Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک جناب الطاف حسین کا خصوصی انٹرویو


قائد تحریک جناب الطاف حسین کا خصوصی انٹرویو
 Posted on: 5/19/2014

QET Altaf Hussain Exclusive Interview on Samaa... by MQMOfficial
قائد تحریک جناب الطاف حسین کا خصوصی انٹرویو
مورخہ 16 ،مئی2014ء
اسلام وعلیکم ورحمۃ اللہ و برکاۃ
آپ کا شکرگزارہوں کہ وہ مجھ جیسے فردکو موقع دیتے ہیں جس کو وقت دیتے ہوئے لوگوں کی جان نکلتی ہے کیونکہ میں سچ بولتا تھا۔۔۔ سچ بولتا ہوں۔۔۔ اور سچ کہتا رہوں گا اور۔۔۔ سچ کہتے کہتے ہی میری موت آئے گی ۔میں وقت دینے والے ایک ایک فرد کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
گوش گزار یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سے پہلے مہاجر قومی موومنٹ تھی۔۔۔مہاجر قومی موومنٹ سے پہلے اے پی ایم ایس او تھی ۔مہاجروں کے ساتھ ناروا رکھے جانے والے سلوک۔۔۔مہاجر طلباء کے ساتھ ناروا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف کوئی نہیں بولتا تھا۔۔۔نوکریاں ، سی ایس ایس۔۔۔اورجتنے سول بیوروکریسی میں جانے کے امتحانات ہوتے ہیں، آئی کیو ٹیسٹ وغیرہ، اس میں مہاجروں کا داخلہ آہستہ آہستہ مکمل طورپر بند ہوگیاہے ۔ اگر آپ صبح شام مناظرے ۔۔۔ ٹاکرے۔۔۔ کراچی کے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ سنیں تو کسی میں سچ بولنے کی ۔۔۔کسی میں سچ بات کہنے کی ہمت نہیں ہے ۔دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں لوکل پولیسنگ(Local Policing) کا رواج ہے۔ جب برطانیہ ،فرانس اور دیگر ممالک کی کالونیاں تھیں۔۔۔ انہوں نے جہاں قبضہ کیا تھا تو وہاں کسی بھی علاقے کوکنٹرول کرنے کیلئے دوسرے علاقوں سے پولیس کولیکرآتے تھے اور ان کو ہدایت دیتے تھے تاکہ وہ کھل کے انگریزوں کی ۔۔۔ فرانسیسیوں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جتنا ظلم کرنا چاہیں ۔۔۔ قتل کرنا چاہیں ۔۔۔ جوبھی کرنا چاہیں وہ آزادی سے کرسکیں کیونکہ ان کا اس علاقے سے تعلق نہیں ہوتا تھا۔ کراچی میں لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پربڑا بحث ومباحثہ چل رہا ہے ۔۔۔افسوس کہ ان دانشوروں کی اکثریت ۔۔۔ تجزیہ نگاروں کی اکثریت۔۔۔ نام نہاد سیاسی تجزیہ نگاروں کی اکثریت۔۔۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کی اکثریت۔۔۔ منافقوں ، جھوٹوں ، عیاروں ، مکاروں، وطن فروش اور ضمیرفروش لوگوں پر مشتمل ہے۔ کسی نے آج تک نہیں کہا کہ کراچی میں پولیس ، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فورسز کتنی کراچی کی ہیں؟۔۔۔کیا کوئی کراچی کا پولیس والا ہے ؟۔۔۔کیا کوئی کراچی کے ایس ایچ اوز، ڈی ایس پیز، ایس پیز کراچی میں متعین ہیں؟۔۔۔ جب آپ باہر سے پولیس افسر لائیں گے جس کو نہ کراچی کے عوام کی سائیکالوجی معلوم ہے ۔۔۔نہ نفسیات معلوم ہے۔۔۔ نہ رہن سہن معلوم ہے۔۔۔آپ ان کوشہریوں پر ڈنڈاچلانے کا حکم صادر کریں گے تو وہ تو مال غنیمت اور مفتوحہ قوم کی حیثیت سے لوگوں کے ساتھ سلوک کریں گے ۔۔۔مہاجروں کے ساتھ بدقسمتی سے ، کراچی ، حیدرآباداور دیگرشہری علاقو ں میں آج تک یہی ہوتا چلاآیا ہے ۔
1964ء میں لسانی فسادات ہوئے۔۔۔1972ء میں لسانی فسادات ہوئے۔۔۔ اس وقت ایم کیوایم نہیں تھی۔۔۔ الطاف حسین نہیں تھا۔ آج کہتے ہیں جب سے الطاف حسین آیا ہے۔۔۔جب سے ایم کیوایم بنی ہے یہ فسادات ہورہے ہیں۔ان ضمیرفروشوں کویہ نہیں معلوم کہ کیا 1964ء میں الطاف حسین تھا؟کیااس وقت ایم کیوایم تھی؟ ۔۔۔72ء 73ء میں جب پیپلزپارٹی کے زمانے میں لسانی فسادات (linguistic riots ) ہوئے تھے ،کیا اس وقت الطاف حسین تھا؟۔۔۔ ایم کیوایم تھی؟۔۔۔ جی نہیں۔۔۔ بالکل نہیں تھی۔
پھر14، دسمبر1986ء کو قصبہ علیگڑھ کا واقعہ ہوا۔۔۔ 31 ، اکتوبر1986ء کوسہراب گوٹھ کا سانحہ ہوا۔آپ نے کبھی کسی اخبارمیں ۔۔۔کسی ٹیلی ویژن پر ۔۔۔ان سانحات کاتذکرہ نہیں سناہوگا جبکہ 12، مئی۔۔۔12مئی کاباربارتذکرہ کیاجاتاہے کہ 12مئی کو چیف جسٹس چوہدری افتخار آرہے تھے ، ان کی آمد پر ایم کیوایم نے ہنگامہ کیا۔ چندروز قبل 12، مئی منایا گیا ہے کہ قاتلوں کو سزانہیں دی گئی ۔۔۔کہاجاتاہے کہ وکیل جلادیئے گئے ۔میں نے ایک ہزار مرتبہ بیانات دیئے ، میں نے کہاکہ جووکلاء جلائے گئے ہیں۔۔۔ان کی کوئی ممبرشپ ہوگی۔وہ سپریم کورٹ کے۔۔۔ ہائی کورٹ کے۔۔۔ سول کورٹ کے۔۔۔ لوئر کورٹ کے۔۔۔ کس کورٹ کی انجمن کے ۔۔۔ یاکس بارایسوسی ایشن کے ممبرتھے ۔۔۔یا نہیں تھے۔۔۔ وکیل بننے کی ایک ممبرشپ ہوتی ہے ۔۔۔اس کا ممبرشپ کارڈ ہوتاہے ۔۔۔ممبرشپ نمبر ہوتا ہے ۔۔۔ اس پر اس کا نام ہوتا ہے۔۔۔ ولدیت ہوتی ہے۔۔۔ گھرکا پتہ ہوتا ہے۔۔۔ فوٹوگراف ہوتاہے۔۔۔میں نے کہاکہ12، مئی کو جتنے وکیل جلے ہیں ان کے نام۔۔۔ ان کے پتے ۔۔۔ان کی فہرست جاری کی جائے لیکن کسی مائی کے لعل نے ۔۔۔کسی بارایسوسی ایشن کے رہنما ء نے ۔۔۔کسی ضمیر فروش نے ۔۔۔ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ان بارایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے آج تک وہ فہرست جاری نہیں کی ۔ میں ایک مرتبہ پھر کہتا ہوں کہ 12،مئی کوجتنے وکیل جلائے گئے اس کی فہرست تو شائع کریں۔لیکن 12،مئی کا ڈھول آج تک پیٹا جارہا ہے ۔کوئی نہیں کہتا کہ اس روز ایم کیوایم کے 42 کارکنوں کوشہیدکیاگیا۔۔۔ایم کیوایم کے جلوسوں کو جس میں معصوم بچے گودوں میں تھے۔۔۔ عورتیں تھیں۔۔۔مائیں تھیں۔۔۔ بہنیں تھیں۔۔۔ان پر گولیاں چلائی گئیں۔اگر اس پر عوامی ری ایکشن ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری نہ کسی پارٹی پہ ہوتی ہے ۔۔۔نہ کسی فرد پرعائد ہوتی ہے۔ 
19،جون1992ء کو مہاجروں کے خلا ف آپریشن کیا گیا۔ کہاگیا کہ یہ آپریشن 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف ہوگا۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان زندہ ہیں۔۔۔دومرتبہ انہوں نے قومی اسمبلی میں 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست پیش کی ۔میں آج پھر اس انٹرویو کے توسط سے پوچھتا ہوں کہ ان 72 افراد میں سے کوئی ایک بڑی مچھلی بھی پکڑی گئی؟ ۔۔۔جوآپریشن فو ج نے کیااس میں ایک بھی بڑی مچھلی پکڑی گئی؟۔۔۔ اس آپریشن کارخ ایم کیوایم اور مہاجرقوم کی جانب موڑ دیا گیا۔۔۔اور مہاجروں کومارا گیا۔۔۔ قتل کیا گیا۔۔۔ ذبح کیا گیا۔۔۔15 ہزارکارکن شہید کیے گئے۔۔۔ میرے 70 سالہ بوڑھے بھائی ، ریٹائرڈ سول سرونٹ ناصر حسین کوگرفتارکرکے تین روز تک تشددکانشانہ بناکرشہید کیا گیا۔۔۔میرے 28 سالہ بھتیجے عارف حسین جو کہ این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے پاس کردہ ۔۔۔انجینئرنگ کی ڈگری لینے والا تھا، اس کو گرفتارکیا گیا۔۔۔ٹارچر کیا گیا ۔۔۔اور اس کو بھی شہید کردیا گیا۔ میرے پیارے پیارے ساتھیوں کو شہید کیا گیا۔۔۔اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ علیحدگی کا نعرہ لگاتا۔۔۔ملک کو خداحافظ کہنے کا نعرہ لگاتا۔۔۔ لیکن میں نے پھر بھی کہا صبر کرو ۔۔۔صبرکرو۔۔۔ صبرکرو۔۔۔ اللہ بڑا انصاف کرنے والا ہے ۔۔۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ یہاں کے قبرستان بھر گئے۔۔۔ شہداء کا قبرستان علیحدہ بناناپڑا۔ میں نے آئی ایس آئی، ایم آئی اور فوج سے بڑی ملاقاتیں کیں۔۔۔ غلط فہمیاں دورکرنے کی کوشش کی کہ معاملہ ٹھیک ہوجائے ۔۔۔ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں۔۔۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم پاکستان کیوں ہجرت کرکے آئے ۔۔۔ہمارے والدین پاکستان ہجرت کرکے کیوں آئے۔۔۔یہ ہمارا قصور ہے ۔۔۔ یہ ہمارا گناہ ہے ۔میں نے صبر کیا۔۔۔ ہمارے 15ہزار ساتھی شہید ہوئے ۔۔۔میں نے آئی ایس آئی ، ایم آئی اور فوج سب سے بات کی کہ ہمارے درمیان غلط فہمیاں دورکرو۔۔۔ہم ان کی اولادیں ہیں جن کے 20 لاکھ افراد پاکستان بنانے میں کٹ گئے ۔۔۔مرگئے ۔۔۔جن کی بیٹیاں بیوہ ہوگئیں۔۔۔جن کے معصوم بچے نیزوں پر اچھالے گئے ۔۔۔ہم نے پھر بھی کہا۔۔۔ ’’بٹ کے رہے گاہندوستان۔۔۔ لے کے رہیں گے پاکستان‘‘۔۔۔لیکن مہاجروں سے نفرت اور عصبیت آج تک ختم نہیں ہوئی۔ہم نے ہرجماعت سے اتحاد کرنے کی کوشش کی۔۔۔ ہم نے نواز شریف سے اتحاد کیا۔۔۔ہم نے بے نظیربھٹو سے اتحاد کیا ۔۔۔ ان کی حکومت سے اتحاد کیا۔۔۔سب نے دھوکے پہ دھوکے کیے ۔۔۔ وعدوں پہ وعدے کیے اور انہی کے دور میں ہمارے پیٹھ میں خنجر گھونپے گئے ۔ ہم نے ملک کی بہتری اور فلاح کیلئے سب سے اتحاد کیا۔۔۔ان سب نے ہماری پیٹھ میں خنجرگھونپے ۔مثال کے طور پر نوازشریف کے ساتھ اتحاد کیا،انہوں نے اپنے پہلے دورحکومت میں19،جون1992ء کوایم کیوایم کے خلاف آپریشن کروادیا۔۔۔پھر معافیاں مانگیں۔۔۔اور قسمیں کھاکے دوبارہ یقین دلایا کہ اب ہم دھوکہ نہیں کریں گے جس پر ہم نے پھر اتحاد کیا۔پھر 1998ء میں حکیم سعید کے قتل کے واقعہ کا الزام لگاکر ۔۔۔جیب سے پرچی نکال کرکہ یہ آئی ایس آئی نے دی ہے ۔۔۔ایک ساتھی فصیح جگنو کو شہید کیا گیااورسندھ میں گورنر راج لگادیا گیا۔۔۔جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔۔۔ ہم نے اس پر بھی صبر کیا۔ اس کے بعد لندن میں اے پی سی ہوئی وہاں نوا زشریف صاحب نے اور تمام جماعتوں نے کہاکہ سب سے بات ہوگی سوائے ایم کیوایم کے اور الطاف حسین کے ۔۔۔ جیسے ہم کوئی بھنگی ہیں۔۔۔ چمار ہیں۔۔۔ کوئی شودر ہیں ۔۔۔ کوئی نچلی ذات کے ہیں ۔۔۔یہ پاکستان بنانے والوں کی اولاد کے ساتھ کیا جارہاہے ؟۔۔۔ہم نے یہ بھی برداشت کیا۔۔۔ہم یہ بھی برداشت کرتے رہے لیکن انہوں نے میراپیچھا نہیں چھوڑا۔۔۔اوربالآخر مجھ کو جلاوطن ہونا پڑا، میں برطانیہ آگیا۔22 سال سے میں برطانیہ میں جلاوطن ہوں اوربرطانیہ میں بھی مجھے چین سے نہیں بیٹھنے دیا گیا۔۔۔میرے اوپر طرح طرح کے ۔۔۔جھوٹی رپورٹوں کے ذریعہ یہاں پر کیاڈرامہ کیا گیا یہ تواللہ ہی بہترجانتا ہے ۔۔۔اس وقت میرے اوپر منی لانڈرنگ کے کیسز۔۔۔ نجانے اور کون کو ن سے مقدمے جو ہیں وہ ابھی عدالت میں تو یہ نہیں لائے لیکن برطانوی گورنمنٹ نے برطانیہ میں میرے تمام بنک اکاؤنٹ بند کردیے ہیں بغیرکسی ثبوت وشواہد کے اور عدالت میں ثابت کیے بغیر ۔۔۔ مجھ پرحکیم سعیدکے قتل کا الزام لگایاگیا۔۔۔پارٹی پر لگایاگیا۔۔۔آج سپریم کورٹ نے کہہ دیا کہ حکیم سعید کے قتل میں ایم کیوایم کو ہم باعزت بری کرتے ہیں ۔۔۔ ہم پرمدیر تکبیر ،صلاح الدین کے قتل کا الزام لگایاگیا، ہمیں اس میں عدالت نے باعزت بری کیا۔۔۔ہم پرجناح پورکاالزام لگایاگیا اس میں باعزت بری کیا ۔کون کون سے الزام ہیں جونہ لگائے گئے ہوں تا کہ ہم پر غداری کاالزام ثابت کیا جاسکے ۔ 
حالیہ کراچی آپریشن شروع ہواتو ہم نے امن کی خاطرہم نے اس کی حمایت کی کہ بھتہ خوروں کو۔۔۔ چوروں کو۔۔۔ کارلفٹرکو۔۔۔ موبائل فون چھیننے والوں کو۔۔۔ عورتوں سے ان کے پرس چھیننے والوں کوگرفتارکیا جائے۔۔۔اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اور بھتہ خوروں کو گرفتارکیا جائے ۔مگر ہم نے تو دیکھا نہیں کہ یہ لوگ گرفتارہوئے بلکہ اس حالیہ آپریشن کا بھی رخ ایم کیوایم کی جانب موڑدیا گیا۔۔۔اب تک ہمارے 47 کارکنان لاپتہ ہیں ۔۔۔ درجنوں ساتھیوں کو ان کے ماں باپ کے سامنے رینجرز اورپولیس گرفتارکیا گیااوردوسرے دن ان کی لاشیں ملیں۔۔۔آج ان کی رپورٹ لکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔۔۔ان کی انکوائری کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ہم نے آپریشن کے بعد وزیراعظم پاکستان اوروزیرداخلہ چوہدری نثارسے درخواست کی کہ ایک کمیٹی بنادیں جومانیٹرکرے کہ آپریشن میں صحیح ہورہا ہے یا غلط ہورہا ہے ۔۔۔کس کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اور کس کے ساتھ صحیح ہورہا ہے لیکن وہ کمیٹی نہیں بنائی گئی ۔ دوروزپہلے کراچی میں لاء اینڈ آرڈر کا اجلاس ہوا جس میں چیف آف آرمی اسٹاف بھی موجود تھے۔۔۔ آئی ایس آئی کے چیف بھی موجود تھے ۔۔۔ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔۔۔پولیس کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔۔۔وہاں جھوٹے جھوٹے الزامات لگائے جاتے رہے ۔۔۔گورنر صاحب خاموشی سے سنتے رہے ۔۔۔یہی میرا گورنر صاحب سے شکوہ ہے لیکن میں کیاکروں کہ وہاں حیدررضوی ایم کیوایم کے نمائندے کی حیثیت سے بولے لیکن انہیں بھی مکمل طور پر اپنا مؤقف بیان نہیں کرنے دیا گیا۔۔۔وہاں ایم کیوایم پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ سارا جو کراچی میں ہورہا ہے اس کی ذمہ داری ایم کیوایم پر ہے ۔لیاری کی بات آئی تو آصف زرداری صاحب چیخ اٹھے کہ لیاری پر آپ انگلی کیوں اٹھارہے ہیں۔۔۔ایم کیوایم پر انگلی اٹھی توگورنر صاحب خاموش بیٹھے رہے جس کا مجھے صدمہ ہے ۔آج ہرآدمی کہتا ہے کہ’’ آپ کے لوگ مارے جارہے ہیں۔۔۔ گورنر آپ کا ہے۔۔۔ تو گورنر کیاکررہا ہے ؟‘‘۔۔۔اب میں کیا بتاؤں کہ گورنر کی ڈی جی رینجرنہیں سنتا۔۔۔آئی جی نہیں سنتاتو کہتے ہیں کہ’’ پھرآپ گورنر کو واپس بلا کیوں نہیں لیتے‘‘۔۔۔ میں بلالوں ۔۔۔لیکن پھر عسکری لوگ۔۔۔ فوج، آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ناراض ہوجائیں گے۔۔۔ تو اس کی خاطر خون کے گھونٹ پی پی کے رہتاہوں ۔۔۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے گورنری کایا کسی وزارتوں کا۔ہم پرپریشر ہوتا ہے کہ چونکہ آپ گورنمنٹ سے باہر ہیں یہ سارے مسئلے مسائل۔۔۔یہ سب کچھ اس کی وجہ سے ہورہا ہے ۔توہم پیپلزپارٹی کے ساتھ دوبارہ حکومت میں شامل ہوگئے لیکن اس کے باوجود بھی سکون نہیں ۔۔۔ اس کے بعد بھی ہمارے چار، چار۔۔۔پانچ پانچ ۔۔۔ دس دس کی لاشیں ملتی رہیں۔۔۔ لیکن پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ نے۔۔۔وزیراعلیٰ نے کسی کے گھرجاکے تعزیت نہیں کی ۔۔۔میں پاکستان کے عوام سے پوچھتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ ہم کریں تو کیا کریں ؟
اب برطانیہ میں انہوں نے منی لانڈرنگ اور نجانے کون کون سے مقدمات بنادیے ہیں۔۔۔میںیہ کہتا ہوں ۔۔۔برطانیہ کی ایم آئی فائیو ہو۔۔۔ایم آئی سکس ہو۔۔۔ اسکاٹ لینڈیارڈ ہو۔۔۔یا میٹروپولیٹن پولیس ہو۔۔۔میرے گھرپر چھاپے مارے ۔۔۔میرے آفس پر چھاپے مارے ۔۔۔سکے جمع کرنا میری بچپن سے hobby ہے ۔۔۔وہ میرے سکوں کی بوتلیں اٹھاکر لے گئے ۔۔۔یہ برطانیہ کے کونسے قانون میں لکھا ہے؟۔۔۔اس کیلئے کوئی وکیل آنے کیلئے تیار نہیں ہے۔۔۔ اس لیے کہ یہاں کے وکیل بھی یہاں کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈرتے ہیں کہ اس میں بڑی بڑی ایجنسیاں ملوث ہیں تو وہ بھی سامنے نہیں آتے ۔میں پھربھی ڈٹ کے لڑ رہا ہوں۔۔۔میں اکیلا لڑتا رہوں گا۔۔۔ مجھے برطانیہ والے جیل میں ڈال دیں۔۔۔ مجھے موت دیدیں۔۔۔ مجھے گولی ماردیں۔۔۔ لیکن میں نے پاکستان میں سچ کہا اور جب تک میں یہاں ہوں یہاں سچ کہوں گا۔
پھر میں نے سوچاجب مرنا ہی ہے تو پاکستان جاکے مرو۔۔۔توپہلے بھی میں پاسپورٹ کیلئے اپلائی کرتا رہا۔۔۔ اب میں نے واجد شمس الحسن صاحب سے درخواست کی کہ میرے پیروں میں واٹس نکلے ہوئے ہیں۔۔۔پیروکاز ہوگئے ہیں ۔۔۔ میں چل نہیں سکتا ہوں۔۔۔ میں چلنے پھرنے سے قاصر ہوں۔۔۔ پلیز آپ کوئی ایسا بندوبست کریں کہ میں کسی طریقے سے بیساکھیوں کے ذریعہ میں انٹرنیشنل سیکریٹریٹ پہنچ جاؤں، وہاں پر میری تفصیلات لے لیں۔ تو خیر انہوں نے کرم کیا۔۔۔ مہربانی کی۔۔۔ وہ 4، اپریل 2014ء کو نادرا کے پورے عملے کو لیکر آئے ۔۔۔انہوں نے کئی مرتبہ میرے فنگرپرنٹس لئے۔۔۔کئی مرتبہ میرے فوٹوگرافس لئے ۔۔۔فیس لی۔۔۔ پھر میں نے دستخط کیے ۔۔۔ اس کاٹوکن نمبر بھی موجود ہے کہ آپ نے فارم جمع کرایا۔۔۔میں اپنے شناختی کارڈ کا انتظار کرتا رہا ۔ جب میں نے شور اٹھایا کہ ابھی تک مجھے NICOP کارڈ بناکر نہیں دیاگیا ہے تو چوہدری نثارصاحب نے کہاکہ ان کی تصویر خراب ہے ۔۔۔ کبھی کہا کہ فنگر پرنٹس صحیح نہیں ہیں۔۔۔ کبھی کہاکہ ڈیٹا اڑ گیا ہے۔۔۔ الطاف حسین دوبارہ ڈیٹا دیں۔۔۔ہم دوبارہ آجائیں گے اورکارڈ بنادیں گے ۔چوہدری نثار صاحب !۔۔۔آ پ مجھے بھیک دینا چاہتے ہیں؟۔۔۔نوازشریف کی حکومت مجھے پاکستانیت کیلئے بھیک دینا چاہتی ہے؟۔۔۔مجھے بھیک نہیں چاہیے ۔۔۔آپ کو جوکچھ کرنا ہے میرے ساتھ کیجئے۔۔۔میں سچ کہتا تھا۔۔۔ سچ کہتا ہوں۔۔۔ میں وڈیروں کے خلاف۔۔۔ جاگیرداروں کے خلاف۔۔۔ پاکستان کی دولت اور خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف تھا ۔۔۔ان چوروں ، مکار، عیار ، ڈاکوؤں کے آج بھی خلاف ہوں۔۔۔آخری سانس تک ان کے خلاف جدوجہد کرتا رہوں گا ۔۔۔کرتا رہوں گا۔۔۔ کرتا رہوں گا۔۔۔چاہے اس کی سزا مجھے موت کی صورت ہی کیوں نہ دی جائے۔۔۔ میں ایسی موت کو بھی خوشی سے گلے لگالوں گا۔ میرے لاپتہ کارکن آج بھی لاپتہ ہیں۔۔۔کوئی ان کی بازیابی کیلئے آگے آنے کیلئے تیار نہیں ہے۔۔۔ کوئی ان کے بارے میں بتانے کیلئے تیارنہیں ہے ۔
میں آئی ایس آئی ۔۔۔ایم آئی۔۔۔فو ج کیلئے کہتا رہا کہ آپ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کررہے ہیں ۔۔۔ ایم کیوایم ملک کی سلامتی کے لئے فوج سے آگے بڑھ کر قربانی دینے کیلئے تیارہے۔۔۔ چاہے دہشت گردوں کے خلاف ہو یا کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت کے خلاف ہو،ایم کیوایم ، فوج کے شانہ بشانہ چلنا چاہتی ہے ۔۔۔مگرمیری قدرجس طرح کی جانی چاہیے تھی ۔۔۔میری مثبت باتوں کا جو جواب دینا چاہیے تھا وہ نہیں دیا گیا۔۔۔اوراب آپ۔۔۔ پاکستان کے عوام بتائیں کہ مجھے کیاکرنا چاہیے ۔۔۔
میں کارکنوں کوبھی بتانا چاہتا ہوں کہ پوری رابطہ کمیٹی موجود ہے ۔۔۔جووہ فیصلہ کرے آپ اس کو مانیں،تاوقتیکہ میں جلد کارکنوں سے شائد الوداعی خطاب کروں۔۔۔کہ کارکنو! میں اب ۔۔۔خودکشی تو میں نہیں کروں گا۔۔۔ہاں۔۔۔میں اپنے آپ کو اورخطرات میں ڈال کے مرجاؤں گالیکن میرے ساتھیو!۔۔۔ تحریک کو جاری رکھنا۔۔۔شہیدوں کے لہو کا پاس رکھنا۔۔۔اور اس تحریک کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرتے رہنا۔ دیکھو۔۔۔ مہاجروں کو آج نہیں توکل۔۔۔ کل نہیں توپرسوں حقوق ملیں گے ۔۔۔پولیس میں نوکری ملے گی ۔۔۔فوج میں بھی مل جائے گی ۔۔۔اوراگر مہاجروں کو حق نہیں ملے گا تو خاکم بدہن پورے ملک کے لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا۔۔۔ غریبوں کوجینے کاحق نہیں ملے گا۔۔۔تو پھر حکومتیں کفرسے تو قائم رہ سکتی ہیں مگرظلم اورناانصافی سے قائم نہیں رہ سکتیں۔۔۔ اللہ پاکستان پر کرم فرمائے ۔۔۔ اللہ بااختیارلوگوں کوسوچنے ،سمجھنے کی ہدایت کرے ۔۔۔


وزیراعظم پاکستان!۔۔۔خدا، رسولؐ کے واسطے ، آپ کو بھی اللہ کے ہاں جانا ہے ۔۔۔چوہدری نثار۔۔۔! تمہیں بھی اللہ کے ہاں جانا ہے۔۔۔ یہ مت سوچوکہ صرف الطاف حسین کو جواب دینا ہے۔۔۔ آپ کو بھی جواب دینا ہے ۔۔۔مجھ کو بھی جواب دینا ہے ۔۔۔ ہرکسی کواللہ کے آگے جواب دینا ہے۔۔۔ ۔۔۔ ہرکسی کو ایک ایک اچھے اور برے کا حساب دینا ہے ۔۔۔لہٰذاخدا کے خوف سے ڈریں۔۔۔ روزمحشر سے ڈریں ۔
میں اپیل کرتاہوںآؤپاکستانیو!۔۔۔ پاکستان کے مظلوم لوگو!۔۔۔98 فیصد پٹھانوں۔۔۔پنجابیوں۔۔۔ سندھیوں۔۔۔ بلوچوں۔۔۔ سرائیکیوں۔۔۔ ہزاروال۔۔۔ کشمیریوں۔۔۔آؤ !۔۔۔ الطاف حسین کے ساتھ ۔۔۔اور ملک کا نظام بدلنے کیلئے آجاؤ الطاف حسین کے ساتھ،ہم مل کے نظام بدلتے ہیں۔ میں نہ رہاتومیرے ساتھیوں کے ساتھ آکرملک میں انقلاب لانا۔۔۔غریبوں کا انقلاب لانا۔۔۔ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا۔ 
میں آپ کابہت شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ نے مجھے اتناوقت دیا۔۔۔میرا مؤقف پورے ملک میں بیان کیاکہ آج پورے ملک کے سامنے سچ اورجھوٹ کا فیصلہ ہوجائے ۔ان دعاؤں کے ساتھ کہ اللہ، پاکستان کا حامی وناصرہو۔۔۔ اللہ تعالیٰ سب کی زندگیاں اچھی کرے ۔۔۔ سب کی مشکلات آسان کرے ۔بہت بہت شکریہ ۔۔۔بہت بہت عنایت ۔ السلام علیکم ۔


12/10/2016 6:19:51 PM