Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سچی محبت میں صلے کی تمنا نہیں کی جاتی،الطاف حسین


سچی محبت میں صلے کی تمنا نہیں کی جاتی،الطاف حسین
 Posted on: 4/13/2014
سچی محبت میں صلے کی تمنا نہیں کی جاتی،الطاف حسین
سندھ کے عوام ایک بار الطاف حسین کا ہاتھ تو تھام کردیکھیں، اگر وہ سندھ کو شاہ لطیف ؒ کے خوابوں کی سرزمین نہ بناڈالے تو اس کا نام تک نہ لینا
سندھ سے ہماری محبت کا ثبوت یہ ہے کہ ایم کیوایم نے عزیزآباد کے علاقے سے ایک سندھی کو ٹکٹ دیکر اسمبلی کارکن بنوادیا، یہی سچی محبت ہے
نئے پرانے سندھی کا جھگڑا ختم کیاجائے اور سب کو سندھ دھرتی کا بیٹا تسلیم کیاجائے
ہم سندھ دھرتی سے محبت کے محض دعوے ہی نہ کریں بلکہ سندھ کے حقوق کیلئے عملی جدوجہد بھی کریں
سندھ میں آنے والے لاکھوں افغانیوں کے بارے میں یہ کسی نے نہیں لکھا کہ ’’افغانی نہ کھپن‘‘
ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم نفرتوں کا خاتمہ کریں گے اور کسی لالچ یاخوف کے بغیر ایک دوسرے سے سچی محبت کریں گے
جو بھی سندھ میں مستقل طورپرآبادہے اور جس کا جینا مرنا سندھ سے وابستہ ہے وہ سندھی ہے
سندھیوں اور اردوبولنے والو! عہد کرو کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کراپنے حقوق کی جدوجہدکریں گے
حیدرآباد میں ’’فلسفہ محبت‘‘ کے سندھی ترجمے کی تقریب رونمائی کے شرکاء سے ٹیلی فون پرخطاب
لندن ۔۔۔13، اپریل2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاکہ درحقیقت محبت میں طلب کی خواہش نہیں کی جاتی، سچی محبت میں صلے کی تمنا نہیں کی جاتی،ماں اپنی اولاد سے بے لوث اور بے غرض محبت کرتی ہے اور ماں خود بھوکی رہ کراپنی اولاد کو کھانا دیتی ہے۔انہوں نے سندھ کے عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار الطاف حسین کا ہاتھ تو تھام کردیکھیں ۔ اگر وہ سندھ کو شاہ لطیف ؒ کے خوابوں کی سرزمین نہ بناڈالے تو اس کا نام تک نہ لینا۔ انہوں نے کہاکہ ہرجگہ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں لیکن بہت ہوگیا۔ خدارا!! اب لڑائی جھگڑے ختم کریں اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ سے ہماری محبت کا ثبوت یہ ہے کہ ایم کیوایم نے عزیزآباد کے علاقے سے ایک سندھی کو ٹکٹ دیکر اسمبلی کارکن بنوادیا۔ یہی سچی محبت ہے۔ رونے سے نہ تو حقوق میسرآتے ہیں اور نہ ہی بناؤٹی باتوں سے مسائل حل ہوتے ہیں ۔ہمیں حقوق صرف اسی صورت میں مل سکتے ہیں کہ ہم سندھ دھرتی سے محبت کے محض دعوے ہی نہ کریں بلکہ سندھ کے حقوق کیلئے عملی جدوجہد بھی کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکے روز انڈس ہوٹل حیدرآبادمیں اپنی تصنیف ’’فلسفہ محبت‘‘ کے سندھی ترجمہ کی تقریب رونمائی کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں معروف دانشوروں، ادیبوں، شعراء، مصنفین،سینئرصحافیوں، کالم نگاروں اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
’’ محبت ‘‘ کے عنوان پرگفتگوکرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ ’’ محبت ‘‘ کالفظ عرف عام میں اتنازیادہ سے استعمال ہونے لگاہے کہ لوگ اس کے معنویت اورمعنوں کی گہرائی کوپس پشت ڈال کرعمومی طورپر استعمال کرتے ہیں ۔مختلف مؤرخین اوراسلامی اسکالرزنے حضرت آد م اوربی بی حوا کے بارے میں لکھاہے کہ جب انہیں پیداکیا تو اللہ نے انہیں ایک پھل کھانے سے منع کیاتھا لیکن انہوں نے اس پھل کوکھالیا جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بطورسزاجنت سے نکال کرزمین پر بھیج دیا۔ حضرت آدم اوربی بی حوا اللہ کے حضور معافی کے لئے روتے رہے، گڑگڑاتے رہے اورفریادیں کرتے رہے۔ بعض مؤرخین نے تحریرکیاکہ جب معافی نہیں ہورہی تھی تو آدم اوربی بی حوا نے اللہ کوپکارتے ہوئے کہاکہ جب ہماری پیدائش ہوئی توہم نے وہاں ایک نام لکھاہوادیکھا تھا’’ لاالہ الاللہ محمدرسول اللہ ‘‘ ،اس کے صدقے ہمیں معاف فرمادے۔اس پر ان کی معافی ہوگئی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس واقعہ سے صاف ظاہرہے کہ خدانے انسان کوعالم وجودمیں لانے سے پہلے ہی اپنامحبوب چن لیاتھا۔یعنی پہلے خداکی محبت نے جنم لیا پھراس محبت نے آگے چل کرانسانوں کی شکل میں اشرف المخلوقات کی حیثیت سے جنم لیا۔ �آج انسانوں کے ساتھ ساتھ چرند،پرند،کیڑے مکوڑے اورطرح طرح کی مخلوقات ہیں،آج جوکاروبارحیات ہے وہ اسی کانتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ لوگ محبت کالفظ بغیرسوچے سمجھے استعمال کرتے ہیں اوراس کے معنی اورگہرائی کو نہیں جانتے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ درحقیقت محبت میں طلب کی خواہش نہیں کی جاتی، سچی محبت میں صلے کی تمنا نہیں کی جاتی۔ اللہ تعالیٰ کائنات میں بسنے والے ہرجاندار کو اس لئے رزق عطا نہیں کرتا کہ وہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے ،محبت کو سمجھنے کیلئے اولاد سے ماں کی محبت کی مثال بھی دی جاسکتی ہے کہ ماں اپنی اولاد سے بے لوث اور بے غرض محبت کرتی ہے اور ماں خود بھوکی رہ کراپنی اولاد کو اپنے منہ کا نوالہ بھی کھلا دیتی ہے ۔ دنیا کی کوئی بھی ماں اپنی اولاد سے اس لئے محبت نہیں کرتی کہ یہ اولاد بڑی ہوکر اس کی خدمت کرے گی اور انعام کے طور پر ہیرے جواہرات سے نوازے گی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہرسال اللہ تعالیٰ کے آگے گڑگڑا کے دعائیں مانگنے کے باوجود آج پوری ملت اسلامیہ غلام بنی ہوئی ہے جبکہ مڈل ایسٹ کا چھوٹا سا ملک اسرائیل کا پورے عرب پر رعب ودبدبہ ہے ۔ انہوں نے سندھ کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم صبح شام واویلا کرتے ہیں کہ سندھ دھرتی کے ساتھ بڑا ظلم ہورہا ہے ، سندھ کے عوام کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں ، سندھ سے گیس اور تیل نکلتا ہے، باہرسے آنے والوں نے سندھ میں فیکٹریاں لگالی ہیں لیکن وہاں قدیم سندھیوں کو ملازمت نہیں ملتی۔انہوں نے شرکاء سے دریافت کیاکہ کیا صبح شام یہ رونا رونے سے ہمیں حقوق مل جائیں گے؟جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا’’بالکل نہیں ‘‘جناب الطاف حسین نے کہاکہ رونے سے نہ تو حقوق میسرآتے ہیں اور نہ ہی بناوٹی باتوں سے مسائل حل ہوتے ہیں ۔ہمیں حقوق صرف اسی صورت میں مل سکتے ہیں کہ ہم سندھ دھرتی سے محبت کے محض دعوے ہی نہ کریں بلکہ سندھ کے حقوق کیلئے عملی جدوجہد بھی کریں۔ انہوں نے سندھی بولنے والے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک مرتبہ الطاف حسین کا ہاتھ تھام لیں ۔ ہم سب سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں ۔ آپ تین سو سال یا ایک ہزار سال پرانے سندھی ہیں تو ہم 70 سال پرانے سندھی ہیں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک گھر میں رہنے والی اولاد وں میں کوئی بڑا بھائی ہوتا ہے تو کوئی چھوٹا بھائی ہوتا ہے ، لہٰذا نئے پرانے سندھی کا جھگڑا ختم کیاجائے اور سب کو سندھ دھرتی کا بیٹا تسلیم کیاجائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ دھرتی پراردوبولنے والے سندھیوں کے مسئلہ کو ایک جانب رکھ کران حقائق پر غورکیا جائے کہ سندھی بولنے والے سندھیوں کے حقوق کس نے غصب کیے، لاڑکانہ ، نوڈیرو، خیرپور،کشمور، جیکب آباد اور اندرون سندھ کے دیگر شہروں کی بدترین حالت زار کا ذمہ دار کون ہے ؟
جناب الطاف حسین نے شرکاء سے کہاکہ کیا آپ نے کشمور، جیکب آباد،خیرپور وغیرہ کی حالت زار دیکھی ہے؟ ان علاقوں میں تعلیم ، صحت وصفائی، کی حالت دیکھی ہے ؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سندھ پر حکمرانی کس کی ہے ؟ شرکاء نے جواب دیا کہ ’’سندھیوں کی حکومت ہے ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر سندھیوں کی حکومت ہے تو اس حکومت کاکیا فائدہ جس میں سندھ کا ہاری ،کسان اور مزدوراپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم رہے؟ آج اگر سندھ کے عوام کومار لگ رہی ہے یا وہ حقوق نہ ملنے کا شکوہ کررہے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سندھی بولنے والے عوام کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ لوگ ان کا نام تواستعمال کرتے ہیں مگر ان سے مخلص نہیں ہیں۔ میں سندھ کے عوام سے کہتا ہوں کہ ایک بار الطاف حسین کا ہاتھ تو تھام کردیکھیں ۔ اگر وہ سندھ کو شاہ لطیف ؒ کے خوابوں کی سرزمین نہ بناڈالے تو اس کا نام تک نہ لینا۔ انہوں نے کہاکہ ہرجگہ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں لیکن بہت ہوگیا۔
خدارا!! اب لڑائی جھگڑے ختم کریں اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض نام نہاد قوم پرستوں نے ’’بہاری نہ کھپن، بہاری نہ کھپن‘‘ لکھ لکھ کر سندھ کی دیواریں سیاہ کردیں لیکن سندھ میں آنے والے لاکھوں افغانیوں کے بارے میں یہ کسی نے نہیں لکھا کہ ’’افغانی نہ کھپن‘‘ کیا آپ نے کسی قوم پرست کو ان کے خلاف جلوس نکالتے دیکھا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ ، پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو محبت اور مہمانداری کی روایتوں میں اعلیٰ ترین ہے اور جس کے ہرصوفی شاعر، ادیب اورمفکر نے صرف محبتوں کادرس دیا ہے ۔شاہ لطیف بھٹائی ؒ نے تو یہ فرمایا تھا کہ
سائم سدائیں کرے متی سندھ سکار
دوست مٹھا دلدارعالم سب آباد کریں
یعنی اے میرے اللہ سندھ پراپنی رحمت کی بارش کراورسندھ کے ساتھ ساتھ ساری دنیاکوبھی آبادکر۔شاہ لطیفؒ نے اپنے اس شعر میں یہ نہیں کہا کہ صرف سندھ ،آبادرہے بلکہ انہوں نے پوری دنیا کو آباد رہنے کی دعا دی تو یہ کون سے لوگ ہیں جوچاہتے ہیں کہ صرف سندھی بولنے والے توخوش رہیں لیکن اردوبولنے والے خوش نہ رہیں؟انہوں نے کہاکہ بعض لوگوں کو میری باتیں بری لگیں گی لیکن مجھے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگرآپ سندھ کے بیٹے ہیں تو میں بھی سندھ کابیٹا ہوں ۔ مخالفین یہ الزام لگاتے ہیں کہ اردوبولنے والے سندھ سے مخلص نہیں ہیں لیکن یہ اردوبولنے والے ہی تھے ،یہ ایم کیوایم ہی تھی جس نے این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے جائز حصہ پر مردوں کی طرح ڈٹ کر ٹھپہ لگوایا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ لڑانے والوں کی تو یہ خواہش ہے کہ سندھ کے باسی آپس میں لڑتے رہیں، ایک دوسرے کا خون بہاتے رہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں آباد اس کے مستقل باشندے مرتے ہیں تو سندھ میں دفن ہوتے ہیں ، باہرجاکر کماتے ہیں تو منی آرڈر سندھ ہی میں بھیجتے ہیں لیکن اگر سندھ پر کسی نے ظلم کیا ہے تو وہ باہر والوں نے نہیں بلکہ سندھ والوں ہی نے کیا ہے ۔اگرماں کے بیٹے غیرت مند ہوتے ہیں تو کوئی ماں پرہاتھ اٹھانے کی جرات نہیں کرتا ۔ انہوں نے شرکاء سے کہاکہ آپ مجھے بے شک جذباتی کہیں لیکن میں دل کی بات کررہا ہوں ۔ اگر میری کوئی بات بری لگے تو خدارا!! مجھے معاف کردیں لیکن میں جو کہہ رہا ہوں وہ سچے دل سے کہہ رہا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے جلاوطنی میں 22 سال ہوگئے ہیں ۔ ان 22 برسوں میں، میں نہ صرف عوام اور اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطہ میں رہا ہوں بلکہ اس دوران ایم کیوایم بھی الحمدللہ ترقی کرتی رہی ہے اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ آپ مجھے بتادیں کہ دنیا میں اور کون سی ایسی جماعت ہے جس نے اس طرح ترقی کی ہو یا اس کے لیڈر نے عوام سے اس طرح رابطہ رکھا ہو۔ انہوں نے کہاکہ سندھ سے ہماری محبت کا ثبوت یہ ہے کہ ایم کیوایم نے عزیزآباد کے علاقے سے ایک سندھی کو ٹکٹ دیکر اسمبلی کارکن بنوادیا۔ یہی سچی محبت ہے ۔ محبت پرخلوص ہی ہونی چاہیے خواہ انسانوں سے ہویا خدا سے ہو۔ بعض لوگ اذان ہوتے ہی جلدی جلدی نماز پڑھتے ہیں اور جلد بازی میں قرآن کی آیات تک صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے ۔ ان کی کوشش بس یہ ہوتی ہے کہ جلد سے جلد نماز پڑھ کر اتنا ثواب کمالو اور جہنم سے بچ جاؤ۔ بدقسمتی سے ہمارے علماء نے عوام کو درس ہی یہ دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ ٹھکاٹھک سجدوں میں لگے رہتے ہیں اور خدا سے سچی محبت کے بجائے محض جہنم کے خوف اور جنت کی لالچ میں عبادت کرتے ہیں ۔ ہمیں سوچنا چاہے کہ آیا ہم خدا سے اس کی محبت میں عبادت کررہے ہیں یا محض خوف اور لالچ میں عبادت کررہے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے اس موقع پر خدا سے سچی محبت کے حوالہ سے حضرت رابعہ بصری ؒ کی وہ حکایت بھی سنائی جس کے مطابق ایک روز وہ عالم غضب میں بازار میں اس حال میں چلی جارہی تھیں کہ انکے ایک ہاتھ میں جلتی ہوئی مشعل اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا۔ لوگوں نے استفسار کیا کہ یارابعہ بصریؒ آپ یہ آگ اور پانی لیے کہاں جارہی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس آگ سے جنت کو آگ لگانے اور اس پانی سے جہنم کی آگ بجھانے جارہی ہوں تاکہ لوگ جہنم کے خوف اور جنت کی لالچ سے بے نیاز ہوکر صرف اور صرف اللہ کی محبت میں اس کی عبادت کریں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ہمیں بھی یہی عہد کرنا چاہیے کہ ہم نفرتوں کا خاتمہ کریں گے اور کسی لالچ یاخوف کے بغیر ایک دوسرے سے سچی محبت کریں گے ۔ یہ ہی الطاف حسین کا فلسفہ محبت ہے ۔جناب الطاف حسین نے تقریب کے توسط سے تمام سندھیوں اورمہاجروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاآؤ سندھیوں اور اردوبولنے والو! آپس میں ہاتھ اوردل ملالواورعہد کرو کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کراپنے حقوق کی جدوجہدکریں گے ۔ انہوں نے حاظرین سے کہاکہ آپ گھروں میں نہ بیٹھیں رہیے بلکہ سندھ کے شہرشہرگاؤں گاؤں جائیے ، اردوسندھی مشاعرے کرائیے،آہستہ آہستہ آپ اردواور ہم سندھی سیکھ جائیں گے۔انہوں نے تمام سندھی بولنے والے شاعروں، دانشوروں اوررہنماؤں کومخاطب کرتے ہوئے ان سے سوال کیاکہ کیاہم ایک دوسرے کودل سے قبول کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ اگرکرسکتے ہیں توآئیے اورکھل کرکہیے کہ چاہے سندھی بولنے والے ہوںیااردوبولنے والے ہوں، چاہے پنجابی ہوں یاپشتون ہوں، کوئی بھی زبان بولنے والے ہوں ،جوبھی سندھ میں مستقل طورپرآبادہے،جوکماتاہے سندھ میں خرچ کرتاہے،جومرنے کے بعد سندھ میں دفن ہوتاہے اور جس کاجینامرناسندھ سے وابستہ ہے وہ سندھی ہے۔جناب الطا ف حسین نے تقریرکے اختتام پر دعاکی کہ اللہ تعالیٰ امن ومحبت اوربھائی چارے کے لئے ہماری نیک کوششوں کوقبول فرمائے، سندھ میں امن اوربھائی چارہ پیداکردے، یہاں سے ہرقسم کی نفرتوں کوخاتمہ کردے اورہمارے درمیان ایسااتحادقائم کردے کہ ہم سب مل کرسندھ کی ترقی وخوشحالی کے لئے کام کریں کیونکہ سندھ کی ترقی وخوشحالی ہوگی توپاکستان کی ترقی اورخوشحالی ہوگی۔

12/7/2016 11:55:39 PM