Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملہ سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔الطاف حسین


کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملہ سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔الطاف حسین
 Posted on: 6/9/2014 1
کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملہ سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔الطاف حسین
موجودہ صورتحال now or never کی شکل اختیارکرچکی ہے 
میں گزشتہ کئی سالوں سے چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ کراچی پر طالبان کا قبضہ ہورہا ہے کسی نے میر ی باتوںپر توجہ نہیں دی بلکہ میرا مذاق اڑیا گیا
اگراب بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکش نہیں کیاگیاتو خدانخواستہ کوئی بھی دفاعی تنصیب محفوظ نہیں رہے گی
ہمیں سوچنا چاہیے کہ مذاکرات مذاکرات کی آڑ میں ہم کہیں پاکستان کومذاق بنا کر خدا نخوستہ دنیا کے نقشہ سے مٹانے کی کوئی نادانستہ کوشش تو نہیں کررہے
مجھے پاکستان کی سلامتی و بقاء عزیز ہے اور اس کیلئے کتنا ہی سخت فیصلہ کیوں نہ ہو وہ کیا جائے اور ملک کو بچایا جائے
وفاقی حکومت اور مسلح افواج کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کسی بھی فیصلے میں ایم کیوایم کو پیچھے نہیں پائیں گے
میں ملک کے دفاع کیلئے ایم کیوایم کی جانب سے تین لاکھ رضاکاردینے کی پیشکش کرتا ہوں
فوج،ایف سی،رینجرز،پولیس اوردیگرسیکوریٹی فورسز کے جوجوان اور افسران دہشت گردوں کاڈٹ کرمقابلہ کررہے ہیں اوراپنی جانیں قربان کررہے ہیں ،پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے
لندن۔۔۔9، جون2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملہ سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔صورتحال now or never کی شکل اختیارکرچکی ہے ، اگراب بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن شروع نہیں کیا گیااورمصلحت سے کام لیاگیاتو خدانخواستہ ملک کاکوئی بھی ایئرپورٹ اورکوئی بھی دفاعی تنصیب دہشت گردوں سے محفوظ نہیں رہے گی ۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے واقعہ پر اظہارخیال کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ پورے پاکستان کو کھلے الفاظ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آج جو حملے ہورہے ہیں اس میں ہماری حکومتوں کی کوتاہیوں کا بڑا عمل دخل ہے ۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوں کہ طالبان دہشت گرد کراچی میں تیزی سے آرہے ہیں ،کراچی پر طالبان کا قبضہ ہورہا ہے،خدار ا ان کی یلغار کو روکئے ورنہ یہ نہ صرف کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اسکو نقصان پہنچائیں گے بلکہ پورے پاکستان کونقصان پہنچائیں گے، کسی کی جان ،مال،کاروبار،عزت محفوظ نہیں رہے گی اور معیشت تباہ ہوجائے گی اس کا نقصان صرف کراچی کے عوام کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہوگا ،اگر انہیں نہیں روکا گیا تو یہ کراچی میں اہم احساس تنصیبا ت اور عوام کو ناقابل تلا فی نقصان پہنچا ئیں گے لیکن افسوس کہ نہ تو وفاقی حکومت نے نہ ہی صوبائی حکومت،کسی نے میر ی باتوں پر توجہ نہیں دی بلکہ میرا مذاق اڑیا گیا کہ الطاف حسین لوگوں کو ڈرا رہا ہے،انہیں خوفزدہ کررہاہے،کسی نے یہ الزام لگایا کہ الطاف حسین دراصل طالبان کے خلاف بات نہیں کر رہا ہے بلکہ کراچی میں آباد پختونوں کے خلاف بات کررہاہے ،یہ بات غلط تھی او رآج ایک بارپھر ثابت ہوگیا کہ طالبان دہشت گرد کراچی میں نہ صرف اپنے مضبوط ٹھکانے بناچکے ہیں بلکہ پاکستان کی اہم تنصیبات او راہم مقامات کو نشانہ بنارہے ہیں ،طالبان کراچی پر کس حد تک قبضہ کر چکے ہیں اسکا انداز ہ آج صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو بھی ہوجانا چاہئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں آج بھی تما م عسکری اداروں ،مسلح افواج کے سربراہوں اور وفاقی وصوبائی حکومتوں سے کہتاہوں کہ اگراب بھی میری باتوں پر توجہ نہیں دی گئی اوران مسلح دہشت گردوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پرکوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا توخاکم بدہن آج کراچی ایئر پور ٹ پر حملہ ہوا ہے،کل ملک کا کوئی بھی ایئر پور ٹ اور اہم ادارہ ان مسلح دہشت گردو ں سے محفوظ نہیں رہے گا، میں اپنے اندیشے سے آگاہ کررہاہو ں ۔ میں پھر وارننگ دے رہا ہوں اور نشاندہی کر رہا ہوں ، مجھے کسی کی نہیں بلکہ ملک کی سلامتی اور بقاء کی پرواہ ہے ، مجھے پاکستان کی سلامتی و بقاء عزیز ہے اور اس کیلئے کتنا ہی سخت فیصلہ کیوں نہ ہو وہ کیا جائے اور ملک کو بچایا جائے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے حکمرانوں، مسلح افواج ،عسکری اداروں، سیاسی رہنماؤں،دانشوروں اورپاکستان سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ آیا مذاکرات مذاکرات کی آڑ میں ہم کہیں پاکستان کومذاق بنا کر خدا نخوستہ دنیا کے نقشہ سے مٹانے کی کوئی نادانستہ کوشش تو نہیں کررہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک ایک فر د کو سمجھنا چاہیے، اگر میرے اختیار میں ہوتا تو بخدا میں آج ملک میں ایمر جنسی نافذ کرنے کااعلان کرتا او ردہشت گردوں سے کھلا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتا ،میں قومی سے سیاسی و مذہبی جماعتوں سے یہ اپیل کرتا کہ جو مسلح افواج کے ساتھ ملک کی سلامتی اور بقاء کیلئے آگے آنا چاہتے ہیں وہ آئیں اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ اس ملک کی حفاظت کیلئے میدا ن عمل میں آجائیں ۔ میر ا دل دہشت گردی کے یہ واقعات دیکھ کر خون کے آنسو رورہا ہے ،میں پورے ملک کے اداروں اور عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ آپ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، اگر آپ کو پاکستان سے محبت ہے اورآپ پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں تو خداراان دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوجائیے اور پوری قوم مسلح افواج اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرے کہ وہsosبنیادپر کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنائیں،دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور عوام بھی اپنے آپ کو قربانیوں کیلئے پیش کریں ۔ میں ایم کیوایم کے بانی وقائد کی حیثیت سے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت اور مسلح افواج کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کسی بھی فیصلے میں ایم کیوایم کو پیچھے نہیں پائیں گے ۔انہوں نے مسلح افواج اورعسکری اداروں کے سربراہوں کوایک مرتبہ پھرپیشکش کی کہ میں ملک کے دفاع اوردہشت گردوں کے خلاف صف آراہونے کیلئے ایم کیوایم کی جانب سے تین لاکھ رضاکاردینے کی پیشکش کرتاہوں۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے ، پاکستان کو ان مسلح دہشت گردوں سے نجات دلا ئے ۔انہوں نے قومی اثاثوں اورشہریوں کے دفاع کیلئے دہشت گردوں کاجرات وبہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے والے پولیس ، ایئرپورٹ سیکوریٹی فورس، رینجرزاورفوج کے جوانوں کوسلام پیش کیا اور دعاکی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اورزخمیوں کو جلد صحتیابی عطا فرمائے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج،ایف سی،رینجرز،پولیس اوردیگرسیکوریٹی فورسز کے جوجوان اور افسران اپنے ملک کے دفاع کے لئے دہشت گردوں کاڈٹ کرمقابلہ کررہے ہیں اوراپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہے ہیں ،پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے، الطاف حسین اورایم کیوایم کاایک ایک کارکن انہیں شاباش اور سلام پیش کرتاہے،میں انہیں یقین دلاتاہوں کہ آپ ملک کی سلامتی او ربقاء کیلئے ہمیں مددکیلئے جب پکاریں گے ہم غیر مشروط طور پرآپ کاساتھ دینے کیلئے تیار ہیں ۔ پولیس اوردیگر اداروں میں موجودکالی بھیڑوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر مسلح افواج کی قیادت ، مسلح افواج کے بہادر جرنیل او رپولیس و رینجرز کے ذمہ داران جو حب الوطنی کے جذبہ سے معمور ہیں وہ اتحادکا مظاہر ہ کریں تو ہم کالی بھیڑوں سے نمٹ سکتے ہیں اور دشمن جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی وارداتیں کر کے ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں ان سے بھی ملک کو نجات دلا سکتے ہیں ۔ دہشت گردوں سے غیرملکی اسلحہ برآمدہونے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان کوچاہیے کہ وہ اس حوالے سے ثبوت و شواہد کے ساتھ یہ مقدمہ اقوام متحدہ میں پیش کر یں تو پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی تاکہ بین الاقوامی دنیا جو پاکستان کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہیں ہم انہیں بتا سکیں کہ پوری پاکستانی قوم متحدہے اور کوئی بھی ملک پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچائے گا تو ہم اس کے خلاف فوج کے شانہ بشانہ ملک کی حفاظت کیلئے مید ان عمل میں ہونگے ۔ عوام سے اتحادویکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں صر ف چار زبانیں بولنے والے نہیں رہتے بلکہ یہاں گلگتی زبان بولنے والے بھی ہیں ، بلتستانی زبان بولنے والے بھی ہیں یہاں ہندکو زبان بولنے والے بھی ہیں بلوچ ،سندھی ،پختون ، اردوبولنے والے پنچابی بولنے والے ، عوام اس وقت یہ نہ سوچیں ہماری زبان کیا ہے ،ہمارا صوبہ کیا ہے بلکہ یہ سوچیں ہمار ا ملک پاکستان ہے،ہم اس وقت لسانی او رعلاقائی تفریق کو بالکل بالائے طاق رکھ دیں اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے متحد ہوکر ان دہشت گردوں کو صف آرا ہ ہوجائیں او رمسلح افواج کے ساتھ ملکر پاکستان کودہشت گردوں سے نجات دلائیں ۔ 
*****

12/4/2016 8:21:15 AM