Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جس وقت نوازشریف کی حکومت کاخاتمہ کیا گیا اس وقت جنرل مشرف کا طیارہ فضاء میں تھا،الطاف حسین


جس وقت نوازشریف کی حکومت کاخاتمہ کیا گیا اس وقت جنرل مشرف کا طیارہ فضاء میں تھا،الطاف حسین
 Posted on: 4/12/2014
جس وقت نوازشریف کی حکومت کاخاتمہ کیا گیا اس وقت جنرل مشرف کا طیارہ فضاء میں تھا،الطاف حسین
آئین شکنی کا مقدمہ صرف جنرل مشرف پر چلایاجارہا ہے،اعانت اور معاونت میں شریک دیگر کوچھوڑنا کہاں کا انصاف ہے؟
پاکستان میرا وطن تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، اگر پاکستانی پاسپورٹ کیلئے میری درخواست مستردکی گئی تو نہ صرف میری لیگل ٹیم اعلیٰ عدالتوں کادروازہ کھٹکھٹائے گی بلکہ عوام بھی پرامن اور قانونی احتجاج کرنے میں حق بجانب ہونگے
ایم کیوایم نہ تو سندھ میں دیہی شہری تقسیم کی ذمہ دارہے اور نہ اس نے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کیا ہے
نذیرحسین یونیورسٹی کے قیام کا خواب 25 سال پہلے دیکھا تھا، نذیرحسین یونیورسٹی کا قیام میرے والدین کی تعلیمات کا نتیجہ ہے
نذیرحسین یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب سے قائد ایم کیوایم الطاف حسین کا ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔12، اپریل2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جس وقت نوازشریف کی حکومت کاخاتمہ کرکے انہیں گرفتارکیا گیا اس وقت جنرل مشرف کا طیارہ فضاء میں تھا، جنرل پرویزمشرف گراؤنڈ پر موجود نہیں تھے اور دیگر لوگ حکومت کے خاتمہ میں مصروف تھے لیکن آئین شکنی کا مقدمہ صرف جنرل مشرف پر چلایاجارہا ہے ۔اعانت اور معاونت (aiding and abetting ) میں شریک دیگر تمام افراد کوچھوڑدیا گیا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہاکہ پاکستان میرا وطن تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔میں نے پاکستانی پاسپورٹ وغیرہ کیلئے درخواست جمع کرادی ہے اگر پاکستانی پاسپورٹ کیلئے میری درخواست مستردکی گئی تو نہ صرف میری لیگل ٹیم اعلیٰ عدالتوں کادروازہ کھٹکھٹائے گی بلکہ عوام بھی پرامن اور قانونی احتجاج کرنے میں حق بجانب ہونگے۔ایم کیوایم نہ تو سندھ میں دیہی شہری تقسیم کی ذمہ دارہے اور نہ اس نے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کیا ہے ۔ نذیرحسین یونیورسٹی کے قیام کا خواب 25 سال پہلے دیکھا تھااور اس کیلئے زمین بھی حاصل کرلی تھی لیکن اس کے بعد مجھے جلاوطن ہونا پڑا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز اپنے والد کے نام سے موسوم نذیرحسین یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ افتتاحی تقریب میں مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز، مختلف کالجوں کے پرنسپل حضرات، پروفیسرز، لیکچرارز، ماہرین تعلیم ، ماہرین قانون، ماہرین معاشیات ، مختلف مکاتب فکرکے علمائے کرام ،سیاسی وسماجی شخصیات ،بین الاقوامی شہریت یافتہ کھلاڑیوں، فنکاروں اور زندگی کے دیگرشعبوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے شرکت کی ۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے تقریب کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ نذیرحسین یونیورسٹی کا قیام میرے والدین کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ میری والدہ محترمہ خورشید بیگم کے والد حاجی حافظ رحیم بخش ؒ ، ایک بزرگ ہستی ، واعظ، خطیب اور پیش امام تھے اور انہوں نے اپنی زندگی میں دومرتبہ پیدل حج کی سعادت حاصل کی ۔ میرے والد نذیرحسین مرحوم کے والد حافظ محمد رمضانؒ بھی جید عالم دین، حافظ، قاری ، واعظ، جامع مسجد آگرہ کے خطبیب وپیش امام اورآگرہ شہرکے مفتی بھی تھے ۔ میرے دادا مرحوم کے ہاتھ سے تحریرکردہ فتوے آج بھی جامع مسجد آگرہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ علم کی طلب میرا خاندانی ورثہ ہے ۔ حصول علم کی خواہش اور علم سے متعلق نئی نئی چیزوں کی تلاش کی جستجو میرے خون اور جینیٹک میک اپ میں رچی بسی ہوئی ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کائنات میں عزت، شہرت، ترقی ، خوشحالی ، اچھی گورننس ، اچھی معاشرت کی تشکیل، جرائم سے پاک اور سب کیلئے یکساں انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام صرف علم کی بدولت ہی ممکن ہے، اگر پاکستان کے دولخت ہونے کی وجہ تلاش کی جائے تو اس کی وجہ بھی علم کی کمی ہی نظرآئے گی۔ انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے ضمیر کے مطابق بتائیں کہ یہ کہاں کاانصاف ہے کہ پاکستان میں کسی دکان یا گھر میں چوری 
کرنے والے کوچور قراردیکرگرفتارکیاجائے اور اسے قانون کے مطابق سزا دیکر جیل بھیج دیاجائے لیکن اسی ملک میں جہاں آئین ، قانون اورعدالت سب موجود ہوں وہاں جولوگ بنکوں سے اربوں روپے کے قرضے لیکر معاوف کروائیں ، پی آئی اے ، بجلی وگیس کے محکموں اور دیگر اداروں میں ڈاکے ڈالیں ، کرپشن کریں،چھوٹی اور بڑی عدالتوں میں کرپشن کریں ،جرم کرنے والوں کا جرم ایک ہی ہو مگر ایک فریق کو سزا دیدی جائے اور اسی جرم میں دوسرے فریق کو قابل معافی سمجھ کر چھوڑدیا جائے وہاں ترقی کیسے ہوگی؟
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ کسی بھی معاشرے یا ملک میں ناانصافی ، بدعنوانی، مکروفریب، چوری چکاری ، ڈاکہ زنی ، قومی دولت کی لوٹ مار اور دیگر جرائم کی وجہ علم کافقدان ہے ۔ علم کے فقدان سے معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں، علم کی کمی کے باعث امانت میں خیانت کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی مقدمے کی کروڑوں روپے فیس لینے والا یقیناًآئینی ماہر ہوگا ، معاشرے اور عدالت میں اس کے نام کا ڈنکا بجتا ہوگا ۔ میں ان آئینی وقانونی ماہرین کا دل سے احترام کرتا ہوں لیکن میں ان آئینی وقانونی ماہرین کا احترام کیسے کرسکتاہوں جو جرم کرنے والے کسی ایک فرد پر تو قانون لاگو کریں لیکن اسی جرم کے مرتکب دوسرے فرد کو بری قراردیدیں؟
انہوں نے کہاکہ میں نے اس یونیورسٹی کے قیام کا خواب 25 سال پہلے دیکھا تھااور اس کیلئے زمین بھی حاصل کرلی تھی لیکن اس کے بعد مجھے جلاوطن ہونا پڑا۔ میں جلاوطن ہوگیا لیکن اس خواب کی تکمیل کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوا اور ملک سے باہر رہ کر بھی نذیرحسین یونیورسٹی بناڈالی۔ آج میرا ایک خواب پورا ہوگیا ہے ۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے والدمحترم نذیرحسین اور والدہ محترمہ خورشید بیگم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے جنکی عطا کردہ تربیت نے مجھے اس خواب کی تکمیل کی اہلیت دی ۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر بھی اپنا فضل کرے جنہوں نے نذیرحسین یونیورسٹی بنانے کیلئے محنت کی ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 6 کی تشریح کے مطابق آئین شکنی کرنے والے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ آج جنرل پرویزمشرف پر الزام ہے کہ انہوں نے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کرکے آئین شکنی کی ۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر پہلے ہی بہت سے الزامات ہیں لیکن میں سچ کوسچ ضرورکہوں گا۔ جس وقت نوازشریف کی حکومت کاخاتمہ کرکے انہیں گرفتارکیا گیا اس وقت جنرل مشرف کا طیارہ فضاء میں تھا ، جنرل پرویزمشرف گراؤنڈ پر موجود نہیں تھے اور دیگر لوگ حکومت کے خاتمہ میں مصروف تھے لیکن آئین شکنی کا مقدمہ صرف جنرل مشرف پر چلایاجارہا ہے ۔اعانت اور معاونت (aiding and abetting ) میں شریک دیگر تمام افراد کوچھوڑدیا گیا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہاکہ عدلیہ ، آئین، قانون سب موجود ہے ، 
عدلیہ کی آزادی کیلئے لمبے لمبے جلوس نکالنے والے وکلاء بھی موجود ہیں لیکن آئین وقانون کی اس کھلی خلاف ورزی پر کوئی نہیں بولتا۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ صرف جنرل مشرف کو مجرم قراردے رہے ہیں اور باقی کو نہیں وہ خود بھی آئین کی دفعہ 6 کی خلاف ورزی کے مجرم ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج کے اس اجتماع میں بہت سے نامی گرامی وکلاء بھی موجود ہیں میں ان وکلاء سے کہوں گا کہ آپ نے بہت کمالیا ۔ اب خدارا !!انصاف کیلئے باہر نکلیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج بعض صحافیوں نے فون کرکے اس خبر کی تصدیق چاہی ہے کہ میں نے پاکستانی پاسپورٹ کیلئے درخواست دی ہے ۔ سب سے پہلے تو میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میرا وطن تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جہاں تک پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کیلئے درخواست کا تعلق ہے تو برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کے پرانے اور کچھ موجود افسران گواہ ہونگے کہ میں نے کچھ برس قبل بھی پاکستانی پاسپورٹ کیلئے درخواستیں دی تھیں لیکن مجھے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔اب اس ماہ کی 4 تاریخ کو میں نے دوبارہ پاکستانی پاسپورٹ وغیرہ کیلئے درخواست دی ہے اور اس کے جواب کا منتظرہوں۔ مجھے امید ہے کہ یہ دستاویزات مجھے مل جائیں گی کیونکہ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے یہ میرا قانونی حق ہے لیکن اگر میری درخواست مستردکی گئی تو نہ صرف میری لیگل ٹیم اعلیٰ عدالتوں کادروازہ کھٹکھٹائے گی اورایک لاکھ مقدمے کرے گی بلکہ عوام بھی پرامن اور قانونی احتجاج کرنے میں حق بجانب ہونگے ۔ میں عوام وکارکنان کو کبھی بھی غیرقانونی احتجاج کا درس نہیں دوں گاکیونکہ جس تعلیم کا میں درس دے رہا ہوں وہ اس کی اجازت نہیں دیتی ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض عناصر کی جانب سے ہم پر یہ جھوٹا الزام لگایا گیا کہ ایم کیوایم ، سندھ کی تقسیم چاہتی ہے لیکن ایم کیوایم نہ تو سندھ میں دیہی شہری تقسیم کی ذمہ دارہے اور نہ اس نے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کیا ہے ۔ سندھ میں دیہی اور شہری بنیاد پر کوٹہ سسٹم 1970ء کی دہائی میں پی پی پی کی پہلی حکومت میں نافذ کیاگیا جس میں جنرل ضیاء الحق نے دس سال کی توثیق کردی اور اس کے بعد بھی اس میں اضافہ کیاجاتارہا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ کوٹہ دیا گیا لیکن ہم نے اس کی مخالفت نہیں کی کیونکہ ہم سندھ دھرتی سے محبت کرتے ہیں ، سندھی بولنے والے ہمارے بھائی ہیں ۔ ہم نے صرف یہ کہاکہ اگرکوٹہ سسٹم اسی طرح نافذ رہااورشہری علاقوں کے عوام حقوق سے محروم کیے جاتے رہے تو اس سے شہری علاقوں کے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس احساس محرومی کا ازالہ کیاجائے اور سندھ کے تمام عوام کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق دیے جائیں ۔ پاکستان اور سندھ کی بھلائی اسی میں ہے کہ جیو اور جینے دو۔ جناب الطاف حسین نے مخیرحضرات سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور نذیرحسین یونیورسٹی میں مزید فیکلٹیز بنانے میں مدد کریں ۔ انہوں نے کہاکہ میری مخیرحضرات کوکھلی دعوت ہے کہ وہ اپنے یااپنے کسی عزیز کے نام پر نئی فیکلٹیز قائم کریں ۔ ہمیں ان سے کوئی رقم یا چندہ نہیں چاہیے ہمیں صرف اور صرف تعلیم کوفروغ دینے میں دلچسپی ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج پاکستان کامضبوط ستون اورایک قابل احترام ادارہ ہے اورجولوگ فوج کے ادارے پر کیچڑاچھال رہے ہیں وہ نہ فوج کے دوست ہیں اورنہ ہی پاکستان کے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک ٹی وی ٹاک شومیں فوج کے بارے میں کہاگیافوج نے پاکستان کوتباہ کیا، پاکستان کی تمام تر تباہی وبربادی کی جڑفوج ہے، مشرقی پاکستان فوج کی وجہ سے گیا۔ اس ٹاک شومیں جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان اورجنرل پرویزمشرف کے دورکاتوذکرکیاگیالیکن جنرل ضیاء الحق کے دورآمریت کاذکرکھاگئے۔ آخر کیوں؟ اس پر حاظرین نے جواب دیاکہ وہ جنرل ضیاء کے چاہنے والے ہیں،جنرل ضیاء ان کے سرپرست تھے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نہ کسی کودھمکی دیتاہوں اورنہ ہی کسی کی دھمکی سنتاہوں،میرایہی کہناہے کہ عزت کرواورعزت لو۔انہوں نے کہاکہ اگراللہ تعالیٰ نے مجھے اورمیرے ساتھیوں کوموقع دیاتومیں بدلہ لینے کی نہیں بلکہ معاف کرنے کی بات کروں گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم تعلیم کے فروغ پر یقین رکھتی ہے کیونکہ تعلیم انسانی ذہن کو روشن خیال اوروسیع کرتی ہے اور انسانوں ،مختلف مذاہب اورقوموں کے درمیان ہم آہنگی،یکجہتی اورافہام وتفہیم پیداکرتی ہے ۔تعلیم تمام تنازعات کومذاکرات اور بات چیت سے حل کرنے کی سوچ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے،تعلیم دوسرے انسانوں کے عقائد،رنگ، نسل اورعلاقوں کااحترام سکھاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان بھرمیں امن کاقیام چاہتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ خطہ اورپوری دنیامیں بھی امن چاہتی ہے۔ ہم ہمسائیہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام اورباوقار دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ایم کیوایم ہمسائیہ ممالک کے ساتھ دیرپاتعلقات کے لئے عوامی رابطوں پریقین رکھتی ہے اورہمسائیہ ممالک کے ساتھ ساتھ دنیابھرکے ساتھ بہتر تعلقات چاہتی ہے اورہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم کافروغ اس مقصد کے حصول کے لئے معاون ومددگارہوگا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام امن کامذہب ہے مگربعض مذہبی رہنماؤں نے اسلام کے اس امن پسند امیج کواپنے غیرذمہ دارانہ عمل سے مسخ کردیاہے۔اسلام تمام مذاہب اورعقائدکا احترام اوربرداشت سکھاتاہے،اسلام تمام تنازعات اورجھگڑوں کوبات چیت اورمذاکرات کے ذریعے پرامن طورپر حل کرناسکھاتاہے۔نبی کریمؐ کی ہستی امن اوربرداشت کی علامت ہے جنہوں نے ہمیں معاف کرناسکھایا،آپؐ نے امن اوربرداشت صرف سکھایاہی نہیں بلکہ آپؐ رحمت اورمعاف کرنے کی مثال ہیں ۔ انہوں نے اپنے بدترین دشمنوں حتیٰ کہ اپنے اوپرگندگی پھینکنے والوں اورگالیاں دینے والوں تک کومعاف کردیا۔لوگوں نے آپؐ کے اسی کرداراورتعلیمات کی وجہ سے اسلام کو قبول کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں صرف دوفیصد لوگ ایسے ہیں جو اسلام کا نام لیکردہشت گردی،تشدداورخودکش دھماکے کررہے ہیں اوراسلام کانام بدنام کررہے ہیں جبکہ باقی 98فیصدعوام مذہبی رواداری ، برداشت،جیو اورجینے دو،عقائدکے باہمی احترام پریقین رکھتے ہیں،یہ 98فیصدعوام قرآن مجیدکی ان تعلیمات پریقین رکھتے ہیں کہ ’’ لکم دینکم ولی الدین‘‘ یعنی ’’ میرادین میرے ساتھ،تمہارادین تمہارے ساتھ ‘‘ اور ’’ لااکراہ فی الدین ‘‘ یعنی ’’ دین میں جبرنہیں ‘‘ ۔انہوں نے کہاکہ اسلام مساجد، امام بارگاہوں،عبادتگاہوں لڑکیوں کے اسکولوں اوردیگرمقامات پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ 
جناب الطاف حسین نے علم کی اہمیت اورافادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے ’’ غارحرا ‘‘ کویونیورسٹی قراردیااورکہاکہ ایک چھوٹی سی یونیورسٹی جسے غارحرا کہاجاتاہے اس میں ایک عظیم انسان نے چالیس سال تک غوروفکرکیا اورپھراس پر وحی نازل ہوئی۔اس کاترجمہ تھا ’’پڑھ اس رب کے نام پر جس نے تجھے پید کیا ‘‘ ۔ ااس پہلی وحی کا پہلا لفظ ’’ اقراء ‘‘ یعنی پڑھ ہے ۔جو اس فرمان الہٰی کی نفی کرے وہ مسلمان ہونہیں سکتا۔جولڑکیوں کے اسکولوں کودھماکے سے اڑائے ، انہیں آگ لگائے، جوعورتوں کی تعلیم پر پابندی لگائے وہ مسلمان کہلانے کا حقدارنہیں ہوسکتا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ نذیرحسین یونیورسٹی کاقیام میری والدہ مرحومہ خورشیدبیگم اوروالدنذیرحسین مرحوم کے خواب کی تعبیرہے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعدہجرت کے عذاب جھیلے ،جنہوں نے خوداپنی زندگی مشکلوں اورپریشانیوں میں گزاری مگر اپنے بچوں کوتعلیم کے زیورسے آراستہ کیا،میری والدہ نے محلے کے بچوں کے کپڑے سی کر اپنے بچوں کوپڑھایااورحق حلال کی کھائی اسی لئے اس کاخون الطاف حسین ڈٹ کربولتاہے۔ اپنے والداوروالدہ سے ملنے والے درس اورتعلیم پر عمل کرتے ہوئے میں نے تعلیم کے حصول اوراسے پھیلانے کوزندگی کامشن بنایا۔ٹیوشن پڑھاپڑھاکراپنی تعلیم حاصل کی۔میں نے اپنے والدین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے فلاحی ادارہ خدمت خلق فاؤنڈیشن بنایا، تعلیم کے فروغ کیلئے SUN ACADEMY ( سن اکیڈمی ) قائم کی جس کے تحت کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں اعلیٰ معیار کاایک اسکول قائم کیاگیاجس میں انتہائی معمولی فیس پربچے پڑھتے ہیں۔بچوں کویونیفارم اورکھاناپینابھی مفت فراہم کیاجاتاہے اوراس میں دی جانے والی تعلیم کامعیارمہنگے ترین انگریزی اسکولوں کے معیارکے مطابق ہے جہاں داخلے مکمل میرٹ پرہوتے ہیں ا وروہاں داخلے کیلئے الطاف حسین کی سفارش بھی نہیں چلتی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ نذیر حسین یونیورسٹی کا قیام میراخواب تھااورمیں نے تحریک کی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود نذیرحسین یونیورسٹی کے قیام کیلئے کوششیں کیں اوراللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ آج یہ خواب ایک حقیقت کی صورت میں سامنے ہے۔ یہ نذیرحسین یونیورسٹی نجی شعبہ میں تعلیم کے فروغ کیلئے اداروں کے قیام کی روشن مثال ہے جودوسروں کیلئے قابل تقلیدہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جولوگ ایم کیوایم پر دہشت گردی کاالزام لگاتے ہیں نذیرحسین یونیورسٹی ان الزام لگانے والوں کوایک جواب ہے۔الزام لگانے والے الزام لگاتے رہیں ، ہم اسکول اورکالج بناتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ قومیں علم کے حصول کے ذریعے ہی دنیامیں عزت اورمقام حاصل کرتی ہیں،جب برصغیرمیں قوم انگریزوں کی غلام تھی تو مسلمانوں کوانگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کیلئے سرسیداحمدخان نے علی گڑھ کالج بنایاجوبعد میں علی گڑھ یونیورسٹی میں تبدیل ہوئی ۔ اسی علی گڑھ کالج نے برصغیرکے مسلمانو ں میں علم اورآزادی کاشعوراورجذبہ بیدار کیا۔اگر علی گڑھ کالج کانہ بنتاتو پاکستان وجودمیں نہ آتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم پاکستان کوایساملک بناناچاہتے ہیں جہاں سفارش کاخاتمہ ہو،ہرجگہ میرٹ کانظام ہو، لوٹ مار اور کرپشن کاخاتمہ ہو اورادارے بغیرکسی دباؤ کے اپناکام آزادی کے ساتھ کرسکیں۔ جناب الطاف حسین نے یونیورسٹی کے افتتاح پر یونیورسٹی کے چانسلر اوررابطہ کمیٹی کے رکن سیدطارق میرکوخصوصی مبارکباددی جنہوں نے یونیورسٹی کے خواب کوشرمندہء تعبیرکرنے کیلئے اساتذہ کے انتخاب اوردیگرکاموں کیلئے پاکستان جاکرسخت اورمسلسل محنت کی ۔ انہوں نے یورنیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹرنسیم خان، دیگرپروفیسرز، لیکچرزکوبھی مبارکبادپیش کی۔ انہوں نے رابطہ کمیٹی، رؤف صدیقی اوردیگرتمام ذمہ داروں کوبھی افتتاح پر زبردست شاباش اورخراج تحسین پیش کیا۔ جناب الطاف حسین نے طلبہ وطالبات سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے والدین ، بزرگوں اوراساتذہ کاادب کریں،محنت کریں اورخدارسولؐ کے واسطے نقل نہ کریں اورصرف اورصرف محنت سے پاس ہوں۔



12/11/2016 5:53:40 AM