Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

برسوں سے جو بجٹ پیش کئے جارہے ہیں وہ عوامی مفاداتی بجٹ نہیں ہیں ، سردار احمد


برسوں سے جو بجٹ پیش کئے جارہے ہیں وہ عوامی مفاداتی بجٹ نہیں ہیں ، سردار احمد
 Posted on: 6/12/2014
برسوں سے جو بجٹ پیش کئے جارہے ہیں وہ عوامی مفاداتی بجٹ نہیں ہیں ، سردار احمد
شہروں میں راشننگ کو متعارف کرایاجائے،مینٹیننس اور ریپیئرکے جو فنڈزکو آؤٹ سورس کیاجائے
تنخواہ زیادہ ہونے پر ہم پراپرٹی ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ایگری کلچر سے کوئی انکم ٹیکس نہیں لیاجاتا اور اسے استثنیٰ دیا ہوا ہے
بجٹ بنانے سے قبل ایم کیوایم سے قطعی کوئی رائے نہیں لی گئی ، سید سردار احمد
صحت اور تعلیم کے شعبے اہم ہیں ، ان میں لوگوں کو بہت مشکلات اور تکالیف کا سامنا ہے ، سید سردار احمد
سردار احمد کی خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں حق پرست اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس ، ایم کیوایم
کا تجویز کردہ بجٹ برائے سال 2014-2015ء بجٹ پیش کیا
کراچی ۔۔۔12، جون 2014ء
سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ برسوں سے جو بجٹ پیش کئے جارہے ہیں وہ عوامی مفاداتی بجٹ نہیں ہیں ، بیورو کریسی نے ہمیشہ ایسے بجٹ بنائے جس سے عوام کے بجائے انکی ذات کو فائدہ پہنچا جبکہ کچھ عناصر اس میں ترامیم کرکے بجٹ پیش کردیتے ہیں اور برسوں سے یہ رواج چلاآرہا ہے ۔ ایم کیوایم کی کوشش ہے کہ عوامی امنگوں اور خواہشات پر مشتمل بجٹ پیش کرے اور اس سے متعلق اپنی تجاویز دے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی جانب سے صوبہ سندھ کے لئے تجویز کردہ بجٹ برائے سال 2014-2015ء پیش کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرحق پرست اراکین سندھ اسمبلی اشفاق منگی ، یوسف شاہوانی ، محمد حسین ، محترمہ نائلہ لطیف اور محترمہ سیمتا سید سمیت دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے ۔ سید سردار احمد نے تجویز کردہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سب سے پہلے پبلک آرڈر اور سیفٹی کو مینٹین کرنا اور غربت کو ختم کرنا ہے کیونکہ اس وقت 50فیصد لوگ غربت کی خط سے نیچے اپنی زندگی گزار رہے ہیں ہمیں ایسا بجٹ بنانا چاہئے جس سے ان کا معیار زندگی بلند ہوسکے ۔ انہوں نے کاکہا کہ ہر محکمہ اور سوسائٹی کے ہر سیکٹر میں بہت زیادہ کرپشن ہے اس سے نجات کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا ، جی ڈی پی اوپیداوار میں اضافہ کرنا سرمایہ کاری کرنے والے لوگوں کو مواقع فراہم کرنا ہوں گے ، بیورو کریٹس انہیں کام کرنے نہیں دیتے جس کے باعث وہ تنگ آکر بیرون ملک چلے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی انڈسٹری لگانے کی صلاحیت نہیں تو چھوٹی انڈسٹریاں لگائی جائیں ، زراعت ہمارا ایک کلیدی شعبہ ہے جس سے کاٹن ، شوگر، آٹا اور چاول ملتا ہے اس کے باوجود کسانوں کو پانی اور دیگر سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ انہوں نے تجویز دی کہ شہروں میں راشننگ کو متعارف کرایاجائے جس کا مطلب ہے کہ گندم ، چینی ، تیل پر سبسڈی دی جائے ، تمام ٹیکسز شہری علاقوں کے لوگ دیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ شہری علاقوں میں راشننگ متعارف کرائی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ 65برس سے ذرائع کی تقسیم مساوی نہیں ہے جو بھی ٹیکسز وفاقی حکومت جمع کرتی تھی آبادی کی بنیاد پر دیدیا جاتا تھا ، صوبہ سندھ اور ایم کیوایم نے اس پر بہت کام کیا اور بتایا کہ ہماری آبادی کم ہے لیکن ریونیو زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کہتی ہے کہ این ایف سی کا فارمولا اختیار کرلیاجائے اور اس کے مطابق صوبوں اور ضلعوں کے درمیان تقسیم کی جائے تاکہ مسائل حل ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر صوبوں کو چلانا ہے تو ان کے لوگوں کا حق دیاجائے اور حق اس طرح دیاجائے کہ جو چیز آپ کو وفاق دے اسے نیچے کی سطح تک پہنچانا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریونیو کی تقسیم کا کوئی اصول نہیں ہے لیکن ایم کیوایم کی ساری تجاویز ریونیو کی تقسیم کی بنیاد پر ہے ۔ انہو ں نے صوبے کے ذرائع بڑھانے کی تجویز دیتے ہوئے کہاکہ صرف عمارتیں بنانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کیلئے ایک شیڈول بنایاجاتا ہے آپ عمارتوں میں پانی ، بجلی اور دیگر سہولیات نہیں دیں گے تو وہ بیکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے اہم ہیں ، صحت کے شعبے میں لوگوں کو بہت مشکلات اور تکالیف کا سامنا ہے ، اسپتال جائیں تو ٹوائلٹ نہیں ہے اس مسئلے کے حل کیلئے ضروری ہے کہ عمارت بنانے کیلئے اس کے بجائے آپ مینٹیینس پر خرچ کریں اور دواؤں کیلئے پیسے دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنش پہلی مرتبہ ہم نے متعارف کرائی تھی اس میں تجویز دی تھی کہ اسے سندھ کی سطح پر توسیع دیں اور اس کیلئے رقم مختص کریں ،اس سلسلے میں کوشش ہوتی رہی لیکن اس کے بعد نئی حکومت آئی اور ہیلتھ انشورش ختم کردیا گیا جس پر لوگ آج بھی روتے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیلتھ انشورنش دوبارہ بحال کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم میں سو بلین خرچ ہورہا ہے ، سوبلین ریونیو اور 15بلین ترقیاتی معاملات میں ہے لیکن اس میں تعلیم کیا حاصل کی جارہی ہے لوگ پرائیوٹ اسکولوں میں بچوں کو بھیج رہے ہیں اس کیلئے بھی آپ تنزئین و آرائش کیلئے پیسے دیں ۔ انہو ں نے کہاکہ توانائی بحران بہت ہم بات ہے جبکہ حکومت اپنے پراپرٹی ٹیکس وصول نہیں کرتی ، پراپرٹی ٹیکس سندھ میں ایک ہزار چھ سو ملین جمع ہوتا ہے اور کراچی میں 1500ملین جمع ہوتا ہے ہماری تجویز یہ ہے کہ جہاں بھی پراپرٹی ہے ، تعلقہ ، ڈسٹرکٹ اور گاؤں ہیں اس پر آپ پراپرٹی ٹیکس لگائیں اور پراپرٹی ٹیکس کیلئے کراچی کے لوگوں پر انحصار بند کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ زمیندار ناجائز لینڈ ریفارمز کے باوجود واٹر ریٹ نہیں دیتے ، وہ ریٹ جو 99ء میں لیوی کی گئی تھی اس کے بعدسے مستقل بڑھایا نہیں گیاجس سے زمینداروں اور وڈیروں کو فائدہ ہوا ہے ،تنخواہ زیادہ ہونے پر ہم پراپرٹی ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ایگری کلچر سے کوئی انکم ٹیکس نہیں لیاجاتا اور استثنیٰ دیا ہوا ہے اس حوالے سے ایم کیوایم نے بل بھی پیش کیا اور کہاکہ ضروری ہے کہ ایگری کلچر انکم ٹیکس پورے ملک میں لگایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ بینک جب بنا تو ایم کیوایم نے اس کی مخالفت کی بینک چلانا حکومت کا کام نہیں ہے سندھ بینک کا حساب کتاب اسمبلی میں پیش کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ پرائیویٹ سیکٹر اور پراجیکٹ میں کتنا پیسہ لگایا گیا ہے اس کا بھی کوئی حساب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سیوریج کے بڑے منصوبےK-IV( کے فور) ہیں کے ایس تھری اس کیلئے پیسے نہیں دیئے جاتے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ پیسے بہت زیادہ ہیں ، ایری گیشن کو 24ہزار بلین دیاجارہا ہے لیکن پھر بھی بند ٹوٹتے رہتے ہیں جبکہ سوشل پروٹیکشن پر پیسے خرچ کرنے کا کوئی اصول نہیں ہے ۔ انہو ں کہاکہ جو بھی ترقیاتی فنڈز دیئے جارہے ہیں تصدیق کرکے بتا سکتا ہوں کہ ان میں سے 50فیصد فنڈز خرچ نہیں ہوتا بلکہ رشوت میں چلے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کے فور ، ایس تھری کیلئے وفاقی حکومت ہمیں فنڈز دیتی ہے لیکن یک لخت اس نے بند کردیا اس پر انہوں نے سوال کیا کہ کیا کراچی میں پنجاب ، سندھ اور فرنٹیئر کے لوگ نہیں رہتے ؟ کیا صرف ایم کیوایم کے لوگ رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بہت ساری چیزیں ایمانداری سے کام کیاجائے تو اللہ تعالیٰ نے اتنا پیسہ دیا ہے کہ ہرشخص اور گروپ اس سے مستفید ہوسکتا ہے لیکن اگر بے جا خرچ اور ناانصافی ہوتی رہی تو اللہ ہی حافظ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مینٹیننس اور ریپیئر کا جو فنڈز ہے اسے آؤٹ سورس کیاجائے ایک سوال سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ، بجٹ بنانے سے قبل ایم کیوایم سے قطعی کوئی رائے نہیں لی گئی ، ہم اصرار کرتے رہے کہ بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں اس سلسلے میں ایک مرتبہ بل بھی پیش کیا لیکن اسے بعد میں مسترد کردیا گیا ۔انہو ں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی بجٹ سیشن میں ایم کیوایم کے وزراء جائیں گے لیکن ہماری تجویز ہے کہ این ایف سی فارمولا اختیار کرلیں اس سے مسائل حل ہوجائیں گے ۔

12/10/2016 6:16:23 PM