Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بانیان پاکستان کی اولادوں کیساتھ 1992ء کے طرز کے ماورائے عدالت قتل کی سفاکانہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور اب طلباء بھی اس سے محفوظ نہیں، انچارج اے پی ایم ایس او توصیف اعجاز


بانیان پاکستان کی اولادوں کیساتھ 1992ء کے طرز کے ماورائے عدالت قتل کی سفاکانہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور اب طلباء بھی اس سے محفوظ نہیں، انچارج اے پی ایم ایس او توصیف اعجاز
 Posted on: 4/21/2014
بانیان پاکستان کی اولادوں کیساتھ 1992ء کے طرز کے ماورائے عدالت قتل کی سفاکانہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور اب طلباء بھی اس سے محفوظ نہیں، انچارج اے پی ایم ایس او توصیف اعجاز
ایم کیوایم کی تاریخ شہادتوں سے بھری پڑی ہے، رکن مرکزی کمیٹی سید وقاص علی شاہ
جامعہ کراچی کے طالب علم اور اے پی ایم ایس او کے کارکن سلمان مشتاق کو فی الفور بازیاب کیا جائے اساتذہ طلباء اور والدین کا مطالبہ
کراچی۔۔۔ 21اپریل 2014ء
جامعہ کراچی شعبہ پولیٹیکل سائنس کے طالب علم اور اے پی ایم ایس او کے کارکن سلمان مشتاق کو سادہ لباس اہلکار 12اپریل کے روز بے جرم و خطاحراست میں لے گئے تھے جو تاحال بازیاب نہ ہو سکے اس واقعے کے بعد 21اپریل کو جامعہ کراچی کے اساتذہ سمیت طلباء کی بڑی تعداد نے سلور جوبلی گیٹ کے قریب جامعہ کراچی کے لاپتہ طالب علم کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر انچارج اے پی ایم ایس او توصیف اعجاز نے صدر پاکستان ممنون حسین ،وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ طالب علم کو فی الفور بازیاب کرایا جائے ، سندھ میں اب اردو بولنے والے سندھی طلباء کوتعلیمی اداروں میں بھی ریاستی ظلم کا نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے ،شہر قائد میں جاری سفاکانہ ما ورائے عدالت قتل کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی طلباء ملک کے معمار ہیں انکے ساتھ تعصب اور اغواء حکومت وقت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ،پاکستان میں بانیان پاکستان کی اولادوں کی آج بھی نہ صرف حق تلفی جاری ہے بلکہ ان پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں آزادی کے لئے20لاکھ جانوں کا نذرانہ دینے والوں سے پاکستان بننے کے بعد بھی قدم قدم پر وفاداری کے امتحانات لئے جارہے ہیں گزشتہ 70برس کی تاریخ سے ارباب اختیار نے کوئی سبق نہیں سیکھاتاریخ شاہد ہے کہ بانیان پاکستان پر1971 میں بے انتہا ستم ڈھائے گئے 1986 ء میں قصبہ علیگڑھ میں مہاجر بستیاں خاک اورخون میں نہلا دی گئیں ،سانحہ پکا قلعہ اور 30ستمبر جیسے خونی واقعات رونما ہوئے۔90کی دہائی شہر قائد کے باسیوں نے آگ و خون کے دریاء عبور کرتے ہوئے طے کی،مگر ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود نہ تو بانیان پاکستان کی اولادوں کو کوئی دبا سکا اور نہ انکا وجود کوئی مٹا سکا اور ایم کیو ایم اسکا منہ بولتا ثبوت ہے ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوششیں کرنے والے خود اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔دریں اثناء رکن مرکزی کمیٹی سید وقاص علی شاہ کا کہنا تھا کہ1978میں اے پی ایم ایس اوکے بطن سے جنم لینے والی تحریک 15ہزارجانوں کا نذرانہ بشمول قائد تحریک الطاف حسین کے بھائی عارف حسین اور بھتیجے ناصر حسین متعدد MPAاورMNA کی شہادتوں کا نذرانہ دیکر بھی یہ تحریک قائم و دائم ہے اور قربانیاں دینے کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔جبکہ دوسری جانب اس ملک میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو آئین و قانون کو سرے سے ہی نہیں مانتے مگر ریاست پھر بھی ان سے مذاکرات کی رٹ لگائے ہوئے ہے،جبکہ بانیان پاکستان کی اولادیں قیام پاکستان سے اب تک 22لاکھ سے زائد قربانیاں دے چکے ہیں مگر پاکستان میں آج بھی انکی حیثیت اجنبیوں کی سی ہے لوگوں کو گھروں سے اٹھا اٹھا کر قتل کیا جارہا ہے مگر کوئی پرُسان حال نہیں ۔مظاہرہ کے شر کاء سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ سیا سیات کے چیئرمین احمد قادری نے کہا کہ سلمان مشتاق انتہائی شریف ذہین طالبعلم ہے اور کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی ،غیر قانونی و مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے ۔دوران احتجاج اساتذہ اور طلباء نے حکوت سے مطالبہ کیا کہ سلمان مشتاق جامعہ کراچی شعبہ سیاسیات کے طالب علم تھے اور انہیں محض تعصب کی بنیاد پر سادہ لباس اہلکار گرفتار کرکے لے گئے یہ لمحہ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔دریں اثناء شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سلمان مشتاق کو فی الفور بازیاب کیا جائے اوراگر ایسا نہ کیا گیا تو اسے حکومت کی نااہلی تصور کرتے ہوئے اپنے سخت لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

12/4/2016 8:20:39 AM