Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور ڈی جی پاسپورٹ کا یہ بیان انتہائی دکھ کا سبب بنا ہے۔ الطا ف حسین


ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور ڈی جی پاسپورٹ کا یہ بیان انتہائی دکھ کا سبب بنا ہے۔ الطا ف حسین
 Posted on: 5/12/2014
4، اپریل 2014ء کومیں نے نیکوپ کارڈ کیلئے پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کی موجودگی میں نادرا کے عملے کودرخواست دی،
نادرا کے عملے نے میرے فوٹولئے ، فنگر پرنٹ لئے ، مطلوبہ فارم پرُ کیا،فیس ادا کی گئی، جوجو دستاویزات مانگیں وہ انہیں فراہم کیں
وزارت داخلہ ہائی کمشنرواجد شمس الحسن سے گواہی لے سکتی ہے ۔ اس درخواست کی رسید بطورثبوت
ہمارے پاس موجود ہے جس کا ٹوکن نمبر2 اورٹریکنگ آئی ڈی 503601007637 ہے 
17 اپریل کودفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنی بریفنگ میں کہاکہ الطاف حسین کی درخواست موصول ہوگئی ہے جووزارت داخلہ کوبھیجی جاچکی ہے لیکن آج کہاجارہاہے کہ محکمہ داخلہ کودرخواست موصول نہیں ہوئی
وزارت داخلہ اور نادار کے حکام بتائیں کہ وہ مجھے میرا شناختی کارڈ کتنے دن میں بناکر دے رہے ہیں تاکہ اپنے NICOP کارڈ کے حصول کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرسکوں
وزارت داخلہ اورمتعلقہ حکام اس معاملہ کو بگاڑنے کے بجائے دانشمندی کامظاہرہ کریں
اس بات کی تحقیقات کرائی جائے کہ کروڑوں عوام کے متفقہ قائد کے ساتھ ایسا متعصبانہ سلوک کرنے کے پیچھے کونسے ہاتھ کارفرما ہیں
لندن۔۔۔12مئی 2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے سینیٹ کی کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ مسٹر لغاری اورڈائریکٹرجنرل پاسپورٹ کی جانب سے دیے جانے والے اس بیان پر کہ محکمہ داخلہ کو ابھی تک الطاف حسین کی پاسپورٹ یا کسی اور چیز کی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے، پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ میرے لئے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور ڈی جی پاسپورٹ کا یہ بیان انتہائی دکھ کا سبب بنا ہے۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں ،محکمہ داخلہ کے اعلیٰ حکام اور موجودہ وفاقی حکومت کوبتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اراکین رابطہ کمیٹی ،دیگر تحریکی ذمہ داران اور تحریکی ساتھیوں کی موجودگی میں بروزجمعہ مورخہ4، اپریل 2014ء کو جب پاکستانی پاسپورٹ کیلئے درخواست دی تو مجھ سے کہاگیا کہ پہلے شناختی کارڈ) NICOP (صکارڈ بنانا پڑے گا، جس پر میں نے اپنے ذمہ داران اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ برطانیہ میں متعین پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن کی موجودگی میں نادرا کے عملے کودرخواست دی، نادرا کے عملے نے میرے فوٹولئے ، فنگر پرنٹ لئے ، مطلوبہ فارم پرُ کیا،فیس ادا کی گئی، اپنے پاکستانی پاسپورٹ اور پرانے شناختی کارڈ کی نقل کے علاوہ ہائی کمیشن کے عملے نے جوجو دستاویزات مانگیں انہیں وہ فراہم کیں جس کی گواہی وزارت داخلہ ،واجد شمس الحسن سے لے سکتی ہے ۔ اس درخواست کی رسید بطورثبوت ہمارے پاس موجود ہے جس کا ٹوکن نمبر2 اورٹریکنگ آئی ڈی 503601007637 ہے ۔17 اپریل کودفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنی بریفنگ میں کہاکہ الطاف حسین کی درخواست موصول ہوگئی ہے جووزارت داخلہ کوبھیجی جاچکی ہے لیکن آج کہاجارہاہے کہ محکمہ داخلہ کودرخواست موصول نہیں ہوئی ۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مجھے انتہائی دکھ اور دلی صدمہ پہنچا ہے کہ میں نے وزارت داخلہ، برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن اور متعلقہ دفتر کی ہدایت کے تحت NICOP کارڈ کے اجراء کیلئے تمام لوازمات پورے کردیئے لیکن آج کے دن تک مجھے یہ کارڈ موصول نہیں ہوا ہے ۔ جب میرا NICOP کارڈ ہی بناکر نہیں دیا گیا ہے تو میں پاکستانی پاسپورٹ کیلئے درخواست کیسے دے سکتاہوں؟ لہٰذا میں حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے کے تمام ذمہ داروں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ کیاجانے والا یہ متعصبانہ طرزعمل بند کیا جائے ۔ اگریہ متعصبانہ عمل بند نہ کیا گیا میرے کروڑوں چاہنے والوں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پاکستان سمیت پوری دنیا میں پرامن احتجاج کا قانونی وآئینی حق حاصل ہے ۔لہٰذا وزارت داخلہ اورمتعلقہ حکام اس معاملہ کو بگاڑنے کے بجائے دانشمندی کا مظاہرہ کریں اوراس بات کی تحقیقات کرائیں کہ کروڑوں عوام کے متفقہ قائد کے ساتھ ایسا متعصبانہ سلوک کرنے کے پیچھے کونسے ہاتھ کارفرما ہیں جو اس طرح کا عمل کرکے محب وطن پاکستانیوں کو صدمات سے دوچار کررہے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر میں پاکستانی نہیں ہوں تو پھر کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے اورمجھ سے میری پاکستانیت دنیا کی کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔ انہوں نے دریافت کیاکہ کیا میرے علاوہ پاکستان کے دیگر بڑے بڑے سیاسی رہنما گیارہ، گیارہ اور دس ، دس سال سے اپنی مرضی یا حالات کے جبر کے تحت جلاوطن نہیں ہوئے۔ جب پاکستان میں مجھ پر بموں سے قاتلانہ حملے کیے جانے لگے تو رابطہ کمیٹی اور کارکنان کی اکثریت نے مجھ پر زور دیا کہ آپ فی الحال بیرون ملک چلے جائیں اور وہاں رہ کر ہماری رہنمائی کریں، اس دن سے آج کے دن تک پاکستان کا کوئی بھی شہری یا ایم کیوایم کے کارکنان یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان 22 برسوں میں ،میں اپنے کارکنان وعوام سے رابطہ میں نہیں رہا۔ میرے دن رات اورصبح شام سب پاکستان کی فلاح وبہبود، سلامتی وبقاء اورتحریک کی جدوجہد میں صرف ہوتی ہیں۔ حق پرستانہ جدوجہد کی کامیابی ، فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ اور ملک سے کرپٹ سیاسی کلچر کی تبدیلی کیلئے ایم کیوایم جو جدوجہد کررہی ہے ہم آج بھی اس پر قائم ہیں اور آخری سانس تک قائم رہیں گے ۔ 
جناب الطاف حسین نے واشگاف الفاظ میں مطالبہ کیا کہ وزارت داخلہ اور نادار کے حکام بتائیں کہ وہ مجھے میرا NICOP کارڈ کتنے دن میں بناکر دے رہے ہیں یا نہیں دے رہے ہیں تاکہ NICOP کارڈ نہ دینے کی صورت میں پھر میں اپنے آئینی وقانونی ماہرین سے رجوع کرکے اپنے NICOP کارڈ کے حصول کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرسکوں۔



12/6/2016 4:22:48 AM