Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پیوند کاری کی صورت میں بیرونِ ملک جانیو الا سرمایہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے منہ پر طمانچہ اور ماہرین کی کھلم کھلا تضحیک ہے، کشور زہرا


پیوند کاری کی صورت میں بیرونِ ملک جانیو الا سرمایہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے منہ پر طمانچہ اور ماہرین کی کھلم کھلا تضحیک ہے، کشور زہرا
 Posted on: 5/6/2014 1
پیوند کاری کی صورت میں بیرونِ ملک جانیو الا سرمایہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے منہ پر طمانچہ اور ماہرین کی کھلم کھلا تضحیک ہے، کشور زہرا 
پاکستان میں مستند اداروں اور مایہ ناز ماہرین کی موجودگی کے باوجود پیوند کاری کے میدان کو سر کرنے کے بجائے باہر کے ممالک کے ڈاکٹرز کی دکانیں سجائی جارہی ہیں، حق پرست رکن قومی اسمبلی کشور زہرا 
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب 
اسلام آباد ۔۔۔6، مئی 2014ء 
ٍٍمتحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی محترمہ کشور زہرا نے کہا ہے کہ پاکستان میں اعضاء ناکارہ ہوجانے کے باعث پیوند کاری کی صورت میں بیرونِ ملک جانیو الا سرمایہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے لئے نقصان دہ اورماہرین کی کھلم کھلا تضحیک ہے ۔یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اعضا ء ناکارہ ہونے کی صورت میں آگہی نہ ہونے کے سبب ہر سال ڈیڑھ لاکھ افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوجاتے ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ گردے کے ٹرانسپلانٹیشن نے امید کی ایک راہ کھول دی ہے ،ایک مستند ادارے میں قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اب تک پانچ ہزار مریضوں کے بالکل مفت ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کے عوام کیلئے ایک بہت بڑی سہولت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 50ہزار افراد ہیپاٹائٹس جیسے مہلک مرض میں ہوتے ہیں جو جگر کی پیوندکاری نہ ہونے کی وجہ زندگیوں سے محروم ہورہے ہیں یا دوسری صورت مین بیرون ملک جاکر علاج کرانے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مستند اداروں اور مایہ ناز ماہرین کی موجودگی کے باوجودپیوند کاری کے میدان کو سر کرنے کے بجائے باہر کے ممالک کے ڈاکٹرز کی دکانیں سجائی جارہی ہیں جو بڑا المیہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ مرنے کے بعد ایک انسانی جسم کے اعضا سے 17لوگوں کو زندگی مل سکتی ہے آج اگر پاکستان میں عطیہ شدہ اعضاء موجود ہوں تو یہاں موجود مستند ادارے جو تمام سہولتوں کے باوجود جمود کا شکار ہیں برق رفتاری سے اس عظیم انسانی خدمت کو انجام دینے میں ساری دنیا سے آگے نکل سکتے ہیں ۔ کشور زہرا نے مطالبہ کیا کہ عوام کی صحت کے معاملات کو نام نہاد ترجیحات میں شامل نہ کیاجائے ، پیوند کاری کی صورت میں بیرون ملک جانیو الے سرمایہ کی روک تھام کی جائے اور اس سے وابستہ ماہرین کی تضحیک کا عمل بندکرکے پیوند کاری کیلئے سرپرستی اور وسائل فراہم کرنے کے علاوہ مثبت اقدامات اٹھائے جائیں۔

12/9/2016 7:12:30 PM