Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل اور انکے ساتھ ناروا سلوک کو بہتر نا بنایا گیا تو اس خطے کی صورتحال صوبہ بلوچستان جیسی ہو جائیگی ، حق پرست سینیٹر نسرین جلیل


گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل اور انکے ساتھ ناروا سلوک کو بہتر نا بنایا گیا تو اس خطے کی صورتحال صوبہ بلوچستان جیسی ہو جائیگی ، حق پرست سینیٹر نسرین جلیل
 Posted on: 5/11/2014
گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل اور انکے ساتھ ناروا سلوک کو بہتر نا بنایا گیا تو اس خطے کی صورتحال صوبہ بلوچستان جیسی ہو جائیگی ، حق پرست سینیٹر نسرین جلیل
گلگت بلتستان ائیر پورٹ پر سفری سہولیات کا فقدان اور ہوائی سفر کے زائد کرایوں کے سبب عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے
گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خاتمے کے لئے مقامی صنعتوں اور کاروبار ی سرگرمیوں کے فروغ کی ضرورت ہے
گلگت بلتستان کے اکثر اسپتالوں میں دوائیں اور ڈاکٹر زمیسر نہیں ہیں،
وفاقی افسران کی تقرری و تبادلے کے سلسلے میں گورننگ نظام اور اختیارات کے حکم نامے برائے 2009 پر عمل کیا جانا ضروری ہے
انسداد دہشتگردی ایکٹ کا بے جا استعمال، حکومتی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی اور دفعہ 144 کے خاتمے کی فوری ضرورت ہے
گلگت بلتستان میں معاشی ، معاشرتی، انتظامی خرابیوں کی بہتری کے لیے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے نام سینیٹر نسرین جلیل کا 8نکاتی تو جہ دلاؤ خط 
کراچی ۔۔۔11مئی2014ء
سینیٹ میں فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی رکن وحق پرست سینیٹرنسرین جلیل نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی حقوق کیلئے آواز بلند کی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ 8نکاتی توجہ دلاو خط کے ذریعے وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف کی توجہ گلگت بلتستان میں بنیادی انسانی سہو لیات کی عدم فراہمی کے سبب گلگت بلتستان کے عوام میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کی جانب مبذول کرانا اورگلگت بلتستان کے عوام میں پائی جانیوالی محرومیوں سے تفصیلاًآگاہ کرنا ہے۔8نکاتی خط میں سینیٹر نسرین جلیل نے وزیراعظم کوبتایاکہ گلگت بلتستان میں ائیر پورٹ پر سفری سہولیات کا فقدان اور ہوائی سفر کے کرائے خاصے زیادہ ہیں جس کے سبب وہاں کے عوام کو اندرون ملک و بیرون ملک سفر میں شدید مشکلات کا سامنہ کر نا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں نجی ائیر لائنوں کو اجازت دینے کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیا ت بھی فراہم کی جائیں۔ سینیٹر نسرین جلیل نے گلگت بلتستان میں صحت اور علاج کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں صحت عامہ کے بنیادی ادارے کام نہیں کر رہے ہیں ،گلگت بلتستان میں اسپتال تو موجود ہیں لیکن ان میں سے اکثر اسپتالوں میں دوائیں اورڈاکٹرز میسر نہیں ہیں۔انھوں نے اپنے خط میں گلگت بلتستان میں آئینی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ،وہاں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خاتمے کے لئے مقامی صنعتوں اور کاروبار ی سرگرمیوں کے فروغ جیسے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت پر بھی ذور دیا ہے ۔سینیٹر نسرین جلیل نے گلگت بلتستان میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے بے جا استعمال کے سبب ریاستی اداروں کے لیے عوام میں پائی جانے والی نفرت اور گلگت بلتستان میں حکومتی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کرتے ہوئے عوامی مفاد میں دفعہ 144کے خاتمے کی ضرورت پر بھی ذور دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے شہری علاقوں میں انفرااسٹرکچیراورتوانائی کے مسائل سمیت بنیادی انسانی سہولیات کی بھی کمی ہے اور وہاں سرکاری اداروں کے افسران کی تقرری و تبادلے کے سلسلے میں گورننگ نظام اور اختیارات کے حکم نامے برائے 2009 پر عمل نہیں کیا جارہا ہے جس کے سبب گلگت بلتستان کے مقامی افسران میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ سینیٹر نسرین جلیل نے عوامی جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام میں اس خطے کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔اپنے خط کے آخر میں انھوں نے وزیر اعظم پاکستان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل اور انکے ساتھ نا روا سلوک کو بہتر نا بنایا گیا تو اس خطے کی صورتحال بلوچستان یا پھر ملک کے معاشی حب کراچی جیسی ہو جائیگی جہاں عوام میں ریاست اور حکومتی اداروں کے خلاف شدید غم و غصہ اور سہو لیا ت کی غیر منصفانہ فراہمی کے سبب احساس کمتری پایا جاتا ہے ۔

12/9/2016 3:18:57 PM