Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دہشت گرد اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،الطاف حسین


دہشت گرد اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،الطاف حسین
 Posted on: 6/15/2014
دہشت گرد اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،الطاف حسین
اگردہشت گردرہیں گے توخاکم بدہن پاکستان نہیں رہے گااورپاکستان رہے گاتودہشت گردوں کاخاتمہ کرناہوگا
دنیا بھر کے دہشت گردہمارے قبائلی علاقوں اور شہروں میں آن بسے ہیں جوہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں
اگران دہشت گردوں کا پورے ملک پر قبضہ ہوگیاتو جگہ جگہ انسانوں کو ذبح کیاجائیگااورعورتوں کوگھروں میں بندکردیاجائیگا
ملک اوربیرون ملک آبادتمام امن پسندپاکستانی اپنے فرض کوپہچانتے ہوئے پاکستان کو بچائیں
ہم کسی بھی مذہب، عقیدے یامسلک کے خلاف نہیں ہیں،ہم مذہبی جنونیت اورمذہب ومسلک کے نام پرایک دوسرے کو کافر قرار
دینے اورمعصوم لوگوں کے قتل کے خلاف ہیں
ملک کے تمام امن پسندعوام کو مذہبی جنونیت کے خاتمے اورمذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے اتحادکامظاہرہ کرناہوگا
ایم کیوایم ہرقسم کی دہشت گردی اورتشددکے خلاف ہے ۔ایم کیوایم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیامیں امن چاہتی ہے
لندن میں ایم کیوایم یوکے کے زیراہتمام اے پی ایم ایس او کے 36 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔15،جون2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ دہشت گرد اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اگردہشت گردرہیں گے توخاکم بدہن پاکستان نہیں رہے گااورپاکستان رہے گاتودہشت گردوں کاخاتمہ کرناہوگا۔ اگران دہشت گردوں کا پورے ملک پر قبضہ ہوگیاتو یہ ملک میں جگہ جگہ مذبح خانے بنادیں گے جہاں جانوروں کے بجائے انسانوں کو ذبح کیاجائے گا۔ ملک اوربیرون ملک آبادتمام امن پسندپاکستانی اپنے فرض کوپہچانتے ہوئے پاکستان کو بچائیں ۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار لندن میں ایم کیوایم برطانیہ کے زیراہتمام منعقد کئے جانیوالے اے پی ایم ایس او کے 36 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر،بریڈفورڈ، شیفیلڈ، سرے اور نوٹنگھم کے علاوہ بیلجئم، فرانس، سوئیڈن ،آئرلینڈ اورہالینڈسے بھی ایم کیوایم کے کارکنوں اورسینکڑوں پاکستانیوں نے شرکت کی ۔گزشتہ دنوں علالت کے باعث ڈاکٹروں نے جناب الطاف حسین کوآرام کرنے کامشورہ دیاتھا، ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کیا۔ 
تقریب میں رابطہ کمیٹی کے اراکین، پاکستان سے آئے ہوئے حق پرست ارکان اسمبلی ، سابق ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ،مختلف شعبوں کے ذمہ داران، کارکنان اورہمدردوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ تقریب میں خواتین اور بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔تقریب میں حاضرین کی بہت بڑی تعداد کے باعث ہال میں موجودنشستیں کم پڑگئیں اور لوگوں کی بڑی تعداد نے ہال کے اطراف میں کھڑے ہوکر جناب الطاف حسین کا خطاب سنا۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے تمام حاظرین کو اے پی ایم ایس او کے 36 ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ 11، جون ایم کیوایم کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے جب جامعہ کراچی میں ایک طلباء تنظیم قائم کی گئی جس نے ایم کیوایم جیسی عوامی تحریک کوجنم دیا جوملک بھر کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے،اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ امریکہ، کینیڈا، ساؤتھ افریقہ ، آسٹریلیااوربیلجئم کے علاوہ دیگرممالک میں بھی منایا گیا ہے جس پر میں ایم کیوایم اوورسیز یونٹوں کے تمام ذمہ داران اورکارکنان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے تقریب کے تمام شرکاء کوخوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ آج لندن میں منعقدہ اجتماع میں صرف اردوبولنے والے ہی شریک نہیں ہیں بلکہ پاکستان کی تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہیں۔ایم کیوایم ،پاکستان کی واحد جماعت ہے جو ملک میں بسنے والے پنجابیوں ، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، سرائیکیوں، کشمیریوں، ہزاروال ، گلگتیوں،بلتستانیوں کے علاوہ تمام مکاتب فکر اور پاکستان میں بسنے والے تمام غیرمسلموں کی نمائندگی کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حق پرستانہ جدوجہد میں ایم کیوایم نے کئی مرتبہ آگ اورخون کے دریاعبورکیے ، ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، عقوبت خانوں میں بدترین تشددکا سامنا کیااور میرے بڑے بھائی ناصر حسین اور جواں سالہ بھتیجے عارف حسین سمیت15 ہزار سے زائد کارکنان کوانسانیت سوز تشدد کانشانہ بناکرماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس جدوجہد کے دوران مجھ پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے، مجھے تین مرتبہ گرفتارکرکے بدترین تشددکانشانہ بنایا گیااورایم کیوایم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ مہم چلائی گئی۔ ایم کیوایم مخالف قوتیں سمجھتی تھیں کہ وہ منفی پروپیگنڈوں،طاقت اورظلم کے ذریعہ پاکستان میں بسنے والی مظلوم قومیتوں کو ایم کیوایم اور الطاف حسین کے خلاف کردیں گی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اورمیرے ساتھیوں کو ہمت دی اور ہم نے اپنی جدوجہد جاری رکھی جس کا نتیجہ ہے کہ آج ہماری تحریک کادائرہ ملک بھرمیں پھیل گیااورآج ایم کیوایم میں تمام قومیتوں، مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد تنظیم ہے جو فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ اورملک میں صحیح معنوں میں ایسی سچی جمہوریت کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے جہاں عوام کی حکومت، عوام سے اورعوام کیلئے ہو، جاگیرداروں اوروڈیروں کیلئے نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو مذہبی انتہاء پسندی جیسے عفریت کا سامنا ہے ، ملک دشمن عناصر مذہب کو استعمال کرکے پاکستان اور اس کے عوا م کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، چار روزقبل تافتان میں سفاک دہشت گردوں نے معصوم وبے گناہ زائرین پر مسلح حملہ کرکے ان کا قتل عام کردیا کیونکہ وہ شیعہ فقہ سے تعلق رکھتے تھے ،اس سے قبل کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کا قتل عام کیا گیا مگر آج تک ان کے قاتلوں کوگرفتارنہیں کیاگیا ہے جوکہ انتہائی افسوسناک ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ببانگ دہل اہل تشیع کو کافرقراردیتا ہے لیکن میری نظر میں جو اہل تشیع کو کافرکہتا ہے وہ خود کافر ہے ۔اسی طرح اگرجو شیعہ حضرات صحابہ کرامؓ کی بے حرمتی کرتے ہیں وہ بھی قابل مذمت ہیں لیکن میں سمجھتاہوں کہ سچے شیعہ صحابہ کرام ؓ کا احترام کرتے ہیں۔پاکستان کو اس وقت اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے لہٰذا ہم سب کو ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اورعقائد کااحترام کرنا چاہیے اوراپنے نظریات زبردستی کسی پر مسلط نہیں کرنا 
جار ی ہے ۔۔۔


( 3 ) الطاف حسین خطاب/ لندن/یوم تاسیس
چاہئیں کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ ’’لااکراہ فی الدین‘‘یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے ۔ اسی طرح ایک اورجگہ ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ’’لکم دین کم ولی الدین‘‘ یعنی تمہارادین تمہارے ساتھ اور میرا دین میرے ساتھ۔ جناب الطاف حسین نے پنڈال کے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا دین اسلام ، مسلک اور عقیدہ کی بنیادپر کسی کے قتل کاحکم دیتا ہے ؟ اورسرکاردوعالم ؐ نے کیاکسی مخالف فقہ ، مسلک یامذہب سے تعلق رکھنے والوں کو مارنے کی تلقین کی ہے ؟جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا’’ہرگز نہیں‘‘ ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سرکاردوعالم ؐ سارے عالم کیلئے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے ، دین اسلام کی تبلیغ کی پاداش میں ان پر کوڑا پھینکا جاتا تھا اور جس دن ان پر کوڑا نہیں پھینکا گیا توآپ کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کیلئے اس کے گھر تشریف لے گئے ۔ ہم روزانہ نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں ، سورۃ فاتحہ کی ایک آیت ہے کہ ’’مالک یوم الدین‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ یوم محشرکا مالک ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ روزمحشرکامالک ہے اور وہ خود فیصلہ کرے گا کہ کون جنتی ہے اور کون دوزخی ہے توپھر ہمیں یہ کس نے اختیاردیا ہے کہ ہم زمین پر جنت اوردوز خ کے سرٹیفیکٹ بانٹتے پھریں؟
جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم کسی بھی مذہب، عقیدے یامسلک کے خلاف نہیں ہیں،ہم مذہبی جنونیت اورمذہب ومسلک کے نام پرایک دوسرے کو کافر قراردینے اورمعصوم لوگوں کے قتل کے خلاف ہیں۔ مذہبی انتہاء پسندعناصرچاہتے ہیں کہ صرف انکے نظریات ماننے والے زندہ رہیں اور مخالف نظریات یاعقیدہ رکھنے والے قتل کردیئے جائیں ۔ یہ عمل قران مجید اوررسول اکرم ؐ کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے ،ملک کے تمام امن پسندعوام کو اس مذہبی جنونیت کے خاتمے اورمذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے اتحادکامظاہرہ کرناہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں نے کئی سال قبل اسی ہال اورلندن کے دیگر مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب میں کہاتھا کہ طالبان دہشت گرد، دین اسلام کے دشمن ہیں جو مذہب کی آڑ میں دین اسلام کو تباہ اوربدنام کررہے ہیں، طالبانائزیشن کراچی اور پاکستان کودیمک کی طرح کھاجائے گی لہٰذا طالبانائزیشن کوروکنے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں تو میرا مذاق اڑایا گیا اور کہاگیا کہ الطاف حسین عوام کو خوفزدہ کررہا ہے لیکن آج پاکستان بھرکے عوام ایمانداری سے بتائیں کیا میں نے غلط کہاتھا؟کیا پاکستان کے عوام آج اس بات سے انکارکریں گے کہ یہ دہشت گرد ملک کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں ، دنیا بھر کے دہشت گردہمارے قبائلی علاقوں اور شہروں میں آن بسے ہیں ، اہم قومی تنصیبات ،مساجد ، امام بارگاہوں اورمزارات کو بموں سے اڑارہے ہیں، بے گناہ نمازیوں اور معصوم زائرین کو شہید کررہے ہیں۔ حال ہی میں ان دہشت گردوں نے کراچی ائیرپورٹ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا، اس سے قبل جی ایچ کیو، کامرہ ائیربیس، نیوی کے مہران بیس اوردیگرمقامات کو دہشت گردی کانشانہ بناچکے ہیں۔ان دہشت گردوں نے طاقت کے بل پر اپنی علیحدہ ریاست قائم کررکھی ہے اگران دہشت گردوں کا پورے ملک پر قبضہ ہوگیا اور انہوں نے پاکستان میں اپنی حکومت قائم کرلی تو یہ ملک میں جگہ جگہ مذبح خانے بنادیں گے جہاں جانوروں کے بجائے انسانوں کو ذبح کیاجائے گا،خواتین کو تعلیم کاحق نہیں ہوگا،انہیں ملازمت نہیں کرنے دیاجائے گا ، بچیوں کواسکول جانے کی اجازت نہ ہوگی اور یہ دہشت گردخواتین کو گھروں میں قیدکردیں گے ۔انہوں نے کہاکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ ’’پڑ ھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے خلق کیا‘‘ اور یہ عورتوں اورمردوں دونوں کومخاطب کرکے کہاگیا ہے ۔ اسی طرح سرکاردوعالم ؐ کی حدیث مبارکہ ہے کہ علم حاصل کرنا ہرمسلمان مرد اورعورت پر فرض ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں اب تک 10ہزارفوجی افسران اورجوان اور70ہزار شہری شہید کئے جاچکے ہیں اوران دہشت گردوں کی جانب سے حساس مقامات اورشہریوں پر دہشت گردحملوں کاسلسلہ جاری ہے،کیاحکومت اب بھی یہ سب کچھ ہوتادیکھتی رہے گی؟ کیا حکومت پاکستان کواب یہ نہیں چاہیے کہ وہ ان دہشت گردوں سے ڈائیلاگ ختم کرکے مسلح افواج کو یہ حکم دے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن کیا جائے اورعوام کوان دہشت گردوں سے نجات دلائی جائے؟انہوں نے کہاکہ اگراس بات پر بعض لوگ یہ سوچیں کہ ہم ڈائیلاگ کی مخالفت کررہے ہیں توہم نے امن کی خاطر وزیراعظم کی زیرصدارت آٹھ ماہ قبل ہونے والی اے پی سی میں دہشت گردوں سے مذاکرات کی رائے پراتفاق کیاتھالیکن اس عرصہ میں دہشت گردوں نے خوب تیاری کی، ہتھیار جمع کیے جس کے بعد انہوں نے بڑے بڑے مسلح حملے کئے ،فوجیوں کے گلے کاٹے اوران کی جانب سے مسلح دہشت گردی کی کارروائیوں کاسلسلہ جاری رہااورحال ہی میں ایئرپورٹ پر حملہ کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیاہے کہ ملک کوبچانے کیلئے ان دہشت گردوں کا صفایاکیاجائے کیونکہ دہشت گرد اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اگردہشت گردرہیں گے توخاکم بدہن پاکستان نہیں رہے گااورپاکستان رہے گاتودہشت گردوں کاخاتمہ کرناہوگا۔انہوں نے اجتماع کے توسط سے برطانیہ اورتمام بیرون ملک آبادپاکستانیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ صورتحال تمام پاکستانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے لہٰذا آپ پاکستان کوبچانے کیلئے آگے آئیے، یہ حکومت یاکسی ایک جماعت کانہیں بلکہ بحیثیت پاکستانی ہم سب کافرض ہے ۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ہرقسم کی دہشت گردی اورتشددکے خلاف ہے ، ایم کیوایم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیامیں امن چاہتی ہے، ایم کیوایم پاکستان میں ایسے حقیقی جمہوری نظام کیلئے جدوجہدکررہی ہے جہاں تمام شہریوں کورنگ ،نسل ، زبان ،مسلک، مذہب اورجنس کے امتیازسے بالاترہوکرمساوی حقوق حاصل ہوں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے اپنی جدوجہدکاآغازکیاتومیں24سال کاتھا،میں نے محروم عوام کے حقوق کے مشن ومقصدکیلئے اپنی جوانی، تمام خواہشات اورامنگوں کوقربان کردیا۔رات دن محنت کرنے کی وجہ سے مجھے بیماریاں ہوگئیں لیکن میرے حوصلے آج بھی بلندہیں، آج بھی میں رات دن کام کررہاہوں۔جب گزشتہ دنوں برطانوی پولیس نے مجھے گرفتارکیاتو اللہ کاشکرہے کہ خوف کاکوئی عنصر میرے قریب نہیں آیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرامقدمہ کورٹ میں ہے،میں برطانوی عدالتی نظام کااحترام کرتاہوں اوراس پر یقین رکھتاہوں ۔اگر جھوٹے الزامات میں مجھے کچھ ہوجاتاہے تو کارکنوں اورعوام سے کہوں گاکہ میری فکرنہ کرنا،تحریک کوجاری رکھنا ، پاکستان میں حقیقی جمہوری نظام کیلئے اور محروم عوام کے حقوق کے لئے میری جاں کل بھی حاظرتھی اورآج بھی حاظرہے۔جناب الطاف حسین نے گزشتہ دنوں ان کی گرفتاری کے موقع پر 45ڈگری گرمی کے باوجود پاکستان کے مختلف شہروں میں پرامن دھرنے دینے، امن برقراررکھنے اور برطانیہ سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں ان سے بھرپوریکجہتی اورمحبت وعقیدت کا اظہار کرنے پر ایم کیوایم کے کارکنوں اورعوام کوزبردست سلام تحسین پیش کیا ۔انہوں نے دوران حراست ان کابھرپورخیال رکھنے پر برطانوی پولیس اورحکومت کاخصوصی شکریہ اداکیا۔انہوں نے نوجوانوں خصوصاً طلبہ وطالبات پرذوردیاکہ وہ اپنی تعلیم پرخصوصی توجہ دیں، تعلیم مکمل کرنے کے بعد دیگر چیزوں کے بارے میں سوچیں،اپنے والدین، اساتذہ اوربزرگوں کا احترام کریں۔ انہوں نے بچوں کوبھی تلقین کی کہ وہ دن بھر کمپیوٹرگیمزکھیلنے یاٹی وی دیکھنے کے بجائے ان کاوقت مقررکریں۔انہوں نے تحریک کے تمام شہداء اورانتقال کرجانے والوں کیلئے دعائے مغفرت کی اورایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ شعبہ ء خواتین کی انچارج محترمہ صفیہ اکبراور بزرگ کارکنوں حافظ مسرور اورعثمان دہلوی کی صحتیابی کیلئے دعاکی۔ اجتماع سے رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینرندیم نصرت، رابطہ کمیٹی کے ارکان طارق جاوید، محمدانور، مصطفےٰ عزیزآبادی، قاسم علی رضا، سندھ ا سمبلی میں ایم کیویم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈرخواجہ اظہارالحسن ،ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزرڈاکٹرسلیم دانش ،جوائنٹ آرگنائزرسہیل خانزادہ اوریوتھ ونگ کی حبادانش نے بھی خطاب کیاجبکہ نظامت کے فرائض سہیل زیدی اورمحسن علی نے انجام دیے۔
 






















































12/11/2016 7:52:19 AM