Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، الطاف حسین


کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، الطاف حسین
 Posted on: 5/29/2014
کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، الطاف حسین
آئین اورقانون کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے فرد کو بغیر کسی عدالت میں پیش کئے ، بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور قتل کرکے مسخ شدہ لاش سڑک پر پھینک دی جائے 
اگرظلم وستم کے مسلسل عمل پر عوام کی قوت برداشت جوا ب دے گئی اورانہوں نے قانون اپنے ہاتھوںمیں لے لیاتو اسکی ذمہ داری ظلم وجبر اور ناانصافی کرنے والوں پر عائد ہوگی 
جتنی لاقانونیت اور جدید ترین مہلک ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال پنجاب میں کھلے عام کیا جاتاہے اس طرح کسی بھی صوبے میں نہیں ہوتا
آج ضمنی انتخابات کے موقع پر پنجاب میں جو طوفان بدتمیزی کی گئی اگر ایسی دس فیصد بھی لاقانونیت کراچی میں ہوتی تو ایم کیوایم کے ایک ایک آفس اورکارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے
اگرارباب اختیار واقتدار کو انصاف کے دہرے نظام کو اسی طرح جاری رکھنا ہے تو پھر میںیہی دعاکرسکتا ہوں کہاللہ تعالیٰ ،پاکستان پر اپنارحم وکرم فرمائے

لندن۔۔۔29،مئی2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی ۔ اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کے درس وتعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک اور واضح الفاظ میں کہاتھا کہ حکومتیں، کفرسے تو چل سکتی ہیں مگر ناانصافی ، دہرے طرزعمل، اقرباء پروری، پسند ناپسند ، قبیلہ پرستی اور ظلم وستم سے قائم نہیں رہ سکتیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اسی طرح قرآن مجید کی سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ ’’اے لوگو!! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ، پھر تمہیں قوموں، قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم کیا تاکہ آپس کی شناخت ہوسکے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے افضل واعلیٰ وہی ہے جومتقی اورپرہیزگار ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ آئین اورقانون کی کس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے فرد پر کوئی الزام عائد ہوتو اسے بغیر کسی عدالت میں پیش کئے ، بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے اوراسے قتل کرکے مسخ شدہ لاش سڑک پر پھینک دی جائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کی مسلم لیگ ہویا ملک کی دیگر مذہبی وسیاسی جماعتیں ہوں ، اگر وہ کھلے عام نہ صرف جدید ترین اسلحہ کی آزادانہ نمائش کریں بلکہ خوشی وغم کے مواقع پر ہزاروں راؤنڈز فائر بھی کریں تو انکے بارے میں حکومت، آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی ، ایف آئی اے ،وفاقی وصوبائی وزارت داخلہ، رینجرز، اسپیشل برانچ اور دیگر ادارے جدیدترین اسلحہ کی آزادانہ نمائش واستعمال کرنے والوں کو گرفتارکیے بغیریہ مؤقف اپناتے ہیں کہ ان کا اسلحہ قانونی تھا اور وہ خوشی یا غم منارہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ جتنی لاقانونیت اور جدید ترین مہلک ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال صوبہ پنجاب میں کھلے عام کیا جاتا ہے اس طرح اسلحہ کی نمائش واستعمال کسی بھی صوبے میں نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود صوبہ پنجاب میں کسی بھی جماعت کو دہشت گرد جماعت قرارنہیں دیا جاتا اس لئے کہ ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے فرزندزمین ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ہی ضمنی انتخابات کے موقع پر صوبہ پنجاب میں جو طوفان بدتمیزی کی گئی اگر اس قسم کی دس فیصد بھی لاقانونیت کراچی میں ہوتی تو کراچی میں ایم کیوایم کے ایک ایک سیکٹراوریونٹ دفاتر پر نہ صرف غیرقانونی چھاپے مارے جاتے بلکہ کارکنوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جاتے اور کارکنوں کے نہ ملنے پر ان کے بوڑھے والدین اوردیگر رشتہ داروں کوگرفتارکرلیا جاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرارباب اختیار واقتدار کو انصاف کے دہرے نظام کو اسی طرح جاری رکھنا ہے تو پھر میں سوائے اس دعا کے کیاکرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ،پاکستان پر اپنارحم وکرم فرمائے، لوگوں کو سچ اورجھوٹ سمجھنے کی توفیق دے اور انہیں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطاکرے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ناانصافیوں اور ظلم وستم کے باوجود بہت عرصے سے صبرکادامن تھاما ہوا ہے لیکن اگرظلم وستم کے مسلسل عمل پر عوام کی قوت برداشت جوا ب دے گئی اورانہوں نے ہماری صبروامن کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے قانون اپنے ہاتھوں میں لے لیاتو اس کی ذمہ داری صرف اور صرف ظلم وجبر اور ناانصافی کرنے والوں پر عائد ہوگی ، ظلم کا نشانہ بننے والے عوام پر ہرگز نہیں ہوگی۔ آخر میں جناب الطاف حسین نے سرکاردوعالم ؐ کی ایک اہم حدیث بیان کرتے ہوئے کہاکہ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ صحابہ کرامؓ نے نبی کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیا کہ کیا اپنی قوم سے محبت کرنا تعصب ہے ؟ جس پر سرکاردوعالم ؐ نے فرمایا کہ اپنی قوم سے محبت کرنا کسی قسم کاتعصب نہیں ہوتا۔ صحابہ کرامؓ نے دوبارہ عرض کیا کہ یارسول اللہ ؐپھر تعصب کیا ہوتا ہے ؟ اس پرحضوراکرمؐ نے جواب دیا کہ جب تم اپنی جس قوم سے محبت کرتے ہو ، اس قوم کے غلط کاموں، اس کی ناانصافیوں اور مظالم میں اس کا ساتھ دینے لگوتو اسے تعصب کہتے ہیں۔



12/3/2016 5:47:09 PM