Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

رکن اسمبلی طاہرہ آصف پر قاتلانہ حملے میں مذہبی انتہاء پسند عناصر ملوث ہیں، الطاف حسین


رکن اسمبلی طاہرہ آصف پر قاتلانہ حملے میں مذہبی انتہاء پسند عناصر ملوث ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 6/18/2014
رکن اسمبلی طاہرہ آصف پر قاتلانہ حملے میں مذہبی انتہاء پسند عناصر ملوث ہیں، الطاف حسین
ایم کیوایم کے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو مذہبی انتہاء پسند عناصر کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں
لاہور میں پولیس کی ظالمانہ کارروائی طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہے
سپریم کورٹ سانحہ لاہور کا ازخود نوٹس لے، وزیر اعظم، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت پولیس و انتظامیہ کے تمام افسران کو عدالت طلب کرکے تحقیقات کی جائے
موجودہ حکومت عوامی دباؤ کے تحت بادل ناخواستہ فوجی آپریشن کرنے پر راضی ہوئی ہے
پاکستان میں فرقہ واریت کی بنیاد پر مسلمانوں کی تقسیم کی جارہی ہے، یہی عمل عراق، بیروت، شام، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں بھی کیا جارہا ہے
ملت اسلامیہ خدارا!! فرقہ واریت کی بنیاد پر مسلمانوں کی تقسیم اور شیعہ سنی کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قتل عام کا سلسلہ فی الفور بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ ایک انٹرویو میں اظہار خیال
لندن ۔۔۔18،جون 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ دین اسلام ، بھلائی، امن ، محبت، پیار اور سلامتی کامذہب ہے اور دین اسلام میں غیرمسلموں کی جان ومال اورعبادت گاہوں کے تحفظ کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدارا!! فرقہ واریت کی بنیاد پر مسلمانوں کی تقسیم اورشیعہ سنی کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قتل عام کا سلسلہ فی الفوربند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی شب نجی ٹیلی ویژن کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔اپنے انٹرویو میں انہوں نے حق پرست رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس حملے میں مذہبی انتہاء پسند عناصر ملوث ہیں ، ایم کیوایم کے رہنماؤں اورمنتخب نمائندوں کو مذہبی انتہاء پسند عناصر کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں ۔ گزشتہ روز اور آج بھی رینجرز نے بعض انتہاء پسند دہشت گردوں کو گرفتارکیا ہے جن کے قبضے سے ایم کیوایم کے رہنماء ڈاکٹرفاروق ستار ، حیدر رضوی اور دیگر رہنماؤں کے ناموں کی پرچیاں نکلی ہیں ۔ طالبان کے رہنماؤں کے یہ بیانات اخبارات کے ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں ان کی جانب سے کہاگیا ہے کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم ، ان کی نمبرون ٹارگٹ ہے ۔ لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے مرکز ی دفتر پر پولیس کی کارروائی کاتذکرہ کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں کسی پر جھوٹا الزام عائد نہیں کرنا چاہتا البتہ پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز نے پولیس اہلکاروں کی بربریت کے جومناظر دکھائے ہیں انہیں کوئی جھٹلانہیں سکتا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں پولیس کی ظالمانہ کارروائی طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہے ،مسلح افواج شمالی وزیرستان سمیت ملک بھر میں ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن میں مصروف ہے ایسے وقت میں کوئی ذی شعور تحریک منہاج القرآن کے مرکز اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ سے بیرئیرز ہٹانے کافیصلہ نہیں کرتا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان عوامی تحریک کے قائدین کے مطابق اب تک ان کے 11کارکنان شہید ہوچکے ہیں جبکہ اسپتال میں زیرعلاج درجنوں زخمیوں کے جسموں سے گولیاں نہیں نکالی جارہی ہیں، دوسو سے زائد کارکنان کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے صاحبزادے کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اس سے قبل کئی معاملات پر سوموٹولیاہے لہٰذا میری اپیل ہے کہ سپریم کورٹ کو سانحہ لاہور کا بھی فوری نوٹس لیناچاہیے اور ازخود نوٹس لیکرموجودہ وزیراعظم ، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت پولیس وانتظامیہ کے تمام افسران کو عدالت طلب کرکے تحقیقات کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ جب سپریم کورٹ دومنتخب وزرائے اعظم کو عدالت طلب کرسکتی ہے تو موجودہ وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب کوکیوں طلب نہیں کیاجاسکتا؟ دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن پاکستان کے 18 کروڑعوام کا متفقہ فیصلہ تھا اور موجودہ حکومت عوامی دباؤ کے تحت بادل ناخواستہ فوجی آپریشن کرنے پرراضی ہوئی ہے ۔موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح کرے، سب کو انصاف فراہم کرے اور قانون سب کیلئے برابر کااصول اپنائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں فرقہ واریت کی بنیادپر مسلمانوں کی تقسیم کی جارہی ہے ، تافتان میں شیعہ زائرین کو شناخت کرکے قتل کیاگیا، اس سے قبل بھی زائرین اور ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام کیا گیا لیکن آج تک قاتلوں کو گرفتارنہیں کیاگیا ہے ۔یہی عمل عراق ، بیروت، شام،سعودی عرب اوردیگر ممالک میں بھی کیاجارہا ہے تاکہ شیعہ وسنی مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کیاجاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے مذہبی مدارس اور علمائے کرام کی اکثریت فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے اور شیعہ سنی فساد نہیں چاہتی ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم سب کو ہراس ایکشن کی حمایت کرنی چاہیے جس سے قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اورپاکستان کی بقاء وسلامتی یقینی بنائی جاسکے ۔

12/6/2016 11:58:54 AM