمایہ ملک سے باہرلے جا رہے ہیں
پاکستان میں نہ سیاح محفوظ ہیں اورنہ ہی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام ۔ اگرہم اندرونی دہشت گردی سے محفوظ ہو جائیں تو
ملکی معیشت بہتربنانے میں مددمل سکتی ہے۔انٹرویومیں اظہارخیال
لندن۔۔۔24 جون 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیاجاسکتاہے لیکن وہ ایک عوامی جماعت کے سربراہ ہیں اورانکے ماننے والے بہت بڑی تعدادمیں ہیں جن میں نوجوان ہی نہیں بلکہ طلبہ وطالبات، خواتین اوربزرگ بھی شامل ہیں،ہمیں ڈاکٹر طاہر القادری کوحاصل اس عوامی حمایت کا احترام کرنا چاہیے اورانکی جماعت کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریزکرناچاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار ایک انٹرویومیں کیا۔پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پرہونے والے تشددکے بارے میں انہوں نے کہاکہ 17جون کولاہورمیں تحریک منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ اورڈاکٹرطاہرالقادری کے گھر پرپولیس نے حفاظتی بیریئر توڑنے کیلئے جس طرح چڑھائی کی،جس طرح پرامن نوجوانوں، بزر گوں حتیٰ کہ خواتین پراندھادھندگولیاں چلائی گئیں ، جس طرح لوگوں کوتشددکانشانہ بنایاگیااس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے گزشتہ روزڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی پر پیش آنے والے واقعات کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے بہت پہلے ہی وطن واپسی کا اعلان کر دیا تھا لیکن حکومت نے اس معاملے کوجس طرح ڈیل کیاوہ افسوسناک ہے ۔گزشتہ روز معاملے کے حل کیلئے ا پنی کوششوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ روزجس قسم کی صورتحال تھی اس پر کونسا پاکستانی ایسا ہے جس کو فکر نہ تھی، مجھے بھی فکر تھی میں بھی دو راتوں سے جاگ رہا تھا۔ میں نے گورنر سندھ سے بات کی کہ آپ جہاں جہاں بات کر سکتے ہیں بات کریں اور معاملے کو پر امن طور پر حل کرائیں۔ جب ڈاکٹرطاہرالقادری کے جہاز کو اسلام آبادسے لاہورلے جایاگیا اور معاملہ مزیدسنگین شکل اختیارکرنے لگا تو میں نے تیسری بار گورنر سندھ سے کہا کہ آپ گورنر سندھ کی حیثیت سے بات کریں معاملے کے حل کیلئے کوشش کریں، گورنر سندھ نے وزیراعظم ،وفاقی حکومت کی دیگر شخصیات اور پنجاب کے گورنر اور وزیراعلیٰ سے بات کی ،ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینرڈاکٹرخالدمقبول کی گورنرپنجاب چوہدری محمدسرورسے بات ہوئی۔ میں نے خود بھی ڈاکٹرطاہر القادری سے بات کی ،انہوں نے میرے سامنے اپنے چار مطالبات رکھے۔میں نے ان سے کہاکہ میں سیاسی کارکن کی حیثیت سے آپ کے مطالبات حکمرانوں تک پہنچا سکتا ہوں، میں نے فوری طورپر ٹی وی پرآکراپنی بات ان تک پہنچائی بھی۔ جس کے بعدگورنرپنجاب چوہدری محمدسرورڈاکٹرطاہرالقادری سے ملاقات کے لئے پہنچے اورمعاملہ حل ہوا۔ بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے ڈاکٹرطاہرالقادری کے خلاف کی جانے والی باتوں کے حوالے سے جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیاجاسکتاہے لیکن وہ ایک عوامی جماعت کے سربراہ ہیں اورانکے ماننے والے بہت بڑی تعداد میں ہیں جن میں نوجوان ہی نہیں بلکہ طلبہ وطالبات، خواتین اوربزرگ بھی شامل ہیں،ہمیں ڈاکٹر طاہر القادری کوحاصل اس عوامی حمایت کا احترام کرنا چاہیے اوران کی جماعت اورکارکنوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریزکرناچاہیے۔ملک کی مجموعی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک کامنظر نامہ نہ صرف بڑا افسوسناک ہے بلکہ پریشان کن بھی ہے، یہ صورتحال ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ ہم تاریک سرنگ میں سفر کرتے ہوئے روشنی کے طا لب ہیں،تاہم تاریک سرنگ کے بعد ہلکی سی روشنی بھی نظر آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلح افواج بارڈر پر ہیں، موجود ہ حالات میں وہاں نفری کی ضرورت ہے اور بیریکوں میں جو فوج ہوتی ہے وہ بھی ہمہ وقت تیار ہے، مسلح افواج نے پاکستان کی سلامتی ، اہم عسکری اورسویلین تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کیلئے ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کا فیصلہ کیاہے ۔یہ دہشت گرد مسلح افواج کی تنصیبات کو خود کش حملوں سے اڑاتے ہیں، کراچی ائیر پورٹ کا سانحہ سب کے سامنے ہے کتنے بے گناہ اس میں شہید کئے گئے، انٹر نیشنل ائیر پورٹ ہونے کی وجہ سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث ہرشعبہ متاثرہورہاہے،سری لنکاکی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد دیگرممالک کی کرکٹ اور ہاکی کی ٹیمیں ہمارے ملک میں آنے کو تیار نہیں ہیں، آئے دن کے حملوں کے بعد غیر ملکیوں کے اغوا برائے تاوان اور انہیں قتل کرنے کے واقعات ہوئے کونسا میدان رہ گیاہے جہاں ملک کی بدنامی نہ ہوئی ہو۔ پاکستان میں سیاح بھی محفوظ نہیں، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام محفوظ نہیں ہیں جبکہ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلسل دہشت گردی کی وجہ سے ملکی معیشت بھی بری طرح متاثرہورہی ہے اوردہشت گردی ،قتل اوراغوابرائے تاوان کے مسلسل واقعات کے باعث بڑی تعدادمیں چھوٹے بڑے تاجروصنعتکار اور کاروباری حضرات اپنا سرمایہ ملک سے باہرلے جا چکے ہیں اورجو باقی بچے ہیں انہوں نے بھی اپنا سرمایہ باہر لے جانا شروع کر دیاہے ،ہم معاشی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب ملک میں صنعتیں اور کارخانے نہیں کھلیں گے تو ہم ایکسپورٹ کس طرح کرینگے اورملک کی معیشت کس طرح بہتر ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ اگرہم اندرونی دہشت گردی سے محفوظ ہو جائیں تو ملک کی معیشت بہتربنانے میں مددمل سکتی ہے۔ 

12/11/2016 12:09:09 AM