Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سینئر اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بارے میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے اہم سوالات


سینئر اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بارے میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے اہم سوالات
 Posted on: 4/24/2014
سینئر اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بارے میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے اہم سوالات
حامد میر نے کراچی آنے کی اطلاع ،وقت اور فلائٹ نمبر سے جیو انتظامیہ کی کن کن شخصیات کو آگاہ کیاتھا ؟
حامد میر کوئٹہ جارہے تھے، انہیں کوئٹہ سفر کی منسوخی اور کراچی آنے پر کن کن افراد نے مجبورکیا ؟
کیاجیو انتظامیہ نے حامدمیرکو ایئر پورٹ سے ریسیو کرنے اورطے شدہ منزل تک پہنچانے کیلئے بلٹ پروف گاڑی کا انتظام کیا تھا ؟
حامد میر صاحب کو بحفاظت طے شدہ مقام پرپہنچانے کیلئے کس سیکوریٹی کمپنی کو ذمہ داریاں دی گئی تھیں ؟ 
جیو نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ بتایا گیا ہے کہ حامد میر پر قاتلانہ حملے سے قبل جائے وقوعہ پر کالعدم تنظیموں کے افراد دیکھے گئے تھے، وہ کون تھے اور ان کا تعلق کس کالعدم تنظیم سے ہے ؟
حامد میر پر قاتلانہ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پنجاب نے قبول کی ہے ، اس اہم نکتہ کو کن مقاصد کے تحت نظرانداز کیاجارہا ہے ؟
طالبان نے ایک ہٹ لسٹ جاری کی ہے جس میں سب سے پہلے حامد میر کا نام ہے، اخبارات اور ٹی وی چینل کو یہ ہٹ لسٹ انہیں کب ، کہاں اورکیسے ملی ہے ؟
جیو کی انتظامیہ، پیمرا کے ارکان اورجوڈیشل کمیشن اگر مناسب سمجھیں تو میر ے پیش کردہ سوالات پر بھی غور فرمالیں۔ الطاف حسین
ہوسکتا ہے کہ میرے یہ سوالات حامد میر پر قاتلانہ حملے کی سازش تیار کرنے والے پس پردہ عناصر کو منظر عام پر لانے میں کچھ معاون و مددگار ثابت ہوسکیں۔الطاف حسین
لندن ۔۔۔24،اپریل 2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کراچی میں سینئر اورممتاز اینکرحامدمیرپرہونے والے قاتلانہ حملے کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے ہیں اور جیو ٹی وی کی انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی اراکین، پیمرا کے کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اراکین اورجوڈیشل کمیشن کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ برائے مہربانی وہ حامدمیر پر کئے جانے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات میں اگر مناسب سمجھیں تو میر ے پیش کر دہ سوالات پر بھی غورفرمالیں۔ ہوسکتا ہے کہ میرے یہ سوالات حامد میر پر کئے جانے والے قاتلانہ حملے کی سازش تیار کرنے والے پس پردہ عناصر اور چھپے ہوئے چہروں کو منظر عام پر لانے میں کچھ معاون و مددگار ثابت ہوسکیں۔ 
سوال نمبر 1 ۔۔۔ حامد میر نے اپنے کراچی آنے کی اطلاع ،وقت اور فلائٹ نمبر سے جیو انتظامیہ کی اعلیٰ سطح کی کن کن شخصیات کو آگاہ کیاتھا ؟
سوال نمبر 2 ۔۔۔ جیوکی انتظامیہ کے جن جن افراد کو حامدمیر کی کراچی آمد ، فلائٹ نمبر اوروقت وغیرہ کا معلوم تھا انہوں نے ایئر پورٹ سے حامد میر کو ریسیو کرنے اور ان کی ٹرانسپورٹیشن کے کیا کیا انتظامات کئے تھے؟
سوال نمبر 3 ۔۔۔ یہ بات کم و بیش ہر ذی شعور کے علم میں تھی کہ حامد میرصاحب کو عرصہ دراز سے دھمکیاں مل رہی تھیں اورانکی جان خطرے میں رہتی ہے ۔ اس سے پہلے بھی انہیں قتل کرنے کی غرض سے ان کی گاڑی میں بم بھی لگایا گیا تھا ۔ کیا جیو انتظامیہ نے انہیں ایئر پورٹ سے ریسیو کرنے کے بعد طے شدہ منزل تک پہنچانے کے لئے ان کیلئے بلٹ پروف گاڑی کا انتظام کیا تھا ؟
سوال نمبر 4۔۔۔ اسی طرح حامد میر صاحب کو بحفاظت طے شدہ مقام پرپہنچانے کیلئے کیا مناسب سیکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا؟اوراگر
کیا گیا تھاتو کس کمپنی کی سیکوریٹی کو ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں ؟ 
سوال نمبر 5۔۔۔ جیو انتظامیہ کے جن لوگوں کے علم میں حامدمیر کی کراچی آمدکی اطلاع تھی انہوں نے ان کی آمد کی اطلاع کا ذکراپنے ادارے کے کس فرد یا دوست احباب میں کس کس سے کیا تھا؟
سوال نمبر 6۔۔۔ مختلف اخباری اور الیکٹرانک میڈیا سے ملنے والی اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حامد میر کوئٹہ جارہے تھے اور کراچی نہیں آرہے تھے ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں کوئٹہ سفر کی منسوخی اور کراچی آنے پر کن کن افراد نے مجبورکیا یا ضد کی کہ وہ کراچی تشریف لائیں؟
سوال نمبر7۔۔۔حامد میر جس اسپتال میں زیرعلاج ہیں ، ان پرحملے کے بعد آیا ڈرائیور انہیں اس اسپتال میں خود لیکر گیا تھا یا حامد میر صاحب کے کہنے پر وہاں لیکر گیا تھا ؟
سوال نمبر 8۔۔۔حامد میر کی عیاد ت اور خبر گیری کیلئے اسپتال میں جیو انتظامیہ کے کون کون سے افراد سب سے پہلے پہنچے ؟
سوال نمبر9۔۔۔مختلف اخبارات اور ٹیلی ویژن کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طالبان نے ایک ہٹ لسٹ جاری کی ہے جس میں سب سے پہلے حامد میر کا نام ہے ۔یہ فہرست میڈیا کی اسکرین پر باربار دکھائی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد مرتبہ طالبان کے نام نہاد رہنماء حامد میر اور دیگر لوگوں کو ان کے انجام کار کی دھمکیاں دیکر خوف زدہ کرتے رہے ہیں ۔ ان اخبارات اور ٹی وی چینل سے معلوم کیا جائے کہ یہ ہٹ لسٹ انہیں کب ، کہاں اورکیسے ملی ہے ؟
سوال نمبر10۔۔۔طالبان کے مختلف گروپس وقتاً فوقتاً حامد میر کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں ۔ دھمکیاں دینے والوں کے نام اورپتے بمعہ رابطہ نمبر معلوم کیے جائیں تاکہ تحقیقات میں آسانی ہوسکے ۔
سوال نمبر11۔۔۔جیو نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ پر حامد میر پر قاتلانہ حملے سے قبل کالعدم تنظیموں کے افراد دیکھے گئے تھے ۔ معلوم کرایا جائے کہ وہ کون تھے اور ان کا تعلق کس کالعدم تنظیم سے ہے ؟
سوال نمبر12۔۔۔اس سے قبل بھی نومبر 2012ء میں بھی جب اسلام آبادمیں حامدمیرکوکاربم دھماکے کے ذریعے مارنے کیلئے ان کی کارمیں بم نصب کیاگیاتو تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سوال نمبر13۔۔۔ممتاز ومعروف اینکرپرسن حامد میر پر کئے جانے والے تازہ ترین حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پنجاب نے قبول کی ہے اور یہ خبربشمول روزنامہ جنگ ملک کے تقریباً تمام پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میں شائع اور نشرہوچکی ہے لہٰذا تحقیقات کرائی جائے کہ اس اہم نکتہ کو کن مقاصد کے تحت نظرانداز کیاجارہا ہے ؟
سوال نمبر14۔۔۔اس کے علاوہ معروف کالم نگار اور اینکرپرسز امتیاز عالم اور افتخار احمد کو بھی دھمکیاں دی گئی ہیں، اینکرپرسن رضا رومی کی گاڑی پر حملہ کیا گیا ، ایکسپریس کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا اورایکسپریس کی وین پر حملہ کرکے تین کارکنوں کوشہیدکیاگیاجس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔صحافیوں اور اینکرپرسنز کو دھمکیاں طالبان کی جانب سے دی جاتی رہی ہیں لیکن کراچی میں حامدمیرپرحملے کاالزام آئی ایس آئی پر لگایاگیااور ٹی وی پر فوٹو آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام کا دکھایاجاتا ہے لہٰذا اس پہلو پر بھی غورکیا جائے کہ ایسا عمل کیوں کیا گیا؟
جناب الطاف حسین نے دانشور وں ،قلمکاروں ، کالم نگاروں ،اس قسم کے قاتلانہ حملوں کی تحقیقاتی اور تجزیاتی رپورٹس تیار کرنے والے لکھاریوں اور نجی وسرکاری اداروں سے بھی پرزو ر اپیل کی کہ وہ بھی ان سوالوں کے جوابات معلوم کر کے اپنے اپنے تجزیہ سے عوام کو آگاہ کریں ۔
*****

12/7/2016 12:22:20 PM