Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات، لاپتا کارکنان کی فی الفور بازیابی، انسانیت سوز تشدد بند کرنے اور اس ضمن میں تمام آئینی، قانونی اور عدالتی تقاضے پورے کرنے کیلئے حکومت کو ایم کیوایم کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم


کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات، لاپتا کارکنان کی فی الفور بازیابی، انسانیت سوز تشدد بند کرنے اور اس ضمن میں تمام آئینی، قانونی اور عدالتی تقاضے پورے کرنے کیلئے حکومت کو ایم کیوایم کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم
 Posted on: 5/2/2014 1
کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات، لاپتا کارکنان کی فی الفور بازیابی، انسانیت سوز تشدد بند کرنے اور اس ضمن میں تمام آئینی، قانونی اور عدالتی تقاضے پورے کرنے کیلئے حکومت کو ایم کیوایم کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم
پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار عوام کے محافظ نہیں بلکہ ظلم اور وحشت و بربریت کی علامت بن گئے ہیں
72گھنٹوں میں مظالم بند نہ ہوئے تو ایم کیوایم پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کردے گی اور سندھ بھر میں قومی شاہراوں پر پرامن احتجاجی دھرنے دیگی، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں 4 کارکنان کے ماروائے عدالت قتل کے پیچھے کار فرما اصل اور پراسرار حقائق سے آگاہ کرنے کیلئے بلائی گئی ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے ڈاکٹر محمدفاروق ستارکا خطاب
کراچی ۔۔۔02، مئی 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایم کیوایم کے چار کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات ، تمام جبری حراست میں لئے گئے لاپتا کارکنان کی فی الفور بازیابی ، انسانیت سوز تشدد کی بند کرنے اور اس ضمن میں تمام آئینی ، قانونی اورعدالتی تقاضے پورے کرنے کیلئے حکومت کو 72گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے ۔رابطہ کمیٹی نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی کو ہدایت دیں کہ وہ اپنی نگرانی میں ایم کیوایم کے چار کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل پر کمیشن بنائیں تاکہ یہ حقائق منظر عام پر آسکیں کہ ایم کیوایم کے کارکنان کی گرفتاریوں ، ماورائے عدالت قتل میں سادہ لباس اہلکاروں کے ساتھ رینجرز اہلکار بھی پوری طرح شریک ہیں ۔ رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن تشکیل دیں۔ رابطہ کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے 72گھنٹوں میں ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کو بازیاب نہ کرایا ، چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہ کرایا ، حراست کے دوران گرفتار کئے گئے کارکنان پر انسانیت سوز تشدد بند نہ کرایا اور کارکنان و ہمدردوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث سفاک اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارورائی نہ کی گئی تو ایم کیوایم پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کردے گی اور سندھ بھر میں قومی شاہروں پر پرامن احتجاجی دھرنے دیگی اور ایم کیوایم پر ڈھائے جانے والے مظالم سے پوری دنیا کو آگاہ کرے گی ۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے یہ الٹی میٹم اور مطالبات جمعہ کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں 4کارکنان کے ماروائے عدالت قتل کے پیچھے کار فرما اصل اور پراسرار حقائق سے آگاہ کرنے کیلئے بلائی گئی ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس سے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین کنور نوید ، حیدر عباس رضوی ، امین الحق ، کنور خالد یونس ، اسلم آفریدی اور اشفاق منگی بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ہم پٹیشن انسانی حقوق کی تنظیموں کو 15اپریل کو روانہ کرچکے ہیں جبکہ ہائی کورٹ میں بھی ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنان کی پٹیشن داخل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے جن چار کارکنوں کی تشدد زدہ لاشیں دوروز قبل کراچی کے علاقے میمن گوٹھ سے ملی ہیں انہیں 13، اپریل کو اسکیم 33 میں واقع کنٹری ٹاور اپارٹمنٹس سے گرفتارکیا گیا تھا۔ ان کارکنوں کی لاشیں جس حالت میں ملی ہیں اسے دیکھ کر ہرذی شعور فرد کی روح تک کانپ اٹھتی ہے اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو روا ں ہوجاتے ہیں۔ایم کیوایم کے ان کارکنوں کے سروں اورسینے میں گولیاں ماری گئیں،جسم کوڈرل کیاگیا، جسم کوکسی گرم سلاخ یاسگریٹ سے داغاگیا، مختلف حصوں کو جلایا گیا جسکے باعث ان کے جسم پرکئی جگہوں پر کھال غائب ہے۔ایم کیوایم ایک ذمہ دارجماعت ہے ،ہم بلاوجہ کسی فردیاادارے پر الزام لگانے پر یقین نہیں رکھتے لہٰذاہم نے اس واقعہ کی اپنے طورپربھی تحقیقات کی ہیں اوراب تک کی تحقیقات کے نتیجے میں جوتفصیلات ہمارے علم میںآئی ہیں وہ ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے قوم کے سامنے لارہے ہیں ۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ ستمبر2013ء سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد سے ایم کیوایم کے تمام علاقائی یونٹ دفاتر بند ہیں چنانچہ تنظیمی کام کوجاری رکھنے کیلئے ایم کیو ایم کے کارکنان عوامی مقامات پر بیٹھاکرتے ہیں۔ مورخہ 13 ، اپریل 2014ء کی شب بھی ایم کیوایم گلشن معمار سیکٹر، ایم کیوایم گلشن اقبال سیکٹر اور آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او ) کے بعض کارکنان گلشن معمار، اسکیم 33 میں واقع کنٹری اپارٹمنٹس میں ایک اسنوکر کلب کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ۔عینی شاہدین کے مطابق ان کارکنان کے نزدیک ہی وی ۔کیپ (P-Cap) پہنے ایک شخص موجود تھا جو تین گھنٹوں سے مسلسل ایم کیوایم کے کارکنوں کی نقل وحرکت پر نگاہ رکھے ہوئے تھااس شخص نے اپنے موبائل فون سے کسی کو کال کی جس کے چند ہی منٹ بعد ایک پرائیوٹ ڈبل کیبن گاڑی میں سوار سادہ لباس مسلح افراد کنٹری ٹاور اپارٹمنٹس کے احاطے میں داخل ہوئے وڈبل کیبن گاڑی کے ساتھ رینجرز کی دو گاڑیاں بھی آئیں اور اپارٹمنٹس کے پیچھے ہی کھڑی ہوگئیں۔انہوں نے بتایاکہ سادہ لباس میں مسلح افراد کو اپارٹمنٹس کے احاطے میں داخل ہوتے دیکھ کر بلڈنگ کے چوکیدار نے انہیں ڈاکو سمجھ کر انہیں خبردار کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی۔سادہ لباس میں ملبوس اہلکار ایم کیوایم کے کارکنان وہمدردوں کو گرفتارکرکے سہراب گوٹھ پر واقع الآصف اسکوائر کے سامنے رینجرز کی چوکی لے گئے۔رینجرز کی چوکی پرنقاب پہنے ہوئے ایک مخبرخاص کے ذریعہ گرفتارشدگان کی شناخت کرائی گئی جس کے بعد ایم کیوایم کے 6 کارکنان کو رینجرز کی گاڑی کی نگرانی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاجبکہ دیگر ہمدردوں کو تشدد کے بعد آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نزدیکی علاقوں میں چھوڑ دیا گیا۔ 13، اپریل کو گرفتارکیے گئے ان کارکنان کو حراست کے دوران انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 30 اپریل کومذکورہ بالا چار کارکنان کوانسانیت سوز تشدد کے بعد ماورائے عدالت قتل کرکے انکی لاشیں میمن گوٹھ میں پھینک دی گئیں جبکہ دوکارکنان جو ان کے ساتھ گرفتارکیے گئے تھے اب تک لاپتہ ہیں جنکی زندگی کے حوالہ سے شدید خدشات لاحق ہیں۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہا کہ ایم کیوایم کا شروع دن سے مؤقف ہے کہ کوئی فرد خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، اگراس پر کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے تو اسے تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے گرفتارکرکے عدالت میں پیش کیاجائے اوراس پر مقدمہ چلایا جائے تاہم انصاف کاتقاضہ ہے کہ ملزم کو بھی اپنی صفائی کا پورا حق دیا جائے۔انہوں نے مزیدکہاکہ رینجرز کے بعض اہلکارخود ہی قانون اور خود ہی منصف بن کرفیصلے کررہے ہیں ، ایم کیوایم کے کارکنان کو گرفتارکرکے لاپتہ کیاجارہا ہے، گرفتاری سے لاتعلقی ظاہر کی جارہی ہے ، غیرقانونی حراست میں کارکنان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے اور پھرانہیں ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پرپھینکی جارہی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ہم تاریخ کے ریکارڈ پر یہ حقائق لارہے ہیں کہ کس طرح ایم کیوایم کے کارکنوں کوگرفتارکرکے انکا ماورائے عدالت قتل کیاجارہا ہے اور انہیں لاپتہ کیاجارہا ہے اورکون کون سے ہاتھ اس غیرقانونی اور غیرانسانی کارروائیوں میں کارفرما ہیں۔آج بھی ایم کیوایم کے کئی کارکنان غیرقانونی گرفتاری کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ڈاکٹرمحمد فاروق ستارنے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیاکہ وہ کورکمانڈر کراچی لیفٹنٹ جنرل سجاد غنی کو ہدایت کریں کہ اپنی نگرانی میں ایم کیوایم کے چارکارکنان کے ماورائے عدالت قتل کی انکوائری کیلئے کمیشن بنائیں اور عینی شاہدین سے اصل حقائق معلوم کریں تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ ایم کیوایم کے کارکنان کی گرفتاریوں اورماورائے عدالت قتل میں سادہ لباس میں اہلکاروں کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی پوری طرح شریک ہیں ۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن تشکیل دیں ۔ اگر وزیراعظم کی جانب سے عدالتی کمیشن اور کورکمانڈر کراچی کی نگرانی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا تو ہم تمام ثبوت اور حقائق ان کمیشن کے سامنے پیش کریں گے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارنے کراچی میں جاری ٹارگٹڈآپریشن کافیصلہ کرتے وقت اس بات کااعلان کیاتھاکہ ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل کی جائے گی جوآپریشن کی نگرانی کرے گی تاکہ اس دوران ہونے والی زیادتیوں کاازالہ کیاجائے لیکن مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی جس کانتیجہ یہ ہے کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کانہ رکنے والاسلسلہ شروع ہوگیاہے اورسادہ لباس میں کارروائیاں کرنے والے پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکارعوام کے محافظ نہیں بلکہ ظلم اوروحشت وبربریت کی علامت بن گئے ہیں۔ڈاکٹرفاروق ستارنے انسانی حقوق کی تنظیموں اورسول سوسائٹی سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ سندھ خصوصاً کراچی میں سیاسی کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، انہیں گرفتارکرکے لاپتہ کرنے، سرکاری حراست میں وحشیانہ تشددکرنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورذیوں پرصدائے احتجاج بلندکریں۔

12/5/2016 2:34:50 AM