Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم جیو اور جینے دو پر یقین رکھتی ہے، الطاف حسین


ایم کیوایم جیو اور جینے دو پر یقین رکھتی ہے، الطاف حسین
 Posted on: 6/11/2014
ایم کیوایم جیو اور جینے دو پر یقین رکھتی ہے، الطاف حسین
ہم تمام قومیتوں اورنسلی ولسانی اکائیوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں، الطاف حسین
ایم کیوایم ،کراچی سے کسی بھی نسلی یالسانی اکائی کو نہیں نکالنا چاہتی، الطاف حسین
تمام قومیتوں کا کراچی پر اتنا ہی حق ہے جتنا اردوبولنے والوں کا حق ہے، الطاف حسین
ایم کیوایم چاہتی ہے کہ معاشرے میں لسانی وثقافتی تفریق کے بجائے ایک قوم کا تصورمضبوط ہو
کراچی صرف اردوبولنے والوں کانہیں بلکہ تمام پشتونوں، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں ، سرائیکیوں، کشمیریوں ، ہزاروال سمیت تمام قومیتوں اور برادریوں کا ہے
اے پی ایم ایس او کے قیام سے لیکر آج کے دن تک میں اپنے کارکنان کو ہمیشہ عدم تشددکا درس دیا، معیاری تعلیم کے حصول
مجرمانہ اور سماج دشمن سرگرمیوں سے دوررہنے اور اچھے شہری بننے کی تعلیم دی ہے
اے پی ایم ایس او کے 36 ویں یوم تاسیس کے اجتماعات سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب
لندن ۔۔۔ 11، جون 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم جیو اور جینے دو پر یقین رکھتی ہے ، ہم تمام قومیتوں اورنسلی ولسانی اکائیوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں،ایم کیوایم چاہتی ہے کہ معاشرے میں لسانی وثقافتی تفریق کے بجائے ایک قوم کا تصورمضبوط ہو۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ،کراچی سے کسی بھی نسلی یالسانی اکائی کو نہیں نکالنا چاہتی، ہم کسی سے نفرت نہیں کرتے بلکہ سب سے پیارکرتے ہیں، ہم ایک پرامن اور پیارکرنے والی سوسائٹی چاہتے ہیں ۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ کراچی سب کا ہے ، کراچی صرف اردوبولنے والوں کانہیں بلکہ تمام پشتونوں، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں ، سرائیکیوں، کشمیریوں ، ہزاروال سمیت تمام قومیتوں اور برادریوں کا ہے ،تمام قومیتوں کا کراچی پر اتنا ہی حق ہے جتنا اردوبولنے والوں کا حق ہے
یہ بات انہوں نے اے پی ایم ایس او کے 36 ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں جناح گراؤنڈ کراچی سمیت پاکستان بھر کے 38 سے زائد شہروں میں منعقدہ اجتماعات سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے ٹیلی فونک خطاب میں جناب الطاف حسین نے دنیا بھر میں مقیم ایم کیوایم کے کارکنان اور ہمدردعوام کو اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آج سے 36 سال قبل جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی گئی جس کے بطن سے عوامی جماعت مہاجرقومی موومنٹ نے جنم لیا جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی۔ اے پی ایم ایس او کے قیام سے لیکر آج کے دن تک میں نے اپنے کارکنان کو ہمیشہ عدم تشددکا درس دیا، معیاری تعلیم کے حصول ، مجرمانہ اور سماج دشمن سرگرمیوں سے دوررہنے اور اچھے شہری بننے کی تعلیم دی ہے ۔ ایم کیوایم ،ملک بھر کے غریب ومتوسط طبقہ کے حقوق ، پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ نظام کے خاتمہ اور سچی جمہوریت کے قیام کیلئے جدوجہد کرتی رہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ،پاکستان کے ہرشہری کے وجود اور حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام عوام بلاامتیاز رنگ ، نسل ، زبان ، صوبہ ، مسلک، عقیدہ اور مذہب ایک دوسرے کا احترام کریں اور کسی بھی بنیاد پر کسی سے بھی نفرت نہ کی جائے ۔ ایم کیوایم چاہتی ہے کہ معاشرے میں لسانی وثقافتی تفریق کے بجائے ایک قوم کا تصورمضبوط ہواور پاکستان میں ماڈریٹ ، لبرل اور روشن خیال معاشرہ تشکیل پائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم مذہبی انتہاء پسندی ،مذہبی جنونیت اور فرقہ واریت کے خلاف ہیں، پاکستان میں بسنے والے دیوبندی ہوں، بریلوی ہوں، شیعہ ہوں ، سنی ہوں یا کسی بھی فقہ اورمسلک سے تعلق رکھتے ہوں سب کو قرآن مجید کی تعلیمات کہ ’’تمہارا دین تمہارے ساتھ اور میرا دین میرے ساتھ‘‘ کے مطابق درس دینا چاہتے ہیں ۔قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ’’ لااکراہ فی الدین ‘‘یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے لہٰذا کسی کویہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جبرسے اپنا عقیدہ یا نظریہ کسی دوسرے پر مسلط کرے۔ پاکستان ایک خودمختارریاست ہے ، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے خطاب میں فرمایا تھا کہ اب پاکستان آزاد ہوچکا ہے ، پاکستان کے تمام شہریوں کو زندگی کے ہرشعبہ میں بلاامتیازرنگ ونسل، زبان، ثقافت، جنس ، مسلک اور مذہب ، برابری کی بنیاد حقوق میسرہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتااورمیں نے ہمیشہ پاکستان میں بسنے والے غیرمسلموں کے حقوق کی آواز بلند کی ہے ، میں آج بھی کہتا ہوں کہ مجھے لفظ ’’اقلیت‘‘ سے نفرت ہے ، جس دن بھی ایم کیوایم کی پاکستان میں حکومت آئی تو ہم آئین میں ترمیم کرکے اقلیت کا متبادل لفظ لائیں گے تاکہ مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہ ہو۔ 
جناب الطاف حسین نے مزید کہاکہ ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ایم کیوایم ،دیگرقومیتوں کی دشمن ہے، ہمارے ناقدین اور مخالفین نوٹ کرلیں کہ کراچی ،سب کا شہرہے ، پورے پاکستان کا شہر ہے ، ہم کراچی سے کسی پنجابی ، سندھی ، بلوچی ،پختون ، سرائیکی، کشمیری، ہزاروال، گلگتی ، بلتستانی اوردیگرقومیتوں یامذہبی ولسانی گروپ کو نکالنا نہیں چاہتے ۔ پاکستان کی کسی بھی قومیت سے تعلق رکھنے والے جو کراچی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ برسوں سے رہ رہے ہیں اور مرنے کے بعد یہیں دفن ہوتے ہیں وہ خواہ کسی بھی قومیت سے تعلق رکھتے ہوں ان کا کراچی پر اتنا ہی حق ہے جتنا اردوبولنے والوں کا حق ہے ۔ایم کیوایم، پاکستان کی تمام قومیتوں کو یقین دلاتی ہے کہ ایم کیوایم ،انہیں نکالنے کیلئے نہیں بلکہ انکی جان ومال اورعزت وآبرو کے تحفظ کیلئے ہے ۔ ایم کیوایم ، ایسا پرامن معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے جہاں سب عزت واحترام زندگی بسرکرسکیں، کراچی پاکستان کا معاشی حب اور ریڑھ کی ہڈی ہے ، ہم کراچی میں نفرت نہیں بلکہ پیار،محبت اوربھائی چارے کی فضاء قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پر جھوٹے اوربے بنیاد الزامات عائد کیے گئے لیکن ایم کیوایم کے قیام سے لیکرآج کے دن تک ایم کیوایم ’’جیو اور جینے دو‘‘ اور’’ایک دوسرے کو تسلیم کرو‘‘کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ایم کیوایم ،ہرقسم کے تشدد کے خلاف ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے مظلوم اور محروم عوام کے حقوق پرامن اورجمہوری طریقے سے حاصل کیے جائیں ، ہم تشددکی سیاست سے نفرت اور امن سے محبت کرتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب 3 ، فروری 1981ء کواسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ نے ہم پر مسلح حملہ کیا اور ہمیں بہیمانہ تشددکانشانہ بناکر جامعہ کراچی سے بیدخل کردیا تو ہم نے بدلہ لینے یالڑائی جھگڑاکرنے سے گریز کیااورصرف امن کی خاطر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا گواراکرلی۔ مجھے پاکستان مین تین مرتبہ گرفتارکرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، اپنی اسیری کے دوران میں نے اپنے کارکنوں کویہی تلقین کی کہ حکمراں جب تک جھوٹے مقدمات میں مجھے جیل میں قیدرکھنا چاہیں رکھنے دیں ، میرا ضمیر جانتا ہے کہ میرے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں، چاہے میں سوسال تک جیل میں قید رہوں مگرآپ اس کے خلاف پرامن احتجاج کرنا ، کبھی جلاؤگھیراؤ مت کرنا اور کسی کوہرگز نقصان نہیں پہچانا۔انہوں نے کہاکہ جب سہراب گوٹھ پر منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں قصبہ وعلیگڑھ کالونی میں قتل عام کیا گیا تو میں نے اس پر بھی اپنے کارکنوں کوپرامن رہنے کی تلقین کی ، میرے 70 سالہ بڑے بھائی ناصرحسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین سمیت 15 ہزار سے زائد کارکنوں کو ماروائے عدالت قتل کیا گیامگرہم نے تشددکاراستہ اختیارنہ کیا۔ میرے بڑے بھائی اوربھتیجے کو جن کا ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں تھا ، گرفتارکرکے تین روز تک وحشیانہ تشددکا نشانہ بنایا گیا اور9، دسمبر1995ء کوماورائے عدالت قتل کردیا گیا تو میں نے لندن میں اپنے ساتھیوں سے کہاکہ میں خود تعزیتی بیان لکھوں گا اور میں نے اس بیان میں بھی یہی تلقین کی کہ میرے خاندان کے افراد شہید ہوئے ہیں لہٰذا کوئی بدلہ نہ لینا ،صبروتحمل سے کام لینا اورقانون اپنے ہاتھوں میں ہرگز نہیں لینا ۔ اسی طرح جب میں لندن میں گرفتارکیا گیا اور مجھے لندن سیکریٹریٹ رابطہ کیلئے ٹیلی فون کی سہولت فراہم کی گئی تو میں نے عوام وکارکنان کو یہی پیغام دیا کہ وہ اس واقعہ پر ہرگز مشتعل نہ ہوں، اپنے جذبات پر قابورکھیں اوراپنا احتجاج ہرقیمت پر پرامن رکھیں، خدا کاشکرہے کہ عوام وکارکنان نے میری تلقین پر عمل کیا اور پرامن رہے اورایم کیوایم کے اس اقدام کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان بھرمیں عوام وکارکنان نے مجھ سے اظہاریکجہتی کیلئے دھرنے دیئے ، کڑی دھوپ، بھوک وپیاس برداشت کی اورپرامن مظاہرے کیے جس پر میں ایک ایک ماں ، بہن، بیٹی ، بچے ، بچی ، بزرگ اور نوجوان کو دل کی گہرائیوں سے زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں مالی طورپر امیر نہیں ہوں، میری پاکستان یابیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے، 22 سال سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اور لندن میں میرے اورمیرے ساتھیوں کے اخراجات تحریکی ساتھیوں کے چندے اورعطیات سے پورے کیے جاتے ہیں، میں اپنے پرعزم، مخلص اور جانثارساتھیوں کو سونے ، ہیرے یا پیسہ کی شکل میں انعام نہیں دے سکتا لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں دل کی گہرائیوں سے کہتاہوں کہ میں آپ سب سے بہت محبت کرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین 
نے اجتماعات کے شرکاء کومخاطب کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ آپ ہرگز حوصلہ نہ ہاریں، میرے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں اورمیں ان مقدمات کے خلاف اپنے وکلاء کے ذریعہ قانونی جدوجہد کروں گا۔
جناب الطا ف حسین نے کارکنوں سے کہاکہ میرامقدمہ کورٹ میں ہے،میں برطانیہ کے عدالتی نظام کااحترام کرتاہوں، میرے وکلاء قانون کے مطابق میرے مقدمہ کودیکھ رہے ہیں لہٰذا آپ پرامن رہیں اورصبروتحمل سے کام لیں۔ انہوں نے کہاکہ برطانوی پولیس نے دوران حراست میرابہت خیال رکھا اورمیں اسکاٹ لینڈیارڈ اورمیٹروپولیٹن پولیس کے تمام افسران اوراہلکاروں کاخصوصی شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے دوران حراست میرابہت خیال رکھااورمجھے طبی اورہرقسم کی سہولت فراہم کی۔ انہوں نے کارکنوں سے کہاکہ آپ نے مجھے 36سالوں میں دیکھ لیا،میں نے آپ کوکبھی دھوکہ نہیں دیا، آپ یقین رکھیں ، میں صرف اللہ کے آگے سرجھکاتاہوں اس کے علاوہ دنیاکی کسی طاقت کے آگے نہیں جھکاتا۔میراسرکٹ توسکتاہے لیکن کسی بھی طاقت کے آگے جھک نہیں سکتا۔
جناب الطاف حسین نے کراچی ایئرپورٹ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے میں شہیدہونے والے اے ایف سی ، رینجرز،پولیس، کارگو کمپنیوں اورپی آئی اے کے ملازمین کے لواحقین سے دلی تعزیت کااظہارکیااورزخمیوں کی صحتیابی کیلئے دعاکی۔ انہوں نے تافتان میں دہشت گردی کے واقعہ میں زائرین کے بہیمانہ قتل کے واقعہ کی بھی شدید مذمت کی اورکہاکہ جن عناصر نے معصوم زائرین کو شہیدکیاوہ درندے ہیں۔ اس سے پہلے بھی کوئٹہ اوربلوچستان کے دیگرشہروں میں معصوم زائرین کوبسوں سے اتارکران کے شناختی کارڈ چیک کرکے بیدردی سے شہیدکیا گیا لیکن اس قتل عام میں ملوث عناصر کوگرفتارنہیں کیاگیا۔اب جبکہ طالبان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی باتیں کی جارہی ہیں تو بلوچستان میں زائرین کاقتل عام کرنے والوں کوبھی گرفتارکیاجائے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ عسکری تنصیبات، مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات پر خودکش حملے اوردھماکے کرنے والوں اورمعصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے طالبان سے مزاکرات کے ہم پہلے بھی قائل نہیں تھے لیکن جب آل پارٹیزکانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات کی بات کی توہم نے بھی اس پر اتفاق کرلیاکیونکہ ہم ضدی لوگ نہیں ہیں۔ مذاکرات پراتفاق کے بعدطالبان دہشت گردوں نے بموں کے دھماکے کئے ، فوجیوں کے گلے کاٹے اوردہشت گردی کی کارروائیاں کیں،فوجی تنصیبات پر دہشت گردوں کے حملوں کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے ۔لہٰذااب وقت آگیاہے کہ امن واستحکام کیلئے پاکستان کو ان دہشت گردوں سے نجات دلائی جائے ، اس سلسلے میں وزیراعظم اوروفاقی حکومت کوبھی چاہیے کہ وہ بھی دہشت گردوں سے نجات کیلئے فوج کے ساتھ ایک پیج پرآجائیں۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات کی بات کرنیوالوں سے بھی اپیل کی کہ وہ خدارااپنے مؤقف پر نظرثانی کریں اورجو سفاک عناصرمعصوموں کاقتل عام کررہے ہیں، سہاگنوں کوبیوہ اوربچوں کویتیم کررہے ہیں اورملک کوتباہ کررہے ہیں ان کیلئے رعایت کی باتیں نہ کریں۔ آج عراق کے شہرموصل پرالقاعدہ کاقبضہ ہوچکاہے، لہٰذادیرنہ کریں،چاہے کسی بھی مذہب ، مسلک یاعقیدے کے ماننے والے کیوں نہ ہوں ،ملک کودہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے سب ایک پیچ پرآجائیں اورمسلح افواج کاساتھ دیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مسلح افواج کے جوافسران اورجوان دہشت گردوں سے نبردآزماہیں میں انہیں سیلوٹ پیش کرتاہوں اورمسلح افواج کویقین دلاتا ہوں کہ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے کوئی آپ کے ساتھ آئے یانہ آئے ایم کیوایم آپ کے ساتھ ہے ، آپ جب بھی پکاریں گے،ہم آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے اورآپ جتنے کارکنان کہیں گے ہم ملک کے دفاع کی خاطرپیش کریں گے،ہمارے نوجوان ہی نہیں بلکہ مائیں بہنیں بھی وطن کی دفاع کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیاررہیں گی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ فرسودہ جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے سندھ کے غریب ہاری کسان آج بھی غلاموں جیسی زندگی گزارہے ہیں۔انہوں نے سندھی بولنے والے غریب ہاریوں،کسانوں، طلبہ ،مزدوروں اورمڈل کلاس عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم آپ کی جماعت ہے، اپنے حقوق کے حصول اورکاروکاری،غربت اورغلامی کی زندگی سے نجات کیلئے ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکریں۔انہوں نے کراچی میں رہنے والے پختونوں، پنجابیوں، بلوچوں، سندھیوں، ہزارے وال، گلگتی بلتستانیوں اورتمام زبانیں بولنے والے عوام سے بھی کہاکہ ایم کیوایم صرف اردوبولنے والوں کی ہی جماعت نہیں،ایم کیوایم تمام محروموں اورمظلوموں کی جماعت ہے ،آپ بھی اپنے حقوق کے حصول کیلئے ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری گرفتاری کے بعد ایم کیوایم کے دھرنوں میں اظہاریکجہتی کیلئے تمام قومیتوں ہی کے لوگ نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، ہندو، عیسائی، سکھ ، احمدی ، بوہری، اسماعیلی آئے،تاجر،صنعتکار،دکاندار، ٹرانسپورٹرز،فنکار، شاعر،دانشور، صحافی،سماجی کارکن اورزندگی کے تمام ہی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادیکجہتی کااظہارکرنے آئے ، میں ان سب کواپناسلام اورشاباش پیش کرتاہوں۔ ماؤں بہنوں، نوجوانوں، بزرگوں اوربچوں نے جس محبت وعقیدت کااظہار کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے سب کودل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیااوران کے لئے دعائیں کیں۔ 


12/8/2016 8:13:05 AM